شخصیت پرستی کے تباہ کن اثرات۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

آج پاکستانی سماج کے خطرناک ترین مسائل مذہبی انتہا پسندی، شدت پسندی کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور جہالت ہیں۔مذکورہ تمام مسائل کسی بھی سماج کے لیے انتہائی مہلک اور تباہ کن ہیں ۔ان تمام مسائل کی مختلف وجوہات ہیں ۔مگر ان سب کا احاطہ تو اس تحریر میں   مشکل ہے ۔فقط ایک بنیادی وجہ پر گزارشات پیش خدمت ہیں ۔

ہمارے معاشرے میں مذکورہ تمام برائیوں کی بنیادی وجہ میں شخصیت پرستی کو اولیت حاصل رہی ہے۔ہر شخص فطرتی طور پر عقل و خرد کے ساتھ اس جہاں میں جنم لیتا ہے۔کیونکہ انسان واحد مخلوق ہے۔جس کو خالق نے دوسری مخلوقات پر فوقیت محض عقل کی بناء پر عطا کی ۔مگر جب انسان کی پیدائش وقوع پذیر ہوتی ہے ۔اس وقت بچہ سوچ سمجھ سے محروم ہوتا ہے  مطلب اس کے لاشعور میں عقل تو موجود ہوتی ہے مگر اس وقت اس کا ذہن ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچہ اپنے گردو پیش کے مشاہدات سے نتائج اخذ کر کے اپنے خالی دماغ میں سافٹ ویئر مرتب کرنا شروع کر دیتا ہے ۔جیسے ہی بچہ زبان سے لفظ بولنے لگتا ہے ۔بچے کے والدین بچے کے اس خالی ذہن پر اثرانداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔اور بچے کے دماغ کا سافٹ وئیر والدین مرتب کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔کچھ وقت گزرنے کے بعد اسی سافٹ وئیر کی تکمیل اساتذہ شروع کر دیتے ہیں ۔

اب ہمارے سماج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ صدیوں سے ہمارے بچوں کے ذہن کا سافٹ ویئر مرتب کرنے والے بزات خود شخصیت پرستی کا حد درجہ شکار ہیں۔اور یہی سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔ہمارے اکابرین ہمارے آباو اجداد ہمارے اساتذہ کرام  سب نسل در نسل   یہی شخصیت پرستی کا وائرس منتقل کیے جارہے ہیں ۔بچے جب اسی سافٹ ویئر پر چل کر خود باپ بنتے ہیں ۔تو یہی سافٹ ویئر اپنے بچوں میں انسٹال کر دیتے ہیں ۔شخصیت پرست شخص فہم و ادراک سے محروم ہو جاتا ہے۔اس کے من میں سوال جنم نہیں لیتے۔جستجو بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔جب تجسس اور سوال ہی پیدا نہ ہوں  تو سماج جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔شخصیت پرستی انسان کو عقل کا اندھا بنا کر دم لیتی ہے۔انسان شخصیت کے سحر میں گم ہو کر اس کو پوجنے لگتا ہے۔شخصیات جن کی پرستش کی جارہی ہوتی ہے،بے عیب تو ہر گز نہیں ہوتیں،کیونکہ بطور انسان بشری خامیاں تو ہر انسان میں موجود ہوتی ہیں۔مگر شخصیت پرستی کا شکار انسان اپنی پسندیدہ شخصیت کو تمام خامیوں سے ماورا سمجھتا ہے۔

نتیجے کے طور پر نہ اس کے ذہن میں سوالات جنم لیتے ہیں ،نہ جستجو کی چنگاری بھڑکتی ہے۔وہ مکمل طور پر فکری جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔اس کا ذہن محض اک سافٹ ویئر پر عمل کرنے والا روبوٹ بن جاتا ہے۔انسانی ذہن میں عقل و خرد کو منجمد کرنے میں شخصیت پرستی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔شخصیت پرستی انسان کو سوچنے سمجھنے سے ہی محروم کر دیتی ہے۔جس کے کارن انسان لکیر کا فقیر بن کر رہ جاتا ہے۔اب ہمارے معاشرے میں شخصیت پرستی کی بے شمار اقسام موجود ہیں ۔ہر فرد نے اپنی اپنی مرضی کا بت تراش کر اس کی پرستش شروع کر رکھی ہے۔ شخصیت پرستی زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔مذہب سیاست شعر و ادب الغرض ہر میدان میں ہمارا سماج شخصیت پرستی کا شکار ہو چکا ہے۔

مذہب کی مثال  لیں ۔مذہب کے نام پر ہم مذہبی تعلیمات کی بجائے مذہبی شخصیات کے اسیر ہو چکے ہیں ۔ہمارے سماج میں مذہبی شخصیات اوتار کا درجہ اختیار کر چکی ہیں ۔ہم اس قدر شخصیت پرستی میں کھو چکے ہیں  کہ مذہب کے نام پر کسی بھی نام نہاد شخص کو   تمام خامیوں سے ماورا سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔اس کو فرشتہ سمجھ لیتے ہیں ۔اب اگر وہ شخصیت ہمارے سامنے بیٹھ کر جو واہی تباہی بولتا رہے ۔خدائی کے دعوے کرے  یا چاند اور مریخ کو مسخر کرنے کے دعوے کرے۔یا حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہ السلام سے اپنے دل کا بائی پاس آپریشن کروانے کا دعوی کرے ہم نے فقط اس کی ہاں میں ہاں ملانی ہے ۔کیونکہ شخصیت پرستی نے ہمارے دماغ پر سوچنے کی پابندی لگا رکھی ہے۔

آج کے دور میں علمی تحقیق صدیوں پہلے کی نسبت نہایت آسان ہے ۔ہمارے اکابرین جنہوں نے احادیث یا تاریخ اسلام پر جو تحقیقی کام کیا وہ اس زمانے میں ذرائع نہ ہونے کی بدولت نہایت مشکل تھا ۔ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے مہینوں سفر کرنا پڑتا تھا۔یاد رہے کہ اسلاف اور اکابر بھی انسان تھے۔غلطی کا امکان موجود تھا ۔کیونکہ بشری خامیوں سے ماورا ہر گز نہ تھے۔ان کی تحقیقات پر سوال اٹھا کر لگن اور خلوص کے ساتھ ان کے کام پر مزید تحقیق کی جاسکتی ہے ۔اور بہت سے مسائل اور اختلافات کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔مگر یہاں بھی روایتی شخصیت پرستی آڑے آجاتی ہے۔اور سوال اٹھانے والے پر شخصیت پرست گمراہی اور کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں ۔سیاست میں بھی ہمارا سماج اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہے ۔عمران خان زرداری نوازشریف فضل الرحمان سراج الحق اور لاتعداد سیاسی جماعتیں میدان سیاست میں موجود ہیں ۔ان کے پیروکار اپنے اپنے لیڈر کی شخصیت کو پوج رہے ہیں ۔اور ان رہنماؤں کی کسی بھی غلطی پر تنقید کو برداشت کرنے کے قائل نہیں ۔اور ان لوگوں کی اندھی تقلید کا شکار ہو کر ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ آور ہو جاتے ہیں ۔عدم برداشت اور انتہا  پسندی نے ہماری سیاسی بلوغت پر جمود طاری کر دیا ہے۔

نتیجے کے طور پر جمہوری کلچر کی روایات مفقود ہیں ۔ادب کی تمام اصناف شاعری ہو یا نثر نگاری یہاں پر بھی شخصیات کے بت تراش کر  ہمارے سماج میں اسی شخصیت پرستی کو رائج کر دیا گیا ہے ۔ابھی چند دن پہلے ہی ابن صفی اور مظہر کلیم کو پڑھنے والے ان دونوں مرحومیںن کے ادبی مقام کا تعین کرنے کے لیے تین دن تک سر دھڑ کی بازی لگا چکے ہیں ۔شخصیت پرستی سماج کے حقیقی مسائل کا ادراک ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔کوئی منٹو کو فحش نگار ثابت کرنے میں جان کی بازی لگانے میں مصروف عمل ہے۔اور کوئی منٹو کو فرشتہ ثابت کرنے پر تلا ہے ۔حالانکہ منٹو بھی انسان تھا۔اپنےبچوں کی سوچ پر قدغنیں لگا کر ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے سماج میں شخصیت پرستی کو ختم کر کے اپنے بچوں کو اپنے ذہن سے سوچنے کی آزادی فراہم کریں۔اور زبردستی شخصیت پرستی کا سافٹ وئیر انسٹال کرنے سے اجتناب کریں۔تاکہ ہم فکری جمود سے نجات پا کر ترقی یافتہ اقوام کی برابری کر سکیں۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *