زکوٰۃ کے بارے میں چند عمومی غلط فہمیاں۔۔حافظ صفوان محمد

زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم انفرادی فریضہ ہے جس کا سماج سے گہرا تعلق ہے۔ زکوٰۃ کا مقصد سماج کے نچلے طبقوں اور حالات کا شکار سفید پوشوں کی مالی مدد ہے تاکہ یہ لوگ جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ زکوٰۃ کا معاشرے میں امن و امان کی بحالی سے بھی گہرا تعلق ہے۔ زکوٰۃ اگر درست ادا کی جاتی ہے تو بہت سی سماجی خرابیاں دور ہوسکتی ہیں۔ مسلم معاشروں میں پائی جانے والی پچانوے فیصد سے زیادہ خرابیوں کی وجہ تقسیمِ وراثت کی بے اعتدالیاں اور زکوٰۃ کا درست مصرف میں ادا نہ کیا جانا ہے۔

اگرچہ زکوٰۃ اور رمضان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور زکوٰۃ مال پر قمری مہینوں کے اعتبار سے سال پورا ہونے پر فرض ہوتی ہے لیکن چونکہ زیادہ تر مسلمان رمضان المبارک میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اس لیے زکوٰۃ کے مصارف اور مسائل کے بارے میں ایک طالبعلمانہ مطالعہ پیش ہے۔ آگے چلنے سے پہلے چند ضروری باتیں۔

ایک یہ بات پہلے ذہن نشین کر لیجیے کہ زکوٰۃ سمیت تمام فقہی مسائل کے بارے میں علما کی ہمیشہ ایک سے زیادہ آرا موجود ہوتی ہیں۔ میں یہاں اپنے فہم کے مطابق راجح فقہی اقوال کا ذکر کر رہا ہوں جو احادیث و آثار کے معروف مجموعے “مصنف ابنِ ابی شیبہ” سے نقل کیے گئے ہیں اور ان پر کچھ اضافے کیے گئے ہیں۔ یہ سطور پڑھنے والے لوگ اگر چاہیں تو ان اقوال کے مطابق زکوٰۃ ادا کرلیں اور چاہیں تو اپنے اعتماد کے کسی اور مفتی صاحب کے فتویٰ پر عمل کرلیں۔ تاہم درخواست ہے کہ اپنے عمل کے لیے منتخب کیے گئے اقوال پر دوسروں کو “قائل” کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ سارے مسلمان ایک بات پر متفق نہیں ہوسکتے۔ جن باتوں پر صحابہ کرام یا علما کا اختلاف ہو وہ امت کے لیے باعثِ رحمت ہے کیونکہ اس اختلاف سے امت کے لیے آسانی ہوجاتی ہے کہ لوگ جس کی رائے پر چاہیں عمل کرلیں۔ صحابہ اور علما کے مابین اختلاف والا ہر عمل دین ہی ہوتا ہے نہ کہ دین سے باہر۔

ایک اہم بات جس کا سمجھنا بہت ضروری ہے، یہ ہے کہ جیسے زکوٰۃ فرض ہے تو کیا زکوٰۃ کے نصاب کے لیے سونا اور چاندی کی مخصوص مقدار پر حساب کرنا بھی فرض ہے؟ اس کا جواب ڈاکٹر طفیل ہاشمی مدظلہ اور بعض دیگر قدیم اہلِ علم کے ہاں نفی میں ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ چاندی کے نصاب میں فقدانِ تناسب، عدمِ کفایت، وجودِ حرج اور تغیر فی الثمن پائے جانے کی بنا پر فقط سونے کو نصابِ زکوٰۃ کا معیار بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ اس موضوع پر ایک بحث میں ڈاکٹر ہاشمی نے تفصیل سے لکھا ہے کہ نبی کریم علیہ السلام کا ارشاد ہے: خیر الصدقۃ ماکان عن ظھر غنی (بہترین خیرات وہ ہے جو پشتِ غنی سے ہو، یعنی خیرات کرنے کے بعد بھی تونگری باقی رہے نہ کہ آدمی دوسروں کا دست نِگر ہو جائے۔)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تونگری جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اس کی ابتدائی حد کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے نبی کریم علیہ السلام کے عہدِ مبارک میں لوگوں کا کاروباری تعامل چونکہ چاندی اور سونے کے ذریعے تھا اس لیے آپ نے نصاب کا تعین دو متناسب شرحوں سے کیا یعنی 200 درہم یا 20 دینار جو دونوں اس وقت ہم قیمت اور برابر قدر رکھتے تھے۔ متعدد دلائلِ قطعیہ در بیانِ زکوٰۃ، حدِ سرقہ، جزیہ و دیت وغیرہ سے یہ امر متفق علیہ ہے کہ عہدِ نبوی میں ایک دینار کی قیمت دس درہم ہوا کرتی تھی اور 20 دینار 200 درہم کے مساوی ہوتے تھے۔ آج ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت فی تولہ تقریبًا 50 ہزار روپے کے حساب سے پونے چار لاکھ بنتی ہے جب کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت فی تولہ 750 روپے کے حساب سے 39450 یعنی تقریبًا چالیس ہزار روپے بنتی ہے۔ گویا سونے کا نصاب چاندی کے نصاب سے قریب قریب 10 گنا زیادہ ہے۔ سو آج کے تعامل میں وہ تناسب عملًا مفقود ہے جس کو نبی کریم علیہ السلام نے ملحوظ رکھتے ہوئے اس وقت چاندی کے لیے 200 درہم اور سونے کے لیے 20 دینار نصاب مقرر فرمایا تھا۔

نیز شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حجۃ اللہ البالغہ میں چاندی کے نصاب کی تحدید کی علت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پانچ اوقیہ چاندی کو نصابِ زکوٰۃ اس لیے مقرر کیا گیا تھا کہ یہ مقدار ایک گھرانے کی سال بھر کی ضرورت کے لیے کافی ہے بشرطیکہ اکثر علاقوں میں قیمتیں معتدل ہوں۔ اگر آپ قیمتوں میں معتدل علاقوں کا جائزہ لیں تو آپ کو اس حقیقت کا ادراک ہو جائے گا کہ آج کے دور میں ہوشربا مہنگائی اور قیمتوں کے آسمان سے جا لگنے کے باوصف کسی گھرانے کی سال بھر کی ضروریات کے لیے چالیس ہزار روپے کسی بھی طور کافی رقم نہیں ہے۔ سو آج عامۃ المسلمین پر غنا کا حکم آج کے تعامل بین الناس کی بنا پر چاندی کے بجائے سونے کو زکوٰة کا نصاب مقرر کرنے سے ہوگا۔

نیز یاد رہے کہ نبی کریم علیہ السلام کے مقرر کردہ نصابِ زکوٰۃ میں لوگوں کے کاروباری تعامل اور معاشی صورتِ حال کے پیشِ نظر تبدیلی کی پہلی مثال حضرت عمر کے دور میں ملتی ہے۔ ابوداؤد کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت (100 اونٹوں) کی قیمت آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہلِ کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی۔ پھر اسی طرح حکم چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حکمران ہوئے تو آپ نے خطبے میں فرمایا کہ اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ اور آپ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار درہم دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں (مسلمانوں کی دیت کی طرح) اضافہ نہیں کیا۔

حضرت عمر کے اس عمل سے روشنی ملتی ہے کہ نصابِ زکوٰۃ کو ہمیشہ کے لیے کسی دھات یا چیز سے مخصوص نہیں کیا جائے گا بلکہ زمانے کے مطابق عمومی غنا اور تونگری اس کا معیار ہوگا۔

خلاصہ یہ ہوا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا یا باون تولہ چاندی) قرآنِ کریم یا حدیث شریف میں مذکور نہیں ہے۔ نصاب کی یہ مقدار بعد والوں نے مارکیٹ سروے کرکے اپنے فہم کی بنیاد پر طے کی۔ ایک وقت تھا کہ نصابِ زکوٰۃ کی اکائی سونا اور چاندی تھا اور فقہ اسلامی کے مسائل اسی بنیاد پر لکھے گئے ہیں۔ تاہم ڈاکٹر طفیل ہاشمی کی رائے ہے کہ صاحبِ نصاب بننے کے لیے اب چاندی کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ چاندی نصاب کا معیار بننے کا جواز کھو چکی ہے۔ چاندی اس وقت نصاب کا معیار تھی جب سونے اور چاندی میں 1=7 کی نسبت تھی جب کہ اب باون تولے چاندی کے عوض بمشکل ایک تولہ سونا آتا ہے۔ اب سونے سے بھی بہت قیمتی دھاتیں لین دین کی اکائی (Unit) بننے کے قابل ہیں اس لیے ممکن ہے کہ کسی وقت سونا بھی زکوٰۃ کے نصاب کے لیے اپنا جواز کھو بیٹھے۔

اسی سے یہ بات بھی سمجھ آ جانی چاہیے کہ بعضے لوگ جو سادگی میں یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ سونے چاندی پر زکوٰۃ ہے جب کہ ہیرے پر زکوٰۃ نہیں، یہ غلطِ محض ہے۔ صاحبِ نصاب ہونے کے لیے مالداری اور تونگری ضروری ہے نہ کہ سونے یا چاندی یا کسی اور دھات کی کوئی خاص مقدار۔ القصہ نصاب کی مقدار فرض یا نص نہیں ہے بلکہ ضرورت کا کم ترین معیاری درجہ ہے، اور چونکہ ہر شخص کے لیے ضرورت کی سطح مختلف ہے اس لیے اصولًا ہر شخص کے لیے نصاب کی مقدار اس کے حالات کے اعتبار سے مختلف ہے۔

نیز یہ بات بھی خاطر نشان رہے کہ “زکوٰة انفرادی عبادت ہے” کا مطلب ہے کہ ہر صاحبِ مال کو اپنے مال کی جانچ کروا کر خود زکوٰة کی رقم کا تعین کرنا ہے۔ بنے بنائے سانچوں (Stereotypes) اور زکوٰۃ کیلکولیٹرز پر اندھا دھند عمل نہ کیجیے اور خوب دیکھ بھال کر شعبہ مالیات کے کسی سمجھ دار مفتی سے مسئلہ دریافت کیجیے۔ ہر عالم اور ہر مفتی زکوٰة کا مسئلہ بتانے کی تربیت نہیں رکھتا۔

آئیے اب زکوٰۃ کی ادائیگی سے متعلق چند ضروری مسائل سمجھ لیں جن کے بارے میں عام طور سے لاعلمی یا کم علمی پائی جاتی ہے۔

1: قرض کی زکوٰۃ
اگر آپ نے کسی کو بطورِ قرض رقم دے رکھی ہو اور اس کی واپسی میں سال سے زیادہ یا غیر معینہ وقت گزر جائے تو رقم واپس ملنے تک درمیانی عرصے کی زکوٰۃ کی ادائیگی آپ پر لازم نہیں۔ جس سال رقم واپس ملے، صرف اس سال کے حساب میں شمار کرکے زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔ اس حوالے سے مصنف ابنِ ابی شیبہ نے ابوالزناد کے حوالے سے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ قرض دی ہوئی رقم پر زکوٰۃ واجب نہیں، اور ابنِ ابی ملیکہ سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول روایت کیا ہے کہ قرض دی ہوئی رقم جب تک آدمی کو واپس نہ ملے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔

2: ٹیکس اور دیگر حکومتی محصولات کی ادائیگی کو زکوٰۃ میں شامل کرنا
حکومت نے زکوٰۃ کے علاوہ کچھ زائد محصولات یا ٹیکسز عائد کر رکھے ہوں تو ان میں ادا کردہ رقم زکوٰۃ میں شامل کی جاسکتی ہے۔
اس ضمن میں مصنف ابنِ ابی شیبہ نے نو (9) راویوں کے حوالے نقل کیے ہیں جن میں حضرت انس رضی اللہ عنہ، سعید بن جبیر، عطاء بن ابی رباح اور حسن بصری وغیرہ شامل ہیں۔

3: زکوٰۃ کس کو دی جائے؟
زکوٰۃ کے استحقاق کا تعلق ہر جائز اور مشروع ضرورت سے ہے۔ ضروری نہیں کہ بالکل بھوکے ننگے یا نانِ شبینہ کے محتاج کو ہی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ اگر روزمرہ زندگی کی ضروریات کے علاوہ بھی کسی کو احتیاج ہو تو اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے مصنف ابنِ ابی شیبہ نے سعید بن جبیر اور حسن بصری وغیرہ سمیت کئی لوگوں کے بعض حوالے نقل کیے ہیں کہ جس کے پاس گھر اور خادم اور گھوڑا ہو اسے (دیگر ضروریات کے لیے) زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بلکہ جس شخص کو بیت المال سے وظیفہ ملتا ہو اور اس کے پاس گھوڑا بھی ہو، لیکن وہ ضرورت مند ہو تو اسے بھی زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ جو شخص خود نصابِ زکوٰۃ کا مالک ہو یعنی اس پر زکوٰۃ واجب ہو، وہ زکوٰۃ وصول نہیں کرسکتا، وہ عمومی حالات کے لحاظ سے درست ہے، لیکن بعض ہنگامی یا غیر معمولی نوعیت کی ضرورتیں (مثلًا بیماری کا علاج یا بچوں کی شادی وغیرہ) ایسی ہوسکتی ہیں جن میں خود زکوٰۃ کے کم سے کم نصاب کا مالک ہونے کے باوجود کوئی شخص ضرورت مند ہو تو ایسے لوگ بھی اسی اصول کے تحت مستحقِ زکوٰۃ ہوں گے۔

4: کفار اور گمراہ فرقوں سے تعلق رکھنے والے محتاج افراد کو زکوٰۃ دینا
مصنف ابنِ ابی شیبہ نے نقل کیا ہے کہ فضیل کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے گمراہ فرقوں کے پیروکاروں (کو زکوٰۃ دینے) کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ لوگ کسی ضرورت ہی کے تحت سوال کیا کرتے ہیں (یعنی کفار اور گمراہ فرقوں کے لوگوں کو بھی ان کی ضرورت کے لیے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔)

5: زیرِ کفالت اقربا پر زکوٰۃ خرچ کرنا
اگر آپ کے زیرِ کفالت کچھ ایسے اقربا ہیں جن کی کفالت اصولًا آپ کی ذمہ داری نہیں، یعنی معمول کی شرعی ذمہ داری کے علاوہ کوئی زائد ذمہ داری آن پڑی ہے، تو ایسے لوگوں کی کفالت پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے مصنف ابنِ ابی شیبہ کے نقل کیے گئے بعض آثار ملاحظہ ہوں۔
لکھتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ میری پرورش میں میرے بھتیجے ہیں جن کے ماں باپ زندہ نہیں، تو اگر میں اپنے زیورات کی زکوٰۃ ان پر صرف کروں تو کیا میری زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ اسی طرح سعید بن المسیب نے کہا کہ میں جن لوگوں کو زکوٰۃ دیتا ہوں، ان میں سب سے زیادہ حق میرے زیرِ پرورش یتیموں اور میرے قرابت داروں کا ہے۔

6: فصل کے اخراجات منہا کرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کی جائے
اگر کسی کے پاس قابلِ کاشت زمین ہو اور وہ اس میں کوئی فصل اگائے تو فصل آنے پر، فصل کی تیاری پر جتنے اخراجات کیے گئے ہوں، وہ منہا کرنے کے بعد باقی فصل کا عشر ادا کیا جائے۔ اس حوالے سے مصنف ابنِ ابی شیبہ نے عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ نقل کیا ہے کہ ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ (ساری فصل کی) زکوٰۃ ادا کرے جب کہ دوسرے نے کہا کہ وہ اخراجات کو منہا کر کے باقی فصل کی زکوٰۃ ادا کرے۔ چنانچہ پیداواری لاگت (Cost of Production) نکال کر صرف منافع پر زکوٰۃ دی جائے۔

7: یتیم بچوں کے مال پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی
اگر کسی کی کفالت میں یتیم بچے ہوں اور وہ ان کے مال کی بھی دیکھ بھال کر رہا ہو تو بچوں کے بالغ ہونے تک ان کے مال میں زکوٰۃ واجب الادا نہیں ہوتی۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ یتیم کے مال میں جو زکوٰۃ واجب ہو، اسے شمار کرتے رہو۔ جب وہ بالغ ہوجائے اور اس میں سمجھ داری نظر آنے لگے تو اسے بتا دو۔ پھر وہ چاہے تو زکوٰۃ ادا کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ ابراہیم نخعی اور حسن بصری کہتے ہیں کہ یتیم جب تک بالغ نہ ہوجائے، اس کے مال میں زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح شعبی بھی کہتے ہیں کہ یتیم کے مال میں زکوٰۃ نہیں۔

8: عورتوں کے زیورات کی زکوٰۃ
یہ مسئلہ خاصا نزاعی ہے اور سلف میں اس کے متعلق کافی اختلاف رہا ہے۔ صحابہ و تابعین کی ایک جماعت خواتین کے پہننے کے زیورات پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی قائل ہے جب کہ دوسری جماعت کے نزدیک ان پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شادی کے وقت سے وفات تک اپنے بازوؤں میں پہنے بھاری کڑوں پر ساری زندگی زکوٰۃ نہیں دی۔ عورتوں کے زیوروں پر زکوٰۃ نہ ہونے کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے۔ نیز یہ دلیل حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (زندگی میں) بس ایک دفعہ ان زیورات کی زکوٰۃ ادا کر دینا کافی ہے۔

میری رائے میں کاروبار کے لیے کنز یعنی اینٹوں کی صورت میں رکھا خالص سونا قابلِ زکوٰۃ جنس ہے جب کہ زیور کی صورت میں گھڑا ہوا سونا قابلِ زکوٰۃ جنس نہیں ہے سوائے اس کے کہ سونے کے زیور بیچنا خریدنا کسی کا ذریعہ معاش ہو۔ اس رائے کے لیے میرے پاس دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا پہنے ہوئے بھاری زیور پر ساری زندگی زکوٰۃ نہ دینا ہے۔

مولانا عمار خاں ناصر فرماتے ہیں کہ میرا طالب علمانہ رجحان یہ ہے کہ اصولًا روزمرہ استعمال کے زیورات پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ ان کا حکم وہی ہے جو ذاتی استعمال کی دوسری اشیائے ضرورت کا ہے۔ تاہم اس میں اس حوالے سے اجتہادی طور پر تحدید کی گنجائش بلکہ ضرورت ہے کہ وہ زیور واقعتًا استعمال کے لیے ہو نہ کہ زر اندوزی کے مقصد سے جمع کیا گیا ہو۔ چنانچہ مثال کے طور پر ہر وقت پہنے جانے والے یا شادی بیاہ کی تقریبات میں زیرِ استعمال والے زیورات کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہونا چاہیے۔ اسی طرح زیور کی مقدار کی تحدید بھی ہونی چاہیے تاکہ اس سے زیادہ زیور اگر کسی کے پاس ہو تو اسے قابلِ زکوٰۃ تصور کیا جائے۔ اس ضمن میں حکومت قانون سازی کرکے مختلف معاشی سطحوں پر لوگوں کی آمدن کے لحاظ سے مختلف نصاب مقرر کرسکتی ہے۔ جب تک ایسا نہ ہو، لوگ اپنی ذاتی حیثیت میں دیانت داری سے خود اپنے لیے کوئی حد طے کرلیں اور اس سے زائد زیورات کی زکوٰۃ ادا کر دیا کریں۔

9: قابلِ وصول قرض کی رقم زکوٰۃ میں سے منہا کی جاسکتی ہے
اگر آپ کا کسی کے ذمے قرض ہے اور وہ ادائیگی نہیں کرسکتا تو قرض کے بقدر رقم کو زکوٰۃ میں سے منہا کیا جاسکتا ہے۔ (شاید عام حنفی فقہا کو اس سے اتفاق نہ ہو، لیکن امام طحاوی نے مختصر اختلاف العلماء میں اس کی تصریح کی ہے اور مجھے اس سے اتفاق ہے)۔

10: زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک لازم نہیں اور زکوٰۃ کہہ کر دینا بھی ضروری نہیں
زکوٰۃ کی رقم سے کسی کی مدد کرنی ہو تو اس کو یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے۔ اسی طرح یہ بھی لازم نہیں کہ ذاتی طور پر کسی کی ملکیت میں رقم دی جائے۔ زکوٰۃ کی رقم سے کوئی ایسا کام کر دیا جائے جس کا فائدہ اجتماعی طور پر مستحقین کو پہنچ جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ مثلًا کسی کے تعلیمی اخراجات کا بندوبست کر دیا جائے، مستحق بچوں کے لیے کوئی سکول یا مدرسہ یا ہسپتال وغیرہ قائم کر دیا جائے، کچی آبادیوں میں پینے کے صاف پانی کا انتظام کر دیا جائے یا گلیاں بنوا دی جائیں تو یہ زکوٰۃ کی رقم کا بالکل درست مصرف ہوگا۔

11: الیکٹرانک کرنسی اور بینک کی سیونگز پر زکوٰۃ
بٹ کوائن (Bit Coin) کرنسی کے حکم میں ہے اور اس پر زکوٰة واجب ہے۔ بینک میں جمع شدہ ہر رقم سیونگ نہیں ہے لہٰذا بینک میں رکھی ہر رقم پر زکوٰة نہیں ہے خواہ کتنا ہی عرصہ بینک میں جمع رہے۔ بچوں کی یا اپنی شادی، رہائش کے لیے مکان یا پلاٹ، اور اہلِ خدمت کی ایسی دیگر لازمی ضروریات (فیسیں، داخلے، صحت وغیرہ) پر خرچ کے لیے بینک میں رکھی رقومات سیونگز نہیں ہیں۔ ان رقومات پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔

12: پلاٹوں (نیز قسطوں پر لی ہوئی گاڑی) پر زکوٰۃ
جو پلاٹ تجارت یا نفع پر بیچنے کے لیے نہیں بلکہ رہائش وغیرہ کے لیے ہیں ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ جو پلاٹ یا پراپرٹی وغیرہ روٹین کی تجارت کے لیے ہے کہ جوں ہی کوئی مناسب گاہک لگا بیچ دی جائے گی، اس پر ہر سال موجودہ مالیت پر زکوٰۃ ہے۔ اور جو پراپرٹی طویل مدت کے لیے ذخیرہ کی گئی ہے کہ اچھے برے وقت میں کام آ جائے گی، اس میں فقہ مالکیہ کے مطابق ایک ہی مرتبہ زکوٰۃ ہے جب کہ حنفیہ کے نزدیک ہر سال اس کی موجودہ مالیت پر۔

بہت سے لوگوں کو اس تیسری صورت سے واسطہ پڑ رہا ہوتا ہے۔ اس صورت میں بظاہر تو رواں تجارت میں زکوٰۃ بھی رواں ہونی چاہیے اور رکی ہوئی میں زکوٰۃ بھی اسی نوعیت کی ہونی چاہیے۔ پراپرٹی لیتے وقت جب تک انویسٹمنٹ کی حتمی نیت نہ ہو یعنی لیت و لعل کی صورت ہو اس پر اس وقت تک زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ انویسٹمنٹ کی حتمی نیت نہ کی جائے۔ پراپرٹی خریدتے وقت اگر بیچنے کی حتمی نیت نہ ہو تب زکوٰۃ نہیں ہے البتہ خریدتے وقت اگر بیچنے کی حتمی نیت ہو اور وہ نیت برقرار رہے تب زکوٰۃ دینا ہوگی۔ اسی طرح قرعہ اندازی میں نکلے ہوئے پلاٹ کی قسطیں ادا کرتے وقت اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
اسی اصول پر قسطوں پر لی گئی گاڑی پر بھی زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ قسطیں ادا نہ ہوں۔

13: فیکٹریوں کارگاہوں پر زکوٰۃ
فیکٹریوں پر زکوٰة کا موضوع مستقل مضمون کا متقاضی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنی فیکٹری میں جو کچھ کیش ہے مثلًا نقد رقم، چیک، کیش میں کنورٹ ہونے والے انسٹریومنٹس جیسے بانڈ وغیرہ، ان پر زکوٰة ہے۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو کسی نہ کسی شکل میں فروخت ہونے کے لیے ہے ان پر بھی زکوٰة ہے جیسے خام مال، وہ مال جو تیاری کے پراسیس میں ہے، تیار شدہ مال وغیرہ ان سب پر زکوٰة ہے۔ باقی جامد اثاثہ جات جیسے پراپرٹی مشینری وغیرہ زیادہ تر علماء کے نزدیک قابلِ زکوٰة نہیں۔ نیز ایک رائے کہ ہے کہ فیکٹریوں کی صرف پیداوار (Produce) پر زکوٰۃ ہے (یاد رہے کہ یہ رقم کم نہیں ہوتی)۔

آخری بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کے ادا کرنے سے مال کی حفاظت ہونے کا خدائی وعدہ ہے۔ موسسِ تبلیغ حضرت جی مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ فرماتے تھے کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی لوگوں کا مال اس لیے محفوظ نہیں رہتا کہ ان کی زکوٰۃ صحیح مصرف میں نہیں لگی ہوتی۔ مستحق کو چھوڑ کر کسی اور کو پیسہ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی اور غلط مصرف میں پیسہ لگانے کا گناہ الگ۔ چنانچہ یہ دوہرا گناہ ہے۔ مستحق تلاش کرکے اسے خود زکوٰۃ دی جائے تو ہی زکوٰۃ ادا ہوگی۔ اور سب سے زیادہ مستحق قریبی رشتے دار ہیں۔ خدا سمجھ دے۔
۔
نوٹ: اس مضمون کے لیے برادرم مولانا عمار خاں ناصر کے 16 جون 2016 کو شائع ہونے والے مضمون “زکوٰۃ کی ادائیگی سے متعلق چند اہم مسائل” سے چند در چند استفادہ کیا گیا۔ خدا انھیں جزائے خیر دے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *