• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نکی ہیلی،پٹیل اور یونٹ انچارج۔۔۔محمد اقبال دیوان

نکی ہیلی،پٹیل اور یونٹ انچارج۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING

آپ نے باجی نکی ہیلی کو دیکھا ہے۔ارے وہی دونوں لڑکوں چرن، متی اور باجی سمرن کی بہن نمرتا رندھاوا۔گھر میں سب سے چھوٹی ہے اسے لیے یہ سکھ گھرانہ ’اسے ’نکی‘ آکھ دا (پکارتا) ہے۔امریکنوں کو بھی یہی نام اچھا لگتا ہے۔اب امریکنوں کو اور لاہور کے شریفوں کو کوئی نام اچھا لگ جائے تو وہ بھولتے نہیں۔اسے نوازتے ہی چلے جاتے ہیں۔

نکی ہیلی

ناصر کھوسہ ڈی ایم جی والوں کی مثال سامنے ہے جنہیں انہوں نے نگران وزیر اعلی بنادیا ہے۔ امیر مقام پہلے چیف سیکرٹری پنجاب رہے، نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہے، ریٹائرمنٹ کے بعد ورلڈ بنک کے ڈایئریکٹر کی Plum-posting پر حکومت پاکستان کی جانب سے نامزدگی پکڑ کر چلے گئے تھے۔درک میں تھے کہ انہیں علی جہانگیر کی جگہ امریکہ میں سفیر لگادیا جاتا مگر پھر شرفاء کمیٹی نے فیصلہ کیا (سندھ کی سیاسی جماعتوں کا وہ گروپ جس کے ذمے مخالفین کو جام شہادت نوش کرانا ہوتا ہے)یہ جو مہلت نگرانی، وہ تین ماہ کا عرصہ گاہء تنہائی ہے اس میں کوئی اپنا،نجم سیٹھی جیسا چند کلیوں پر قناعت کرنے والا اور کرکٹ کے گلشن سے تنگی ء داماں کا علاج ڈھونڈنے والا ساڈا اپنا بندہ بھی تو چاہیے ہو  گا۔سو انہیں امریکہ کے آسمان پر جہاں وہ بس رہے تھے پنجاب کی زمین پر بلالیا گیا ہے اپنے لیے۔ہم آپ کو خبر دار کرتے ہیں کہ آپ محاسبہ کے فریب عظیم میں نہ رہیں۔

پاکستان پر کرپٹ اور نااہل بدمعاشیہ یوں ہی راج کرے گی۔ یہ اسٹیبلشمنٹ علی جہانگیر کی پوسٹنگ تک رکوانہ  سکا کسی خواجے اور طلال چوہدری کو کچھ نہ کہہ سکا،سندھ میں ایک ٹارگیٹ کلر کو پھانسی نہ ہوئی تو آپ آخر کیوں آکسیجن کے تلے عمر خضر مانگتے ہیں۔

ہم آپ سے کہہ رہے تھے کہ نکی ہیلی کا دھیان رکھیں ۔اسے ہولا نہ لیں۔ہوسکتا ہے یہ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے 2024 میں امریکہ صدارت کی امیدوار ہوں اور تیور بتاتے ہیں کہ بہت ممکن ہے ان سے ہماری آئندہ ملاقات وہائٹ ہاؤس میں ہو تب تک علی جہانگیر اور کوئی اور شریف لاڈلا اپنی پاکستانی سفیر کی باری پوری کرچکا ہو اور ہمارا نمبر آجائے۔

جس طرح عمران خان کو نانی مریم بھٹی کی آواز بری لگتی ہے ویسے ہی نکی بھی جب اقوام متحدہ میں زبان دراز کرتی ہیں تو کمزور دل مسلمان تیری آواز پر تف کہتے ہیں۔وہ بھی ان دونوں کی طرح شروع سے ہی confrontational مزاج رکھتی ہیں۔

نکی باجی مذہبی معاملات میں انفرادی سطح پر کشادہ دل ہیں، مگر ایسی بھی نہیں کہ بھاگ بھاگ کر اپنے ہم منصب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب کے لیے کار کی پچھلی سیٹ سے بلیک لیبل وہسکی کی بوتل نکال کر نہیں لائیں۔یہ کام تو ہمارے جاسوس عظم جنرل اسد درانی اپنے پیٹی بھائی را کے چیف دلت جی کے لیے کرتے تھے۔ یہ بات البتہ مسلم ہے کہ چونکہ ٹرمپ اور ان کے گھرانے کا جھکاؤ بھی اہل یہود کی طرف ہے اس لیے یہ بھی ان کی مریم اورنگ زیب بنی رہتی ہیں۔

یہودی امریکہ میں سیاست اور کامیابی کے اہم ستون مانے جاتے ہیں۔ ذہین،مالدار اور پس پردہ ان کی شہ رگ پر گرفت جمائے، ہمارے ماجھے ساجھے مسلمان حکمرانوں سے بہتر۔ جن کی اتنی بھی ہمت نہیں کہ مین ہیٹن میں کوئی شاندار مسجد ہی اسلام کو شو کیس کرنے کے لیے بنادیں تاکہ وہاں صلاۃ الجمعہ تو قسطوں میں ادا ہونے سے بچ جائے۔ یہاں کے عیسائی سیاست دانوں کا جھکاؤ بہت Self-Serving ہے۔اس میں دین کی محبت سامنے اور طاقت کی ہوس پس پشت ہے۔۔

یہ کہنا تو مشکل ہوگا کہ نکی ہیلی بھی مسلمانوں سے جان بوجھ کر نفرت کرتی ہیں۔انفرادی سطح پر ایسا یقیناً  نہیں۔پیدائش سکھ گھرانے میں ہوئی تھی مگر ان کی زندگی میں بھی ایک فخر مانسہرہ ایک فوجی صفدر بھٹی آگیا۔ اس کا نامMichael Haleyہے۔وہ عیسائی ہے۔سو انہوں نے بھی پرکھوں کے دین سے منہ  موڑ لیا اور سکھ سے عیسائی بن گئیں اور عیسائی بھی کیسی کہ ان کے ایک بڑے چرچ کے بورڈ آف گورنر پر علامہ طاہراشرفی بن کر بیٹھ گئی ہیں۔اب آپ جان گئے ہوں گے کہ نکی ہیلی ساوتھ کیرولنا ریاست کی پہلی خاتون اور امریکہ کی ہندوستانی پس منظر والی دوسری سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے گورنر کا عہدہ سنبھالا۔ان سے پہلے بوبی جندل بھی لیوزیانا کے گورنر رہے ہیں۔

نکی اپنے شوہر کے ہمراہ امرتسر میں

ٹرمپ کی بیٹی ایونکا نے بھی پیار میں ایسا ہی کیا ہے وہ اپنے شوہر جیرڈ کوشنر سے شادی کے بعد یہودی بن گئیں۔ڈھائی سال تک انہوں نے ساس کے حکم پر شادی سے پہلے یہودی مدرسے سے یہودیت کی تعلیم حاصل کی۔(پاکستان کی بہوئیں عبرت پکڑیں،یہ ہوتا ہے ساس کا لحاظ)اب وہ حلال (Kosher) کھانے کھاتی ہیں اور سبات کی وجہ سے جمعہ سے اتوار تک نہ فون کرتی ہیں نہ سنتی ہیں۔
لہذا واٹس ایپ پر ان کو گونگی کالیں (مس کال) کرکے  اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ یہ ڈھائی دن وہ دنیا سے بالکل کٹ کر اپنے میاں اور دو بچوں کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔

ہم اور ہمارے دوست آیت اللہ،فقیہ ولایت، مرجع خلائق افضل رضوی اس معاملے میں بہت بد نصیب ہیں۔ماں،استانیوں اور بیوی کا ڈانٹ ڈپٹ اور نگاہ بر قہر کے علاوہ کوئی روپ نہیں دیکھا۔دین دھرم تو کیا ہم دونوں کی خاطر کوئی عورت اپنا پرانا ٹوتھ برش بدلنے پر بھی رضامند نہ ہوئی۔ساری عمر ہم دونوں عورت کے پیار کو ترستے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ افضل رضوی نے پے در پے تین شادیاں کیں۔ان کے پیار کی دلدل میں کمر تک دھنسی دس برس سے شادی کے لیے ہاتھ پیر مارتی ایک خاتون نے ہمیں وہ مضبوط رسی سمجھا جسے تھام کر وہ منڈپ تک پہنچ سکتی ہے۔وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ ہمارے سمجھانے پر افضل رضوی وہاں سفید شیروانی پہنے سہرا باندھے اس کے منتظر تھے۔ہم نے اسے آہستگی سے سمجھایا کہ ہمارے مطابق اسے شادی کا نہیں، طلاق کا شوق ہے۔وہ کیوں نہیں سمجھتی کہ وہ اگر ان کی پہلی بیوی نہیں بن پائی تو وہ ان کی آخری بیوی بھی ثابت نہیں ہوگی۔وہ عورت جسے یہ جان کر بھی کہ سامنے والے پارٹنر کو ایڈز ہے اگر جسمانی رفاقت کا شوق ہو تو اسے وصال سے زیادہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کا شوق ہے۔

ہفتے بھر کی خریداری مطلوب تھی۔ اہل خانہ کو پھینی،پکوڑے، جلیبی،چاٹ مسالہ، چھولے،نہاری،دیسی گھی، بکرے کا گوٹ میٹ،لذیذہ کھیر مکس،شان کا بریانی مسالہ،اچار پاکستانی چائی نیز کھانا درکار تھا۔یہ چینی پکوان امریکی نہیں کھاتے،چینی اس کھانے کو اپنا نہیں سمجھتے۔پشاوری قلفی اور فالودہ بھی لینا تھا۔
لاکھ سمجھاؤ یہاں آن کر بھی ان کے کراچی والے ذائقے پیچھا نہیں چھوڑتے۔یہاں مین ہٹن۔نیویارک میں Morgenstern’s کی آئس کریم کی بڑی دھوم ہے

Morgenstern’s ice cream

اس پرانے دنوں کے کراچی کا چوہدری فرزند علی سمجھیں۔لوگ عام دنوں میں بھی لائن لگا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ہم بھی رات گئے ٹہلتے ٹہلتے چلے جاتے ہیں۔یہی وقت مشہور ماڈل مرناڈا کیر کے آنے کا بھی ہے وہ بھی پچھلی گلی میں رہتی اور کبھی ا پنا بچہ تو کبھی کتا اٹھائے سگریٹ پینٹس آجاتی ہے۔

مرناڈا کیر

ہمارا ارادہ اسے دعوت اسلام دینے کا اور یہ سمجھانے کا ہوتا ہے کہ عمران خان کی شادی کو دل پر نہ لے۔اس کے ہر نکاح نامے پر Invisible Inkسے Expiry Date لکھی ہوتی ہے۔اب ہماری طرف کی عورتوں کی انگلش کمزور ہو تو اس کا کیا علاج۔

نیویارک کے پانچ اضلاع (Boroughs) ہیں۔جن میں ایک تو مین ہٹن ہے اور دوسرا کوئین .

کوئنز

دیکھا کیا اچھا نام ہے ایک ہمارے طرف کے حلق میں چھالے کردینے والے نام ہیں کہروڑ پکا، لعل عیساں، ماموں کانجن، اوڈیرو لعل ،چوہڑ جمالی ۔اسی کی ایک بستی جیکسن ہائٹس میں ہندوستانیوں،پاکستانی اور بنگالی ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔بکرے کے گوٹ میٹ کی قیمت یہاں پر بھی پاکستان جتنی ہی ہے مگر بغیر مکھی،گندے پانی کی دھلائی سے پاک خالص اورحلال گوٹ میٹ۔اس کی بریانی،بادامی قورمہ اور چانپ کھا کر آپ کا میڈیا والوں کی طرح بھونکنے اور دولتیاں جھاڑنے کو دل نہیں کرتا۔
ناصر کھوسہ پر شرفاء کمیٹی نے جتنی محنت کی۔ ہم پر کرلیتے تو ہم میڈیا والوں کو جن کے منہ  میں نانی مریم کے لیے سلگتے انگارے اور کنری کی لال مرچیں بھری ہیں انہیں کوئین کا گوٹ میٹ کھلا کر کھوئے کی قلفی کی طرح ٹھنڈا بنا دیتے۔

یہ گندھاؤ بالکل ایسا ہی ہوتا جیسا سندھ کے ایک چیف سیکرٹری نے اپنی سہولت کے لیے کیا تھا۔وہ کسی زمانے میں کرکٹ ٹیم کے ساتھ وزیر اعلی سندھ جام صادق علی کی سفارش پر شہریار صاحب کے ساتھ منیجر ثانی بن کر بھارت چلے گئے۔اپنی جوانی میں دیگر شوق کی طرح ان کا ایک ارمان فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا بھی تھا مگر ہمارے مرشد ڈاکٹر ظفر الطاف جیسے شد پنجابی کسی سندھی کرکٹر کو باؤنڈری لین کے پاس بھی نہیں آنے دیتے تھے۔یہ ان کا الزام تھا۔ہم نے احتجاج کیا کہ ڈاکٹر صاحب اور کاردار صاحب تو کراچی کے ایک نامور مہاجرکھلاڑی کو دیکھنے کے لیے خاص طور پر میر پور خاص گئے۔وہ غریب چوڑی دار پاجامہ پہن کر میچ کر بیٹنگ کر رہا تھا۔دونوں نے اس کی جرات دیکھی تو بہ یک وقت اسے Gutsy اور “the find of the decade”. کہہ کر وہیں ٹیم میں شامل ہونے کی نوید بھی دی اور بینک میں ملازمت بھی دلوادی۔

وہ کہنے لگے   یہ پنجابی جو ہیں انفرادی طور پر بہت اچھے ہوتے ہیں۔ جیسے تمہارے ساتھ ہیں، مگر اجتماعی طور پر یہ ہم سندھیوں سے وہی سلوک کرتے ہیں جو یہودی فلسطینی مسلمانوں سے کرتے ہیں۔ہم نے انہیں یہ بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ ذرا اپنا تاریخ کا مطالعہ ٹھیک کرلیں جتنے فلسطینی شاہ حسین کی شہ پر تین دن میں بطور بریگڈیئر ضیاالحق نے تین دن میں مارے اتنے تو یہودیوں نے قیام اسرائیل سے آج تک ستر سال میں نہیں مارے۔بلیک ستمبر آپریشن میں انہیں جی ایچ کیو نے روکا تھا۔وہ محض وہاں اردنی فوج کی تربیت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ بطور اکیڈمی میں استاد کے ان کا اس حملے میں شریک ہونے کا جواز ہی نہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ شام کے حافظ الاسد اور پی ایل او کے یاسر عرفات ان سے نفرت کرتے تھے اور بھٹو کے حامی تھے۔

بھارت میں اس وقت گریڈ انیس کے ملازم اور بعد کے چیف سیکرٹری نے شہر یار صاحب کو تو بھوپال اپنی ننھیال بھجوادیا۔مہاراجہ بڑودہ نے کھانے پر ٹیم کو بلایا تو ان کے کک سے مل کر دو پاکستانی کھلاڑیوں کے کھانے میں جلاب ملادیا۔تین کھلاڑیوں کو اتنی شراب پلادی کہ وہ اس رات ماں باپ کا نام بھی بھول گئے۔اگلی صبح میچ کے لیے گیارھویں کھلاڑی کی عدم دستیابی کی وجہ حضرت خود بطور بیٹسمن پیڈ بن کر میدان میں تین روزہ دوستانہ میچ کے لیے اتر گئے۔

آئیں جیکسن ہائٹس چلیں۔
یہاں جن دیسی لوگوں کی پراپرٹی تھی ان کی سمجھیں لاٹری لگ گئی۔اس کے دام اب آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔نیویارک میں سان فرانسسکو کے بعد ہم جنس پرستوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔کم بخت جس علاقے میں جاتے ہیں وہاں پراپرٹی کے دام بڑھادیتے ہیں۔یہ جو آپ تصویر میں Stonewall Inn دیکھ رہے ہیں یہاں سے سن ستر میں یہ فتنہ شروع ہوا۔

سٹون وال ان

یہ مافیا کا بار تھا۔پویس وغیرہ سب اس کے وارے میں تھی مگر پھر وہاں عائشہ ممتاز جیسی ایک فوڈ اتھارٹی والی افسر پہنچ گئی۔ چھاپا مارا اس نے کہا ان کے ہاں جو شراب کی بوتل بکتی ہے اس پر سرکار کی مہر نہیں ہوتی جس کا مطلب ہے یہbootlegged. یعنی ناجائز کاروبار ہے۔سو اس نے سب کو پکڑلیا۔اس میں ایک لڑکا ایسا بھی تھا جو اپنی ماں کا اسکرٹ چوری کرکے پہن کر آگیا تھا۔اس کی تصویر کے معاملے پر بڑا ہنگامہ ہوگیا۔بعد کی قانون سازی نے معاملہ ٹھنڈا کردیا۔اب تو یہ بار ہم جنس پرستوں کے لیے مبعد عظیم ہے۔ ہم جنس پرست افراد کے جو سب سے  زیادہ فیشن اور میڈیا میں پائے جاتے ہیں فاضل آمدنی بہت ہوتی ہے۔بال بچے تو ہوتے نہیں یوں کھل کر کھاتے اور ننگا نہاتے ہیں۔ حالانکہ دو مشہور فیشن ڈیزائنر مردوں نے ایک بچی پولی کو گود بھی لے لیا ہے۔

پولی،اپنے فیشن ڈیزائنر پیرنٹس کے ساتھ

یہ لفنگے سستی پراپرٹی لیتے ہیں،اسے سجاتے ہیں،ان کی وجہ سے اچھے ہوٹل اچھے  سٹوڈیو اور  سٹورز علاقے میں آجاتے ہیں۔فیشن آؤ ٹ لیٹ بن جاتے ہیں۔ان کا دل ایک جگہ زیادہ لگتا بھی نہیں۔اب چونکہ ان کی سستی جگہ کے دام آسمان سے باتیں کررہے ہوتے ہیں یہ نئی قیمت سمیٹ کر اے میرے دل کہیں اور چل گاتے ہوئے وہاں سے نئی  جگہ کی طرف رخصت ہوجاتے ہیں۔
پٹیل برادرز  پر حلال گوٹ میٹ کے علاوہ سارا سامان دستیاب تھا۔پاکستان کی رمضان کے حوالے سے کون سی مصنوعات تھیں جو وہاں نہیں تھیں۔

پٹیل صاحب
پٹیل برادرز جیکسن ہائٹس

ہم ذرا ہٹ کر کھڑے تھے تو ایک صاحب نے آکر جے رام جی کی جے کہا اور آہستہ سے پوچھا کہ’کیم چھو‘ (کیسے ہو) ہم نے بھی کہا بھگوان نی کرپا چھے۔اسے آپ شکر الحمد للہ کا گجراتی ترجمہ سمجھ لیں۔پوچھنے لگے کہ ہما را تعلق ممبئی سے ہے یا ممباسہ(کینیا) سے۔ہم نے جواب دیا کہ ممباسہ۔یہاں کیا کرتے ہیں تو ہم نے سنی ان سنی کرکے پوچھ لیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے روح افزا میں کیا فرق ہوتا ہے تو کہنے لگے ’ہندوستان والے میں ذرا ترشی ہوتی ہے‘ پاکستان والا زیادہ اچھا ہے۔ہم نے کہا سچ بتاؤ کہ یہ پاکستانی پروڈکٹس ہیں یا دوبئی میں ہندوستانی پروڈکٹس کے لیبل بدل دیتے ہو۔کہنے لگے یہاں امپورٹ انوائس اوپر دفتر میں ہے۔ان کو کوئی شکایت کردے تو میرا سارا کاروبار بھنگ ہوجائے گا۔جیل میں سڑا دیں گے۔میرے لیے یہ آسان ہے کہ میں پاکستان کی کوئی پراڈکٹ نہ رکھوں مگر میں دھرم اور دھرتی کے لاگ میں کھوٹا سودا نہیں بیچوں گا۔ مرگیا تو بھگوان کو کیا جواب دوں گا۔ اگلے جنم میں میرے کو بندر بنا کر رکھ دیا تو یہ سالے تو میرے کو پنجرے میں بند کردیں گے۔

ہندو مسلم بھائی بھائی اچار شیلف

اپنے سوال پر دوبارہ مڑگئے اور کہنے لگے کہ یونی ورسٹی میں پڑھاتے ہو یا ڈاکٹر ہو۔ ہم نے کہا نہیں یہاں مین ہیٹن میں بجلی والی ٹیسلا کار کا شو روم ہے۔ہنس کر کہنے لگے ’پاکستان میں پٹھان پنجابی ختم ہوگئے ہیں کہ اپنی قوم والوں کو بے وقوف بنانے یہاں نیویارک آگئے ہو۔ہم نے کہا اسے کیسے پتہ لگا کہ ہم پاکستانی ہیں تو کہنے لگا جوتوں اور پراڈکٹس والے سوال سے۔اچھا یہ بتاؤ کہ یہ کیوں لگا کہ اپنا کاروبار نہیں۔کہنے لگے آپ کا اسٹائل سب سے مختلف ہے تین دفعہ آپ کو دیکھنے آیا آپ نے نوٹس نہیں کیا۔سب چیزوں کو دور سے دیکھا۔اٹھایا ایک کو بھی نہیں،کسی کی قیمت نہیں دیکھی۔یہ بہت Academic Style ہے۔سودے سلف کی قیمت ادا ہوگئی تو کہنے لگا ’پارکنگ تو قریب نہیں ملی ہوگی ؟‘ہم نے کہا آدھا کلو میٹر دور پیشکش کی کہ ٹرالی لے جاؤ جیپ میں رکھ لینا اگلے ہفتے آؤ تو لے آنا۔یہ گجراتی کا چمتکار تھا۔

ٹرالی

نہاری لینے گئے تو منیجر جس طرح دیگر ملازموں کو   ڈانٹ رہا تھا وہ کراچی کا انداز تھا۔ ہم نے کہا کہاں کا ہے بھئی تو۔جواب ملا کرانچی کا۔’اور بھائی میاں آپ کہاں کے ہیں؟‘ہم نے کہا انچولی کے،بتانے لگا اس کا گھر شریف آباد میں تھا۔آپریشن کلین اپ شروع ہوا تو ایک اہم رہنما  سے  دو لاکھ روپےکا ہ ویزہ لے کر یہاں آگیا۔یونٹ انچارج تھا۔ لالو کھیت والے جاوید مہاجر کا رشتہ دار تھا۔ہم نے کہا ابے ٹکا رہتا تو سینٹر بن گیا ہوتا۔ کہنے لگا انسپکٹر بہادر علی کے چیرے(گرفتار شدہ لڑکوں کی ٹانگوں کو مخالف سمت میں اس طاقت سے کھینچا جاتا تھا کہ  وہ نامرد ہوجاتے تھے) کون سہہ سکتا تھا۔بہت باتیں ہوئیں۔بے چارہ اپنے ہاتھ سے دودھ پتی کی چائے بنا کر لایا۔ہم نے پوچھا کہ شادی ہوگئی تو کہنے لگا ہاں مراکش کی لڑکی مل گئی تھی۔ عمر میں دس سال بڑی ہے۔گرین کارڈ تھا۔ہم نے پوچھا نہاری میں گودا نہیں تو کہنے لگا کہ یہاں لوگ کلیسٹرول، کلیوریز کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ہم نے کہا بیوی کیسی ہے؟ تو کہنے لگا کہ نیک تو بہت ہے مگر عربی بہت بولتی ہے اور شیشہ بھی پیتی ہے۔گھر آؤ اگلے ہفتے گودے والی نہاری بھی کھلاؤں گا شیشہ بھی پلاؤں گا۔ہم نے کہا یہ بتا کہ چینی کھانا کس کا اچھا ہے۔ اس نے جس ہوٹل کا نام بتایا اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ بھی کردیا کہ وہاں کا منیجر اپنا مہاجر بھائی ہے۔ہم نے دیکھا یہ سب باتیں جب ہورہی تھیں تو ایک بنگالی ہمیں بہت غور سے تک رہا تھا۔

باہر نکلے تو وہ بنگالی ہمارے پیچھے آن کر کہنے لگا کہ جس ہوٹل پر ہمیں بھیجا گیا ہے وہ مہنگا ہے اس کی بہو کا بھی ایک ہوٹل ہے۔مقدار بھی زیادہ ہوگی اور ہاف آرڈر بھی مان لے گی یعنی ڈیڑھ پلیٹ بھی۔

سعدیہ کے سسر

بہو سعدیہ کو دیکھ کر مایوسی ہوئی،ڈر لگا کہ کھانا بھی ویسا ہی ہوگا جیسی خود ہے اجڑی اجڑی،چپ چاپ مگر کھانا بہت لذیذ تھا سو چکن منچورین،ایگ فرائیڈ رائس، پٹیل صاحب کی کاجو قلفی کھاکر ہم یہودیوں کا عجائب گھر دیکھنے نکل پڑے۔

Save

Save

SHOPPING

Save

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *