قومیت پسندی کا زہر

مملکت پاکستان کثیر الاقوامی ریاست ہے۔ یہاں پر مختلف کلچر اور زبانوں کے لوگ بستے ہیں۔ ایک چیز جو ان میں مشترک ہے وہ ہے مسلمانی اور اسلام ، لیکن اسلام کا جو حال مذہبی فرقہ واریت ، مذہبی جنونیت ، شدت پسندی اور دہشت گردی نے بنایا ہوا ہے وہ بھی آپ سب کے سامنے ہے۔معاشرتی تناؤ اور بگاڑ اس کے علاوہ ہے۔ ایک طرف اس مملکت میں پنجابی، سندھی بلوچی اور پٹھان آباد ہیں تو دوسری طرف کوہستانی ، گلگت اور ہنزہ کے لوگ ہیں ۔شکر ہے فاٹا اور پاٹا کے عوام کو ساتھ ملاکر تھوڑی بہت ان کی دلجوئی کی گئی وگرنہ ملکی سطح پر طبقاتی اور نسلی امتیازات نےعوام الناس کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ معاشرے کیونکر منقسم ہوئے اور کون اس کا ذمہ دار ہے؟ جب سے موہنجودڑو تہذیب ملیا میٹ ہوئی اور یہ اس طرح کا معاشرہ تھا کہ ہر طرف مساوات کا دور دورہ تھا۔ کوئی اگر دہقان ہے تو وہ اپنے فصل کے دانے دے کر ، چمار اور جولاہا اپنے ہنر کے بدلے، نائی اور قصاب اپنی اپنی ذمہ داریاں اور ہنر مندی کے بل بوتے پر سودا سلف اور دیگر ضروریات کا تبادلہ کرتے رہتے تھے۔ اس طرح برابری کی بنیاد پر سوسائٹی بنی ہوئی تھی۔ جس میں کوئی کسی کا محتاج نہیں تھا۔ طبقاتی تقسیم ابھی عمل میں نہیں آئی تھی۔ غریب اور مالدار سوسائٹی میں یکساں طور پر قابل احترام تھے۔ سب سے قابل ذکر بات یہ تھی کہ قومیت ان سب کی ایک تھی۔ مثال کے طور پر نائی، جولاہا، انگر ، مستری ،قصائی ، دوسری طرف شیخ ، سید، پٹھان، مغل ،ارائیں ،چوہدری وغیرہ معاشرے کا حصہ ہوکر ایک قومیت کے افراد گردانے جاتے تھے۔
دوسری طرف مغربی لوگ قریباً پانچ سو سال پہلے زمینداری اور جاگیرداری سے جان چھڑانے کے لئے تگ ودو کر رہے تھے۔صنعتی ترقی کی وجہ سے روایتی طریقہ پیداوار ختم ہونے کے قریب تھا اور آخر کار ملکی ترقی کی خاطر تمام طبقات نے اتحاد اور اتفاق کو فروغ دے کر ایک قوم کا ثبوت دیتے ہوئے ترقی کے اہداف طے کر لئے۔اب یہی اقوام جاگیرداری کو چھوڑ کر سرمایہ داری میں داخل ہوگئیں ہیں ۔اب ذرا ماضی کی طرف جھانکتے ہیں کہ جب لگ بھگ پانچ سو سال قبل مشرقی سوسائٹی میں طبقات کا وجود نہیں تھا۔ اس وقت یورپ ترقی کے اہداف حاصل کرتے ہوئے صنعتی دور میں داخل ہو رہاتھا اور ساتھ ہی روایتی اور پسماندہ معاشروں کے وسائل اور غلاموں پر ان کی نظر تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس وقت تک معاشرے کے اخلاق اور تہذیب کی حالت کافی بہتر تھی ۔ لوگ مل جل کر زندگی گزارتے تھے لیکن یورپ کے صنعتی ادوار اور ترقی نے یورپی معاشرے کے اخلاق اور کلچر کو نئے پیداواری رشتوں سے منسلک کردیا تھا جس سے یورپی اقوام کے اخلاق اور کلچر نئے سرےترتیب دئیے گئے۔
یہ تقابل اس لئے ضروری ہے کہ دیکھا جاسکے کہ اُس وقت ہمارا اور ان کی اقوام کا کیا حال تھا۔ اس کے بعد وہی ہوا جو سامراجی نظام وسائل لوٹنے اور غلامی کو پختہ تر کرنے کے لئے کرتے ہیں ۔ پہلے جو پیشے اور کسب ہائے پر سارامعاشرہ استوار تھا اور لوگ ایک ہی لڑی میں پروئے گئے تھے ۔عزت اور شرف ہنر مندی اور مشقت میں مضمر تھی۔ پھر قبائلی عصبیتوں نے سر اٹھایا کئی قبیلے مقدس ٹھہرے اور کسی کو بیگار میں لگا کر غلام بنا دیا گیا۔لیکن یاد رہے پھر بھی وہ معاشرہ آج کی سماجی حالت سے بہتر تھا۔ برٹش راج آنے کے بعد لینڈ ریونیو میں زمین جاگیر کا حساب کتاب کسی قبیلے اور جاگیردارکی ملکیت بنائی گئی۔ دوسری طرف قبائل میں یعنی قوم کی بجائے پیشے کے لحاظ سے نئی اقوام وجود میں پیش کی گئیں ۔ یہی وہ نکتہ آغاز تھا جس سے بڑے بڑے قبیلے اور قومیں سکڑ گئیں ۔ رہی سہی وحدانیت ختم ہوگئی، اتفاق اور اتحاد بکھر گیا۔ کوئی غیر مقدس ٹھہرا اور کوئی مقدس، انسان ہونے کے بجائے نسلی اور گروہی تعصبات سر ابھارنے لگے ۔ بڑے طبقات نے چھوٹے طبقوں کو غلام بنانا شروع کیا۔اب یہی دستور نیا رنگ اختیار کر گیا ہے۔ طبقات کا وجود جائز قرار پایا ہے جوکہ مذہبی لبادوں میں لپیٹ دیا گیا ہے۔
صورتحال یہ ہےکہ مملکت پاکستان دراصل جاگیرداری اور سرمایہ داری کا ملغوبہ بن چکا ہے۔پارٹیاں اشراف و خواص کے گھر کی لونڈیاں بن چکی ہیں۔ کلچر اورنظریاتی سیاست ناپید ہوچکی ہے۔سوائے اکادکاپارٹیوں کےتقریباً ساری پارٹیاں ملک گیر سیاست کرتی ہیں لیکن عملاً قومی یا یوں کہہ لیا جائے کہ علاقائی سیاست کرتے نظر آتی ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ یہ نام نہاد سیاسی پارٹیاں اپنے صوبے کی فلاح وبہبود کا سوچتی ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ اس میں غریب اور مالدار کا فرق روا رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ سیاسی پارٹیاں ہیں جو خالصتاً نیشنل ازم اور قومی سیاست پر یقین رکھتی ہیں اور خاص طور پرطبقوں کے سیاسی مفادات کا تحفظ کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ ہنر اور کسب کی وجہ سے انسانوں کو نیچ اور کمتر خیال کیا جاتا ہے بلکہ انسان ماننے پر بھی راضی نہیں ہوتے۔
قارئین ہمیں انسانیت چاہئے۔ شعبے اور پیشے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ قدرت کا قانون ہے کہ انسانوں میں صلاحیتوں کا امتیاز برتا گیا ہے۔ اس طرح باپ کے شعبے کو بچے پر ٹھونسنا کہاں کا انصاف ہوگا حالانکہ بچے میں استعداد کار مختلف ہونا فطری امر ہے جب کہ اکثر اوقات بچےدوسرے شعبے اختیار کرلیتے ہیں۔ ہاں یہ درست ہوگا کہ پہلے اسے انسان مانا جائے اور بعد میں اس کی قومیت کا احترام کرتے ہوئے اسے قومیت کے دائرے سے کم از کم نہ نکالا جائے۔قبیلے پہچان کے لئے بنائے گئے ہیں ،باقی والد کے پیشے سے کسی کی پہچان کرانا کسی طور مناسب نہیں ہوگا۔ہا ں البتہ قبیلے کی بنیاد پر کسی کی پہچان اور تعارف کرنا قابل فہم ہے ۔ہنر اورپیشے کو ذات اور قبیلہ کہنا کسی طور پر درست نہیں ہے ۔یہی مذکورہ قومی پارٹیاں صرف اشراف کو تحفط دیتی ہیں اور کسی غریب اور مزدور کا نام و نشان اس میں نہیں ہوتا ہے ۔مزدور کے پاس اتنا وقت اور وسائل کہاں ہوتے ہیں کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکےاور اسے پارٹی کا اعلی عہدیدار بنایا جاسکے۔ رہی بات ان پارٹیوں کی سیاسی و نظریاتی تفہیم کی ،تو وہ سب کو پتا ہے کہ ہم کس طرح اُلٹے پیر چلے جا رہے ہیں ۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *