نجی ملکیت اور طبقاتی سماج

اللہ تعالی نے انسان کو بلحاظ شکل و صورت اور استعدادکارمختلف پیدا کیا ہے ۔ انسانوں میں اہلیتوں، صلاحیتوں ،اعلی کردار اور تجربہ کے بنیاد پر تخصیص قابل فہم بات ہے۔ کیونکہ ہر فرد دوسروں سے جداگانہ ماحول اور معاشرہ پاکر اس کی ذہنی ساخت اور رویوں میں خاص اثر رکھتا ہے ۔ البتہ فنی مہارت اورہنر مندی، قابلیت وسیع مطالعے اور کوشش کا نتیجہ ہو تا ہے۔ اس طرح سائنسی تعلیم ،فلسفہ اور تربیت ، شاعری ،موسیقی ، آرٹ ، اکتسابی اعمال ہیں ، مذکورہ علوم سیکھنے کےحامل افراد اسے ہر وقت اپنی محنت اور لگن کے ساتھ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خداداد صلاحیتوں کے حامل افراد کو اگر کسی شئے کی ماہئیت چندلمحوں میں ازبر ہو جاتی ہے تو دوسری طرف فرد کو اس کی تعلیم سیکھنے کی محنت اور کوشش کرنا پڑتی ہے ۔ یہ غلط اور بلاجواز منطق ہے کہ فلاں بندہ ڈل مائنڈ ڈہے ،اسے کوئی چیز یاد نہیں ہوتی، وہ غبی ہیں وغیرہ وغیرہ۔تاریخی لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ طبقاتی معاشرہ کس طرح وجود میں آیا اور نجی ملکیت کی کیونکر ضرورت پیدا ہوگئی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ غریبی اور مالداری معاشرے میں کیوں کردر آئی ، اشراف و خواص ،سید،شیخ،ملّا،قریشی،مغل،سردار،چوہدری، ارائیں ، خان بہادر وغیرہ کے القابات کیسے پیدا ہوئے اور انسانوں میں امتیازات روا رکھنے کے لئے کون سے مذہبی پیمانے اور روایتی خودساختہ سانچے مقرر کرکے مفلوک الحال انسانوں کو غلام بنا یا گیا ۔ کیا یہ سب خدائی مرضی کا نتیجہ تھا؟ جواباً عرض ہے کہ نہیں ،یہ سب انسانوں نے اپنی چالاکیوں ،منصوبہ بندیوں ، جنگ و جدل کرکے پہلے وسائل ، زمین کو قبضہ کرکے اور بعد از دیگر انسانوں کو غلام بنانا شروع کیا ہے۔
قران پاک میں ارشاد پاک ہے ’’ اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور خشکی اور تری دونوں میں ان کو سواری عطا کی” اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی‘‘(17.70) دوسری جگہ ارشاد پاک ہے۔ لوگو، (ایک دوسرے کو بھائی خیال نہیں کرو گے تو اِنہی برائیوں میں پڑے رہو گے، اِس لیے خوب سمجھ لو کہ ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو (الگ الگ) پہچانو، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ (وہ قیامت میں اِسی بنیاد پر فیصلہ کرے گا)۔ یقیناً اللہ علیم و خبیر ہے۔) 49.13( ’’ترجمعہ جاوید احمد غامدی صاحب ‘‘بعثت نبوی ؐ کے وقت بھی سرمایہ داری ،ملوکیت ، بادشاہی، پیشوائیت ،نسل پرستی اور غلامی مسلمہ حیثیت سے رائج تھی ۔یقیناً بعثت نبوت اورقرآن کا پیغام شرف آدمیت وانسانیت ہی کا پیغام ہے اورقرآن کی دعوت احترام آدمیت کی دعوت پر مبنی ہے۔
دنیا کے اولین انسانوں کا گزارہ قدرتی پھلوں اور میوہ جات سے ہوجاتا تھا۔ یعنی ابھی باقاعدہ زراعت شروع نہیں ہوئی تھی ۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ زراعت کی ابتدا عورتوں نے ۔ بعد میں سیارہ زمین پر کئی قسم کے طوفان اور بڑی تبدیلیاں آئیں ، جس کی وجہ سے زمین کی ساخت میں بھی بڑی سطح پر تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔انسانوں نے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں پناہ لینا شروع کی ۔اس لئے پہلے پہل انسانوں نے غذا کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی خاطر پہلی مرتبہ شکار کرکے گوشت کھانا شروع کیا تھا۔ یاد رہے اس وقت گزارہ پھلوں اور سبزیوں سے ہو جاتا تھا ۔ اس کے بعدجب زراعت کا مسئلہ پیدا ہو اتو اس وقت سےانسانوں نے باقاعدہ زراعت شروع کی۔ یہ وہی اوقات تھے جب سے محنت اور مشقت کا دور آیا ،یہیں سے لگتا ہے کہ نجی ملکیت کی ابتدا ہوئی، طاقتور اور بااختیار لوگ اچھی زمین کی تلاش میں جنگیں کرنے لگے۔ زر، زن اور زمین کی خاطرقتل وغارت ہوئی ۔ عورت ذات کو جنس میں تبدیل کرکے اس کو تبادلے کے طور پر بیچا جانے لگا ، انسانوں کی منڈیوں میں بولیاں لگنی لگیں ، انسانوں کو غلام بنایا جانے لگا ۔حتی کہ زنجیروں میں جکڑ کر دوسرے علاقوں میں بجھوایا گیا ۔ ذات پات کی تقسیم عمل میں آئی اور نجی ملکیت کا تصور جڑ پکڑنے لگا۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہےکہ اقوام اورملکوں کو ٹیکنالوجیکل ڈویلپمنٹ اور جنگوں کے زور پر یرغمال بنایا جاتا ہے ۔قرض در قرض اور سود در سودسے اقوام اور ملکوں کو آہنی زنجیروں میں جکڑ لیا جاتا ہے اور اس طرح سامراج دوسرےملکوں میں اپنے پروردہ افراد کو نامزد کرکے باقی ماندہ انسانوں کو مشینی ساز و سامان اور خود ساختہ نظریات سے بر سر پیکار کرکے غلام بناتا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام میں مقابلے، آزاد منڈی ،تجارت اور منافع کا ڈھونگ رچا کر استحصال زدہ طبقوں کےلئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں ۔ اس نظام میں منڈ ی ،آڑتی ، کمیشن ایجنٹ ،زمیندار اورجاگیردار کے تابع ہوتی ہیں ۔ صنعتی ادارے، سرمایہ دار ، گورنمنٹ ،ٹھیکیداروں مزدور یونین اور مزدوروں کے کا ندھوں پر ہوتے ہیں۔ مڈل کلاس عام دکانداری کرتے ہوئے سرمایہ دار اور جاگیردار کے ایجنٹ بن کر ان کا مال مارکیٹ میں بیچنے کے لئے موجودہوتے ہیں ۔
ذات پات کے نظام نے پلٹا کھاکراثر دکھایا ہواہے ۔اب عزت اور شرف انسانیت بلحاظ مال ،جائیداد اور سرمایہ کی جاتی ہے ۔نیم سرمایہ دار اور جاگیر دارانہ نظام میں نئے طبقے وجود میں آنے لگے ہیں ۔ بلکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ نظام نیم جاگیردارانہ اور نیم سرمایہ دارانہ بن کر ملغوبہ بن چکا ہے ۔ مقصد ان ساری باتوں کا یہ ہے کہ انسانیت ناپید ہوچکی ہے ، عزت اور تکریم کا معیار دولت اور جاگیر ہے۔ غریب اور مزدور غربت کی بھٹی میں جل رہا ہے ۔اشرافیہ مالداروں اور مزدور غریبوں میں آسمان و زمین کا فرق رو ا رکھا جارہا ہے ۔ عملاً اشرافیہ حکمران اورحکومتی مشینری کا حصہ ہوتے ہیں ۔یہی اشرافیہ اور مالدار کو ساری نعمتیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتی ہیں ۔ پیسے کے زور پر انسانوں کو غلام بنایا جانا قانونی اور شرعی طور پر جائز ہوچکا ہے ۔ حاصل بحث یہ ہے کہ انسانوں کا شرف ،عزت اور تکریم،نجی ملکیت کے مکمل خاتمے اور غیر طبقاتی معاشرے میں مضمر ہے۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *