قومی وحدت دیوانے کی بڑ ہے

قارئین، پاکستان کے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ دراصل قومی وحدت کا نعرہ دیوانے کی بڑ ہے۔ البتہ مایوس نہیں ہونا چاہئے اور پُرامید رہنا چاہئے کہ یہی قومی وحدت، اہداف و مقاصد آخری حل کے طور پر ہماری تقدیر مقرر ہوچکے ہیں ۔ ایسے حالات میں جبکہ قومیتوں میں پھوٹ ڈالی جا چکی ہے۔اس ساری صورتحال میں لسانی اور قومی تعصبات پاکستانیت کا شیرازہ بکھیرنے کے مترادف ہے۔ پختون اور پنجابی، سندھی اور بلوچ کے درمیان خلیج حائل کئے جانے کی سازش کامیابی سے کی جا چکی ہے۔ نام نہاد ا خلاقی پالیسی اور عوام کو سیاست سے بیزار کرنے کی تدابیرکرنا کسی سیاسی و مذہبی پارٹی کا وطیرہ نہیں ہوسکتا ہے۔ جو کام اداروں کے کرنے کا ہوتا ہے، وہ کسی طرح سیاسی پارٹیاں نہیں کرسکتیں کیونکہ یہ طریقہ کار تو خود یہی سیاسی پارٹیاں پارلیمنٹ میں مذکورہ اداروں کے لئے تجویز کرتی ہیں۔ اسی اثنا میں پاکستان کے ساتھ مخلص ہونے اور پاکستان کے شہری ہونے پر شائد ہی کسی کو اختلاف ہو، لیکن کسی کی قومیت پرانگلی اٹھانے سے گریز کرنا ہی دانشمندی کا تقا ضا ہے۔ ورنہ رہی سہی ملکی وحدت داؤ پر لگ سکتی ہے۔ مسئلہ اس وقت شروع ہو تا ہے جب پارٹیاں ایک دوسرے پر دیدہ و دانستہ قومیتی پارٹی اور مذہبیت کا لیبل چسپاں کرتی ہیں۔ یہ درست بھی ہے کہ بعض مذکورہ سیاسی پارٹیاں قومی سیاست میں فعال کردار ادا کرتی چلی آرہی ہیں، لیکن سیاسی حقوق کے حصول کے لئے کمر بستہ مذکورہ پارٹیاں ایڑی چوٹی کا زور لگا کرقومی وحدت اور پاکستانیت کو دانستہ و نادانستہ طور پر نقصان پہنچاتی رہی ہیں۔ مرکزی سیاست کرنے والی سیاسی پارٹیاں آفت زدہ اور پسماندہ صوبوں کو جائز اور آئینی حقوق دینے سے گریزاں ہیں۔ اس لئے صوبوں میں مرکز کے خلاف اشتعال اور نفرت پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی سیاسی پارٹیاں یہ دراڑیں مزید گہری کرنے کے درپے ہیں۔ مطلب مذکورہ سیاسی پارٹیاں اکثر اوقات اپنے جائز اور آئینی حقوق کے حصول کے لئے حق بجانب نظر آتی ہیں، لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ان پارٹیوں نے صوبائی حقوق کے حصول کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ دیگر بڑی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر یہی اہداف باآسانی حاصل کئے جائیں۔ میرے خیال میں صوبوں کے وسائل جو کہ اٹھارہویں ترمیم کے توسط سے صوبوں کو دئیے گئے ہیں، اس پرکوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ یہی حقوق صوبوں کو وسیع تر قومی مفادات کے تناظر میں حوالہ کئے جائیں۔ صوبوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا سلیقہ سکھایا جائے۔ سیاسی پارٹیاں بجائے اس کے کہ قومی مفادات کا تحفظ کریں، انہیں چاہئے کہ ملکی داخلہ و خارجہ پالیسیوں پر نظر رکھتے ہوئے اُن کا تحفظ یقینی بنائیں ۔
سیاست کا مطلب یہ ہے کہ قوموں کے وسائل اور مسائل کو بڑے پیمانے پر حل کرنے کا طریقۂ کار اپنا یاجائے۔ مذاکرات، گفت و شنید اور ڈائیلاگ کے ذریعے اپنے مسائل پیش کرنا اور انہیں قانونی طریقہ پر حل کرنا ہی سیاست کا اعلیٰ و ارفع مقصد ہوتا ہے۔ باالفاظ دیگر سیاست عوامی امنگوں کا اظہار ہے۔ اب اگر یہی سیاست اور سیاسی پارٹی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب بن رہی ہے، تو یہ کسی طور بجا نہ ہوگا کہ اس طرح ناجائز حقوق کے حصول کے لئے کوئی اس کا ساتھ دے۔سیاست کا کھیل بھی عجیب ہے۔ دوست کو دشمن بنتے دیر نہیں لگتی۔ طاقت کا زعم اورمفادات کا یارانہ ہوتا ہے۔ بے سروپا الزمات اور نان ایشوز کو لے کر سیاسی مسائل بنائے جاتے ہیں۔ فرضی بت تراشے جاتے ہیں۔ شخصیات تیار کی جاتی ہیں۔ انسانوں کو غلام بنائے جانے کی ترکیبیں سوچی جاتی ہیں۔ ذاتی فوائد کو لے کر اسمبلی کے فلور پر قوانین بنائے جاتے ہیں۔ عوامی سوچ کو تبدیل کرکے اصل مسائل سے عوام کو دور کیا جاتا ہے۔دوسری طرف سیاست خدمت ہے۔ عبادت سے جنت ملتی ہے اور خدمت سے خدا۔ اب کس کو کیا چاہئے، فیصلہ اسے خود کرنا ہے۔ دوسرے انسانوں کا استحصال اور ان کے جائز حقوق سے پہلو تہی خدا کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
سیاست اعلیٰ وا رفع مجموعی مقاصد کے حصول کے لئے کی جاتی ہے۔ مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے اور اسے حل کرنے کی تدابیر اور منصوبے سوچے جاتے ہیں۔ معاشرتی تضادات اور ابہام میں کمی لائی جاتی ہے۔ عوامی اضطراب اور ٹینشن کو کم کیا جاتا ہے۔ مرکزی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ صوبائی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ بلدیاتی ادارے ان قوانین کو عملی جامہ پہنانے کا کام کرتے ہیں۔ سروسز مہیا کرنے کا کام ادارے کرتے ہیں۔ عوامی مفادات کو دیکھ کر اور اصلاحات کی خاطر بڑے پیمانے پر اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے قوانین بنانا ہی بہترین سیاست کہلائی جاسکتی ہے۔ سیاست کے کئی گوشے ایسے ہیں جن سے مقاصد اور اہداف خود کار طور پر حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سرکاری محکمے اوران کے اعمال کے دائرہ کار کو ملحوظ خاطر رکھ کر قوانین کو نافذ کرتے ہوئے اہداف کو سر کیا جاسکتا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں علاقائی اور ملکی سیاست میں فرق روا رکھنا چاہئے۔ایک ملک میں جائز اور نا جائز کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ سیاسی پارٹیوں کے ڈومین کو کسی خاص تناظر میں نہیں لینا چاہئے۔ مطلب یہ ہے کہ خاص کر علاقائی سیاست کو پیمانہ نہیں بنانا چاہئے اور کسی طور علاقائی سیاست کو ملکی سیاست پر ترجیح نہیں دینی چاہئے۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ نان ایشوز کی سیاست کو دفن کرنے والے ہی ملکی وحدت اور خیر خواہی کے ثبوت کنندہ تصورہوں گے۔ ملک کی تمام پارٹیوں کو مرکزی سیاست کے ساتھ ساتھ علاقائی سیاست اور محرومیوں کا مداوا اپنے مخصوص فورم پر کرنا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ سیاست کو صرف قومیت کی سطح پر کرنا کسی طور درست نہیں۔ قومی سیاست کو مخصوص ناجائز اہداف کے حصول کے لئے زینہ کے طور پر نہیں اپنانا چاہئے۔سیاست برائے سیاست سے اجتناب کرنا ہی درحقیقت اصلی سیاست ہے۔ صوبائی سطح پرمحرمیوں کا اِزالہ ہی قومی وحدت کو بڑھاوا دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک جیسی واضح مرکزی پالیسی ہی ملکی ترقی کو چار چاند لگا سکتی ہے ۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *