ہمبنٹوٹا کا سفر اور چینی صدر شی جن پنگ:

ہمبنٹوٹا کا سفر اور چینی صدر شی جن پنگ
آصف وڑائچ
2016 کے آواخر کی بات ہے مجھے ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں سری لنکا جانے کا اتفاق ہوا۔ جس رات میں کولمبو ایئرپورٹ اترا تو بہت تھک چکا تھا اور چونکہ مجھے صبح سویرے ہی کام پر جانا تھا چناچہ سیدھے شالیمار ہوٹل پہنچا اور فوراً”گھوڑے بیچ دیے”۔ شالیمار ہوٹل کولمبو ایئرپورٹ سے تقریباً تیس کلو میٹر پر واقع ایک چھوٹا اور قدرے کفایتی مگر اچھا ہوٹل ہے۔ علی الصبح پروگرام کے مطابق مجھے کمپنی کا ڈرائیور اٹھا کر لے گیا۔ ہمیں “ہمبنٹوٹا”جانا تھا۔ ہمبنٹوٹا ایک چھوٹا سا خوبصورت ساحلی شہر ہے جو کولمبو سے 240 کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے کچھ میچز بھی ہوۓ تھے۔
شروع میں سفر بہت ہی خوشگوار تھا ، راستے میں آنے والے مناظر میرےلیے کسی حد تک نئے سے تھے۔ مگر سارا مزا اس وقت کرکرا ہو گیا جب ہمیں ہمبنٹوٹا کے داخلی راستے پر پہنچ کر رکنا پڑا۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیر رکھا تھا اور آگے جانے کا راستہ مسدود تھا۔ کچھ واویلا مچاتے لوگ پولیس سے جھڑپ رہے تھے اور حصار توڑ کر شہر کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ کچھ منتشر لوگ شہر کی طرف جانے والی سڑک سے واپس ہماری جانب دوڑے چلے آ رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر تھے۔ بیشتر افراد نے بدھ بھکشوؤں والی سندوری رنگ کی چادریں بدن پر لپیٹ رکھی تھیں۔ آگے کچھ فاصلے پر فضا میں دھواں بھی اٹھ رہا تھا۔ اس سے زیادہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کچھ اندازہ نہ تھا کہ آخر یہ کیا ہنگامہ بپا ہو گیا ۔ “کہیں یہ سارا ہنگامہ میری آمد پر تو نہیں بپا ہوا ؟” میں نے اپنے سنہالی ڈراییور سے انگلش میں پوچھا۔ اس کشمکش میں بھی میری رگِ ظرافت پھڑک رہی تھی۔
سنہالی ڈرائیور مسکرایا اور بولا ۔ “نہیں سر ایسا کیسے ہو سکتا ہے”۔
یار پتہ لگاؤ ، آخر چکر کیا ہے ؟ میں نے سی آئی ڈی والے ڈی ایس پی کی طرح ہاتھ کی انگلیاں گھما کر کہا۔ ڈرائیور گاڑی سے اترا اور آگے موجود اچھلتی کودتی بھیڑ میں کہیں گم ہو گیا۔ چند ڈنڈا بردار مسٹنڈوں کو اپنی گاڑی کے سامنے سے بھاگتا ہوا دیکھ کر میں کچھ سراسیمہ سا ہو گیا کہ کہیں سالا کوئی گلو بٹ نکل کر ہماری گاڑی پر ڈنڈے برسانا نہ شروع کر دے ،البتہ پولیس بڑی مستعدی کے ساتھ صورتِ حال کو ہینڈل کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ڈرائیور ہانپتا کانپتا ہوا واپس آیا۔
“سر ! اصل میں آ گے لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور پولیس ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل پھینک رہی ہے۔ ہم آج شہر میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ ڈرائیور جلدی سے گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی واپس گھما دی”۔
لیکن ماجرا کیا ہے؟ میں نے پھر پوچھا ۔لوگ احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟
سر بات یہ ہے کہ حکومت یہاں کے بیشتر دیہی علاقوں کے مکینوں کو جو کہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں، ان کو اپنے گھروں سے بے دخل کر رہی ہے۔ اصل میں ہمبنٹوٹا میں ایک بڑی بندر گاہ ہے اور سری لنکا کی حکومت اس علاقے کو 99 سالہ لیز پر چین کی ایک کمپنی کو دے رہی ہے اور اس منصوبے کے 80 فیصد حصص کی ملکیت چین کے پاس ہو گی۔ چین سے مل کر اس علاقے کو ایک صنعتی زون کے طور پر استعمال کیا جائے گا جہاں چینی کمپنیوں کو فیکٹریاں تعمیر کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ بندر گاہ کی تعمیر کے لیے چین نے ایک کثیر رقم پہلے ہی سری لنکن حکومت کو دے رکھی ہے لیکن یہاں کے لوگوں کو یہ معاہدہ منظور نہیں اور نہ ہی وہ اپنے علاقے سے بے دخل ہونا چاہتے ہیں۔ اگرچہ سری لنکن حکومت نے انہیں متبادل جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے مگر لوگوں کا ماننا ہے کہ اس سے علاقہ ایک چینی کالونی بن کر رہ جائے گا اور ہمارے کلچر اور بود وباش پر بھی اثر پڑے گا۔ کچھ بلوائیوَں نے چینی صدر کے پوسٹر کو آگ لگا رکھی ہے ، وہ جو دھواں سا اٹھ رہا ہے نا سر ! وہ اسی آگ کا ہے ۔ ڈرائیور نے اوپر کی طرف اشارہ کیا اور خاموش ہو کر گاڑی بھگانے میں منہمک ہو گیا۔
میں نے چیونگم کو زبان سے گھما کر غبارہ پھلایا اور کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا۔
اس وقت مجھے چین کے ان دیو ہیکل منصوبوں کا کچھ خاص علم یا پھیلاؤ کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن آج مجھے یہ سفر اس لیے یاد آ گیا کیونکہ میرے ذہن میں “بیلٹ اینڈ روڈ” کا منصوبہ گھومنے لگا ہے جس کی پر وقار تقریب اس وقت چین میں جاری ہے اور جس کے تحت چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے 124 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تقریب میں لگ بھگ ساٹھ ممالک کے نمائندگان بشمول ہمارے وزیرِ اعظم جناب نواز شریف کے شریک ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھارت نے اپنا کوئی سرکاری نمائندہ تقریب میں نہیں بھیجا۔ اگرچہ بھارت چین کے ایسے کئی منصوبوں خصوصا ًسی پیک پر کھل کر اعتراض کرتا رہا ہے مگر اس نے یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کیا کہ ان منصوبوں سے آخر اس کو ایسے کیا مہلک تحفظات لا حق ہیں جو اسے ایک پل سکون نہیں لینے دے رہے۔
دوسری جانب کچھ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبہ جات کے نتیجے میں کمیونزم کی آڑ میں سرمایہ دارانہ نظام ہی مضبوط ہو گا، خصوصاًایسے کاروباری سرمایہ دار طبقات جن کا اپنے ملک کی حکومت بنانے میں اہم سیاسی کردار ہے،کو لا محالہ ذاتی فوائد حاصل ہونگے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے ملک کے چھوٹے صوبے بھی سی پیک پر اپنے کچھ تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ ان کے تحفظات کلی طور پر دور کر دیے گئے ہیں یا نہیں، البتہ ہمارے وزیرِ اعظم نے چین کے ان منصوبہ جات کو آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ قرار دیا ہے۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتاۓ گا کہ یہ منصوبہ جات ہمارے لیےبھی تحفہ ثابت ہوں گے یا آزار ۔

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *