بہت بولتی ہو رضیہ۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING

جس رضیہ کا ذکر ہے وہ امریکہ میں رہتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب تک غنڈوں میں نہیں پھنسی۔وہ جن غنڈوں سے نمٹتی ہے ان میں سی پیک سے زیادہ گھاگ چینی،مغرور کورین اور امیر مینائی کی معشوق جیسے مہذب مگر سفاک جاپانی شامل ہیں۔اب آپ پوچھیں گے کہ امیر مینائی نے تو ساری عمرہزار فیٹ کے فاصلے سے بھی کسی جاپانی کو نہ دیکھا ہوگا۔ان کی محبوبہ کی جاپانیوں سے کیسی
مماثلت۔ جان لیں کہ یہ تال میل بس اتنا ہے کہ امیر مینائی نے کہا تھا نا کہ۔ع
وہ بے دردی سے سر کاٹیں اور میں کہوں امیرؔ ان سے
حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ

یہ جاپانی بھی جب آپ کا سر کاٹنے لگتے ہیں تو آپ کو دس دفعہ کورنش بجا لائیں گے۔جیل لگا کر کنگھی بھی کریں گے اورچہرے کا مساج بھی مفت میں کردیں گے۔یہ جاپانی ایسے مہذب اور رکھ رکھاؤ والے ہیں کہ ان کا پاسنگ بس آپ کوکراچی کے چند ہلاک شدہ اور چند گرفتار شدہ ٹارگیٹ کلرز میں ملتا ہے ۔وہ بھی جاپانیوں کی طرح اپنے مقتول کا قیمہ بنانے سے پہلے اس کی آخری خواہش پوری کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے ،گولڈ لیف کے چند سگریٹ،ماں کو فون،باپ اور بڑے بھائی سے معافی،فریسکو کی قلاقند اس کے علاوہ کراچی میں اپنوں کے ہاتھوں  بے رحمی سے بوری میں بند ہوکے مرنے والا کون سا سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار کے بیٹے ارسلان ملک اور ایان علی کے مناکو جیسی مہنگی جگہ تعطیلات گزارنے کی خواہش کرتا ہے۔

رضیہ کے لیے بھی ہمارے دوست افضل رضوی کی طرح پہلی ملاقات میں دنیا کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کیا کرتی ہے۔افضل رضوی تو ہمیں پتہ ہے کہ سنی خواتین کے دل توڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے ۔اللہ نہ  کرے آپ بھی وہ غلطی کریں جو ہماری دونوں کی دوست پیوما نے کی تھی۔وہ معصومہ پہلی ملاقات میں کربیٹھی تھی۔ہمارے بیوروکریٹ ہونے کا اسے پہلے سے پتہ تھا۔ہمیں اس نے یکسر نظر انداز کیا جس کا ہم نے بدلہ لینے کی یوں ٹھانی  کہ جلا کے  راکھ نہ کردوں تو نام نہیں،گھر پر منعقد کھانے اور شراب کی محفل حسین میں اس نے آیت اللہ، مرجع خلائق ۔ولایت فقیہ سیدنا افضل رضوی سے پوچھا کہ وہ کیا کرتے ہیں تو اگلے پندرہ منٹ عالی مقام ہمارے جیسے سلفی، دیوبندی، وہابیوں کے جگر جان نے اپنا روٹی روزی کا دھندہ سمجھانے میں صرف کردیے۔اگلے دن پیوما ہمیں کہنے لگی
”آئی، ڈی جو کچھ کیا وہ صحیح وقت پر افضل کے بڑوں نے کیا۔حضرت تو بس مزے کرتے ہیں“لیکن رضیہ بے چاری ایسی نہیں۔اس کے نصیب میں پیار میں جلنے والوں کی طرح چین کہاں آرام کہاں۔وہ ایک طرح کی syndication کرتی ہے۔اپنے سرمایہ کاروں کے ساتھ informal relationships (غیر رسمی تعلقات) جوڑ کر رکھنا اس کا کام ہے۔وہ کسی ایک فرم کی ملازم بھی نہیں ۔وہ اپنے مراسم کے طومار میں سےAccel اور Sequoia Capital جیسیventure capital کی فرموں سے نت نئی ٹیکنا لوجیوں کے لیے سرمایہ کھینچتی ہے۔ یہ فرمز سنجیدہ اور قابل فروخت ایجادات کے لیے سرمایہ حاصل کرتی ہیں ۔کہہ رہی تھی کہ پچھلے ماہ تو سڑک پر ہی رہی،نہانا دھونا جہاں موقع ملا، سونا موٹلز میں اور کھانا سڑکوں پر،کوئی کانٹیکٹ کہیں تو کہیں کسی شہر میں۔اگر آپ نے اچھی چست انگریزی کے شوق میں لی چائلڈ کے ناول پڑھے ہوں تو وہ اس کے مشہور کردار جیک ری چر جیسی ہے۔

رضیہ دیناج پور۔ بنگلہ دیش کی ہے اورعمر تیس برس۔اردو، انگریزی،جاپانی، کورین،بنگالی ایسی بولتی ہے کہ خواب میں بھی انہیں زبانوں میں گفتگو کرتی ہے ورنہ آپ تو جانتے ہیں خواب میں موقع  ملتے ہی لوگ سنی لیونے سے بھی اپنی مادری زبان میں ہی ایسی تسی کرتے ہیں۔
وہ جن کے ساتھ آئی تھی وہ ہمیں بتارہے تھے کہ برنس روڈ کے کسی مہاجر لڑکے کے چکر میں خودکشی بھی کی مگر بچ گئی۔ وہ خبیث بالائی سندھ کے سیاست داں کی بیٹی سے شادی کربیٹھا۔پیچھے کراچی میں نالائق بھائی بہن کو سرکاری نوکری درکار تھی یہ کنگلی toiling بنگالن سندھ سرکار کے مگر مچھ جیسے جبڑے سے یہ شکار کیسے چھینتی۔ یہ کام تو صرف سندھی سیاست دان کی بیٹی ہی پکڑ کر دے سکتی تھی۔بھائی پولیس میں اے ایس آئی اور بہن کسی پراجیکٹ میں سیٹ ہوگئی۔
رضیہ خود بھی دیکھنے میں اور تراش خراش میں بپاشا باسو جیسی ہے سمجھ نہیں آیا کہ یہ برنس روڈ دہلی کی بارہ مسالے کی چاٹ میں کہاں جا گھسی۔ باسط میاں کہنے لگے کہ وہ لونڈا دیکھنے میں بالکل رنبیر کپور لگتا تھا۔ہم نے سوچا یہ دنیا بھر کی جو خواتین ہیں نا ان کی زندگی کی اکثر پیچیدگیاں اس وجہ سے ہیں کہ وہ کس کے جیسی دکھائی دیتی ہیں اور دوسرے کس کی طرح لگتے ہیں۔ یوں شیشہ، پیمانہ،مے بن کر میخانہ بن جانے،  دوسروں جیسا لگنے ا کے چکر میں اور رنبیر کپور اور زین ملک جیسا ڈھونڈنے میں برباد ہوجاتی ہیں۔ان کو چاہیے کہ ہمارے اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے ہمالہ خصال مردوں سے دل لگائیں ،پرانے لاکھ سہی پر اپنی جگہ پر کوہ گراں بن کر ٹھہرے ہوئے تو ہیں۔ہمیں پدماوتی اور سلمان خان کی طرح نہ دیکھیں بلکہ مولانا روم کی مثنوی، مولوی و معنوی اور میر کا دیوان اور سمجھ کر ایسے پڑھیں کہ معرفت عشق پونی ٹیل سے گھسیٹ کر اس مقام تک لے جائے کہ

ع اک غزل میر کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی میری دیوار میں آجاتی ہے

رضیہ کے بھائی کی بیٹی نے گریجویشن کیا تھا لہذا اردو میڈیم فیس بک والوں کی طرح لائک اور شئیر تو بنتا تھا۔

گریجویٹس

مل جل کر سب نے ایک پارٹی تھرو کی تھی۔دس قریبی دوست تھے۔ ڈینٹسٹ گریجویٹ بنے تھے۔ان کا کچھ دنوں بعد لوگوں کے منہ اور جیب میں ہاتھ ڈالنے کا پروگرام تھا۔بے چاری تھک کر دو سو میل کار چلا کر آئی تھی مگر گریجویشن کی تقریب میں نہ پہنچ پانے کا ازالہ یوں کیا کہ بریانی لانے کا جرمانہ اس پر پڑ گیا۔ ہم نے بہت کہا یہ بوجھ ہم اٹھا لیتے ہیں۔ کہنے لگی تم تو پرائے ہو،یوں للچائے ہو،جانے کس دنیا سے جانے کیوں آئے ہو۔ایکتا شا ہ اور اس کا میاں،دونوں ہندوستان کے اور ایک عیسائی مگر دونوں گجراتی۔ اور ہمارے باسط میاں،نیویارک میں لٹل اٹلی سے ہاتھ کی بنی آئسکریم لے کر آنا  ان کے حصے میں آیا۔رضیہ نے ایکتا کو لیا، ہمیں بٹھایا اور نیو جرسی جانے کے لیے باسط میاں کو گاڑی میں ٹھونسا،نیویارک کے جس مقام سے بریانی لینی تھی وہاں ہماری عزیزہ پہلے ہی اپنے تعلقات کی وجہ سے بکرے کا گوٹ میٹ صبح پہنچواچکی تھیں۔(یہ سب بکرے کا گوٹ میٹ کہتے ہیں۔)

ایکتا کا تعلق جین مذہب سے ہے۔ ہندوستاں کے شاہ اور پٹیل گجراتیوں کی  ایسی کمیونٹیز ہیں جن کا امریکہ میں خاصا اثر ورسوخ  ہے،یہ کاروبار اور پیشہ ورانہ ملازمت میں چھائے ہوئے  ہیں۔ ان کے اگر اپنے محاورے کو سامنے رکھیں تو ان میں جو Indian -Indian ہیں وہ پاکستانیوں کو نیڑے نہیں لگنے دیتے۔یہ وہ دیش بھگتی (وطن دوست)ہیں جو بھارت کے تعصبات سمیت ترشول اور سنکھ لے کر یہاں امریکہ پہنچ گئے ہیں مگر وہ نسل جو امریکہ میں ہی پیدا ہوئی ہے اور ویزے کے حصول میں اور گرین کارڈ والے رشتے ہتھیانے میں ناکام سب دیسی جنہیں تحقیر سے ABCD(American Born Confused Desi) پکارتے ہیں۔ان کے ہاں یہ تعصب بہت کم دکھائی دیتا ہے۔گجراتی ہوں تو یہ مذہبی تفریق کم ہوجاتی ہے۔شاہ اور پٹیل دیگر مسلمانوں کو ناقابل بھروسہ سمجھتے ہیں۔

ہم نے پوچھا کہ اب کی دفعہ یہاں نیویارک میں چی نے   بہت دکھائی پڑتے ہیں تو کہنے لگی۔مال بہت آگیا ہے۔نیویارک میں جائیداد بہت خریدی ہے۔وارلڈورف ایسٹرویا جو نیویارک کابہت مشہور ہوٹل ہے وہ بھی چینی خرید چکے ہیں۔چین کا Pregnancy Tourism بھی بہت زوروں پرہے
۔ ان کی چی نیاں پانچویں مہینے pre natal belly bands باندھ کر پہنچ جاتی ہیں۔

پرینیٹیبل بیلی بینڈ

امیگریشن کے وقت کاؤنٹرپر جھک کر کھڑی ہوجاتی ہیں تاکہ پیٹ کا ابھار دکھائی نہ دے اور پھر بچہ پیدا کرکے اس کا امریکن پاسپورٹ لے کر دوڑ جاتی ہیں۔وہ دن دور نہیں جب نیلا پاسپورٹ پکڑے یہ بچے امریکی شہری کے طور پر لوٹیں تو پورا چین چند برسوں میں امریکہ کی 51 ویں ریاست بن جائے اور امریکی صدر دو سال کے لیے کوئی امریکی بن جائے تو دو سال کے لیے کمیونسٹ پارٹی کا کوئی چینی ہو۔سی پیک سے جو پاکستانی پریشان ہیں وہ جان لیں کہ نیویارک میں مالدار چینی چھاگئے ہیں اور ہماری طرف ان کے غرباء اور مساکین کی یلغار ہے۔وہ دن دور نہیں کہ ماموں کانجن اور کلر سیداں کے  لڑکوں کی  بیویاں اور گلگت کی لڑکیوں کے شوہر چینی ہوں گے۔ یاجوج  ماجوج  کی پیش گوئی جو سورۃ الانبیا کی آیت نمبر 96 میں یوں بیان ہوئی ہے کہ ”وہ وقت یاد رہے کہ جن یاجوج ماجوج کو کھلا چھوڑ دیا جائے گا اور وہ ہر رکاوٹ کو دھکیلتے ہوئے پہاڑیوں سے لڑھکتے ہوئے غول در غول دکھائی دیں گے۔“

ہم نے پوچھ لیا ان میں،جاپانیوں اور چینوں میں کیا فرق ہے۔رضیہ کہنے لگی چینی اور کورین بہت Nimble ہوتے ہیں۔ گھڑی کی سوئیوں اور فور۔ جی انٹرنیٹ جیسے۔کورین اوائل مراسم میں بہت بدتمیز اور اجڈ لگتے ہیں مگر چوں کہ بٹوں اور کشمیریوں کی طرح ان کی نگاہ بھی اپنی ناک سے پرے نہیں جاتی۔اس لیے دوسروں کو جلدی اپنے ماحول میں بسنے اور حلقے میں گھسنے نہیں دیتے۔میمنوں اور گجراتی پٹیلوں کی طرح خاندانی روابط پر بہت زور ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کی  دو بڑی کمپنیوں کے مالکان یعنی سیم سنگ کے مالکChung Mong Hun اور ہن ڈائے کے مالک Chung mong koo آپس میں کزن ہیں۔

رضیہ کوچینیوں سے معاملات طے کرتے ہوئے اتنی ہی الجھن ہوتی ہے جتنی امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہوتی ہے۔اپنے اس anxiety -factor میں وہ چینی قوم کے لیے جن جذبات کا اظہار کرتی ہے اس میں واقفیت سے زیادہ بے یقینی اور ذاتی ناپسند کا زیادہ دخل ہے۔

ہمیں حیرت ہوئی  کہ یہ گھبراہٹ اگر گورے امریکن عیسائی کو ہو تو سمجھ میں آتا ہے ۔یہ دیناج پور بنگلہ دیش کی سانولے سلونے رسیلے رسیلے گلاب جامن جیسی رضیہ نے امریکہ میں نسلی توازن برقرار رکھنے کے لیے گوریوں کی سائیڈ کیسے پکڑ لی یہ سمجھ نہیں آتا۔
وہ کہنے لگی کہ ان کم بخت چینوں کے ہاں Personal Space کی کوئی اہمیت نہیں۔ آبادی بہت زیادہ ہے۔ جو خوراک بھی مل جائے کھاجاؤ اور جہاں جگہ مل جائے وہاں گھس جاؤ۔ پہلی دفعہ بیجنگ گئی تو اسے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ چینی ہر اس شے کو جس کی پشت آسمان کی طرف ہواُسے کھاجاتے ہیں،سوائے ٹیبل کے۔ اُن کے ہاں ملاقات کے وقت صرف ہاتھ ملانے کو کافی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے برعکس کورین اور جاپانی اگر آپ کا زیادہ احترام کرتے ہیں تو ایسے جھک جائیں گے کہ ماتھا گھٹنوں سے لگا دیں گے ورنہ کمر کو ہلکے سے خمیدہ کرکے امراؤ جان کی طرح کورنش بجا لاناآداب کا حصہ ہے کسر رہ جاتی ہے تو بس اس بات کی کہ کہیں سے دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجئے کی سریلی صدا   سنائی دے جائے۔چینی اہل پنجاب اور سندھ کی مانند بلند آواز سے گفتگو کے عادی ہیں۔آپ انہیں میلوں دور سے بغیر فون کے سن سکتے ہیں۔بلند آواز سے بولنے میں عوامی مقامات کی کوئی قید نہیں۔ اس کے برعکس جاپانی اور کورین ٹرینوں، بسوں،ہوائی اڈوں پریوں چپ سادھ لیں گے گویا وہ ہسپتال کے آئی سی یو میں پڑے ہوں۔

باسط میاں جو آئس کریم سے لگے بیٹھے تھے، تنگ آکر کہنے لگے کہ’یار بہت بولتی ہو رضیہ‘۔وہ کہنے لگے کہ دونوں یعنی کورین اور جاپانی اقوام میں collectivism یعنی اشتراک باہمی بہت ہے۔ جاپان میں یہ بات طے ہے کہ وہ آپ کی غلطیوں کو یہ کہہ کر معاف کردیں گے کہ آپ ہمارے لیے ایک اجنبی قوم کے فرد ہیں نہ ہم آپ کو سمجھ پائیں گے نہ آپ ہم جاپانیوں کو سمجھ پائیں گے چلو مٹی پاؤ اور ٹکر کھاؤ۔ اس کے برعکس آپ کو اپنا آپ سمجھانے میں اور آپ کی غلطیاں درست کرنے میں کورین عمر صرف کردیں گے۔جاپان میں ایساکیوں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپانی صدیوں سے ایک ایسی قوم ہیں جس کا جغرافیائی وطن،زبان،مذہب،ثقافت ایک ہے۔اتنی شدید ہم آہنگی آپ کو شاید ہی کسی اور قوم میں دکھائی دے۔

اس نقطے کو سمجھنا ہو تو ایک واقعے سے سبق لیں جو ہمیں،فیڈرل سیکرٹری سابق چئیرمین پی سی بی ہمارے مرشد ڈاکٹر ظفر الطاف سی۔ ایس۔ پی نے سنایا تھا۔وہ دورے پرٹوکیو جاپان گئے تھے۔حیران ہوئے کہ ٹوکیو ٹائمز میں جاپانی وزیر اعظم کا روز مرہ کا ٹائم ٹیبل چھپتا تھا۔میزبا ن سے پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمارے وزیر اعظم کا وقت قوم کی امانت ہے،قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ دفتر میں اپنا دن کیسے گزارتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو حیرت ہوئی کہ سونی کارپوریشن کے سربراہ کوملاقات کے لیے دو منٹ کا وقت دیا گیا تھا جب کہ جزیزہ اوکی ناوا سے کسانوں کا ایک وفد جو ملنے آرہا تھا اس سے ملاقات کے لیے پورے تیس منٹ مختص کیے گئے تھے ۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ سونی کارپوریشن کے سربراہ کا لیول بہت ایڈوانس اور واضح ہوگا۔ وہاں بنیادی باتیں کرنے کا مسئلہ نہیں۔ بیرون ممالک سونی کارپوریشن کو کسی جگہ پر کوئی دشواری ہوگی۔ہمارے وزیر اعظم وزیر خارجہ سے کہیں گے اور وہ سفیر کو کہیں گے کہ اس معاملے میں مقامی حکمرانوں سے بات کریں۔مسئلہ حل ہوجائے گا۔کسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جاپان ایک جزیرہ ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جنگ کی صورت میں اگر بحری محاصرہ (Naval Blockade) ہوجائے تو پم تک غلے کی رسائی رک جائے۔ایسی صورت میں ہمارے کسان ہی ہمارے لیے خوراک مہیا کریں گے۔ یوں ہم ان کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ جاپانی وزیر اعظم ان کی ہر بات دھیرج سے  اور توجہ سے سنیں گے اور مسئلے کا حل نکالیں گے۔انہیں ہر قیمت پر زراعت کے پیشے سے وابستہ رہنے کی ترغیب دیں گے۔ہمارا دو ایکڑ کا کسان اپنے بچے امریکہ پڑھا سکتا ہے۔

باسط میاں ان دنوں ایک ملازمت چھوڑ کر بیٹھے ہیں۔انہیں تین ماہ کے لیے ان کے سابقہ ادارے نے تنخواہ اور جملہ الاؤنسز سمیت چھٹی دی ہے۔یہ چھٹی ختم ہوگی تو وہ نئی ملازمت جس کے لیے ان کی بات چیت ہوچکی ہے۔ وہ جوا ئن کریں گے۔ اس طرح کی لازمی تعطیلات کو یہاں Garden Leave کہتے ہیں۔ملازم استعفی دے یا کسی وجہ سے اسے نوکری سے فارغ کردیا جائے تو یہ ممکن ہے کہ اس کی سابقہ ملازمت میں  اس کی رسائی کمپنی کی اہم کاروباری معاملات تک رہی ہو یوں اس بات کا احتمال رہتا ہے کہ اس کا فائدہ اس کی نئی کمپنی کو پہنچ سکتا ہے۔ اس وجہ سے ایک سے تین ماہ تک پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اس دوران ملازمت نہیں کرے گا تاکہ اس کا فائدہ نئی کمپنی نہ اٹھا سکے۔

ہم جب بریانی لینے پہنچے تو ریستوراں کے کاؤنٹر پر منیجر خاتون مونا، بہت گوری اور کومل تھی۔بوسے کی دعوت دیتے غنچہء ناشگفتہ جیسے کھلے ہونٹ، بے اعتبار انداز نگاہ سے عبارت اسٹار بک کی کافی جیسی آنکھیں اور آئی فون ٹین کی فیکٹری رنگ ٹون جیسی آواز اور انگریزی دراز قد،کھلے بوٹ نیک گلے سے اجلے شانے میں پیوست چمکیلا سیاہ برا اسٹریپ۔

بوٹ نیک

ہم نے باسط میاں سے مردوں والی دو باتیں کیں۔ایک تو ہم نے اپنے تئیں سرگوشی میں اسے کہا کہ اس کے اس وینس ڈی ملیو جیسے گورے اجلے عریاں شانے نشست جمانے کے لیے منکر نکیر (کاتب اعمال فرشتے) دونوں کا آپس میں بہت جھگڑا ہوتا ہوگا ۔ دوسری ہمیں تو لگتا ہے کہ مس یونی ورس شمسیتا سین کی چھوٹی کزن ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آسام کے کسی ٹی اسٹیٹ کے گورے منیجر اور مقامی خاتون کے تعلقات کا شاخسانہ ہے۔باسط کہنے لگا رضیہ کی واقف ہے۔

خود بھی ہمارا گجراتی میں تبصرہ سن چکی تھی کہنے لگی ”نا جی اسی پکے پنجابی آں فیصل آباد دے“معلوم ہوا کہ رانا ثنا اللہ کی محلے دارہے۔ہم نے سوچا تجھ سے مل لیتا تو کم از کم ماڈل ٹاؤن کے خون خرابے سے باز رہتا۔بہت دکھ ہوا ہے کہ انعام رانا اور لاریب عطا عیسی خیلوی (ہالی ووڈ میں مشہور پاکستانی VFX artist جو گلوکار عطا عیسی خیلوی اور اداکارہ بازغہ کی صاحب زادی ہیں)جیسے تمام اچھے پنجابی ترک وطن کرچکے ہیں۔اب بس شیخ رشید،خواجہ سعد رفیق اور چوہدری غلام حسین جیسے کھردرے پنجابی پیچھے رہ گئے ہیں۔

لاریب عطا اللہ عیسی خیلوی

بتارہی تھی کہ ڈالر کی اندھی محبت میں وہ پنجابی،اردو کے علاوہ انگریزی ،ہسپانوی، گجراتی اور بنگالی اور معمولی سی چینی بھی سیکھ گئی ہے۔ باسط میاں نے انکشاف کیا کہ اس خاندان کے دو ریستورانٹس ہیں۔دو بھائی ڈشکروں والے علاقے برونکس میں یہ ریستوراں چلاتے ہیں۔یہ دو بہنیں یہاں مین ہیٹن میں دنیا آباد کیے بیٹھی ہیں،کچن کے ملازم سارے میکسیکن ہیں۔سمجھ لو وہ امریکہ میں کراچی والے پٹھان ہیں مگر ویسے جھگڑالو اور میلے نہیں۔دن میں ایک آدھ دفعہ نہا بھی لیتے ہیں۔

زیادہ تر غیر قانونی ہیں،کچن میں چھپ جاتے ہیں۔ہم نے کہا ایک دو نے پاکستانی شلوار قمیص اور ٹوپیاں پہن رکھی ہیں تو کہنے لگے جینز پہن کر پراٹھا پوری اور شیخ کباب بناؤ تو وہ پیٹزا اور ہاٹ ڈاگ کا ذائقہ دیتے ہیں۔
مونا نے اعلان کیا کہ بریانی کے دم پر آنے اور اس کی پیکنگ میں پورا پونا گھنٹہ لگے گا۔ان سے کہا آپ کی سائز کے آرڈر پر چائے آن دی ہاؤس ہے۔رضیہ نے ہماری طرف اشارہ کرکے کہا کہ He only takes Dom Prignon Rose۔۔جس پر مونا نے ہمارے چہرے پر منڈلاتے معصومیت کے رنگ بدلتے بادل دیکھے تو باسط میاں کو کہنے لگی He is not your type۔رضیہ نے کہا مونا کو دیسی شاعر اور شاہ رخ خان بہت اچھے لگتے ہیں۔کسی دن شاہ رخ اگر گوری خان کو چھوڑ دے تو یہ اس سے شادی کرکے ہندوستان کی شہریت لینے میں جنرل رانی کے بھتیجے اور فخر عالم کے رشتے میں ماموں گلوکار عدنان سمیع کی طرح ایک منٹ نہیں لگائے گی۔

اس موقع پر باسط نے جو چار سو ڈالر کی شمپیئن کی بوتل ہمارے اکاؤنٹ میں ڈال دی

شیمپیئن

اس حوالے سے پھر  ہمیں صادقین کی ایک رباعی یاد آگئی،صادقین کی پینٹنگز بھیانک،خطاطی قابل قدر اور رباعیات نسبتاً غیر معروف مگر دل کش ہیں۔

ع انگشت جس وقت یہ ڈائل کو گھمادیتے ہیں
وہ فون پر ہیلو کی صدا دیتے ہیں
محبوب کے والد جو کہیں آپ کا نام
احباب میرا نام بتادیتے ہیں

ریستوراں میں مونا کے پاکستانی ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی تھا کہ ٹی وی پر چینل نائنٹی ٹو دکھائی دے رہا تھا اور میڈیا کے عزادار روف کلاسرا اور عامر متین خوش رنگ ٹائیاں لٹکا کر زبانی سینہ کوبی میں مصروف تھے۔درد کے اس دورانیے میں ثروت ولیم سوز خوانی کرپشن میں اپنی برمے جیسی چبھتی ہوئی آواز سے سماعت کے پردے چاک کرکے دے رہی تھیں۔ہم نے نگاہ ڈالی تو گاہکوں کی رہنمائی کے لیے دو عدد ایسے نوٹس بھی دکھائی دیے جن سے ہر امریکی ریستوراں محروم ہوتا ہے۔یہ بد تہذیب جسارت صرف فیصل آباد والے ہی کرسکتے ہیں۔پہلا نوٹس تھا۔۔ادھار بند ہے (سوری)

بریانی ریسٹورنٹ نوٹس 1

اسی کے نیچے درج تھا کہ ہماری طرح کیٹرنگ کے لیے ایڈوانس پہلے سے جمع کرائیے۔

انگریزی میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پے منٹ نہ تسلیم کرنے کا اعلان تھا۔اس سے ٹیکس میں بچت ہوتی ہے۔
,گریجویٹ پارٹی میں لوگ تھے۔سب سے باتیں ہوئیں،ہمیں وہاں بھی دکھی کرنے درگا پور مغربی بنگال کی جایا لکشمی سے ہماری گپ شپ یوں ہوئی کہ وہ باسط میاں کو پہلے سے جانتی تھی۔چھوٹے شہر کی لڑکی جب نیویارک شہر میں پہنچی تو تنہائی کی وجہ سے زچ ہوکر Disorient ہوگئی ایسے میں اس عام سی شکل و صورت کی لڑکی کو ایکوڈور کا بریڈ پٹ جیسا ریکارڈو مل گیا۔

وہ پانی کے جہاز سے اتر کر فلوریڈا سے بھاگ لیا تھا۔یہ وہاں درگا پور سے نیویارک شہریت کی لاٹری میں پہنچی تھی دونوں کچھ دن ساتھ رہے اور شادی کرلی اسی وجہ سے اسے یہاں قدم جمانے کا آسرا ہوگیا۔دو سال شادی کے بعد اسے حسین و جمیل لبنانی لڑکی مل گئی تو اس نے جایا کو چھوڑ دیا۔بے چاری نے تین سال فل ٹائم ہسپتال میں جمعدارنی کا کام کیا۔ اسے یہاں آج کل Hospital Housekeeping کہتے ہیں گو اس میں بستروں کی چادریں بدلنا اور medical waste کو ہٹانا بھی شامل ہوتا ہے مگر یہ بے چاری کالج اور گھر کی قربت میں فرش ہی mop کرتی رہی ،پڑھائی کے دوران جز وقتی یہ خدمات سرانجام دیں۔اس نے اب نرس کا کورس کیا ہے۔خوش تھی۔ہم نے کہا طلاق کے بعد زندگی کیسی تھی۔وہ کہنے لگی میں نے پہلے مہینے ایکLabrador Retriever پال لیا۔

لیبراڈور ریٹرائور

ہسپتال پانچ بجے آنا ہوتا تھا۔سردی وہ بھی نیویارک کی اس میں  چار بجے میں  اپنے کتے کو ایک گھنٹے واک کراتی تھی ۔واپسی پر ایک گھنٹہ ہم دونوں جاگنگ کرتے تھے۔ والدین ریکارڈو سے شادی پر ایسے ناراض ہوئے کہ اب بھی گفتگو کا سلسلہ بحال نہیں ہوا۔ بتارہی تھی کہ پہلے ہسپتال اور اب کالج سے آن کر دونوں کھانا کھاکر ٹی وی دیکھ کر سو جاتے تھے۔پریانکا چوپڑا کا شو ”کوانٹی کو “ اور Game of Thrones دونوں کے یعنی کتے اور مالکن کے پسندیدہ شوز ہیں۔کتے کو گیم آف تھرونز زیادہ پسند ہے۔رضیہ نے ہم سے کہا کہ اس کے کتے کا نام تو پوچھ لو۔۔۔ہم نے ضد کی تو شرمانے لگی جیسے ہم نے گاؤں کی کسی لڑکی سے بوائے فرینڈ کا نام پوچھ لیا ہو جب باسط میاں نے ڈرایا کہ وہ خود نہیں بتائے گی تو وہ بتادیں گے تو وہ شرما کے کہنے لگی کتے کا نام ”ڈالر“ ہے۔ہم نے کہا اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ تو آہستہ سے جواب دیا ” When he is around I always feel safe and rich”

Save

Save

SHOPPING

Save

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بہت بولتی ہو رضیہ۔۔محمد اقبال دیوان

  1. رضیہ نے ہم سے کہا کہ اس کے کتے کا نام تو پوچھ لو۔۔۔ہم نے ضد کی تو شرمانے لگی جیسے ہم نے گاؤں کی کسی لڑکی سے بوائے فرینڈ کا نام پوچھ لیا ہو جب باسط میاں نے ڈرایا کہ وہ خود نہیں بتائے گی تو وہ بتادیں گے تو وہ شرما کے کہنے لگی کتے کا نام ”ڈالر“ ہے۔ہم نے کہا اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ تو آہستہ سے جواب دیا ” When he is around I always feel safe and rich”

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *