با ادب بانصیب، بے ادب بے نصیب ۔۔۔ فاخرہ گُل

اپنی فیس بک وال پر ایک سوال پوسٹ کیجئے “زندگی کیا ہے؟؟”
اور پھر دیکھیے کہ ہر شخص کا زندگی کو دیکھنے کا زاویہ الگ ہو گا کوئی کہے گا امتحان تو کوئی کہے گا تحفہ کوئی آزمائش بتائے گا تو کوئی محبت ۔۔ یعنی اکثریت زندگی کے حقیقی معنوں کو سمجھے بغیراپنی سوچ حالات اور ذہنی سطح کے مطابق جواب لکھے گی ۔
بالکل یہی حال جنت کا بھی ہے ۔بچپن میں پی ٹی وی پر صبح تلاوتِ قرآن پاک ترجمے کیساتھ نشر ہوتی تھی (شاید اب بھی ہوتی ہے) کئی مرتبہ کانوں میں آواز پڑتی کہ جنت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں گی لہذا جب بھی جنت کا تصور ذہن میں آتا ساتھ ہی دودھ اور شہد کی نہریں نظر آنے لگتیں تو سوچتی کہ شہد کی نہریں تو میرے کام کی نہیں ہوں گی، بھلا میں اتنا شہد کیسے پیؤں گی، پھر پوچھنے پرسمجھایا گیا کہ اسکا مطلب ہے دودھ سے لیکر شہد تک غرضیکہ ہر وہ چیز ملے گی جس کی صرف ہمارا ذہن خواہش کرے گا اور زبان تک آنے سے پہلے وہ چیز حاضر ہو جائے گی۔ تو ذہن اس طرف چل پڑا اور میں کبھی سوچتی پھلدار درختوں اور حسین ترین سبزے کے بیچ خوبصورت قالینوں پر کھیلتے ہوئے گھر بھی جانا نہیں پڑے گا ،میں صرف سوچوں گی اور پہلے ٹھنڈا پانی (جو کہ کھیلتے ہوئے میں ٹیم سمیت گھر پینے جاتی تھی) اور پھر آئسکریم وغیرہ میرے سامنے آ جائے گی، کچھ بڑے ہوئے تو سمجھ آئی کہ جنت وہ جگہ ہے کہ جسے ہم دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتے ہوں گے ،جنت میں ہمیشہ ہمیشہ اسکے ساتھ نہایت عیش و عشرت سے رہیں گے ۔تب یہ خوش کن خیال آیا کہ میں امی ابو اور ہم سب وہاں اکھٹے رہیں گے کتنا مزہ آئے گا، اور بالآخر جب تھوڑی بہت سمجھ بوجھ آنے لگی تو عقدہ کھُلا کہ درحقیقت جنت تو وہ ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے اور ان سے محبت کرنے والے۔۔لہذا جنت کی طلب ہو تو پہلی کنجی حبیبِ خدا کی محبت ہے۔۔

بچپن سے لے کر اب تک کی سوچ شئیر کرنے کا واحد مقصد یہ بات واضح کرنا تھا کہ ہر چیز کی طرح جنت کا تصور بھی ہماری ذہنی بالیدگی پر منحصر ہے ۔
بالکل اسی طرح مبشر علی زیدی صاحب کے سوال کا یہ حصہ کہ “کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنت میں لائبریری بھی ہوگی؟؟”
نہایت بے ضرر معلوم ہوتا ہے جس کا سادہ سا جواب ہے کہ “وہ دین جس کی بنیاد ہی “اقرا” پر ہے اور جس کا مکمل ضابطہ حیات ہی ایک کتاب میں درج ہے اور اللہ سورہ حم سجدہ کی آیت نمبر اکتیس میں خود فرماتا ہے کہ
“وہاں (آخرت کی زندگی میں) تمہارے لئے وہ سب کچھ ہے جو تُم چاہو گے، اور تمہارے لئے ہر وہ چیز ہے جو تُم طلب کرو گے۔”

تو پھر جی ہاں، کیوں نہیں لائبریری بھی ہو گی کیفے ٹیریا بھی ہوگا میوزیم بھی ہوں گے۔”
یعنی جب یہ کہہ دیا کہ   جو طلب کرو گے ملے گا تو ہر شخص کی طلب الگ ہو گی اور وہ جو چاہے گا ضرورملے گا
اور ایسا کیوں نہ ہو جب خود اللہ فرماتا ہے کہ جنتی جو کچھ طلب کریں گے وہ دستیاب ہو گا، وہاں کوئی خواہش ادھوری نہیں رہے گی، ہم صرف کسی چیز کی خواہش کریں گے اور وہ ہماری زبان پر آنے سے پہلے پیش کر دی جائے گی تو آخر ہم سوال کے پہلے حصے پر بحث کیوں کریں؟

خود مجھ سے جب میرے بچے پوچھتے ہیں “ کیا جنت میں جب بھی دل چاہے گا ہم پلے اسٹیشن کھیل سکیں گے؟ وہاں تو آپ منع نہیں کریں گی کہ اب بس کرو۔”میں فوراً کہتی ہوں “ہاں کیوں نہیں۔۔ بس دنیا میں اللہ کو ناراض کرنے والے کام نہیں کرنے پھر جنت میں اللہ تعالٰی کی اجازت ہے کہ جو چاہو کرو۔”

(بچوں کا حُسنِ ظن دیکھیں کہ جس طرح میں بچپن میں خود کو جنتی تصور کر کے سوچتی تھی وہ بھی ایسا کرتے ہیں، بیشک اللہ بہت مہربان ، معاف کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے)
درحقیقت مشکل مرحلہ تو صرف جنت میں داخلے کا ہے ، اُسکے بعد تو آسانیاں ہی آسانیاں اور اطمینان ہی اطمینان ہے ۔

اب سوال کے دوسرے حصے کو دیکھیے۔۔۔
“کیا جنت صرف شراب کے پیاسوں اور سیکس کے بھوکوں کے لیے تخلیق کی گئی ہے؟؟”
حق ہاہ۔۔۔۔
سیف اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں!

ہمارا الفاظ کا چناؤ اور اندازِ گفتگو بعض اوقات ایک عام سی بات کو قابلِ تقلید بھی بنا دیتا ہے اور قابلِ تنقید بھی، یہاں بھی ایک سوال محض تلخ الفاظ کے چناؤ اور استہزائیہ انداز کے باعث قابلِ تنقید ٹھہرا ۔
جنت دراصل صرف شراب کے پیاسوں اور سیکس کے بھوکوں کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ان دو چیزوں کے رسیا لوگوں کے لیے تو شاید دنیا بھی نہیں ہے ۔ مگر جس طرح ہم بعض اوقات بچوں سے اپنی بات منوانے کے لیے انہیں انکی پسندیدہ چیز کا لالچ دیتے ہیں اور اپنی پسندیدہ چیز کے حصول کے لیے وہ وقتی طور پر اپنے نا پسندیدہ کام کرنے یہاں تک کہ کڑوی ترین دوا تک کھانے پر اس لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ اسکے بعد اُنہیں اُنکی پسندیدہ چیز جس کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ ملنی ہوتی ہے ۔ تو اس معاملے میں بھی شاید ہمارے علمائے کرام نے کچھ ایسا ہی کیا کہ انسانی دلچسپی کی ایک ہی چیز یعنی سیکس کو تھام کر جنت کی تمام تر رونقیں اور رنگینیاں اسکے سامنے ماند کر دیں۔ گمان غالب ہے کہ انکا خیال ہو گا کہ آجکل کے انسان جو جنسی تعلق قائم کرنے کے لمحاتی سرور کے پیچھے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں تو انہیں “نیک راہ “پر چلانے کے لیے یہی لالچ کافی ہے کہ وہاں ستر حوریں انکے انتظار اور پھر دسترس میں ہوں گی مگر افسوس یہ سب کچھ تو تفصیل سے بتایا گیا کہ وہاں کس قدر اور کتنا جنسی ملاپ ممکن ہوگا مگر اس چیز کو فوکس نہیں کیا کہ وہاں ایسے خوش نصیب بھی ہوں گے جنہیں صرف محبوبِ خدا ﷺ کا دیدار ہی نہیں بلکہ انکا قرب بھی نصیب ہو گا!
جب حُسن تھا انکا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہو گا
ہر کوئی فدا ہے بن دیکھے دیدار کا عالم کیا ہو گا

وہ سکون وہ راحت اور وہ تسکین تو بیان ہی نہیں کی گئی جو آقائے دو جہاں ﷺ کے دیدار سے ان شاءاللہ ہم گنہ گاروں کو میسر ہو گی  اور ذرا سوچیے جنہیں وہ مل جائیں گے انہیں کسی اور چیز کی طلب بھی باقی رہے گی؟؟
یعنی ہمارے علمائے کرام نے تو جنت کا تصور بیان کرنے میں الفاظ کی قلت کا سامنا کیا مگر لفظوں کو فراوانی سے استعمال کر کے رہی سہی کسر ہمارے آجکل کے لبرلز نے پوری کر دی کہ جن کا خیال ہے سوال کرنا علم ہے مگر کیا انہیں یہ بھی علم ہےکہ سوال کرنے اور  بنیادی اسلامی عقائد کا مذاق اڑانے میں فرق ہے ؟

اور زیدی صاحب جن کی فین فالوئنگ لاکھوں میں ہے انہیں تو الفاظ کے استعمال میں نہایت محتاط اس لیے بھی ہونا چاہیے کہ انکی بات لاکھوں اذہان تک پہنچتی ہے پڑھی جاتی ہے اور اثر رکھتی ہے ان کے الفاظ ، پڑھنے والوں کو سنوار بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں قلم عطا کئے جانے کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ قلم تخلیق کرنے والے رب کی دیگر تخلیقات کا یوں بیچ چوراہے ٹھٹھہ لگائیں  ۔وہ علم جو عطا کیا گیا اس کو بروئے کار لا کر ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب حاصل کرنے کے بجائے اپنا سوال ایسے لوگوں کے سامنے اور اس انداز میں رکھا جائے کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد کا مذاق اڑاتا محسوس ہو

لیکن ایک منٹ۔۔۔۔جب میں زیدی صاحب کے الفاظ پر تنقید کرتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ جنت دوزخ کے وہ ٹھیکیدار جو زیدی صاحب کے نا شائستہ الفاظ کے باعث انکا جنت میں داخلہ  بند کر چکے ہیں تو کیا وہ خود جنت میں جانے کے اہل ہیں ؟؟ جو زیدی صاحب کے الفاظ کی پاداش میں انکے پیدائشی عمل سے لیکر انکے فوت شدہ والدین ، اہلیہ اور بیٹی تک کے لیے گھٹیا اور غلیظ زبان استعمال کر رہے ہیں ؟؟ یہ تو پاکستانی تھانہ کلچر ہو گیا کہ مجرم کے گھر والوں کو بند کردو تاکہ وہ ناک رگڑتا سرکار کے سامنے حاضر ہو۔۔

غلط زیدی صاحب نے لکھا ہے تو بات انکی ذات تک کیوں نہیں کی جا سکتی ؟؟ والدین اور گھر کی خواتین کو گندی گالیاں دے کر آپ لوگ علم کے کون سے منصب پر برقرار رہے؟؟؟

بصد احترام عرض ہے کہ جناب نام کیساتھ مولانا یا علامہ لگانا ہی علمی حیثیت کا تعین نہیں کرتا بلکہ یہ تعین ہمارے الفاظ کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں؟ علم و عقل کے کون سے درجے پر ہیں؟ اور مرنے کے بعد ہمارا ٹھکانہ کیا ہوگا؟ کیونکہ ہم تو آج تک یہی سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ با ادب ہمیشہ بانصیب اور بے ادب ہمیشہ بے نصیب ہی رہے گا چاہے وہ قلم پکڑ کر جنت دوزخ پر سوال اٹھانے والا ہو یا منبر پر کھڑے ہو کر جنت دوزخ کے ٹکٹ بانٹنے والا۔۔۔۔
اللہ ہم سب کی لغزشیں معاف فرما کر ہمیں جنت الفردوس کا حقدار بنائے
آمین یا رب العالمین

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *