آنے والے الیکشن اور ہمارا ووٹ۔۔۔شاہ زیب

 سوال ووٹ کس کو دوں اور کیوں دوں؟ اگر نہ دوں تب کیا ہوگا ؟

جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کل کے ملکی حالات عوام کو درپیش مسائل ،زینب پنجاب والی،   عاصمہ رانی  کوہاٹ والی، اسما مردان والی اور شریفاں بی بی ڈیرہ اسماعیل خان والی، جسے پورے گاؤں میں برہنہ  کرکے  گھمایا گیا تھا، سندھ کی بیٹی خاصخیلی، بلوچستان کے بہت سے مسائل اور ملک میں ناپید سکولز، ہسپتال اور عدلیہ کی طرف سے چھوٹے سے کیسز میں بھی کم سے کم 10 سال بعد ملنے والا انصاف سینیٹ الیکشن، ہر طرف پھیلی ہوئی پولیس گردی اور سیاسی پارٹیوں کے پالے ہوئے غنڈے۔۔۔ یہ چند وہ مسائل اور کیسز ہیں جس کیلئے نہ تو ہمیں باپ دادا کی تاریخ کھنگالنی پڑے گی  اور نہ ہی کسی سے پوچھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے 

ان تمام مسائل سے ہم سب موجود وقت میں برسرپیکار ہیں بلکہ ہم سب کو خود سمجھنا چاہیے اور مستقبل کے حکمران بابت فیصلہ بھی اپنے ووٹ کی طاقت سے صادر کردینا چاہیے جس ووٹ کے لینے کے بعد حکمران ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں لہذا ان سب مسائل کے ہوتے ہوئے دنیاوی لحاظ سے ہم سب پر ووٹ کی طاقت کو استعمال کرنا فرض ہے آپ ووٹ سیکولر جماعتوں یا مذہبی جماعتوں میں سے کسی کو بھی دیں سکتے ہیں، کسی ایک جماعت کے لئے ووٹ خاص نہیں ہے۔

دوسری بات یہ کہ  تمام جماعتیں اوپر ذکر کئے گئے مسائل کی ذمہ دار ہیں تو پھر ایک بار آزمائے ہوئے کو کیا بار بار آزمانا چاہیے ؟ جناب من ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے. یہی چند بڑی جماعتیں ہیں جو ہمیشہ وفاقی یا صوبائی لیول پر برسر اقتدار آتی ہیں ،رہی بات آزمائے ہوئے کی تو آزمائے ہوئے نے آپ کو آزمایا ہے نہ کہ  آپ نے انہیں آزمایا ہے۔ آزمائے ہوئے کو آپ نے ہمیشہ اس وجہ سے ووٹ دیا ہے کہ وہ آپ کا رشتہ دار، برادری یا قوم کا ہے یا پھر علاقے کے وڈیرے چوہدری یا کسی بڑے نے کہہ دیا تو آپ نے بات مان لی، لہذا اس حساب سے انہوں نے آپ کو آزمایا ہوا ہے نہ کہ  آپ نے انہیں آزمایا ہے۔

اس بار آپ نے ایک چھوٹا سا کام کرنا ہے۔ وہ چھوٹا سا کام کیا ہے ؟ آپ نے تمام بڑی جماعتوں کے آئین منشور اور ان کے فلاحی کام کے نظم کو دیکھنا اور پڑھنا ہے، پھر ان کے کرتوتوں پر ایک نظر ڈالنی  ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے؟ کون سی جماعت اپنی پارٹی کے منشور وآئینی راستے پر چل رہی ہے؟ عوامی وفلاحی کیا کیا کام کیے  ہیں؟ کہیں تفرقہ پھیلانے مسلکی چورن بیچنے یا پھر کسی اسلامی حکم کو بنیاد بناکر کسی کی بھی جان ومال کیلئے درد سر تو نہیں بنی؟

آپسی عوامی اتحاد کی کتنی قائل ہے؟ اس کے بعد آپ نے موجودہ عوامی مسائل کو سامنے رکھ کر کسی ایک پارٹی کا انتخاب کرنا ہے اور پھر آپ کے علاقے کیلئے پارٹی کی طرف سے منتخب کیا گیا جو نمائندہ ہے وہ جب ووٹ مانگنے آئے تو آپ نے وہ تمام مسائل جو قومی سطح پر موجود ہیں  اور وہ مسائل جو علاقائی سطح پر موجود ہیں  نیز حلقہ انتخاب میں ممبر اسمبلی کا ہفتے میں دو بار بیٹھنا یہ سب ایک تحریری شکل میں لکھوانا ہے اور پھر منتخب نمائندے سے دستخط لیکر وہاں موجود چالیس پچاس پڑھے لکھے لوگوں سے بطور گواہ عوام سے کیے  گئے ایگریمنٹ پر دستخط کروانے ہیں اور نمائندے سے یہ اقرار بھی کروانا ہے کہ ملکی سطح پر موجود مسائل آپکی پارٹی کے وفاقی نمائندے حل کریں گے اور علاقائی مسائل آپ نے حل کرنے ہیں ۔۔ان شاءاللہ اور اگر کیے  گئے وعدوں میں سے کسی ایک وعدے پر آپ پورا نہیں اتر سکے تو اگلی بار ووٹ مانگنے آپ خود بھی نہیں آئیں گے اور آ پ کی پارٹی کو بھی یہاں سے ووٹ نہیں ملےگا۔

ایسا کرنے سے مسائل فوراً  حل نہیں ہوں گے لیکن سیاسی پارٹیوں پر کافی اثر پڑے گا، وہ سمجھ جائیں گے کہ عوام کو اب چونا لگانا آسان نہیں بلکہ بدلے میں کام کرنا پڑے گا.

دیکھیں ہر شخص کے چند ایسے دوست ہوتے ہیں جو غم اور خوشی میں ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں اور آخر تک نبھاتے ہیں۔  اگر کوئی دل سے عمل کرنا چاہے  تو پچاس ساٹھ افراد  اکھٹے کرنا انتہائی آسان کام ہے لیکن آپ صرف پانچ بندے اپنی ووٹ پالیسی کے مطابق اکھٹے کریں اور ان پانچ بندوں کو مزید پانچ بندے لانے کی زمہ داری دیں اس طرح ہر شخص اپنے ساتھ ایک شخص کو لائے گا تو آرام سے پچاس ساٹھ لوگ بن جائیں گے ،جب آپ کے پاس پچاس ووٹرز ہو  جائیں تو سمجھیے  آپ کے ہاتھ پانچ سو ووٹ آگئے کیونکہ ہر ووٹر کی فیملی ہوتی ہے اور اپنی فیملی کو اپنی  شرائط پر قائل کرنا انتہائی آسان کام ہوتا ہے اس کے بعد آپ علاقے کے منتخب نمائندوں کے ایجنٹس سے اپنی  شرائط پر مشتمل میٹنگز کریں ۔

یاد رہے تمام منتخب نمائندوں سے میٹنگ کریں نہ کہ   چند ایک  سے۔۔ ایسا کرنے کے بعد آپ سوشل میڈیا سنبھال لیں اور عوام تک اپنی آواز پہنچائیں ، عوام سے رائے لیں، اپنے اپنے علاقوں میں فارغ وقت میں عوام کی ذہن سازی کریں ۔امید ہے کہ تبدیلی آئے گی۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *