مسلمانی۔۔۔ اے وسیم خٹک

وہ بہت دنوں سے میرے پیچھے تھا کہ ملازمتوں کے لئے اپلائی کرتے کرتے میرا بیٹا بہت تھک گیا ہےـ اب کہیں سے کوئی جگاڑ لگادو ـ کہیں پیسوں پر بات چلا دو، ـ بس بیٹے کو نوکری مل جائے ایسا نہ ہو بُرے ہاتھوں میں آجائے ـ۔۔
دوست کی یہ باتیں سن کر میں نے فون اُٹھایا اور اپنے ایک دوسرے دوست کو کال کی جو کام کے عوض اپنے باپ سے بھی پیسے لیتا تھاـ اُس کے تعلقات کہاں کہاں تک تھے اور اُس کی پہنچ کہاں تک تھی یہ مجھے پتہ تھا ۔

دوست نے کہا کہ کام ہوجائے گا۔۔ ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آسامی ادارے میں مشتہر ہوئی ہے مگر اُس پر کسی سے بات نہیں ہوئی ـ بس وہاں کام پکا سمجھو۔
مگر پورے پندرہ لاکھ لگیں گے کوئی گنجائش نہیں ہے ـ دھڑام سے فون بند پھر پیغام آیا کہ کل شام تک پیسے پہنچادیں ـ دو دن میں اپائنمنٹ لیٹر لے لیں ـ۔۔

دوست بیس لاکھ دینے کے لئے بھی تیار تھا بات فائنل کرلی ـ دوسرے دن شام کا وقت طے ہواـ دوست کے ساتھ گھر سے روزہ افطار کرتے ہوئے نکلے تو پشاور کے میگا پروجیکٹ بی آر ٹی کی وجہ سے دیر ہوگئی تو جناب کا فون آیا، آپ لوگوں کے پاس وقت کم ہے ،جلدی آکر پیسے پہنچادیں تاکہ جلد گھر میں رکھ دوں کیونکہ اس کے بعد میں نے تراویح میں ختم قرآن بھی کرنا ہے!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *