“حمیت نام تھا جس کا،گئی تیمور کے گھر سے”

کسی ستم ظریف نے جانے کس رو میں نعرہ مستانہ بلند کیا تھاکہ”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا”کیا ہی خوب ہے کم ازکم پاکستانی سیاست کے لئیے تو سولہ آنے درست ہے کہ دل ہی ہے جو جذبات و احساسات کا سر چشمہ ہے غیرت و حمیت جرات و بہادری محبت و الفت کا منبع ہے جب سینے میں یہ دل ہی موجود نہیں تو لطیف جذبات کا ہونا “اے بسا آرزو کہ خاک شد”کی تفسیر ہی ہوگا.’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مفہوم ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا ان دو باتوں کے اشتراک سے پیدا ہونے والے جذبے کا نام غیرت ہے.آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرت کو صفاتِ حمیدہ میں شمار کیا ہے،بخاری اور مسلم کی روایات میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا’’اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت والے ہیں اس کے بعد میں سب سے زیادہ غیرت والا ہو اور مومن بھی غیرت مند ہوتا ہے”۔عزت، غیرت ، حمیت اور خود داری وہ جنس نایاب ہیں کہ جن کی آبیاری اپنے خون سے کرنی پڑتی ہے ،نہ تو یہ بھیک میں ملتی ہے اور نہ ہی آسمانوں سے نازل ہوتی ہے۔کہا جاتاہے کہ غیرت اختصاص میں کسی کی مشارکت کی وجہ سے ہیجان، غضب اور دل کا تغیر پیدا ہونے سے مشتق ہے احساسِ نفس انسان کی وہ خاصیت ہے جو بے عزتی کو گوارا نہیں کرسکتی ، ہمیشہ پاسِ ناموس مقدم ہوتی ہے۔
غیرت عزت نفس، وقار، بہادری اور اعلیٰ ترین اقدار سے وابستگی اور ان اقدار کی خاطر قربانی دینے کے تصورات سے منسوب ہے۔مگر”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا”سو غیرت حمیت کہاں ہوگی۔۔۔یہ جملہ مکّرر کوٹ کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی جب میں نے آصف زرداری اور فیصل صالح حیات کی بانہوں میں بانہیں ڈالے تصویر اخبار میں دیکھی۔۔۔میرے ذہن کی سکرین پہ وہ منظر روشن ہو گیا کہ سابقہ دورحکومت میں پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے
دوران اجلاس فیصل صالح حیات نے زرداری کی بہن عذرا پلیچو کے متعلق انتہائی نازیبا الفاظ کہے وہ الفاظ اتنے غیر اخلاقی اور سخت غیر مہذب تھے کہ شرکا اجلاس کو سانپ سونگھ گیا،پیپلز پارٹی کے ارکان بھی گُم صُم بیٹھے تھے ایسے میں پیپلز پارٹی کے نوجوان ممبرِ اسمبلی جمشید دستی نے عجب جرات اور غیرت کا مظاہرہ کیا کہ اسمبلی کی نشستیں پھلانگتا ہوا فیصل صالح حیات تک پہنچا اور دست و گریبان ہو گیا ۔ایک بڑےگدی نشین اور سیاست کے پرانے کھلاڑی کو یوں سرِعام للکارنا کوئی عام بات نہیں تھی خاص کر ایسے شخص کے لئیے جس کا بیک گراونڈ بھی مضبوط نہ ہو جو پہلی بار اسمبلی کا رکن بنا ہو۔یہ جراتِ یگانہ دستی صاحب کو پیپلزپارٹی خاص کر آصف زرداری اور ان کی فیملی فریال تالپور اور عذرا پلیچو کی نظر میں سر بلند کر گئی نوجوان بلوچ کُہنہ مشق دیدہ ور بلوچ کی نظر میں کُھب گیا۔۔۔یہیں سے دستی کے عروج کا دور شروع ہوا ۔
زرداری فیملی میں دستی کی مقبولیت، محبت و اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئیے ایک واقعہ بیان کرتا ہوں ،ہوا یوں کہ دستی کی جعلی ڈگری کیس میں اسمبلی ممبر شپ ختم ہو گئی۔۔۔حلقے میں دوبارہ سے الیکشن کا ڈول ڈالا گیا اب کی بار دستی کو پیپلزپارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا جا رہا تھا کہ وزیراعظم گیلانی اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنے بھائی مجتبیٰ گیلانی کو ٹکٹ دینا چاہتے تھے اب حلقے میں وزیرا اعظم کے بھائی کے بینر لگ گئے الیکشن کمپین شروع ہو گئی۔۔۔ٹکٹ کا فیصلہ ہونا تھا دستی صاحب کی فرحت اللہ بابر صدارتی ترجمان سے ملاقات ہوئی فرحت بابر نے انہیں وزیراعظم گیلانی کے بھائی کی حمایت پہ آمادہ کرنے کی کوشش کی،نوجوان دستی اسلام آباد سے مایوس و دلبرداشتہ مظفرگڑھ کی طرف روانہ ہوا۔۔۔ادھر دستی صاحب کے مظفر گڑھ آفس میں ٹکٹ کے متعلق فیصلے کا شدت سے انتظار ہو رہا تھا۔جب خبرملی کہ ٹکٹ کا فیصلہ وزیراعظم کے حق میں ہو گیا ہے تو ورکرز میں شدید مایوسی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔وہیں دستی کے میڈیا ایڈوائزر مشیر یارِ غار سہیل اختر نے نہایت مایوسی میں زرداری سے رابطے کی کوشش کی مگر زرداری بمعہ فیملی دبئی گئے ہوئے تھے۔مسلسل کوششوں سے رات کے دو بجے زرداری کابینہ میں سے فرزانہ راجہ سے سہیل کا رابطہ ہو جاتا ہے نوجوان جذباتی انداز میں گلہ شکوہ کرتا ہے فرزانہ راجہ نے کہا کہ” میں بے بس ہوں وزیراعظم کے بھائی کے مقابلے میں دستی کی مدد کرنے سے قاصر ہوں ہاں آپ کے لئیے اتنا کر سکتی ہوں کہ فریال تالپور اور زرداری تک آپ کا پیغام آپ کی استدعا آپ کے جذبات پہنچا دیتی ہوں”۔یوں جب یہ میسج زرداری تک پہنچتا ہے تو وہاں سے حیران کن خوشگوار رد عمل آتا ہے۔
اب پریذیڈنٹ ہاؤس سے دستی سے رابطے کی کوشش ہوتی ہے مگر دستی مایوس و دل گرفتہ مظفرگڑھ کی طرف عازمِ سفر ہے،دستی سے رابطہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے سہیل کو کال آتی ہے کہ دستی سے کہیں فوراً پریذیڈنٹ ہاؤس رابطہ کریں۔سہیل یہ پیغام ڈرائیور کے ذریعے دستی کو پہنچاتاہے۔چکری بائی پاس سے دستی واپس اسلام آباد کی طرف روانہ ہو جاتا ہے، پریذیڈنٹ ہاؤس میں ین اے 178 کا ٹکٹ ان کا منتظر ہوتا ہے۔۔۔یہ تمام معاملہ ہنگامی طور پہ رات کے دو بجے نمٹایا جاتا ہے نہ صرف یہ کہ وزیراعظم کے بھائی کا ٹکٹ کینسل ہو کے دستی کو ملتا ہے بلکہ صدر زرداری کی طرف سے وزیراعظم گیلانی کو ہدایت جاری ہوتی ہے کہ دستی کی مکمل حمایت کی جائے یہاں تک کہ وزیراعظم گیلانی کا بیٹا عبدالقادر گیلانی خو دستی کے کاغذات جمع کرانے مظفرگڑھ آتا ہے، گیلانی خود بھی دستی کے الیکشن جلسے سے خطاب کرتا ہے۔یہ بامِ عروج دستی کو اسکی غیرت و حمیت اور جرات کے باوصف حاصل ہوا۔
اب آ گے چلیے، آج کی تصویر دیکھیے وہی فیصل صالح حیات جو کل تک زرداری کی عزت و ناموس پہ انگلی اٹھا رہا تھا آج زرداری کا منظورِ نظر ٹھہرتا ہے،سیاست میں سب کچھ ممکن ہے کل کے دشمن آج کے دوست ہوتے ہیں ایسی بارہا مثالیں موجود ہیں مگر یوں بھی ہوگا مجھے حیران کر گیا اور افسوس زدہ بھی زرداری کئی معاملات میں مجھے پسند ہے کہ یاروں کا یار ہے مشکل گھڑی میں دوستوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ،مگرمجھے ایک بلوچ سے اس قسم کی توقع نہیں تھی کہ وہ غیرت و حمیت کو بھلا کے اسمبلی کی صرف ایک سیٹ کے لئیے اپنی عزت و ناموس کے دشمن سے مفاہمت کر لے گا۔”حمیت نام ہے جِس کا گئی تیمور کے گھر سے”۔

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *