نظام شمسی میں چھپا ایک بڑا سیارہ

سائنسدانوں نے ایسے حیران کن شواہد دریافت کیے ہیں، جن سے عندیہ ملتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں 9 واں سیارہ موجود ہے اور یہاں ان کا مطلب پلوٹو سے نہیں۔ ایک نئے مقالے میں سائنسدانوں نے ایک چھوٹے، چٹانی سطح کو سیارہ نیپچون کے پیچھے شناخت کیا ہے، جس کی حرکت سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ کسی بڑے سیارے کے گرد مدار میں گھوم رہا ہے۔ اس چٹان جسے بی پی 519 کا نام دیا گیا ہے، سورج کے گرد ایسے زاویے سے گھوم رہی ہے جو کہ نظام شمسی کے تمام سیاروں سے بالکل ہٹ کر ہے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین سے 10 گنا بڑا گمنام سیارہ ممکنہ طور پر اس چٹان کی حرکت کے پیچھے ہے۔ سائنسدان کافی عرصے سے پلانٹ 9 یا ایک بڑے سیارے کی تلاش کررہے ہیں جو سورج سے اربوں کلومیٹر دور ہوسکتا ہے۔ 2016 میں 2 ماہرین فلکیات نے ایسے دور دراز خلائی اجسام کا گروپ دریافت کیا تھا جو ایک مختلف زاویے سے سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے، جس سے عندیہ ملا ہے کہ ایک بڑا خلائی سیارہ معلوم نظام شمسی کے پیچھے کہیں موجود ہے۔ اب نئے شواہد سے اس چھپے ہوئے سیارے کی موجودگی کے خیال کو مزید تقویت ملی ہے۔ مشی گن یونیورسٹی کے محقق ڈیوڈ جیراڈز کے مطابق یہ پلانیٹ 9 کی موجودگی کا ثبوت تو نہیں مگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نظام شمسی میں اس طرح کی خلائی چیز موجود ہے۔ اپنے مقالے میں سائنسدانوں نے اس دریافت کے حوالے سے لکھا کہ ایسے بڑے خلائی جسم کی شناخت ہوئی ہے جو نیپچون کے بعد کہیں موجود ہے۔ نظام شمسی کے 8 سیاروں کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک زاویے سے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں، اس کے مقابلے میں بی پی 519 دیگر سیاروں کے مقابلے میں 54 ڈگری جھک کر محور کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کی ممکنہ وجہ خفیہ سیارے کی کشش کا نتیجہ ہی ہوسکتی ہے، آسان الفاظ میں یہ خلائی چٹان پلانیٹ 9 کے گرد اسی طرح گھوم رہی ہے جیسے چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے۔ محققین کا تخمینہ ہے کہ یہ خفیہ سیارہ سورج سے 149 ارب کلومیٹر دور کہیں ہوسکتا ہے جو کہ پلوٹو کے فاصلے سے 75 گنا زیادہ ہے۔ ماڈلز سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ سیارہ سورج کے گرد اپنا چکر 10 سے 20 ہزار برسوں کے دوران مکمل کرتا ہوگا۔ اگرچہ ابھی اس خفیہ سیارے کی موجودگی کے حوالے سے شواہد ناکافی قرار دیئے جارہے ہیں مگر خلا کی گہرائی کے حوالے سے ایک دلچسپ پیشرفت ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply