• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • ایف اے ٹی ایف کے تحفظات دور کرنے کیلئے ایکشن پلان تیار

ایف اے ٹی ایف کے تحفظات دور کرنے کیلئے ایکشن پلان تیار

SHOPPING
SHOPPING

پاکستان نے دہشت گردوں کے معاون ممالک سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ کے لیے منی لانڈرنگ کے خلاف اٹھائے جانے والے تمام اقدامات سے متعلق حتمی رپورٹ اور ایکشن پلان تیار کرلیا۔ گزشتہ روز دفتر خارجہ میں جاری اجلاس کے اندر اگلے ہفتے بینکاک میں اے جی پی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق نکات پر حتمی تبادلہ خیال ہوا۔ وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے نجی ٹی وی  کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے ایک وفد اگلے چند دنوں میں اے جی پی کے مشترکہ ورکنگ گروپ سے ملاقات کرنے بینکاک روانہ ہو جائے گا جس میں پاکستانی وفد منی لانڈرنگ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دے گا۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ کی تشکیل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذیلی ادارے نے تیار کی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی ارسال کردہ ای میل میں پاکستان سے کہا گیا تھا کہ ایسی کسی بھی سکیم سے پہلے ایف اے ٹی ایف کو مطلع کرنے کی ضرورت تھی۔ دوسری جانب پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تحفظات کا جواب دیا کہ ایمنسٹی سکیم میں ٹیکس چوروں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس حوالے سے ایک سرکاری اعلیٰ عہدے پر فائز افسر نے بتایا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ جون میں شروع ہوگا اور حکومت نے جو ایکشن پلان تیار کیا اس کے تحت پاکستان کو مزید ایک سال درکار ہے۔ حکام کے مطابق ایکشن پلان کے نکات ایف اے ٹی ایف کے ساتھ زیر بحث ہوں گے تاہم اگلے مہینے تک تمام امور مزحمتی نوعیت اختیار کر جائیں گے۔ مذکورہ غیر سرکاری ادارہ کسی ملک پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات نہیں رکھتا لیکن گرے اور بلیک کیٹیگری واضع کرتا ہے۔ اس حوالے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ حکومت نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف متعدد اقدامات اٹھائے ہیں تاہم یہ سوال کرنا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرے گا یا نہیں یہ سوال سیاسی ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک ذرائع نے انکشاف کیا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اٹھائے تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعدد اجلاس ہوئے اور فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ تاحال 300 رپورٹ تشکیل دے چکا ہے اور ان تمام رپورٹس میں کوئی دہشت گردی سے متعلق حوالہ موجود نہیں ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *