جمعرات، 27 فروری 2020ء

  • صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تجھے دروازہ بند ہونے کی خبر ملتی ہے اور مجھے کھُلنے کی۔۔۔محمد اظہار الحق

تجھے دروازہ بند ہونے کی خبر ملتی ہے اور مجھے کھُلنے کی۔۔۔محمد اظہار الحق

وزارت عظمیٰ میاں محمد نواز شریف صاحب کے لیے کیا تھی؟ ایک پکنک!یا تفریحی تعطیل!!

آپ کلنٹن یا اوباما کی وہ تصاویر دیکھیے جب وہ صدارتی محل میں داخل ہوئے قابلِ رشک صحت! عرصۂ اقتدار کے بعد کی تصویریں ملاحظہ کیجیے۔ جوانیاں ڈھل گئیں۔ چہروں پر جھریاں پڑ گئیں۔ بال کہیں کھچڑی، کہیں سفید ہو گئے اس لیے کہ حکومت کرنا پھولوں کی سیج پر بیٹھنا نہیں، خاردار جھاڑیوں سے گزرنا ہے۔ صبح سے لے کر آدھی رات تک، ایک اجلاس کی صدارت پھر دوسرے کی، پھر تیسرے کی! پھر غیر ملکی حکمرانوں سے میز پر اپنی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات۔ پھر ایک ایک فائل کو پڑھنا۔ اس پر فیصلہ لکھنا یا اپنے الفاظ میں لکھوانا! الفاظ کسی معاون کے ہوں تو انہیں پڑھ کر منظوری دینا یا ترمیم کرنا! کانگریس کے ایک ایک بل کو بغور پڑھنا!

آپ بجا طور پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ تو امریکی صدر ہے۔ اس کا پاکستانی وزیر اعظم سے موازنہ! وہ تو کرۂ ارض کا بادشاہ ہے! چلیے، مان لیتے ہیں! مودی کی مصروفیات دیکھ لیجیے۔ صبح چار بجے اس کا دن شروع ہوتا ہے۔ وہ ایک ایک فائل خود پڑھتا ہے۔ 2014ء میں مودی امریکہ گیا۔ اس کا چار دن کا پروگرام دیکھیے:

26ستمبر:نیویارک سٹی کے میئر بل ڈی بلاسیو سے ملاقات!

27ستمبر:- نیویارک سٹی کے سابق میئر سے ملاقات۔

:- نائن الیون یادگار پر حاضری۔

:- جنرل اسمبلی کے 69ویں اجلاس سے خطاب۔

:- نیویارک سنٹرل پارک میں عالمی شہریوں کی تقریب سے خطاب۔

:- ممتاز بھارتی نژاد افراد سے ملاقات۔

28ستمبر :- نیویارک کے مشہور زمانہ میڈیسن سکوائر گارڈن کے مقام پر اٹھارہ ہزار افراد سے خطاب۔

:- امریکہ اور کینیڈا کی سکھ برادری سے ملاقات۔

:- یہودی کمیونٹی سے ملاقات۔

:- بھارتی سفیر کی رہائش گاہ پر ڈنر کے دوران ممتاز بھارتیوں سے ملاقات۔

:- جنوبی کیرولینا کی گورنر سکھ نژاد نِکّی ہیلی سے ملاقات۔

29ستمبر :- گیارہ ٹاپ کلاس امریکی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات۔ ان میں گوگل کا سربراہ پیپسی کمپنی کا سربراہ اور ماسٹر کارڈ کا سربراہ شامل تھا۔

:- چھ چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ون ٹو ون، یعنی تنہائی میں ملاقات۔ یہ سربراہ مندرجہ ذیل تھے۔

:- بوئنگ کمپنی کا سربراہ۔

:- بلیک راک کا سربراہ(بلیک راک ایک بہت بڑا سرمایہ کار ادارہ ہے)

:- آئی بی ایم کا سربراہ

:- جنرل الیکٹرک کا سربراہ

:- گولڈ مین کا سربراہ(یہ بھی ایک بڑا بنک اور کمپنی ہے)

:- نیویارک سٹی میں کلنٹن اور بیگم کلنٹن سے ملاقات۔

30ستمبر :-لنکن میموریل اور مارٹن لوتھر کنگ میموریل پر حاضری۔

واشنگٹن میں گاندھی کے مجسمے پر حاضری۔

:- امریکی نائب صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ ظہرانہ۔

:- امریکہ، بھارت بزنس کونسل کے تین سو ارکان کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات۔

:- پارلیمنٹ کے سپیکر کے ساتھ ملاقات۔

:- صدر اوباما کے ساتھ ملاقات۔

میری لینڈ کے گورنر کے ساتھ ملاقات۔

میاں محمد نواز شریف صاحب کے لیے وزارت عظمیٰ کیا تھی! پکنک یا چار برسوں پر محیط لمبی تفریحی تعطیل! اس لیے کہ کام کوئی نہ تھا۔دوپہر مری کے بادلوں میں گزرتی اور شام کو لندن ہوتے۔ کابینہ کی میٹنگ مہینوں نہیں بلائی جاتی تھی۔ سینیٹ میں وہ ایک سال گئے ہی نہیں یہاں تک کہ سینیٹ کو اس ضمن میں قرارداد منظور کرنا پڑی کہ وہ ہفتے میں ایک دن آ کر سوالوں کے جواب دیں۔ اس قرارداد کو وزیر اعظم نے اتنی اہمیت بھی نہ دی جتنی جیب سے نکلے ہوئے استعمال شدہ ٹکٹ کو دی جاتی ہے۔ ای سی سی(اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی) کے اجلاس کی ایک بار بھی صدارت نہ کی حالانکہ یہ کام ہی وزیر اعظم کا ہے۔ کوئی بریفنگ یا پریزنٹیشن لے ہی نہیں سکتے تھے۔ ٹی وی پر ایک واقف حال بتا رہے تھے کہ جب انہیں کارگل پر بریفنگ دی جا رہی تھی تو یہ سینڈوچ ہاتھ میں لے کر اسے دیکھے جا رہے تھے۔ کسی پریس کانفرنس میں انہوں نے نظام تعلیم زرعی اصلاحات، ٹیکس نیٹ، آبادی کا مسئلہ، درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی، وزارت خارجہ کے مسائل، کسی ایک قومی مسئلہ پر کبھی بھی بات نہیں کی! حالانکہ وزارت خارجہ کا قلم دان بھی اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ یہ آج  جن نان سٹیٹ ایکٹرز کی بات کر رہے ہیں، چار سالہ عہدِ اقتدار میں عسکری نمائندوں کے ساتھ اجلاس کر کے بحث مباحثہ کرتے اور اپنا نکتۂ نظر(اگر کوئی تھا تو) پیش منظر پر لاتے! یہ کسی جرنیل یا کسی غیر ملکی حکمران کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کر ہی نہیں سکتے۔ گفتگو کرنا ان کے لیے ناممکن نہیں تو ازحد مشکل ضرور ہے۔ مطالعہ صفر ہے۔ معروف صحافی حامد میر نے کچھ عرصہ پہلے اپنے کالم میں لکھا کہ سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ انہوں نے خود پڑھا ہی نہیں تھا۔ کہا کہ انہیں تو یہ بتایا گیا ہے! ایک سابق سفیر بتا رہے تھے کہ وہ کچھ عرصہ وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات رہے۔ جب بھی فائل لے کر جاتے، وزیر اعظم کہتے کہ اچھا فلاں کو بریف کر دیجئے، فلاں سے بات کر لیجیے۔ یہ فلاں مکمل غیر متعلق شخص ہوتا!

آپ کا کیا خیال ہے کہ نواز شریف بھی بوئنگ یا بی ایم اے یا گوگل کے سربراہ سے ون ٹو ون ملاقات کرنے اور بات چیت کرنے کے اہل ہیں؟ کسی کو اگر میاں صاحب کی امریکہ کے کسی دورے کی روزانہ کے حساب سے مصروفیات کا علم ہوتو اہلِ پاکستان کو ضرور آگاہ کرے۔

2015ء میں جب روسی شہر اُوفا میں کانفرنس ہوئی جس میں مودی اور نواز شریف دونوں شریک ہوئے تو واپسی پر مودی نے چھ وسط ایشیائی ریاستوں کا طوفانی دورہ کیا۔ وہ ایک دارالحکومت سے، منزلوں پر منزلیں مارتا دوسرے، پھر تیسرے پھر چوتھے دارالحکومت میں گیا۔ بات چیت کی۔ معاہدے کیے۔ بھارت کے لیے بے پناہ فوائد حاصل کیے۔ نواز شریف صاحب اوفا سے سیدھے پاکستان پہنچے اور آتے ہی لاہور ایئرپورٹ کی مرمت کے سلسلے میں ایک ’’اہم‘‘ اجلاس کی صدارت بنفس نفیس فرمائی! مودی کو فارسی شاعری کا ذوق ہوتا تو ضرور کہتا    ؎

ببین تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجا

تو بستنِ در و من فتحِ باب می شنوم

کہ تمہارے اور میرے راستے کا فرق کتنا واضح ہے۔ تجھے دروازہ بند ہونے کی خبر ملتی ہے اور مجھے کھُلنے کی!!

یہ تو تھی نواز شریف کی ریاست (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں)

اور امورِ ریاست میں دلچسپی! رہی پارٹی کی فکر تو تعجب ہے اُن تجزیہ کاروں پر جو رونا رو رہے ہیں کہ پارٹی نواز شریف صاحب کو بچانے کی فکر میں ہے اور نواز شریف صاحب پارٹی کو توڑنے کے درپے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا 1999ء کی معزولی کے بعد نواز شریف صاحب نے پارٹی کی فکر کی تھی؟ کیا سعودی عرب جانے سے پہلے انہوں نے پارٹی سے مشورہ کیا تھا یا کسی کو اعتماد میں لیا تھا؟ وہ پارٹی کو مصیبت میں اور اپنے ساتھیوں کو جیل میں چھوڑ کر، درجنوں صندوق اور کئی باورچی لے کر ایک آرام دہ متعیشانہ زندگی گزارنے پاکستان سے باہر چلے گئے۔ پیچھے پارٹی پر کیا گزری، سب جانتے ہیں۔ آج ان کی پارٹی پنجاب میں اور شمال کے صوبوں میں برسراقتدار ہے۔ وفاق میں اُن کا ایک تابعِ فرمان وزیر اعظم ہے۔ تمام سرکاری مراعات اور پروٹوکول نواز شریف صاحب اور ان کے افرادِ خانہ کے لیے میسر ہیں مگر چونکہ وہ خود وزارتِ عظمیٰ کے تخت سے اتر گئے ہیں اس لیے دنیا ان کے لیے اندھیر ہو گئی ہے۔ انہیں پارٹی نظر آ رہی ہے نہ ریاست نہ حکومت! پارٹی ان کے لیے صرف اُس وقت تک کارآمد ہے جب تک وہ پارٹی کی وساطت سے اقتدار پر فائز ہیں یا اقتدار ملنے کا واضح امکان موجود ہے۔

اس کالم نگار کا اور اس کے خاندان کا پیپلزپارٹی سے دور کا تعلق بھی نہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کی کوٹھری میں بھی ملکی سالمیت کے خلاف کچھ کہا نہ لکھا۔ اگر وہ جیل سے کتاب کا مسودہ باہر بھیج سکتے تھے تو خفیہ راز بھی افشا کر سکتے تھے۔ مگر ایسا نہ کیا! بے نظیر قتل کی گئیں تو آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔ آج زرداری صاحب نے شہید کرنل سہیل عابد کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ نواز شریف صاحب اور ان کی شعلہ بیان اور شعلہ بجان صاحبزادی کو اس کی توفیق نہیں ہوئی۔

اگر ہمیں سنگاپور کا لی کوان پیو اور ملائیشیا کا مہاتیر نہیں مل سکتا تو کوئی ایسا ہی مل جاتا جیسا مودی اپنے وطن کے لیے ملک ملک شہر شہر پھر رہا ہے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تجھے دروازہ بند ہونے کی خبر ملتی ہے اور مجھے کھُلنے کی۔۔۔محمد اظہار الحق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *