ماں تُو انمول ہے

”ماں“۔۔۔زبان سے نکلا ہوا لفظ ”ماں“ایک ایسے احساس کا اظہار ہے کہ دل اور دماغ کو سکون مل جائے، ماں….جس کا ذکر لبوں پر آتے ہی خوشی چھا جاتی ہے۔ ماں۔۔۔جسے جنت کی کنجی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جنت تو جنت ہے لیکن جنت میں خوشبو دار پھول نہ ہو ں تو وہ جنت ہی کیا؟ جنت کا پھول ماں ہے۔ اسی لئے ماں کے قدموں تلے جنت کو رکھا گیا۔ ماں۔۔۔جس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ ماں کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش نہ آنا ،جنت سے محرومی ہے۔ جس نے مشکلات اور تکالیف برداشت کرکے ہمیں اپنی کوکھ میں رکھا ۔ پیدا ہوئے تو یہی ماں شفقت کا جیتا جاگتا نمونہ بن کر ہمیں اس دنیا میں پالنے لگی، رات رات بھر جاگی، تاکہ بچہ بنا کسی مشکلات کے سوجائے۔ بے شمار تکلیفوں کا سامنا کیا، تاکہ بچہ خوش رہے۔
ماں محبت کا دوسرا نام ہے،ایک ایسا رشتہ جس میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ،گیلے بستر پر سرد راتیں بسر کرنے والی ہستی،بچے کی ایک آواز پر لپکنے والی ماں آدھی رات کو بچے کی نیند میں دی گئی پکار پر بھی جھٹ سے جاگ جاتی ہے۔دو سال تک اسے اپنے سینے سے غذا فراہم کرتی ہے،درد و اذیتیں برداشت کرنا جیسے اس کے لیئے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔۔۔۔پھر وقت کے تھپیڑے سہتی یہی ماں بچے کے رحم و کرم پر آ جاتی ہے ، جس بوڑھی ماں نے پے در پے مشقتیں برداشت کرکے اس اولاد کو پروان چڑھایا تھا وہی ماں آج بچے کے لیئے بوجھ بن جاتی ہے، کیا عجب بدقسمتی ہے ایسی اولاد کی جو ماؤں کو در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیئے چھوڑ دیتے ہیں،لیکن بھول جاتے ہیں کہ یہ وقت ان پر بھی آنے والا ہے۔یہ بات یادرہے۔۔۔
”دھوپ کاٹے گی بہت ،جب یہ شجر کٹ جائے گا“

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *