ملٹی کلچرل لندن

آج ہی ایک سِکھ فیملی جِن کے ساتھ پچھلے چند سالوں سے تعلقات ہیں ،نے شادی کا روایتی نیوتا یعنی کارڈ اور لڈو کا ڈبہ دیا ۔ شادی میں شِرکت کے اصرار کے ساتھ ۔کُچھ دیر بیٹھے باتیں کی اور چل دئیے ۔ظاہر ہے شرکت تو کرنی ہی ہے ۔

جب تک پاکستان میں تھے کافی ساری باتیں اور سوچیں مُختلف تھیں ۔ جیسے انڈین ہمیشہ ہی شاید دُشمن لگتے تھے ،سردار بے وُقوف ، عیسائی اور یہودی جیسے ہر وقت ہمارے ہی خِلاف سازشیں کررہے ہوں !
بچپن کی اِسلامی کہانیاں ( شاید وُہ بھی تب ضروری تھیں ) پڑھ پڑھ کر ایسے لگتا تھا کہ ایک مومن سے طاقتور ( جسمانی طور پر ) تو کُوئی ہوتا ہی نہیں ، کیونکہ یہ سب میں نے اور آپ سب نے کہیں نہ کہیں پڑھ رکھا ہے ۔ لیکن جب تھوڑے بڑے ہُوئے اور دُوسرے مذاہب کے لوگوں سے مِلنا ہُوا تو جیسے لگا کہ
‘شاید ہم سے ہی کُوئی بُھول ہو گئی ہو جیسے ! ‘

ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ موت کا منظر جیسی کتابیں اسی سے نوے فیصد تک Dante’s inferno or 9 circle of Hell جیسی کامیڈی سے لئے گیے ہیں اور ہم کِس قدر اُس پر ایمان رکھتے ہیں ۔
خیر یہ تو ضمناً بات سامنے آگئی ۔ ساری بات کا مقصد یہ تھا کہ دُوسرے مذاہب کے لوگ بھی اچھے اِنسان ہوتے ہیں ۔ہم پاکستانی کتنے یہودیوں اور عیسائیوں کو جانتے ہیں ؟ اور کتنوں نے ہم سے دھوکہ کیا ہے ؟ تو جنابِ عالی اپنا دِل بڑا کریں اور دُوسرے مذاہب کے لوگ جو آپ کے گلی یا محلے میں رہتے ہیں اُن کو بھی اپنے برابر کا اِنسان سمجھیں اور اپنے خُوشی اور غم میں شامل کریں اور شامِل ہوں ۔
آخر ہم پاکستانی باہر کے ممالک میں بھی تو اِنسان بن کر رہتے ہی ہیں نا ! تو پھر کیا خیال ہے ؟

ہارون ملک
ہارون ملک
Based in London, living in ideas

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *