سو لفظ: دس کا نوٹ

رشید نے آفس جاتے ہوئے دس روپے کا نوٹ اپنے بیٹے ببلو کو دیا۔
ببلو نے دس والی چاکلیٹ لی۔
دکان والے نے یہ نوٹ حاجی صاحب کو بقایا میں دیا۔
حاجی صاحب نے پٹرول پمپ پر وہ نوٹ دے دیا۔
ملک صاحب نے گاڑی فل کرائی اور وہ نوٹ لے لیا۔دوپہر کھانے کے بعد دس روپے ٹپ دی۔
نورے مستری نے وہاں سے چائے پی اور بقایا میں وہی نوٹ لیا۔
اس نے محلہ کی دکان سے مسور خریدےاور وہ نوٹ اس کو دے دیا۔
شام کو رشید نے کریانہ سے چینی لی اور دس کا وہی نوٹ صبح ببلو کو دینے کے لئے اوپر کی جیب میں رکھ لیا۔

Avatar
ذیشان محمود
طالب علم اور ایک عام قاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *