ٹھہریے مولانا صاحب،رکیے( حصہ اول)

گذشتہ دنوں ایک معاصر ویب سائٹ پہ مفتی منیب صاحب کا ایک کالم بعنوان” َاب جبکہ”۔ چھپا جو کہ حسب معمول ،منطق کے من پسند استعمال کا ایک نادر شاہی نمونہ تھا جس میں شریعت ، لبرل ازم اور انصاف کو ایک ساتھ ملا کے یوں پیش کیا گیا کہ جس سے اندازہ یہ ہو کہ جیسے میڈیا اور دانشوروں کا پاکستان میں ایک ہی کام ہے، اور وہ ہے نوجوان نسل کو مذہب سے دور کرنا (جس کا میرے نزدیک دور دور تک کوئی امکان نہیں کیونکہ میڈیا پہ سب سے بکنےیا ریٹنگ حاصل کرنے والے پروگرام بذاتِ خود مذہبی ہیں)۔افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ مولانا نے اتنا عرصہ انتظار کر کے بھی ایک ایسا شاہکار لکھا جو کہ مذہبی طبقے کے اسی پرانے موقف سے ایک سینٹی میٹر بھی آگے پیچھے نہیں ہے ،کہ اسلام کو پاکستان میں شدید خطرہ لاحق ہے، جس کو یہ لوگ کم ازکم پچھلی 5 دہائیوں سے دہرا رہے ہیں۔
آئیے ایک ایک کر کے مولانا کی تنقید اور سفارشات کا ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مولانا نے قریبا ًایک ماہ بعد اپنے لب ہائے شریں کھولے بھی تو کیسی پھلجھڑیاں بکھیرنے کیلئے
1)مولانا کے کالم کا ایک لمبا ابتدائیہ اس بات پہ نقد ہے کہ بیچارے سیدھے سادھے علمائے کرام ٹی وی بھی اول تو بلائے نہیں جاتے اور اگر بلا بھی لیا جائے تو انکی نمائندگی ٹھیک طرح سے انجام نہیں دی جاتی۔
2)پاکستان میں دو شریعتیں چل رہی ہیں ایک اسلامی شریعت اور دوسری لبرل شریعت ۔صرف غامدی صاحب (لبرل شریعت کے نمائندے) کو ائیر ٹائم ملتا ہے جنکے نزدیک تو حشر اور کفر و نفاق وغیرہ کا حساب روزِ قیامت ہو گا جو کہ مجھے قطعا ًمنظور نہیں ( کیونکہ ہم تو دنیا میں ہی حشر اٹھا دینا چاہتے ہیں)
3) جب تک لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا اور بلاسفیمی کے ملزمان کو سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک ہمارے عوام جو کہ مذہب کے معاملے میں بہت جذباتی ہیں اس طرح کے واقعات کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔
4) بلاسفیمی کے قانون میں جو پروسیژرل تبدیلی جنرل مشرف کے دور میں ہوئی اسکی ہی وجہ سے ایسے واقعات عام ہونے لگے ہیں کیونکہ اب ایک ایس پی لیول کا افسر جب تک خود اس بات کی تصدیق نہ کرلے تب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔
5) سیکولر جماعتیں مشعال والے واقعہ میں ملوث ہیں نہ کہ مذہبی جماعتیں۔
6) علمائے کرام کے ساتھ پارلیمنٹ کے نمائندے بیٹھیں اور نئے سرے سے بلاسفیمی قانون کا جائزہ لیں اور نئی سفارشات مرتب کریں۔
میں مفتی صاحب کی تنقید اور انکی پیش کی گئی سفارشات سے قطعا ًاتفاق نہیں کرتا اور اختلاف کرنے کیلئے مجھے اپنے عقیدے کو آستین پہ پہننے کی بجائے حقائق کو سامنے رکھنے کی احتیاج ہے اور جناب حقائق سے دلائل کی جانب مراجعت ہی ایک صحت مند منطقی تہذیبی اور انسانی مکالمے کی بنیاد ہے۔ وگرنہ تو فیصلہ پھر طاقت کی بنیاد پہ ہی ہو پائے گا اور طاقت کا استعمال کسی دلیل کا پابند نہیں ہوتا بلکہ دلیل اس کی باندی ہوتی ہے (اور ویسے آپ جانتے تو ہوں گے کہ پاکستان میں وہ کون لوگ اور گروہ ہیں جو کہ طاقت کا اصل سر چشمہ ہیں) معذرت کے ساتھ آپ کے دلائل حقائق کی کوکھ سے نہیں نکل رہے بلکہ خود سے حقائق تراشنے کی سعی لاحاصل میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں آئیے دیکھتے ہیں کیسے۔
سب سے پہلے مفتی صاحب آپکی چاند کا اعلان کرتے وقت جتنی طویل تمہید کو ہی دیکھ لیں جس کا مقصد صرف یہ شکوہ کرنا تھا کہ جناب ہمیں تو ٹی وی پر بلایا ہی نہیں جاتا ،تو حضور عرض ہے کہ آپ احباب کی ایک کثیر تعداد تو ٹی وی کو حرام قرار دیتی ہے ، شیطان کا آلہ سمجھتی ہے ، عام لوگوں کو اسے گھر سے دور رکھنے کا فتویٰ دیتی ہے۔ اب آپ کی ائیر ٹائم نہ ملنے پہ ایسی شکایت چہ معنی؟ دوسرا جناب ٹی وی کا سہارا تو آپ کو جب لینا پڑے جب اپنا موقف پیش کرنے کیلئے آپ کے پاس عوام سے بلاواسطہ رابطہ رکھنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسجد کا منبر اور سپیکر آپ کے قبضے میں ہے ۔تبلیغی جماعتیں آپ کے لوگوں کے پاس ہیں سوشل میڈیا پہ آپ کے بھائی بند خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ایک پورا مہینہ تین عیدیں اور اس کے ساتھ مختلف مذہبی راتیں صرف اور صرف میڈیا پہ آپ لوگوں کیلئے مخصوص ہیں۔ پھر بھی یہ شکوہ کہ علما کو مناسب ایئر ٹائم نہیں ملتا ایک سرا سر غلط موقف ہے جو کہ حقائق کے منافی ہے۔
دوسری رہی نمائندگی کی بات تو جناب جب آپ حضرات کو کسی مباحثے میں بلایا جاتا ہے تو تب آپ کے قبیلے کے لوگ دلیل سے بات کرنے کی بجائے کلیشیے پیش کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ حتی ٰکہ آپ حضرات کی اس عہد کے علم سے دوری کا یہ عالم ہے کہ جن مسلم سکالرز نے اسلامی قانون پہ تحقیق کر کے اس میں نئے امکانات پیش کیے ہیں جو جدید اور قدیم کے درمیان ایک پل بن سکتے ہیں ان کا تذکرہ تک بھی ہمارے علما کے افکار میں نہیں ملتا ۔ جتنے بھی مسلم علما ہیں وہ آج تک اشعریہ، حنابلہ ، امام غزالی ، امام ابن تیمہ، ابن عربی مجدد الف ثانی وغیرہ کے حوالوں سے آگے نہیں بڑھتے ۔جناب کچھ رحم کریں ان مسلمانوں پہ جن کا درد آپ کو ستائے جا رہا ہے اور ان کو یہ بتلائیں کہ آج اگر اس نوجوان مسلمان اور اس پاکستانی قوم کو آگے بڑھنا ہے تو اسکا آج کا حوالہ کیا ہونا چاہیے؟ ان تمام لوگوں نے جو کام کیا تھا وہ سنگِ راہ تو ہے لیکن منزل نہیں ۔
مسلم روایت کے بڑوں نے قرآن اور حدیث کو ریفرنس مان کے ایک نئے علم کی بنیاد رکھی تھی ۔ وہ بھی چاہتے تھے تو نہایت آسانی سے یہ کہہ سکتے تھے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اسلئے اب کسی مزید قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر انہوں نے ایک ایسا کام کیا جس پہ آپ پھولے نہیں سماتے تو آپ کو آج کس شئے نے نئے علم کی تخلیق سے روک رکھا ہے ؟ کیا آج کے انسان کے تمام مسائل حل ہو چکے؟ کیا کائنات کے تمام رازوں سے پردہ اٹھ چکا ؟ کیا مذہب کی اہمیت اب اتنی ہے کہ اس کو وعدہ فردا کی یقین دہانی یا ایک سیاسی نعرے کے طور پہ استعمال کیا جائے ؟ کیا اسلام کا آپ لوگوں سے منتہا یہ ہے کہ ماضی کو ایک ماڈل کے طور پہ پیش کریں جبکہ ہمیں جینا موجود میں ہے۔ کیا ہمارے علماء کا کام اب صرف شکوہ کناں ہی رہنا ہے کہ ابھی تک ریاست پوری اسلام میں داخل نہیں ہوئی۔؁
جب کہ اس بات کا تو آپ کو بخوبی علم ہو گا کہ قانون شریعت کی تشکیل اسلام کی ریاستی تاریخ میں ریاست کے ہاتھوں کبھی نہیں ہوئی بلکہ قانون ہمیشہ انفرادی فقہا کے پاس ہی رہا ،اسلئے آپکا یہ شکوہ بھی غلط ہے کہ ریاست ہماری مدد نہیں کرتی ۔کیونکہ یہ آپ لوگوں کی خود کی کمزوری کا اظہار ہے۔ آپ کو اب یہ مان لینا چاہیئے کہ سوائے وعظ و وعید کے علاوہ ہمارے علمائے کرام کسی بھی قسم کے علمی ڈسکورس میں شمولیت کی اہلیت نہیں رکھتے ۔لیکن پھر بھی انوکھے لاڈلے کی طرح کھیلنے کو سارے چاند تارے مانگتے ہیں۔ تاریخ کا آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا مفتی صاحب میڈیا پہ تنقید کی بجائے ذرا دیکھئے تو کہیں خلا آپ کے اندر تو نہیں؟
2) اسلامی شریعت کے ساتھ ساتھ لبرل شریعت کی اصطلاح گھڑنے پہ تو آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک بلاسمیفی کی تعریف کیا ہے؟ اور سزا کیا ہے؟ ان کو ہی اگر آپ دیکھ لیں تو پتا چلتا ہے کہ گستاخ کیلئے تو موت کی سزا ان کے ہاں بھی نہیں ہے تو کیا اب انکو بھی لبرل کے کھاتے میں ڈال دیا جائے (https://www.dawn.com/news/1215304)
آپ کا اور قارئین کا تاریخی ریکارڈ درست کرنے کیلئے عرض ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ میں ایسا کوئی قانون سرے سے ریاستی سطح پہ موجود ہی نہیں رہا ،بلکہ انگریز کا برصغیر کو دیا گیا ایک تحفہ ہے ( اور بہت سے تحفوں کی مانند) آپ کی مغرب دشمنی کا تو زمانہ شاہد ہے لیکن ایک مغرب کے بنائے ہوئے قانون کو یوں اپنا لینے پہ آپ کا ایمان ذرا بھی نہیں ڈگمگاتا اس کی وجہ جاننے میں میری علمی دلچسپی اپنی جگہ قائم رہے گی۔
3) جب تک ملزمان کو انصاف نہیں ملے گا تب تک ایسے واقعات نہیں روکے جا سکتے اس دلیل پہ چچا غالب بے طرح یاد آئے
؎ حیران ہوں دل کو رؤں کہ پیٹوں جگر کو میں،
مفتی صاحب اب تک جتنے بھی بلاسفیمی کے واقعات ہوئے ہیں ان کو ثابت کرنے کیلئے ثبوت ہی فراہم نہیں کئے جا سکے۔ اب کوئی بھی عدالت بنا ثبوت کے تو نہیں چل سکتی اور نہ ہی کسی کو سزا دے سکتی ہے ۔ اب الزام لانے والوں کو میرا نہیں خیال کوئی ایسا مائی کا لال ہے جو کہ پاکستان میں ثبوت فراہم کرنے سے روک سکے ۔ میرا یقین ہے کہ آپ کی منصفانہ طبیعت اس بات پہ ایمان رکھتی ہے کہ ملزم کو صفائی کا موقع ملنا چاہیے لیکن جناب راشد رحمان کو صرف کیس لڑنے پہ مار دیا گیا اور سلمان تاثیر کو ایک غریب عیسائی لڑکی کی تشفی کرنے پہ مار دیا گیا، کئی لوگوں کو جیل کے اندر مار دیا گیا ان واقعات بارے آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا صرف الزام لگانے والے کو انصاف ملنا چاہیے؟ کیا یہ آپکی انصاف کی اسلامی تفہیم ہے؟
ایک گورنر کو اس کے محافظ نے دن دیہاڑے مار ڈالا اور بعد میں عدالت میں جن صاحب نے سلمان تاثیر صاحب کے واجبِ القتل ہونے کا فتوٰی دیا تھا وہ اس بات سے عدالت میں مکر گئے ۔ عدالت میں یہ ثابت نہ کیا جا سکا کہ تاثیر صاحب نے کوئی گستاخی کی تھی، پھر بھی انکا قاتل آج ہیرو ہے اور اس کے نام پہ مذہبی دوکان سجائی جا چکی ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنے حلف اور ڈیوٹی دونوں میں خیانت کی، انسانی بنیاد پہ رحم کی اپیلیں بھی کیں اور اپنی غلطی کو مانا بھی، اس کو ہیرو بنا کر اسی معاشرے میں پیش کیا جا رہا ہے، اس کیس میں تو انصاف کے سب تقاضے پورے ہوئے لیکن اکثریتی علما کرام ایک قاتل کے ہیرو بنائے جانے پہ خاموش کیوں ہیں اور کیوں معصوم پاکستانیوں کو سچ نہیں بتاتے؟

Avatar
اسد رحمان
سیاسیات اور سماجیات کا ایک طالبِ علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *