• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فیصل آباد ریڈز: کتاب بینی کی دنیا میں ایک بیش قیمت جزیرہ ۔۔۔ عامر حسینی

فیصل آباد ریڈز: کتاب بینی کی دنیا میں ایک بیش قیمت جزیرہ ۔۔۔ عامر حسینی

فیصل آباد ریڈز فیصل آباد کے کچھ نوجوانوں کا کارنامہ ہے۔ انھوں نے یہ کلب فکشن اور نان فکشن کتابوں کی ریڈنگ کو فروغ دینے کے لیے بنایا۔ابتداء میں یہ محض تین سے پانچ افراد نے شروع کیا تھا۔اب اس کلب کے باقاعدہ شرکاء کی تعداد درجنوں میں ہوگئی ہے۔

فیصل آباد ریڈز کے لوگ ہر ماہ کے لیے ایک کتاب تجویز کرتے ہیں۔کلب کے ممبران اس کتاب کو حاصل کرکے پڑھتے ہیں۔اس کتاب کے مصنف بارے جانتے ہیں۔اور پھر کچھ ممبران کے ذمہ اس کتاب پہ ریویو لکھنے کا کام سونپا جاتا ہے۔ اور کوشش کی جاتی ہے کہ کتاب کے/کی مصنف سے بھی رابطہ کیا جائے اور اسے یا تو بلایا جائے یا وڈیولنک پہ اسے پروگرام میں شریک کرلیا جائے۔ اور پروگرام کے آخر میں سب شرکاء کتاب پہ اوپن ڈسکشن کرتے ہیں۔

فیصل آباد ریڈز کے عدیل احمد نے مجھ سے رابطہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ارون دھتی رائے کے ناول ‘دی منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس’ پہ ایک خصوصی سیشن کرنے جارہے ہیں۔انھوں نے مجھے اس سیشن میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا۔ ساتھ ہی وہ چاہتے تھے کہ ارون دھتی رائے ان کے ساتھ اس سیشن میں وڈیو لنک کے زریعے شامل ہوجائیں۔میں نے ان کا ارون دھتی رائے سے رابطہ کروایا۔ارون دھتی رائے نے بتایا کہ 13 مئی 2018ء کو ان کی جرمنی کے لیے فلائٹ ہے۔اس لیے وہ اپنا ریکارڈ شدہ پیغام بھجوادیں گی۔جبکہ دہلی سے معروف ادیبہ اور ارون دھتی رائے کے ناول کی اردو تشکیل کرنے والی ارجمند آراء اس سیشن میں شریک ہوں گی۔

تیرہ مئی 2018ء کو فیصل آباد میں ایک امریکن سکول چین کی شاخ کی عمارت کے آڈیٹوریم میں فیصل آباد ریڈز کے زیر اہتمام ارون دھتی رائے کے ناول پہ سیشن کا انعقاد ہوا۔تین درجن کے قریب لوگ اس سیشن میں شریک تھے۔ اور کئی تو اپنے خاندان کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ان میں بڑی تعداد میں نوجوان لڑکیاں تھیں۔

ساڑھے چار بجے سیشن کا آغاز ہوا۔اس سیشن میں فیصل آباد ریڈز کلب کے ممبران نے ارون دھتی رائے کے ناول کو پڑھنے کے بعد جو تبصرے تحریر کیے تھے۔ان کو سننے سے اندازہ ہوا کہ یہ کلب کس قدر قیمتی اور قابل قدر کام سرانجام دے رہا ہے۔خاص طور پہ پروگرام کی ماڈریٹر اور ایک اور نوجوان ممبر عروج کے ریویو بہت شاندار تھے۔

ارون دھتی رائے کے ناول پہ ریویو پڑھنے والوں نے اس ناول کی ہندوستانی فضاء اور ہندوستانی کرداروں پہ ہی بات چیت نہیں کی بلکہ انہوں نے اس کا پاکستانی تناظر میں بھی جائزہ لینے کی کوشش کی۔اور قریب قریب ہر ایک مقرر نے یہ ضرور کہا کہ پاکستان کے تناظر میں بھی اتنے بڑے سماجی کینویس کے ساتھ ناول لکھا جانا چاہئیے۔جس میں پاکستانی کنٹرول کشمیر کے ساتھ ساتھ نائن الیون کے بعد داخلی جنگ کے پھیلاؤ کی زد میں آنے والے علاقوں کی کہانی بھی موجود ہو۔

فیصل آباد ریڈز کے اس سیشن میں صرف ارون دھتی رائے کے ناول کے مداح ہی موجود نہ تھے بلکہ ناقد بھی موجود تھے۔ ایک مقرر مائرہ نے ارون دھتی رائے کے ناول کا تنقیدی جائزہ لیا۔ انھوں نے اس ناول میں کچھ کرداروں کی آمد کو غیرضروری قرار دیا اور بہت سی تفصیلات پہ بھی اعتراض وارد کیا۔انھوں نے قبرستان میں جنت گیسٹ ہاؤس کی تشکیل ہوجانے پہ بھی سوال کھڑے کیے اور ٹیلوٹما کے کردار پہ بھی سوال اٹھائے۔اگرچہ مائرہ نے میلوڈراما کی اصطلاح استعمال نہیں کی لیکن اس کی تشریح کو ضرور بیان کیا۔اور کہا کہ بہت سی چیزیں جو اس ناول میں ہوتے دکھائی گئیں وہ کبھی ہوہی نہیں سکتیں۔

مائرہ نے اتنی طاقت کے ساتھ اپنا انگریزی میں لکھا ریویو پیش کیا کہ ان کے بعد آنے والے لوگ اس شدت کے اثر میں نظر آئے اور ارون دھتی رائے کے ناول کے بارے میں ان کا رویہ معذرت خواہانہ سا ہوگیا۔

لیکن ارجمندآراء جو اس پورے سیشن میں فیس بک وڈیو لنک کے ذریعے سے موجود تھیں،انھوں نے ناول کی تکنیک، اس کے پلاٹ، کرداروں پہ بہت شاندار گفتگو کی۔اور انھوں نے کہا کہ سرمایہ داری،جات پات اور انتہا پسندی سمیت جتنے موضوعات ناول میں زیربحث آئے وہ صرف ہندوستان کے ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کے موضوعات ہیں اور ان کا ایک عالمی تناظر بھی بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہندوستان اور ہندؤں کا مسئلہ جات پات ہے۔بلکہ یہ مسئلہ تو پورے برصغیر کے لوگوں کے اندر ہے۔چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔

میں نے اس سیشن میں ” لامتناہی مسرت کا مقام: سرمایہ داری کے بھوت اور جات پات کی چڑیلیں تخیل اور رومان کو موت کے گھاٹ اتارتی ہیں” کے عنوان سے لیکچر دیا۔اور یہ اس سیشن کا افتتاحی لیکچر تھا۔

اس لیکچر کا آغاز میں نے ناول کی کردار ایس ٹیلوٹما کے نام ایک خط سے کیا۔جس کے کچھ اقتباس ملاحظہ ہوں

“مجھے یہ جاننے میں اس لئے دلچسپی ہے کہ کیونکہ میرے ہاں بھی ایسی مائیں اب سینکڑوں کی تعداد میں ہیں جن کے بیٹے غائب ہوگئے ہیں اور وہ ان کے آنے کی آس میں ہر کام سے فارغ ہوگئی ہیں اور ان کی پیداواری افادیت پہ بہت برا اثر پڑا ہے اور وہ اکثر جب کتبے اٹھائے، بینر لیکر باہر نکلتی ہیں اور اس دوران بین کرتی ہیں تو اس سے حکومتی امور میں خلل پڑتا ہے اور ہماری بہادر افواج کا مورال گرتا ہے۔ہمارے سیاستدانوں کو اپنے انتہائی ضروری امور چھوڑ کر کچھ دیر کے لئے ان کی سننی پڑتی ہے”

“میں چاہتا ہوں اگر ممکن ہو میری ایسی جینٹکل موڈیفیکشن ہو کہ میں برما کے مسلمانوں کے مرنے پہ تڑپ جآؤں، فلسطینوں کا خون مجھے رلائے اور اپنے ملک کے بلوچ،شیعہ ، احمدی ، ہندؤ، کرسچن ان کے مرنے پہ میرے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہ ہو۔اور میرے اندر کی عورت بس کشمیر، کشمیری کرتی رہے۔”

“ویسے میری تجویز ہے کہ ہمارے ملک میں بھی ‘گری پڑی روحیں ‘ اب بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔اور جسے تم

Unconsoled

کہتی ہو بہت ہوگئی ہیں اور ان کی ہمارے سماج کی ‘دنیا’ میں جگہ نہیں رہی۔یہ روحیں جب مرتی ہیں تو ان کا جنازہ پڑھانے والا بھی نہیں ملتا اور نہ ان کو دفن کرنے والا۔تو جنت گیسٹ ہاؤس و میت سروسز کی ایک برانچ یہاں بھی کھولنے کا انجم اور صدام حسین کو کہو۔پہلے سلمان تاثیر کے لئے ہمیں بہت مشکل پیش آئی تھی،اس کے بعد مشعال کی باری میں بھی یہی ہوا۔مجھے نجانے کیوں وہم ہوگیا ہے کہ میری باری میں بھی کہیں ایسا نہ ہوجائے۔تو میں اپنے مرنے سے پہلے چاہتا ہوں کہ

Falling Souls

کے لئے کچھ ایسا انتظام کرنے کی سوچیں”

سماجی حقیقت نگاری پہ ناول لکھنا آسان کام ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح کے ناول کو بھاشن، سپاٹ بیانیہ، پمفلٹ و بروشر یا سیاسی سماجیات کی کتاب بننے سے روکنے کے لیے کئی پاپڑ پیلنے پڑتے ہیں۔اور سماجی ناول کو ‘ناول’ ثابت کرنے کے لیے آپ کو ادب کی اسٹبلشمنٹ سے لڑنا پڑتا ہے۔ خاص طور پہ وہ اسٹبلشمنٹ جو پلاٹ کو ناول سے سرے سے نکال باہر کردینا چاہتی ہے اور علامت نگاری کے نام پہ لایعنیت کے زور کو ہی فکشن کہتی ہے۔

ہمارے ہاں انگریزی کے اندر کچھ ناول نگاروں کے ہاں سماجی حقیقت نگاری پہ مبنی ناول لکھےجانے کا رجحان ترقی پارہا ہے۔ لیکن اردو میں بھی کچھ نام ایسے ہیں جنھوں نے اس راستے پہ قدم رکھا ہے۔ ان میں رحمان عباس جو ممبئی میں رہتے ہیں ایک بڑے سماجی حقیقت پسند ناول لکھنے والے ادیب بنکر سامنے آئے ہیں۔

پاکستان کے اندر صفدر نوید زیدی کا ناول ‘بھاگ بھری’ سماجی کینویس پہ ایک بڑے ناول کی شکل میں حال ہی میں سامنے آیا ہے۔اور اگر محمد حنیف کا انگریزی ناول جس کی اردو تشکیل انہوں نے ‘پھٹے آموں کی کہانی’ سے کی ہے اس سال چھپ کر آکیا تو اردو میں سماجی ناولوں کی نایابی کے احساس کو یہ اور کم کرنے میں معاون ہوگا۔

فیصل آباد ریڈز کلب کا سیشن انتہائی جاندار تھا۔اکثر شرکاء ناول پڑھ کر اور اسے اچھے سے سمجھ کر بحث میں شریک ہوئے تھے۔ ساڑھے تین گھنٹے کے بنا کسی وقفے کے سیشن میں زرا بوریت کا احساس نہیں ہوا۔ناول کے حوالے سے کئی نئی جہات سامنے آئیں۔اور سب سے پڑھ کر یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ نوجوان نسل کے اندر سے ایسے لوگوں میں اضافہ ہورہا ہے جو کتاب بینی کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہیں۔

فیصل آباد ریڈز کے نوجوان بشمول نجم،مجاہد، سائیں،عروج ،مائرہ اور ماڈریٹر یہ سب کے سب داد کے مستحق ہیں۔ اور فیصل آباد کا سرمایہ ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس پیٹرن پہ ریڈز کلب دیگر شہروں میں بھی قائم ہونے چاہئیں۔ اور اگر ایسا ہوجائے تو پاکستان میں بک ریڈنگ کا سنیاریو تبدیل ہوجائے گا۔

عامر حسینی
عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *