تکفیر کے منابع اورخورشید ندیم صاحب کا بیان

یہ خیال کہ انتہا پسندصرف وہی ہے جو دوسروں کو کافر قرار دیکر قتل کرنے کی آرزو رکھتا ہے بجائے خود غلط ہے۔ کسی بھی طرح کی انتہا تک جانا انتہا پسندی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اپنے اصل میں یا مثبت شکل میں زہد و ریاضت ہے۔ مذہب کے نام پر گردنیں مارنے کا جو کام چل رہا ہے یہ مذہبی انتہا پسندی کا منفی پہلو ہے اس کے تانے بانے کسی آفاقی تعلیم سے کہیں زیادہ زمینی حالات و واقعات اور متشدد اذہان و قلوب کے ساتھ ملتے ہیں ۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کسی انسان کی داخلی کیفیات ہیں۔ جو انسان فطرتاً شدت پسند ہو گا وہ اپنی شدت کے جواز تلاش کر ہی لیتا ہے۔ اسے یہ جواز کسی مذہبی کتاب سے بھی مل سکتے ہیں یا وہ حالات و واقعات کی یوں صورت گری کرتا ہے کہ جس سے یہ تاثر پیدا ہو شدت پسندی ہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔
یہاں ہمیں ایک بات یاد رکھنا ہو گی کہ یہ رویہ محض اس کے دماغی خلل کا نتیجہ ہے۔اگر وہ کسی فکر کو بطور ڈھال پیش کر رہا ہے تو اس سے کہیں زیادہ بہتر پیرایہ اظہار میں اس کی نفی ممکن ہے۔ انتہا پسندی درحقیقت انسانی صفت ہے۔ ایک انسان ہمیشہ نہ سہی مگر عموماً انتہا پسند ہوتا ہے۔ انتہا پسندی صرف دوسروں کو کافر کہہ کر مارنا ہی نہیں بلکہ کسی بھی چیز کی انتہا تک پہنچنے کی خواہش ایکسٹریم ازم ہے۔ یہ صفت انسانی ہے انسان کو اس سے مفر ممکن ہے تو صرف اس صورت میں کہ وہ خود کو معتدل رکھے۔ مذہب کے نام پر انتہا پسندانہ اور تکفیری سوچ بھی بعض مخصوص اذہان کی پیدوار ہے جو بعض نامعقول اور غیر ضروری سوالات کے ذریعے پھیلائی جاتی ہے۔ مذہبی طبقہ اس سے مبرا تو ہر گز نہیں مگر جس نوع کی انتہا پسندی کو مذہب سے نتھی کیا جا رہا ہے اس کے ملزمان کم از کم تین ہوتے ہیں جن پر برابر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پہلے نمبر پر خود وہ شخص جو انتقام یا دیگر کسی جذباتی غلبے کے باعث انسانی جان کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ دوسرا ملزم وہ شخص ہے جو اس کو گروہی شکل میں منظم کرتا ہے۔ تیسرا ملزم وہ ہے جو اس عمل کو درست قرار دے اور اس کے حق میں دلائل گھڑے۔ یہ تین اس مقدمے کے بنیادی نامزد ملزم ہیں۔
خورشید ندیم صاحب کا کہنا ہے کہ تکفیری سوچ جن لوگوں نے اختیار کی وہ لوگ سید قطب یا سید مودودی کے افکار سے متاثر تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے مصر کی تنظیم الہجرہ والتکفیر اور مولانا گوہر رحمان کے شذرات پیش کیئے ہیں۔ لیکن ان دو مثالوں سے شدت پسند ی کے کسی ملزم کا تعلق مذکورہ بالا دو علماء کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ ایک عالمانہ رائے ہے۔ میری ذاتی رائے میں اس نوع کی انتہا پسندی اور تکفیری رویہ بنیادی طور پر ان حالات کی پیداوار ہے جو گذشتہ چالیس پچاس سالوں کے دوران دنیا میں رونما رہے ہیں۔ تسلسل کے ساتھ ان واقعات کی کڑی سے کڑی ملاتے چلے جائیں آپ دیکھیں گے کہ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے جو کہ ہے۔
تکفیر اور انتہا پسندی کے اشتراک سے جو مذہبی انتہا پسندی وجود میں آتی ہے ،اس کے تانے بانے تلاش کرتے جائیں تو دو بڑے اسباب سامنے آتے ہیں۔ ایک انسانی فطرت کا وہ داعیہ جس کا تعلق متعلقہ فرد کی داخلی کیفیات سے ہے اور دوسرا وہ عوامل جنہیں انتہا پسند بطور علت بیان کرتے ہیں ۔ یعنی وہ مخصوص حالات و واقعات جو کسی شخص کو مشتعل کرنے اور شدت پسندی کی جانب راغب کرنے کا سبب بنے ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ایک اور اہم پہلو رہ جاتا ہے اور وہ ہے مذہبی کتب میں موجود وہ مواد جس کو بطور استشہاد پیش کیا جاتا ہے ۔ جس سے انکار ممکن نہیں ۔ تجزیاتی شعور کا فقدان ہمیں کسی بھی سمت دھکیل سکتا ہے ۔ کوشش ہے کہ ان اسباب و علل کا تجزیہ کر کے حقائق کو سمجھا جائے ۔ گذشتہ عرصے میں عرفان شہزاد صاحب نے مکالمہ پر ”عسکریت پسندی کا جہادی بیانیہ کہاں تشکیل پاتا ہے “کہ عنوان سے دینی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں سے ان مقامات کی نشاندہی کی تھی جو تکفیری سوچ اور انتہا پسندی کو پروان چڑھانے کا وسیلہ بنے ۔ لیکن ہم ساتھ میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس نصاب کو پڑھنے والے ایسے ایسے نابغے بھی موجود ہیں جن سے کسی قسم کی تکفیری سوچ یا انتہا پسندی کا صدور نہیں ہوا ۔ بلکہ اس تعلیم کو حاصل کرنے کے باوجود معتدل رویئے کے حامل رہے ۔
سینکڑوں ایسے علماءکے نام موجود ہیں جنہوں نے شدت پسندی کے بجائے اعتدال اور میانہ روی کو اپنائے رکھا ۔ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جن پر الٹا اثر ہوا اور وہ تکفیری سوچ کو پھیلانے کا سبب بنے ۔ اس معمے کو سمجھنے کے لئے افراد کی داخلی کیفیات کا جائزہ لینا ہوگا ۔ جناب خورشید ندیم صاحب نے ضمناً ایک سبب جدید دور کے دو بڑے مفکرین سید مودودی اور اور سید قطب کی تحریروں کو قرار دیا ہے ۔ ان کی بات کو کلی طور پر سچ تب تو مانا جا سکتا ہے جب ان کے جملہ پیروکارتکفیری ذہنیت پر مشتمل شدت پسند گروہ بن چکے ہوں ۔ اس کے برعکس ہم ان ہر دو علماءکے متبعین میں نہ صرف معتدل اور متوازن بلکہ غیر تکفیری رویہ رکھنے والوں کی اکثریت کو پاتے ہیں ۔ مصر کی اخوان اور پاکستان کی جماعت اسلامی اس کی زندہ مثالیں ہیں جو میری معلومات کے مطابق اب تک تکفیری یا انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں ۔ اگر ان تحاریک کے کچھ اجزاءکسی تکفیری گروہ میں شامل ہوئے یا کسی غارت گر گروہ میں چلے گئے تو اس کا اصل سبب ان افراد کی داخلی کیفیات میں تلاش کیا جا سکتا ہے یا پھر ان حالات و واقعات کو موضوع بحث ہونا چاہیئے جو کسی فرد کو اس انتہا تک لے جانے کا باعث بنے ۔ ان کے پیروکاروں کی عظیم اکثریت ایسی متشدد سرگرمیوں سے دور ہے ۔ اور خود ان کی مکمل دعوت میں کہیں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آتی کہ انہوں نے کسی خفیہ انقلابی دعوت یا تحریک کا پروگرام مرتب کر رکھا ہو ۔ وہ سب سیاسی دھارے میں موجود ہیں اور کوئی ایسا ثبوت جسے ثبوت کہا جا سکے اب تک سامنے نہیں لایا جا سکا جس سے ان پر تکفیر کا الزام عائد ہو ۔ الٹا ہمیں عملی طور پر صورت حال یہ دکھائی دیتی ہے کہ یہی لوگ تکفیر کے خلاف مورچہ زن ہوتے ہیں اور تکفیریوں کا نشانہ بھی بنتے ہیں ۔
میرا خیال ہے کہ ان پر تکفیر کا الزام دھرنا زیادتی ہے ۔ سید قطب اور سید مودودی کے پیش کردہ تصور اسلام کا جو پہلو قابل تجزیہ ہے وہ دوسرا ہے ۔ یعنی اسلام کا تصور سیاست ، اس تصور کی وجہ سے انتہا پسندانہ رویوں کو فروغ ملا، اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا ۔ کیسے آیئے دیکھتے ہیں ۔ سید مودودی نے اپنی دعوت جس ایک جملے میں بیان کی ہے وہ یوں ہے کہ ” قرآن اور سنت کی دعوت لیکر اٹھو ، اور پوری دنیا پر چھا جاﺅ“ اس دعوت کو وہ اپنی نہیں بلکہ انبیا علیہم السلام کی دعوت بتاتے ہیں ۔ بطور استدلال وہ سیاست کو دین کا ایک شعبہ بتاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست، معیشت ، تمدن ، عبادات وغیرہ وغیرہ نظام زندگی کی اکائیاں ہیں اور ان کی وحدت دین ہے ۔ وہ اپنی کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحوں میں دین کو وسیع تر مفہوم میں لیتے ہیں ۔ ان کا فرمانا یہ ہے کہ اسلام محض پوجا پاٹ کا دین نہیں کہ نماز روزے پر مکمل ہو جائے بلکہ یہ تمام شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہے ۔ ان کی کتاب اسلامی ریاست میں وہ قرآن کی متعدد آیات کو بطور دلیل لاتے ہیں۔ ایسی آیات جن میں دین کے معنی وہ ریاستی قانون بیان کرتے ہیں ۔
جب کہ امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں اس دین کے معنی اطاعت و جزا ءوغیرہ بیان کیئے ہیں ۔ سیدی نے سورة یوسف کی تفسیر سمیت جملہ دیگر مقامات پر دین کو ریاستی قانون ثابت کیا اور یوں قانون کے حوالے سے یہ تصور بھی پیش کیا کہ انسان اپنے لئیے قانون سازی کرنے کا مجاز و مختار نہیں بلکہ اس کے لئے قانون قرآن و سنت کی شکل میں تیار شدہ ہے جس کی عملی تنفیذ کی جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ بطور دلیل یہاں بھی سورة توبہ کی آیت نمبر 111سمیت دیگر آیات پیش کیں ۔ یہاں تک ہم نے صرف ان کی پیش کردہ دعوت کا خلاصہ بیان کیا ہے اب دوسری جانب دیکھتے ہیں ۔ جس نظام اور عہد میں سید مودودی نے یہ فکر پیش کی وہ دنیا میں آئینی جمہوریتوں کے قیام کا زمانہ ہے ۔ یعنی ایک ایسا وقت جب دنیا بھر میں انسان کو قانون سازی کا اختیار مل رہا ہے ۔ جنگ عظیم اول سے پہلے کی دنیا میں فرانس اور انگلینڈ کے علاوہ چند گنے چنے ممالک میں جمہوری نظام رائج تھا ،باقی دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے لئے قانون سازی کا نہ اختیار ملا تھا۔ نہ ہی ایسا کوئی امکان تھا۔ ہم اب تک تکفیری سوچ ، سید مودودی کی فکر کا مختصراً تجزیہ کر چکے ۔اب تیسری چیز قانون سازی ہے جس کا تجزیہ کرنے سے قبل قانون سازی کے طریقے، یعنی جمہوریت کا تجزیہ کرنا ہو گا پھر دیکھیں گے کہ نتیجہ کیا ہے۔ ( اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ یہ جمہوریت بیچوں بیچ کیسے آگئی تو جواب اس کا یہ ہے کہ سید مودودی کی دعوت ”قرآن و سنت کی دعوت لیکر اٹھو اور دوسری پوری دنیا پر چھا جاﺅ “ ہے۔
ایسے میں پوری دنیا تو رہی ایک طرف صرف پاکستان پر چھانے کے لئے بھی جمہوریت کی بکل لپیٹ کر آنا پڑے گا۔ یوں جمہوریت کو بھی اس میں ایک جزو کی حیثیت سے دیکھنا پڑے گا اور مضمون کے اگلے حصے میں ہم یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ سقم ہے کہاں اور خورشید ندیم صاحب نے تلاش کہاں کیا ) اگر ہم خورشید ندیم صاحب کی بات کو درست بھی مان لیں تو اس سے چند اور ایسے نتائج نکلیں گے جس سے اس انتہا پسندی کے سرے الہامی تعلیمات میں ملیں گے۔ تو کیا ایسی صورت حال میں الہٰامی تعلیمات کو مورد الزام ٹھہرایا جانا درست عمل ہو گا؟۔ یہاں تمثیلات بیان کرنے کا موقع محل نہیں ہے۔ میری ناقص رائے میں اس کا تدارک فکری تطہیر کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔یہ تصور کہ مذہب اصلاح نفس کا داعیہ رکھتا ہے اور فساد اصلاح نہیں اس کی زیادہ بہتر تفہیم کے ذریعے رویوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انتہا پسندی کے فطری داعیئے کو مثبت معنوں میں استعمال کرنا سیکھ لیں تو سب ٹھیک ہو جائےگا۔ الزامات کا سلسلہ شروع کریں تو کسی کو بھی گھسیٹ کر ملزم کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ ایک معتدل رویہ معتدل معاشرے میں ہی فروغ پا سکتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ معاشرہ انتہا کی راہ پر ہو اور اس سے معتدل راستے کی توقع کی جائے۔ جہاں تک تکفیر کا معاملہ ہے تو اس کا راستہ روکنے کےلئے انفرادی رویوں کی اصلاح پر مشتمل دعوت ضروری ہے۔

عارف کاشمیری
عارف کاشمیری
اصل نام ۔ پیرزادہ عتیق الرحمان شاہ پیشہ ۔ صحافت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *