معشوقہء پنجاب

ظہیر بھائی اور حمزہ خان سواتی سے ایک دو ملاقاتیں ہوئیں اور ان ملاقاتوں میں جو موضوع نمایاں رہا وہ معشوقہ پنجاب تھا بڑی تعریف سنی سواتی نے تعریفوں کے بڑے بڑے پُل باندھے۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب یہ کتاب ہر صورت پڑھنی ہے۔ ہم بھی تو دیکھیں ایسی کیا خاص بات ہے اس ناول میں ۔ ناول ظہیر بھائی سے ہی قبضے میں لیا اور یہ کہہ کر چلتا بنا کہ پڑھ کر لوٹا دوں گا۔ ظہیر نے بیوہ کی طرح بہت واویلا کیا کہ میں نے ابھی خود بھی مکمل نہیں پڑھا مگر میرے کانوں پر جونک نہیں رینگی کیونکہ میں جوئیں مار شیمپو استعمال کرتا ہوں۔ اس لیے میرے سر میں جوئیں ہے ہی نہیں۔ معشوقہ پنجاب ظفر جی کا ایک خوبصورت ناول ہے یہ ناول کم اور سفرنامہ زیادہ ہے جو پنجابی کے عظیم شاعر وارث شاہ کے عشق کی داستان ہے ۔
مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ خود بھی تین صدی پیچھے چلے جاتے ہیں اور وارث شاہ صاحب کے ہم سفر بن جاتے ہیں مختلف علاقوں کا سفر کرتے اور زندگی کے نئے تجربات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ظفر جی کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ قارئین کو بھی اپنے ساتھ ساتھ لیئے پھرتے ہیں ۔جیسے جیسے وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں ذہن میں لوگوں کے ، حالات اور مقامات کے منظر ابھرتے جاتے ہیں . یہ سفرنامہ اردو اور پنجابی کا حسین امتزاج ہے . اردو میں کہیں کہیں پنجابی کا تڑکا اسے مزید حسین بنا دیتا ۔مصنف نے جہاں اس میں کہیں کہیں تاریخ کی منظر کشی کی ہے وہیں جابجا ظرافت کے خوبصورت رنگ بھی بھرے ہیں جو تحریر کو اور بھی نکھار دیتے ہیں ۔
ہمارے ہاں صوفیا کو بھی کچھ وجوہات کی بنا پر متنازع بنا دیا گیا ہے۔ ایسے ہی کچھ مولوی اس دور میں بھی نظر آتے ہیں جن سے شاہ صاحب کا پالا پڑتا ہے لیکن ظفر جی نے صوفیا کی حقیقت کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔ صحبت کا اثر انسان پر پڑتا ہے اور اس صحبت کا اثر کھڈیاں خاص میں ظاہر ہوا جہاں شاہ صاحب اور ظفر جی دورانِ سفر بابا عباس کے ہاں رکتے ہیں ظفر جی ایک شعر سنانے کی فرمائش کرتے ہیں اور شاہ صاحب اجازت دے دیتے ہیں ، اب ظفر جی کا شعر ملاحظہ فرمائیے.
حلوے دی اک مسیت بنائیے تے سوّیاں دی چھت چڑھائیے
کھیر دا تھلّے فرش بچھا کے جاء جاء سجدے کھائیے
ظفر جی کی تحریر اس قدر سحر انگیز ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ظفر جی کے علم و عمل میں مزید اضافہ فرمائے اور انہیں اردو اور پنجابی کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

Avatar
محمد حمزہ حامی
شاعر ، کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *