• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط12

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط12

ہندوستان کے راجپوتوں میں میاں کی موت پر بیوی کے جل مرنے کو بہت وقار عصمت اور خاندانی برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسے ستی کہا جاتا تھا بعض مرتبہ تو یوں ہوتا کہ جب کوئی علاقہ فتح ہوجاتا تو مفتوح حکمرانوں کی تمام خواتین ایک بڑا سا الاؤ جلا کر آن بان شان سے سج دھج کر اس میں جل مرنے کے لیے کود پڑتی تھیں۔اسے وہ جوہر کا نام دیتے تھے۔پدماوتی فلم میں یہ سین کاٹ دیا گیا،اس کی فلمبندی کا ہیروئین دیپکا پر بہت گہرا نفسیاتی اثر ہوا  اور وہ کئی ماہ ماہر نفسیات کے ہاں زیر علاج رہی۔ نفسیاتی حوالوں سے وہ بھی بے چاری ہماری من پسند گلوکارہ  میشا شفیع اور عائشہ گلالئی کی طرح نازک مزاج ہے مگر علی ظفر اور عمران خان کی طرح رنبیر کپور اور مزمل کو برا نہیں کہتی۔۔کوئی اصرار کرے تو بس اتنا کہتی ہے۔۔

 

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے،

اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے،

سیاست اور شوبز میں کھونے پانے کا عمل ذرا دھوم مچا کر ہوتا ہے۔

ع محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال۔۔۔

بمبئی پرییزیڈنسی جس کی عملداری ان دنوں کراچی تک تھی اس کے گورنر ہمارے پسندیدہ سرکار انگلیشیہ کے جنرل سر چارلس جیمز نپیئر ہوا کرتے تھے۔ان حضرت نے عہدہ پر متمکن ہوتے ہی ستی کی گھناؤنی رسم پر پابندی لگا دی۔

راجپوت اور برہمن ایسے ہی بھڑک گئے جیسے وہ بغیر دیکھے فلم پدماوتی کی ریلیز پر ہوئے تھے مگر سرکار انگلیشیہ کے جنرل سر چارلس جیمز نپیئر کوئی فلم کے پروڈیوسر،ہدایت کار موسیقار سنجے لیلا بھنسالی جیسے گندھے ہوئے آٹے کے پیڑے تو تھے نہیں کہ یرک جاتے۔ڈٹ گئے۔جے پور میں ان مظاہرین معتبر سے ملاقات کا وقت اور محل ایک باغ میں طے ہوا۔باغ میں تین دن پہلے سے شہر بھر کے بڑھئی جمع تھے اور پھانسیاں بنا کر جا بجا نصب کیے جاتے تھے۔ان میں رسی کے پھندے بھی لٹک رہے تھے۔وقت مقررہ پر ان کے پاس جب برہمن پنڈتوں کا ایک وفد ستی (جس میں اعلی گھرانے کی راجپوت بیوہ کو اس کے شوہر کی چتا میں زندہ جلنا ہوتا تھا)کی پابندی کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے پہنچا توان کے لیے باغ میں جا بجا لٹکتے پھانسی کے پھندوں کی ہیبت طاری ہوچکی تھی۔ان کا احتجاج اس نے بہت دھیرج(اطمینان) سے سنا۔ سب سن کر اس نے انہیں اپنے مخصوص انداز  میں چشمہ ناک پر جما کر گھورتے ہوئے جتلا دیا کہ”ہوسکتا ہے آپ کے ہاں یہ رسم مذہبی وقار کی علامت ہو۔میں جس سرکار کا نمائندہ ہوں اس کا ایک قانون آپ کی مملکت میں رائج ہے۔جب مرد کسی عورت کو زندہ جلانے کا فعل سرانجام دے  تو ہم اس مرد کو پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں اور جائیداد ضبط کرلیتے ہیں۔سرکار کے بڑھئی پھانسیاں تیار کررہے ہیں ہم آپ کو اس رسم کی پابندی کرنے سے نہیں روکتے مگر تو ہم اپنے قانون پر عمل درآمد کر نے کے پابند ہیں۔بہتر ہوگا کہ آپ بھی قانون کی پاسداری کریں“۔

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط11
جنرل سر چارلس جیمز نپیئر کے انتقال کو اب ڈیڑھ سو سال سے اوپر ہوتے ہیں، ہندوستان کو آزاد ہوئے بھی ستر سال ہونے کو آرہے ہیں۔کوئی مائی کا لال پنڈت مودی جیسے شد ہندو کی حکومت میں ہندوتا اور سنگھ پری وار کے اس راج میں بھی نپیئر کے لاگو کردہ قانون کی خلاف ورزی کرنے کی جرات نہیں کرسکا۔ہندوستان کی ناریاں متوقع  جہیز نہ لانے کی وجہ سے تو جلادی جاتی ہیں مگر وودھوا (بیوہ)ہونے پر کوئی چت پون(خالص) راجپوتانی اب شوہر کی موت پر چتا میں نہیں زندہ جلائی جاتی
اسے کہتے ہیں قانون کا خوف اور پاسداری۔۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے کراچی کا ایک بدنام زمانہ روڈ اس کے نام سے موسوم کرکے قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ اہتمام کرلیا کہ شہر کی سب سے مستند ہیرا منڈی یہاں آباد کردی جہاں ہر رات کئی عورتیں شہوت کی آگ میں ستی ہوتی ہیں ۔

بلوچستان کا سبی دربار بلوچستان کا سب سے بڑا میلہ ہوتا تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد اس کی پہلی صدارت پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل سن 1948 میں اس چونکا دینے والے خطاب سے کی تھی کہ ” ہمارے ملک پاکستان کے حوالے سے میرے ذہن میں ایک ایسی جمہوریت کا خاکہ ہے جس میں ہمارے کردار کے سنہری خط و خال دنیا کے سب سے بڑے قانون کے داعی اسلام کے عظیم نبی محمد مصطفےٰ ﷺ نے وضع کیے تھے“۔ اس دربار کی آخری مرتبہ صدارت غلام اسحق خان نے کی تھی۔یہ دربار جب منعقد ہوتا تھا تو کبھی کبھار اس کی صدارت اس وقت کا انگریز ڈپٹی کمشنر کرتا تھا ورنہ اس کا فریضہ اس وقت اسٹنٹ کمشنر کرتا تھا۔صاحب بہادر چار گھوڑوں کی ایک بگھی میں سوار ہوکر جب جلسہ گاہ کے نزدیک پہنچتے تھے تو ڈائس تک لے جانے کے لیے گھوڑے کھول دیے جاتے تھے۔اس وقت جلسہ گاہ میں اعلان ہوتا تھا کہ گھوڑے کھول دیے گئے ہیں۔گھوڑوں کو بگھی سے علیحدہ کرنے کا فلسفہ یہ تھا کہ گھوڑے قالین پر گندگی نہ کریں۔اس اعلان کے  ہوتے ہی نہلے دہلے معززین اور حاضرین سنبھل کر بیٹھ جاتے تھے۔گورا اسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر بگھی سے نیچے قدم نہیں رکھتا تھا مگر حاضرین کے بڑے سر جھکا کر کھڑے ہوتے۔خود گھوڑوں کی جگہ بگھی میں جت جاتے اوربگھی کو پھر وہاں موجود معزز ترین افراد کھینچ کے ڈائس تک لاتے تھے۔ اب ان  بگھی کش سرداروں کی اولاد کا شمار بڑے سرداروں اور تمن داروں میں ہوتا ہے۔تمن دار چنگیز خان کے لشکر میں دس ہزار کے لشکر کے سپہ سالار کو کہتے تھے۔
سندھ میں انگریز افسر جب کسی مقامی باشندے سے خوش ہوتے تھے تو سال بھر کے لیے عزت نامہ جاری کرتے تھے۔تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کوئی غلام قادر دائیو صاحب تھے جنہوں نے کسی ڈکیتی میں سرکار کی مدد کی تھی سو انہیں یہ آفرین نامہ جاری کیا گیا۔ یہ پروانہء عزت افزائی اس کے لیے سرمایہ ء حیات ہوتا تھا اور اس سے سرکاری دفاتر میں اسے عزت ملا کرتی تھی۔اس طرح کی مسلسل خدمات کے عوض اسے دفاتر میں کرسی بھی عطا کی جاتی تھی۔ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ملحقہ ایک دربار ہال ہوتا تھا جہاں ایسے معززین کرسیوں پر براجمان ہونا جنت کے ملٹی پل ویزا کے برابر سمجھتے تھے۔


اسی طرح اگر کوئی فرد کسی ناپسندیدہ فعل کا مرتکب ہوتا تو اسے معقول سزا دینے کے علاوہ وہ ایک ’ذلت نامہ‘ جاری کرتے تھے۔جو اسے سرکاری دفاتر میں پیش ہوتے وقت بطور طوق گلے میں لٹکانا پڑتا تھا۔ اس طرح کے ذلت ناموں اور عزت ناموں کی نقول اب بھی سندھ آرکائیوز کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔یہ دفتر کراچی میں پارک ٹاور کے نزدیک آج بھی موجود ہے۔چارلس جیمز نیپئر اپنے نام کے ساتھ نواب بادشاہ سندھ لکھا کرتا تھا۔ایسا ذلیل شخص اگر کسی دفتر میں اس لعنتی طوق کے بغیر پایا جائے تو اس کی سزا کی معیاد دوبارہ شروع ہوجاتی تھی۔

انگریز نے کراچی میں کئی عمارات بنائیں۔ جن میں سب سے قدیم تو وہ لیاقت بیرکس ہے جہاں سندھ میں تعینات پانچ کور کا فوجی ہیڈکوارٹر واقع ہے اس کا پہلے نام نپیئر بیرکیس تھا اسے سندھ کے گورنر سر چارلس جیمز نپیئر کی ہدایت پر بنایا گیا تھا تب وہ افواج ہندوستان کے سپہ سالار ہوتے تھے۔


راقم سن ساٹھ کی دہائی میں شہرحیدرآباد میں رہتا تھا۔اس کی خالائیں، ماموں اور ایک عدد پھوپھی یہاں کراچی میں رہتے تھے۔اسکول میں گرمیوں کی تعطیلات کے آغاز میں ہم کراچی آجاتے تھے۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کمپنی کی ایک بس صبح سویرے حیدرآباد سے روانہ ہو کر براستہ ڈیڑھ بجے تک نیشنل ہائی وے پر سفر کرتی ہوئی لائٹ ہاؤس پر لاکر مسافروں کو اتار دیتی تھی۔والدین مگر کراچی آنے کے لیے ٹرین کا سفر بہتر سمجھتے تھے۔ ٹرین میں کراچی ایکسپریس بعد میں عوامی ایکسپریس بھی شامل ہوگئی تھی اعلیٰ الصبح حیدرآباد سے روانہ ہوتی اور ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے تک کینٹ اسٹیشن پر ان کے بھائی خوش آمدید کہنے کے لیے منتظر ہوتے۔ٹرین شاذ و ناذر ہی لیٹ ہوتی تھی۔سیٹیں باآسانی مل جاتی تھیں۔ ان دنوں اس کا کرایہ بھی ڈھائی روپے ہوتا تھا۔بس چار روپے لیتی تھی۔

ناشتہ باوردی بیرے وقت پر لادیا کرتے۔چائے ،آملیٹ اور توس گرم، مکھن کی ٹکیہ اور تھوڑا سا مارملیڈ یا جام۔ناشتے کی قیمت آٹھ آنے اور روپے میں سولہ آنے پورے ہوتے تھے۔ٹپ کے طور پر اگر بیرے کو دو چار آنے چھوڑ دیے جاتے تو وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر باقاعدہ کورنش بجالاتا تھا۔قلی آٹھ آنے میں یہ سارا سامان باہر کھڑی ہوئی اپنی پسندیدہ بگھی میں رکھ دیتا تھا جو ایک روپے میں یہ چار چھ سواریاں جوبلی سنیما کے قریب واقع نور مسجد کے ساتھ ایک بلڈنگ تک پہنچا دیتا تھا۔راستے میں کاریں خال خال، سائیکل رکشہ اور بگھیاں کثرت سے اور گھنٹیاں بجاتی ٹرام بھی دکھائی دیتی تھی۔جس کا روٹ ایمپریس مارکیٹ سے کیماڑی تک ہوتا تھا۔ بہت عرصہ پہلے کراچی ، برصغیر کی غّلے کی سب سے بڑی برآمدی بندرگاہ بن چکا تھا۔ اس سے کافی عرصہ قبل یہاں دو بڑے دروازے بنائے گئے تھے۔ایک کے ذریعے یہاں کے  باشندوں کی رسائی سمندر تک ہوتی تھی جس میں  بندرگاہ بھی شامل تھی اس دروازے کو مقامی زبان میں کھارے جو در(نمکین پانی کا دروازہ) اور دوسرے کو جو لیاری ندی کے کنارے بنایا گیا تھا مٹھے جو در(یعنی میٹھے پانی کا دروازہ کہتے تھے) کراچی کے پرانے علاقے کھارادر  اور میٹھا در انہی  ناموں سے موسوم ہیں۔ ہمارے فاروق بھائی جو میمن نہیں بلکہ گجراتی گھرانے کے فرد ہیں اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دروازوں کے اطراف آبادیاں آج بھی موجود ہیں۔انہیں آج کے باسی کھارا در اور میٹھا در کے نام سے پکارتے ہیں البتہ یہ دروازے اور وہ چھوٹا سا قلعہ اب کہیں دکھائی نہیں دیتے

خاکسار سندھ کا ٹرانسپورٹ سیکرٹری رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ کراچی میں اگر سرکلر ریلوے کو بحال کردیا جائے اور ٹرام کی ایک پٹی لانڈھی سے ٹاور اور دوسری ٹاور سے سہراب گوٹھ اور تیسری رجانی سے ٹاور تک آجائے تو ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔یہ عین پرانی ٹرین اور ٹرام کا ماڈل ہو جسے انگریزی میں No-Frill Service کہتے ہیں سادہ،مضبوط اور اس کا انتظام پرائیوٹ سیکٹر میں سرکار کی شراکت میں ہو۔ ہر ٹرمینس پر ڈمپر کے دس بیٹریوں کے وزن کی طاقت والے ڈیزل کے جنریٹر لگے ہوں۔صدر اور دیگر اہم شاہراہوں کے اوقات میں چار سے کم مسافروں والی کار کا داخلہ بند ہو۔رکشہ اور منی بس کو رفتہ رفتہ ختم کردیں۔
اس ٹرام سروس کا آغاز سن1900, ء میں ہوا تھا۔1914. تک کراچی میں صرف ایک موٹر کار ہوا کرتی تھی جو ایک انگریز خاندان کی ملکیت تھی۔محمد علی ہوکنا ٹرانسپورٹ کمپنی کے یہ سبز رنگ کی ٹرام، اپنی ساخت اور ہیئت میں ٹرین کا ایک ڈبہ لگتی تھی جس میں دونوں طرف کئی کئی دروازے ہوتے تھے۔ ڈرائیور کے سر پر پیتل کی ایک بڑی سی گھنٹی لٹک رہی ہوتی تھی جس کی  ڈوری کھینچ کر وہ اسے بطور ہارن استعمال کرتا تھا۔کھڑکیوں میں شیشے نہیں ہوتے تھے۔پہلے اس کا کرایہ ایک آنہ ہوتا تھا بعد میں جب اعشاری سکے متعارف ہوئے تو اس کا کرایہ دس پیسے ہوگیا تھا جس پر کراچی کی عوام کچھ ناخوش تھے۔1974-75ء میں جب یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوئی تو اس کا کرایہ پچیس پیسے تھا۔سن نوّے کی دہائی میں جب اس نے چین کے شہر نان جنگ کی ایک ٹرام میں سفر کیا تو اس کراچی کی اس ٹرام کی بہت یاد آئی۔دونوں میں آسائش کی ایک واضح تفاوت تھی۔البتہ امریکہ کے شہر سان فرانسسکو کی ٹرام کچھ کچھ اپنی کراچی کی ٹرام سے ملتی ہے فرق ہے تو صرف اتنا کہ  وہاں تو کیلی فورنیا کی Elite رہتی ہے اور وہ اس سے سفر بھی کرتی ہے۔جب کہ کراچی کی ٹرام میں زیادہ تر محنت کش اور کم آمدنی والے افراد دکھائی دیتے تھے۔

گھر پہنچ کر اسے ڈیڑھ روپیہ دیا جاتا جس سے بکرے کا ایک کلو گوشت آجاتا تھا۔ہوتی مارکیٹ کے قصاب کو صرف اتنا کہنا کافی ہوتا کہ وہ کس کے گھر سے گوشت لینے آیا ہے۔سودا لینے گھر کا کوئی بچہ جائے کہ بڑا،سودے کا معیار یکساں ہوتا تھا۔صدر میں شرف علی جیولر سے اسی روپے کا تولہ سونا مل جاتا تھا۔وہ کئی دفعہ یہ سونا اپنے اہل ِ خانہ کے لیے تین سے چار تولہ تک خود خرید کر لایا تھا۔گھر والوں کی ہدایات صرف اتنی ہوتی کہ وہ اپنے لیے چاٹ اور آئس کریم پہلے کھالینا۔جس کے لیے رقم علیحدہ جیب میں رکھوائی جاتی۔سونا بعد میں خریدنا۔راستے میں کہیں رکنا نہیں۔رقم کے بارے میں کسی کو بتانا نہیں۔ اکیلے جانا یا نلینی اور اوشا کو ساتھ لے جاؤ۔ یہ بلڈنگ میں ہماری بارہ تیرہ برس کی پڑوسنیں تھیں۔ دیکھنے میں بہت سجل اور کومل اور برتاؤ میں بہت دھیمی پر بہت معاملہ فہم اور حساب کتاب میں گانٹھ کی پوری۔ایمپریس مارکیٹ سے ٹاور تک کے علاقے کے چپے چپے سے ایسی واقف تھیں کہ آج کا ڈی آئی جی ساؤتھ زون ان کے سامنے علاقے کی معلومات کے معاملے میں ہیچ دکھائی دیتا ہے۔راستے میں وہ صدر کے علاقے میں واپسی پر جب فٹ پاتھ پر رکھی کسی کتاب کی دکان پر رکتا تو اوشا اسے بانہوں سے پکڑکر کھینچتی تھی کہ وہ گھر واپس جلد لوٹے۔بہت دنوں بعد جب اس نے اداکارہ Scarlett Johansson کی فلم Girl with a Pearl Earring دیکھی تو اسے اوشا بہت یاد آئی۔وہی جسم کہ  جس کا ہر زاویہ راگ ہنڈوال کے الاپ راگ تھا۔جھولے میں پون کے آئی بہار۔۔جس کی آنکھ میں آہو کی وحشت اور جس کی آواز میں ایک شبنمی ٹھنڈک تھی۔

آخری خبریں آنے تک اوشا، زنجبار کے جزیرے پیمبا (Pemba)میں نانی، دادی بن کر اپنے پنر جنم کا انتظار کرتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *