کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر29

غزل اور نظم کا بکھیڑا
سوال در سوال اور جواب در جواب
نوٹ: اپنی چھیاسی برس کی عمر کا ”کتھا چار جنموں کی“ میں لیکھا جوکھا پیش کرتے ہوئے بار بار یہ خیال آتا ہے کہ میں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ اس سوال سے نبرد آزما ہونے میں گzار دیا ہے کہ اردو شاعری کے مغربی زبانوں کی شاعری کے ہم پلہ ہونے اور ان کے دوش بدوش برابری کا رتبہ حاصل کرنے میں کیا کچھ سد راہ ہے۔ جواب بار بار ایک ہی ملتا ہے، اور اسی کا بکھیڑا یہاں کیا گیا ہے۔

سوال: غزل میں نئے مضامین کی معدومیت کا رونا رونا کیا انسانی دماغ کی”عبقری فعالیت“پر چیلنج اور تحدی نہیں۔؟
جواب: غزل گو شاعر کے ہاں، افسوس، صد افسوس، اس دماغ کو بیدار کرنے کا وقت ہی نہیں ہے جس میں ایک قدر ِ معتبر کے طور پر ’عبقری فعلیت‘ یعنی ذہین، فطین، ہونے کی سطح پر فعال ہونا موجود ہو۔ وہ تو ذہن کے گودام کے شیلفوں پر رکھے ہوئے ان spare parts کو اٹھا اٹھا کر جب اپنی غزل میں فِٹ کرتا ہے تو اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ’آمد‘ ہے، کیونکہ ذہن نے براہ راست ایک استعارے،یا ایک تشبیہ پر استوارسلک بیان میں، من وعن، جچے تُلے الفاظ میں ایک خوبصورت جملہ اسے فراہم کر دیا ہے۔ ؎ ہر کہ خیانت کند، البتہ بترسد .. بیچارہ  شاعر نہ کرے ہے نہ ڈرے ہے: بیچارہ   ء  شاعر کو تو یہ بھی علم نہیں کہ اس سے پہلے اس نے اساتذہ کے کلام میں یا اپنے ہمعصروں کے کام میں کتنی بار اس کو دیکھا ہو گا اور عادت ِ ثانیہ کے طور پر اسے اٹھا کر اپنی یاداشت کے گودام کے ذخیرے میں ایک شیلف پر سجا دیا ہو گا۔

سوال: نظم گو شاعر اور غزل گو شاعر کے فکری جذباتی تنوع اور معاشرتی برتاؤ پر بات ہو سکتی ہے؟ یا اسے فطری ساختیات اوراسلوبیاتی دِساتیر میں ہی دیکھنا ہوگا۔۔۔؟
جواب: جی ہاں، بالکل ہو سکتی ہے۔پہلے اگر ”فکری، جذباتی تنوع“ کو ہی لیں، تو سوال در سوال اور جواب در جواب کی ضرورت نہیں پڑے گی اور بر سبیل تذکرہ ”معاشرتی برتاؤ“ کا ذکر بھی آ جائے گا۔
”فکری، جذباتی، تنوع“… آپ نے، محترم، ’فکری‘ اور ’جذباتی‘ کے مابین commaیعنی سکتہ روا نہیں رکھا، اس لئے میں اب ”فکری اور جذباتی تنوع“ کے سیاق و سباق میں دیکھ کر جواب لکھ رہا ہوں۔ساسیئر سے مجھے کچھ قرض لینا پڑے گا۔ وہ کہتا ہے کہ قاری یا سامع کو’تنوع‘ اس وقت مسحور کرتا ہے جب لسانی عمل میں کوئی تخلیق اپنے عناصر میں congruity اور incongruity یعنی ارتباط و تضاد کے ذو جہتی تفاعل کے ہونے کے باوجود معنویت کو قائم رکھ سکنے کی اہل ہو۔اسی وسیلے سے ابلاغ اور تنوع باہم بغلگیر ہو جاتے ہیں۔ فکر اور جذبہ(اس ترتیب سے) یا جذبہ اور فکر (اس ترتیب سے) بہم دگر اگر منسلک ہوتے چلے جائیں تو معنی خیزی اپنے عروج پر رہتی ہے۔نظم گو شاعر سہویت کے ساتھ یہ قول اپنے فعل میں نبھاتا چلا جاتا ہے کیونکہ اسے پیچھے مڑ کر دیکھنے اور اپنی یاداشت کے شیلفوں سے فاضل پرزے اٹھا کر جڑنے کی ضرورت پیش نہیں آتی جبکہ غزل گو شاعر (میں نوّے فیصد نہیں کہوں گا!)آخری ممکنہ حد فاصل تک اصطلاحات، جملے، استعارے، ’مفت موسوم مصطلحات‘جوں کے توں اٹھا کر جڑتا چلا جاتا ہے کہ فکر اور جذبہ نام کی دو بے تصنع اور بے آمیز ذہنی کیفیات پس ِ پشت پڑتی چلی جاتی ہیں۔

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر28
اب فطری ساختیات اور اسلوبیاتی دساتیر کی طرف متوجہ ہوں۔ مجھے پھر ساسیئر اور بلوم فیلڈ Leonard Bloomfield کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ فطری ساختیات پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم سب نہ صرف ساسیئر کے کام سے واقف ہیں، بلکہ پس ساختیات کے حوالے سے دریداؔ کے افکار کے بارے میں بھی کماحقہ آگاہی رکھتے ہیں۔ البتہ اسلوبیاتی دساتیر (یعنی اسلوب کے بارے میں وضع کیے گئے دستور، نقول، نمونے، آئین وغیرہ) کے بارے میں بات کو آگے بڑھائیں۔ غزل کا چلن ہی کوزے میں دریا کو بند کرنے یعنی مختصر ترین عبارت آرائی میں زیاد ہ سے زیادہ مفہوم کو فِٹ کر نا ہے۔ اس مسئلے کو اردو شعرا نے (بہ نسبت فارسی شعرا کے، کہ فارسی شعرا کے پاس فارسی کے علاوہ کوئی بیرونی ماڈل موجود ہی نہیں تھا، جبکہ اردو کے پاس فارسی کے دساتیر موجود تھے) حل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ میرؔ تو خدائے سخن تھا، اس نے سہل پسندی میں ہی روزمرہ کی زبان کا اختلاط کلاسیکی اسلوب سے کیا اور خوب کیا۔ شاید اس لیے بھی کہ ولی دکنی اور امیر خسرو کی مثالیں اس کے سامنے موجود تھیں۔ غالبؔ نے اپنی مدوریت اور ملفوفیت سے حتی الوسع، حتی الشعور (اور حتی الامکان) تک فائدہ اٹھایا۔ ترقی پسند تحریک کے آنے کے بعد بھی (اور اس کے اختتام تک) یہ اصول و ضوابط جاری رہے۔(یہاں میں نہ صرف صنف غزل کی بات کر رہا ہوں ا بلکہ اختر شیرانی کے رومانی دور کے بعد اور اقبال کے pro-Islamicدور کے بعد بھی ترقی پسند تحریک کے وقتوں میں صنف ِ نظم نے بھی اسلوب کی سطح پر کوئی انقلابی ردو قدح یا رد وبدل نہیں کیا، اس کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہوں۔)

جدیدیت کا بکھیڑا
جدیدیت کی نام نہاد so-called تحریک کے سالوں میں (یہ تحریک جو انڈیا میں زیادہ اور پاکستان میں کم، ایک برساتی نالے کی باڑھ کی طرح آئی اور خس و خاشاک چھوڑ کر اتر گئی) میں البتہ نہ صرف زبان کی شکست و ریخت ہوئی بلکہ DE-construction کے آزمودہ   کار اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر زبان سے ایسا کھلواڑ کیا گیا کہ خدا کی  پناہ! اس میں ملوث کچھ شعرا نے تو ایسے شعر موزوں کر کے نہ صرف اس تحریک کو ہی نقصان پہنچایا بلکہ اپنی کھلّی بھی اڑائی۔ ؎ سور ج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا (ندا فاضلی جیسے عمدہ شاعر کا مصرع)۔۔۔ اور ؎ بکری میں میں کرتی ہے: بکرا منمناتا ہے یا شاید اس کے الٹ، بکرا منمناتا ہے، بکری میں میں کرتی ہے۔ (ظفر اقبال جیسے زود اور پُر گو شاعر کا شعر)۔
جدیدیت کی تحریک کے پیش منظر کے طور پر یہاں، نظم اور غزل، دونوں کے حوالے سے اپنے لکھے ہوئے ایک مضمون سے ایک اقتباس پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔۔ ایک مقالہ جو میں نے برسوں پہلے لکھا تھا وہ تخلیقی قوت کی اس کارکردگی کے بارے میں تھا، جو فنکار کے ذہن میں پہلے ایک موہوم سی اور بعد میں ایک بہت شدید ”ٹینشن“ کی شکل میں وارد ہوتی ہے، اور فن پارہ مکمل ہونے کے بعد کتھارسس سے تحلیل ہو کر ایک قسم کی آسودگی کا احساس چھوڑ جاتی ہے۔یہ مقالہ اس سوال کے جواب کے فٹ نوٹ کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔
انگریزی لفظ tension یونانی لفظtensio او ر اس کی اسمِ جامد شکل tensus سے آیا ہے۔ ارسطو’نے اپنی بوطیقا میں اس ہیجان کی سی کیفیت کے لیے جس کا علاج اس نے کتھارسس catharsis فرض کیا، یہی دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔میں نے اس لفظ کے ممکنہ اردو نعم البدل الفاظ، ہیجان، کھچاؤ، تناؤ (ذہنی اور جسمانی) پر ارسطو کی اصطلاح کے حوالے سے غور کیا تو مجھے یہ تینوں نا کافی محسوس ہوئے۔ بہر حال 1964ء میں تحریر کردہ ایک ریسرچ پیپر جو P.E.N. کی کانفرنس کے لیے مجھے لکھنا تھا، میں نے یہ سوچ کر کہ ”کتھارسس“ پر توہزاروں صفحے لکھے جا چکے ہیں، لیکن ”ٹینشن“ پرجو ایک آرٹسٹ تخلیق کے عمل سے پہلے محسوس کرتا ہے، بہت کم کام ہوا ہے، اس موضوع کا انتخاب کیا اور چونکہ میں انگریزی کے علاوہ سنسکرت میں بھی شد بد رکھتا تھا، سنسکرت کاویہ شاستر کو کھنگالنے سے مجھے جو موتی ملے، انہیں میں نے بقدر ظرف اس مقالے میں استعمال کیا۔
یہ درست ہے کہ جذباتی اور نفسیاتی کھینچا تانی سے ہمارے دل و دماغ میں جو ہلچل پیداہوتی ہے اگر اسے بڑھنے دیا جائے اور اس کا سدِباب نہ کیا جائے تو اس کا اخراج فساد، مار پیٹ، قتل اور خود کشی میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر حیاتاتی اور نفسیاتی علوم کی مدد سے اس کو خارج کیا جا سکے تو ’مریض‘ اپنی نارمل حالت میں واپس آ سکتا ہے۔ یونانی اطباء کو بھی اس کا علم تھا، اس لیے جب ارسطو نے یہ کہا کہ ایک ٹریجڈی اسٹیج پر کھیلے گئے واقعات کی بنا پر تماشائیوں کے ایسے جذبات کو رحم اور خوف سے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اس لیے افلاطون کی”ری پبلک“ میں جہاں دیگر پیشہ وروں کو مناسب جگہ اور رتبہ دیا گیا ہے، وہاں ڈرامہ نویسوں کو بھی دیاجانا ضروری ہے۔ یہاں تک تو طلبہ کو سمجھانا آسان تھا، لیکن میں نے اس مقالے میں مثالوں سے یہ واضح کیا کہ جب تک ہم عصری حوالوں سے، جن میں نسل، قومیت، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر فسادات کا ایک لا اختتام سلسلہ جاری ہے، ان حالات کو ارسطو کے نظریے میں کچھ توسیع کر کے نہ بتائیں، ہم طلبہ کو نہیں سمجھا پائیں گے، کہ ارسطو کا نظریہ کس حد تک نا مکمل ہے۔ اسی طرح نصاب کی متنی تدریس سے تجاوز کر کے میں اپنے طلبہ سے جو باتیں کرتا تھا،(اور میں نے جس کے بارے میں اپنے مقالے میں تفصیل سے لکھا)، ان میں یہ باریک نکتہ بھی شامل تھا کہ حقیقت نگاری اور سماجی حقیت نگاری Realism & Social Realismمیں کیا فرق ہے۔ اوّل الذکر صدیوں سے قابل قبول اس چلن سے انحراف تھا جسے ہم رومانی اور تخیلی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن روسی انقلاب سے کچھ قبل اور پھر اس کے بعد شد و مد سے موخر الذکر کا دور شروع ہوا جس میں مقصدیت اور مروجہ جمالیاتی اسلوب سے بغاوت تھی، یہاں تک کہ سیاسی اور سماجی تشکیل نو کے لیے بھی ادب کو آلہ ء  کار بنا لیا گیا۔ ترقی پسند مصنفین کی تگ و دو بھی دونوں ممالک، یعنی ہندوستان اور پاکستان میں اسی کے زیر اثر شروع ہوئی۔ ان برسوں میں عقیدہ، جاگیردارانہ تکلف، روحانی اقدار کی پابندی، بورژوا اخلاقیات کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ پھر وہ دور آیا، جب روس کی دیکھا دیکھی ہماری زبانوں میں بھی ادیبوں اور قارئین، دونوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔ ہم لوگ بہت پیچھے تھے، یعنی جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ژاں پال سارترؔ کے وجودیت کے فلسفے کی بحث زوروں پر تھی ہم ابھی انجمن ترقی پسند مصنفین کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ جیمز جوائس کا ناول ”یولیسیِس“ انگلینڈ میں 1922ء میں چھپا جب کہ اردو والوں نے اس کے بارے میں بات چیت کرنا تیس چالیس برس بعد شروع کیا۔ سارترؔ کے فلسفہ وجودیت کے حوالے سے یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ کہیں کہیں اس میں ادبی روایات سے بغاوت کا چلن مختلف نہیں تھا، تہذیبی بیڑیوں کو کاٹنے کی بات ا س میں بھی کہی جاتی تھی، بورژوا اخلاقیات اور مادیت سے بچ کر چلنے کی ہدایت اس میں بھی دی جاتی تھی۔جنسی موضوعات سے پردہ پوشی کی روایت سے انحراف اس میں بھی تھا، لیکن ہوا یہ کہ مایوسی، تکان، مستقبل کے بارے میں بد اعتمادی، جہد لا حاصل جب ادبی موضوعات میں رواج پا گئے تو انسان کی افضل تریں حیثیت کے بارے میں ”ڈی ٹراپ“ De-trop یعنی بیکار، فضول کا نظریہ پنپنے لگا۔ اسلوب کی سطح پر علامت کے ابہام، استعارے کی ملفوفیت اور مدوریت کے اجزا در آئے اورشعری تخلیقات تو ایک معّمہ بن کر رہ گئیں۔
جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاو ت نہ کئے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔ ”حقیقت نگاری کے غیر جمالیاتی اور صحافتی اسلوب کی جگہ پر ما فوق الفطرت اور فطرت کی علامتوں سے مادی اور زمینی حقیقت کی ترجمانی رواج پا گئی۔ اردو ادب کے جزیروں میں ہی سہی، لیکن پاکستان میں کم اور ہندوستان میں زیادہ یہ امور دیکھنے میں آئے کہ defamiliarization یعنی غیر مانوسیت اور anachronism یعنی سہو زمانی کے طریق کار سے جمالیات اور معنویت کہ تہہ داری پیدا کی گئی۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہے، اور میں اسے hindsight سے دیکھ سکتا ہوں، (کیونکہ ان میں بیشتر قلمکار ذاتی سطح پر میرے واقف تھے!) کہ یہ لوگ غیر منطقی اور ابسرڈ absurd تحریریں ارادتاً لکھ رہے تھے۔ یورپ میں بھی سَرریئلسٹوں Surrealists کے بارے میں یہ بات اب غلط نہیں سمجھی جاتی کہ وہ گراف بنا کر، اسکیچ یا نقشہ بنا کر، اپنی تحریر کو خلط ملط کرنے اور متن کی ”آنکھ ناک کان کو اس کے جسم کی کسی بھی جگہ پر ٹرانسپلانٹ کرنے“ کی کوشش جان بوجھ کر کیا کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں جنس و جبلت بطور موضوع یا مضمون نہ بھی ہوں تو بھی ان کا ذکر برملا ہوتا  تھا۔لیکن گفتگو میں یورپ کے معروف دانشوروں کا نام لینے تک ہی ان کے  مطالعہ کی سد سکندری تھی۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ییک لاکاں، جس کا نام وہ لے رہے ہیں، کون سے ملک سے یا کس زبان سے یا کس دور سے تعلق رکھتا تھا، تو انہیں کچھ پتہ نہ تھا۔ اگر یہ کلید بھی دے دی جائے کہ اس نے نشاۃ ثانیہ Renaissance کی تحریک کو جدید دور اور قرون وسطی کی کڑی بتایا ہے تو بھی انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکتا تھا۔ ایک بار میں نے کوئی پچیس برس پہلے دہلی کے اردو دانشوروں کے ایسے ہی ایک گروپ میں سوئٹزرلینڈ کے مورخ جیکب برک ہارٹ Jacob Berchart کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ جدیدیت سے بہت پہلے اس نے نشاۃ ثانیہ کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشاندہی کر دی تھی جنہیں آج ہم جدیدیت کے بنیادی عناصر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ تھے، فردیت کے نظریہ کا فن پر اطلاق، دنیا اور فرد کی باہمی کشمکش کی نئے سرے سے دریافت، فرد اور حکومت کے تعلق باہمی کا ادب سے اخراج۔۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سب خاموش بیٹھے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو بزعم خود اپنے آپ کواردو میں جدیدیت کے قائد کے بعداس کا سب سے بڑا ideologue سمجھتے تھے۔.یعنی کمار پاشی، بلراج مینرا اور کچھ دوسرے۔

سوال: شاعر کے اندر کا”مظلوم“ اور”صاحب بہادر“ کن نفسیاتی رویوں کے تابع سر افگندہ ہے یا مونچھ کو تاؤ دے رہا ہے۔۔۔؟
جواب: یعنی یہ سوال اگر تواس شاعر per seکے بارے میں ہے جو دنیا کا باشندہ ہے اور کسی بھی زبان میں لکھتا ہے تو اس کا جواب بالکل الگ طرح کا ہو گا لیکن اگر اردو شاعر کے بارے میں ہے جو آج تک غزل اور نظم کے صدیوں پہلے اختیار کردہ راہوں کے نقوش قدم پر چلنا ضروری سمجھتا ہے، تو اس کا جواب میں لکھ رہا ہوں۔
پہلے ایک اقتباس دیکھیں جو بعینہ آپ کے اس سوال کا جواب نظرآتا ہے۔ یہ اس مضمون میں سے لیا گیا ہے جسے میں نے اپنی ایک ”ورکشاپ آن پویٹک پراسس“ workshop on poetic process میں شرکاء میں تقسیم کیا تھا۔
A genuine poet is plagued by the rivalry of two personnas that he carries within his creative self: the “have” and the “havenot”, the belly-full and the starving, the sexually satisfied and the impotent, the all-powerful freak and the weak slave, the ruler and the rebel – in short, our poet is a strange conundrum, a hold-all of much that is self-satisfying and self-negating. How does he bring forth a truce between these warring factions? The honest answer would be: “He doesn’t!” Well, he doesn’t because he cannot! He lets the dominating self at a particular
moment of creative urge (that’s almost like a mother-to-be whose water is broken and is about to deliver!) to take hold and “deliver “.. i.e. write his poem. Once he has done that, he lets himself breathe normally and allows both to live within himself in creative harmony of two oppositve selves.
(یہ ورکشاپ کئی برس پہلے Delaware میں وہاں کے تاریخی ہال میں دی گئی تھی۔ آخر ی سیشن میں شہر کے میئر نے راقم الحروف کو سراہا اور شہر کی چابی ، یعنی The Key of the Town پیش کی، جسے امریکا اور یورپ میں ایک بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس ورکشاپ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس کے شرکاء میں کئی بہت اہم شخصیات شامل تھیں، انگریزی کے اساتذہ اور شعرا کے علاوہ کچھ اردو کے اہل قلم بھی تھے، جن میں ڈاکٹر اے عبداللہ، سر فہرست تھے، ڈاکٹر عبداللہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی المنائی ایسوی ایشن، امریکا کے سابق صدر ہیں)
اب ”مظلوم“ اور”صاحب بہادر“ کی denominational pin-pointing تو اس اقتباس میں ہی ہو گئی۔ اس سوال کی طرف آئیں۔ یہ سوال صرف شاعر کے تخلیقی تشخص کی اس سرکردہ جہت کے بارے میں ہے، جو بعض اوقات جادو کی طرح سر چڑھ کر بولتی ہے اور یہ .”کن نفسیاتی رویوں کے تابع سر افگندہ ہے یا مونچھ کو تاؤ دے رہا ہے۔۔۔؟“ میں عرض کروں گا کہ غزل کے مقطع فخریہ کی طرح شاعر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ رویہ اختیار کرے، حالانکہ (Self praise is no recommendation) تو بھی اسے موقع دیں کہ وہ اعلان کرے: ”کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز ِ بیاں اور….“ یہ نفساتی سطح پر انا کی خوراک Ego-feeding کا سامان مہیا کرنے کا اعلامیہ ہے…. حتی کہ صوفی شعرا بھی اس سے مبرّا نہیں ہیں۔ جب ایک صوفی شاعر یہ کہتا ہے،.تو وہ شاعر کے طور پر اپنے لافانی ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔
”بُلھیا، اساں نئیں مرنا، گور پیا کوئی ہور“
(اے بُلھے شاہ، ہم لوگ کبھی نہیں مریں گے۔ قبر میں تو کوئی اور پڑا ہوا ہے“ (یعنی ہمارا وہ جسد خاکی پڑا ہوا ہے جس سے ہمارے کلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارا کلام تو لافانی ہے، ہاں جسد ِ خاکی ضرور فانی ہے)

سوال: کیا شاعری کو”منزل من اللہ“مان لیا جائے؟ یا یہ توقیفی نصاب ہے یا فنی ورزش کا نتیجہ؟
جواب: ’منزل مِن اللہ‘، ’توقیفی نصاب‘ اور ’فنی ورزش‘ ان تین کلیدی اصطلاحات کے معانی سمجھنے کی کوشش کرنا میر ا فرض ہے۔(۱) منزل مِن اللہ تو شاعر کے الفاظ میں (شایدآتش)ؔ ؎ ہماری منزل اوّل جو تھی سو تھی، بتائیں کیا : مگر اب منزل مِن اللہ تک پہنچنے کو ترستے ہیں۔۔ان معانی میں اگر نہ بھی لیا جائے تو“شاعری جزویست از پیغمبری“ کے مطالب میں ڈھال لیں۔پہلے میری یہ نظم دیکھ لیں، جو جزوی طور پر اس موضوع کے استفہامیہ کا جواب ہے۔

بو علی اندر غبارِ ناقہ گُم
میں اگر شاعر تھا، مولا، تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخر؟
شاعری میں متکفل تھا، تو یہ کیسی نا مناسب احتمالی؟
کیا کروں میں؟
بند کر دوں اپنا بابِ لفظ و معنی؟
اور کہف کے غار میں جھانکوں، جہاں بیٹھے ہوئے
اصحاب معبود ِ حقیقی کی عبادت میں مگن ہیں
اور سگ ِ تازی سا چوکیدار، ان کے پاس بیٹھوں
وحدت و توحید کا پیغام سُن کرورد کی صورت اسے دہراتا جاؤں؟
پوچھتا ہوں
کیا مری مشق ِ سخن، توحیدکی ازلی شناسا
ؓ قرض کے بھُگتان کی داعی نہیں ہے؟
میں تو راس المال سارا پیشگی ہی دے چُکا ہوں
قرض کی واپس ادائی میں
مرے الفاظ کا سارا ذخیرہ لُٹ چکا ہے
شعر کو حرف و ندا میں ڈھالنا
تسبیح و تہلیل و عبادت سے کہاں کمتر ہے مولا؟
”شاعری جزویست از پیغمبری“….کس نے کہا تھا؟
میں تو اتنا جانتا ہوں
میری تمجید و پرستش لفظ کی قرآت میں ڈھلتی ہے
تو پھر تخلیق کا واضح عمل تسبیح یا مالا کے منکوں کی طرح ہے

پھر خیال آتاہے شاید میں غلط آموز ہوں

جو شعر گوئی کوعبادت جان کر اِترا رہا ہوں
”بو علی“ ہوں، جو ”غبار ِ ناقہ“ میں گُم ہو گیا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بو علی اندر غبار ِ ناقہ گم : دست ِ رومی پردہ ء  محمل گرفت۔

مجھے یہ اختیار نہیں ہے کہ میں نفی یا اثبات میں اس سوال کا جواب دوں۔ بہر حال اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ سچی شاعری میں ’وحی‘ کا، ’فال‘ کا، epiphany کا، آکاش بانی کاکچھ عنصر ضرور ہوتا ہے۔ یہ پیش آگاہ بھی ہو سکتی ہے، پیش بین بھی ہو سکتی ہے، نہفتہ دان ہونے کی منزل تک پہنچنے میں اس بسا اوقات کامیابی نصیب ہوتی ہے، لیکن ہر بار نہیں۔ اس لیے کہ یہ بہم گفتگو کی زبان نہیں ہے، اور دنیاوی کام کاج کی parlance بھی نہیں ہے۔ جوف و جوع کی اس گہرائی سے اٹھتی ہے جس تک اپنے بیدار لمحوں میں ہماری رسائی نہیں ہو سکتی (۲) دوسرا سوال اسی پر انحصار رکھتا ہے، کہ اگر ہم اسے منزل مِن اللہ تسلیم کر لیں تو …؟ جی نہیں، اگر ہم اسے مد نمبر ایک کے خانے میں ڈال دیتے ہیں، (جزوی طور پر ہی سہی) تو…….؟ (شاید میرا جواب آپ کو اس بچے کے جواب کی طرح لگے جو ابھی اس سمندر کے تٹ پر سیپیاں ہی چن رہا ہے، سمندر میں غوطہ لگانا تو بہت دور کی بات ہے)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر29

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *