الو اور ان کی پارلیمنٹ

انگریزی میں الوّوں کے گروہ کو “پارلیمنٹ” کہا جاتا ہے جس میں جوان “پٹھے” کثیر تعداد میں ہوں۔ یورپ میں اُلوّ کو ایک دانشور پرندہ سمجھا جاتا ہے اور ان کے غول کو پارلیمنٹ کہا جاتا ہے، جب یورپ میں موجودہ پارلیمانی نظام آیا تو سب سے مضبوط ادارے کو پارلیمنٹ کہا گیا (یعنی کہ دانشوروں کا گروہ یا اجتماع) ۔ اس نظام کو بنانے والے اپنے دور کے مشہور دانشور ریاضی دان اور سیاستدان تھے اس لیے اس طرز حکمرانی کو بھی پارلیمانی نظام کا نام دیا گیا ۔ (یعنی ذہین و فطین لوگوں کا بنایا ہوا نظام) ۔خیر میرا مقصد آپ کو اُلوّ اور ان کی پارلیمنٹ سے ملوانا ہے ناکہ یہ ثابت کرنا کہ آپ اُلوؤں کے طرز حکومت میں جی رہے ہیں۔اُلّو کو انگریزی ادب میں وہ مقام حاصل ہے جو ہمارے دانشور مرنے کے بعد بھی حاصل نہیں کرپاتے۔اُلّو اپنی دیومالائی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنی نحوست کے لیے بھی شہرت رکھتا ہے ،اسی لیے کسی شخص کو غلطی یا بےوقوفی کرنے پر “الّو” کے لقب سے نواز دیا جاتا ہے جسے انتہائی توہین انگیز سمجھا جاتا ہے ۔اُلوّ کو ہمارے ہاں کمتر یا بےوقوف پرندہ سمجھا جاتا ہے اور بہت سے محاورے مشہور ہیں جیسے کہ۔۔۔اپنا الّو سیدھا کرنا ، ،الّو بننا ، کاٹھ کاالّو ،الّو کی طرح دیدے نچانا ،الّو کی ہوشیاری ، الّو کا پٹھا ،الّو کا ڈھکّن ،کھاٹ پہ بیٹھا الّو بھر بھر مانگے چلّو ،الّو کہیں کا ، الّوبنانا‘ وغیرہ۔ ان میں اُلوّ کا پٹھا سب سے مشہور اور زبان زدِعام ہے جسے کہ سرکاری اداروں ، گھر،سکول ، پبلک مقامات قومی و صوبائی اسمبلی مساجد اور امام بارگاہوں کے علاوہ سیاست میں اور لائیو ٹی وی شوز میں بھی لوگ ایک دوسرے کو اُلوّ کا پٹھا کہہ دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں استادِ محترم حسن نثار اور اسکے علاوہ بھی کئی دانشور ایسے ہیں جو اپنی گفتگو میں اس لفظ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے اُلوّ کا پٹھا ہی ان کا تکیہ کلام ہے ۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ کوئی گالی نہیں ہے ۔
ایک دفعہ مولانا محمدعلی جوہر جالندھری شیخوپورہ تشریف لائے اور ایک جلسے میں مرزا غلام احمد قادیانی کو اُلوّ کا پٹھا کہہ دیا تو قادیانیوں نے ان پر مقدمہ کر دیا مولانا پریشان ہوگئے کہ اب اس کو الو کا پٹھہ کیسے ثابت کروں ، بعد میں مولانا لال اختر حسین نے آپ کا مقدمہ لڑا اور عدالت سے باعزت بری کروایا۔ویسے اُلوّ اتنا بےقوف ہوتا نہیں جتنا ایک بےوقوف انسان کو اُلوّ سمجھا جاتا ہے، ہندو دھرم میں تو اُلوّ کو دیوتا سمان مانا جاتا ہے اور اس کا ذکر ان کی مذہبی کتابوں “بالمیک رامائن” وغیر میں بڑی عزت واحترام سے کیا گیا ہے اور اسے بھگوان کی سواری بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ دنیا کے بہت سے ممالک میں اُلوّ کا گوشت بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے ،ہندو مذہب میں دیوالی کے موقع پر اُلوّ کی قربانی”بَلی” دینے کی رسم صدیوں پرانی ہے جسے ہر سال منایا جاتا ہے ہمارے ہاں بقر عید پر بکرے کی طرح وہاں بھی ایک اُلوّ لاکھوں روپے تک بک جاتا ہے ۔ دنیا کے کچھ ممالک تو اُلوّ کو دیومالائی کردار مانتے ہیں کچھ افریقی ممالک میں تو اس کی پوجا بھی کی جاتی ہے ،اس کے علاوہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اُلوّ کو صدیوں سے ایک ماورائی کردار سمجھا جارہا ہے ،یہ کہیں خوف کی علامت ہے تو کہیں بےوقوفی کی، کہیں یہ عقلمند پرندہ ہے تو کہیں منحوس ،کہیں اس کی آواز کو موت کی علامت سمجھا جاتا ہے تو کہیں خوش بختی سمجھا جاتا ہے، کہیں اس کی آواز سننے کے تین دن کے اندر اندر کسی عزیز کی موت واقعہ ہوجاتی ہے تو کہیں نومولود بچوں کے پاس اس کی آواز سنائی دینا شیطان سے محفوظ رکھتا ہے، کچھ ممالک میں سفید اُلوّ کو دولت کا دیوتا مانا جاتا ہے (یہ اور بات ہے کہ لاکھوں ڈلرز میں اسے خریدنے والے پہلے ہی ارب پتی ہوتے ہیں )،
ہندوستان میں گھروں پر الّو بیٹھ کر بری آواز نکالے تو اسے ماردینا مکینوں پہ واجب ہوجاتا ہے ،چاہے وہ کسی دکان سے خرید کر ہی کیوں نا ماریں ورنہ اس گھر پر تباہی آجاتی ہے جن لوگوں کو رات میں نظر نہیں آتا کچھ پجاری اُلّو کی آنکھ کا کاجل بنا کرلگانے کو کہتے ہیں، کچھ کا ماننا ہے الّو کے ناخن بچے کے گلے میں باندھنے سے بچے کو نظر نہیں لگتی۔ الّو کے گوشت کو تعویذ میں بھر کر گلے میں باندھنے سے اندھیرے میں ڈر نہیں لگتا۔ الّو کے پَر کو تجوری میں رکھنے سے مال و دولت میں برکت ہوتی ہے۔ اُلوّ کو جنتر منتر کرنے والے بھی کثرت سے اسے استعمال کرتے ہیں، اس کو کالے جادو کا سب سے خطرناک ہتھیار مانا جاتا ہے جس کے وار سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔ اب تو ہمارے ہاں بھی پیر فقیر اور بنگالی بابے سرعام اُلوّ کی تصویروں والے اشتہار دے رہے ہیں ،اس کے خون سے تعویز لکھ کردیے جاتے ہیں ۔ اس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے اور پنساری کی دکانوں پر اُلوّ کی آنکھیں، خون، انتڑیاں، اور پرَ وغیرہ ہر جگہ دستیاب ہیں ۔
اُلوّ پر انگلش اور اردو ادب میں بھی کافی کچھ لکھا جاچکا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ انگلش ادب اُلوّ کو اچھے جبکہ اردو ادب برے الفاظ میں بیان کرتا ہے اس کے علاوہ اس پرندے پر کئی فلمیں ، ناول اور اشعار بھی لکھے گئے جیسے کہ مشہور فلم ہیری پورٹر میں بھی اُلوّ کو انتہائی عقلمند اور ذہین پرندہ دکھایا گیا ہے۔یوں تو اُلوّؤں کی 300 کے لگ بھگ اقسام ہیں مگر سب سے خطرناک Bubo virginianus نسل کے اُلو ہوتے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ زیادہ سے زیادہ 5 سال ہی زندہ رہ پاتے ہیں یہ انتہائی خطرناک پرندوں میں پانچویں نمبر پر ہیں ،زیادہ بھوک لگنے اور شکار نا ملنے کی صورت میں یہ اپنے سے کمزور اُلوّ کو شکار کرکے کھا لیتے ہیں یہ زیادہ تر گروہوں میں رہتے ہیں جسے پارلیمنٹ کہا جاتا ہے اس پارلیمنٹ کو ایک بزرگ اُلوّ چلاتا ہے جس کے بعد سب سے طاقتور کو صدارت دی جاتی ہے ،پارلیمنٹ کاکام مل جل کر شکار کرنا ہوتا ہے اس لیے کسی کمزور اور بیمار کو رکنِ پارلیمنٹ نہیں بنایا جاتا بلکہ اسے شکار کرکے کھالیا جاتا ہے چونکہ ان اُلوّوں کی اوسطاً عمر پانچ سال ہوتی ہے اس لیے اوّل تو کوئی ممبر پارلیمنٹ چھوڑ کر نہیں جاتا اگر جانا بھی چاہے تو زیادہ سے زیادہ دو سے تین سال زندہ رہ پاتا ہے اس کے بعد مر جاتا ہے ۔
پارلیمنٹ میں بنائے قوانین کی پاسداری ہر اُلوّ کو کرنا پڑتی ہے چاہے وہ پارلیمنٹ کا حصہ ہو یا ناہو ،اکثر دیکھا گیا ہے جب کوئی گروہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتا ہے تو پھر پارلیمنٹ ٹوٹ جاتی ہے پھر نئی جگہ پر موسم، پانی اور شکار کی مناسبت سے نئے قوانین بنائے جاتے ہیں جس کا سربراہ بھی نئے سرے سے چنا جاتا ہے ،جس کے لیے امیدواروں کے درمیان خونی جنگ ہوتی ہے ۔ منتخب ہونے والا سربراہ تادمِ مرگ (یعنی تقریباً5سال )سربراہ رہتا ہے ۔جب تک وہ نقل مکانی یا ہجرت پر مجبور نا ہوجائے وہ صدارت نہیں چھوڑتا۔ پارلیمنٹ کی خاص بات اور طاقت اس میں موجود مادائیں ہوتی ہیں جو دوسری پارلیمنٹ سے ہٹے کٹے اور طاقتور الُوّوں کو لُبھا کر اپنی پارلیمنٹ میں لے آتی ہیں اور اس کو طاقتور کرتی رہتی ہیں ۔ نئے آنے والے اُلوّ بوڑھے اور کمزور اُلوؤں کو مار دیتے ہیں۔
یورپین دانشوروں کا ماننا تھا کہ اُلوّوں کا اس طرح اکٹھے رہنا اور تین یا چار سال زندگی ہونے کے باوجود لاکھوں سال بعد آج بھی زندہ رہنا ان کے پارلیمانی نظام کی بدولت ہے۔ اس لیے اسی نظام کو انسانوں نے بھی اپنا لیا۔مگر قارئین میں سے کوئی بھی ناہوگا جس نے اُلوّوں کی پارلیمنٹ حقیقت میں بھی دیکھی ہوگی ،پوری دنیا میں اُلوّوں کی تمام نسلیں ہی خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہیں آپ کو کہیں کہیں ایک آدھ اُلوّ تو نظر آسکتا ہے مگر ان کے گروہ ، جھُنڈ یا پارلیمنٹ کہیں نظر نہیں آئے گی ،میرے خیال سے ان کی اس حالت کے ذمہ دار وہ خود اور ان کا پارلیمانی نظام ہے ۔۔۔ سید ریاست حسین رضوی شوقؔ صاحب نے فرمایا تھا
بربادیء گلشن کی خاطر بس ایک ہی اُلّو کافی تھا
ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھے ہیں ،انجام گلستاں کیا ہوگا؟
یہاں تو نظامِ گلستاں ہی اُلوّوں کا ہے تو انجام گلستاں کیا ہوگا؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *