غربت اور آتا رمضان۔۔۔محمد اشفاق

تازہ ترین اعدادوشمار, جن پہ جنوری میں ورلڈ بنک نے بھی مہر تصدیق ثبت کی ہے, کے مطابق پاکستان میں شدید ترین غربت کا شکار ہمارے بہن بھائیوں کی تعداد کل آبادی کا 29 فی صد ہے, یعنی ساڑھے پانچ کروڑ- یہی نہیں, ایک اندازہ ہے کہ آبادی کا 25 فی صد کے لگ بھگ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی “میں ڈوب رہا ہوں, ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں” کی عملی تفسیر ہے- یہ ساڑھے چار کروڑ سے زائد انسان غربت کے سمندر میں ہمیشہ کیلئے ڈوب جانے سے بچنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں مگر مفلسی کا بھنور انہیں روز بروز نیچے ہی نیچے کھینچتا چلا جا رہا ہے- مطلب یہ خواتین و حضرات ,کہ ملک کی آبادی کا نصف سے زائد یعنی کوئی دس کروڑ کے لگ بھگ ہمارے بہن بھائی غربت کی چکی کے دونوں پاٹوں کے بیچ بری طرح پِس رہے ہیں-

کہنے سننے کو بہت کچھ باقی ہے مگر یہاں ذرا ٹھہر جائیے, چند لمحوں کیلئے آنکھیں بند کیجئے اور اس زندگی کا تصور کر کے دیکھئے جو یہ دس کروڑ پاکستانی جی رہے ہیں- یہ تصور کرنا بھی مشکل ہوگا ہم میں سے بہت سوں کیلئے- ہمارے کچھ اپنے مسائل ہیں, گاڑی کی مینٹیننس, بچوں کی سکولنگ, اماں کا چیک اپ, پرانا اے سی ابو کے کمرے میں لگوا کر اپنے لئے نیا خریدنا, وغیرہ وغیرہ- ایسے میں دو سو روپے یا اس سے بھی کم پہ چوبیس گھنٹے گزارنے والے چھ افراد کے کنبے کی حالت کا میں اور آپ جو شاید دو سو کے روز سگریٹ پھونک جاتے ہیں, بھلا  کیسے تصور کر سکتے ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جو کہنے کو ہمارے اردگرد, دائیں بائیں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں، مگر اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں ان کی طرف دیکھنے یا ان کے بارے میں سوچنے کا کسے وقت ملتا ہے- کبھی کبھار کسی بچے کی, کسی کھلونے کو حسرت سے دیکھتی تصویر, کسی بوڑھے مزدور کا سامان سے لدا ریڑھا کھینچنے کا منظر, تھر کی کسی کمزور, سوکھی سڑی ہوئی عورت کا اپنے جاں بلب بچے کو گود میں اٹھائے ویراں نظروں سے آسماں کو دیکھنا, یہ مناظر جب کیمرا مقید کرکے ہم تک پہنچاتا ہے تو ایک بار ہماری آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے- ہم فورا وہ تصویر, وہ منظر اپنی وال پہ شئیر کرتے ہیں- حکومت کو یا نظام کو کوستے ہیں, ہمارے دوست ہماری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور ہمارا کیتھارسس ہو جاتا ہے-

ہم , جن کے مسائل ہی کچھ اور ہیں, ہم جن کی دنیا ہی الگ ہے- ہمارے لئے آج کا سب سے بڑا مسئلہ پانامہ لیکس اور ان کے نتیجے میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال ہے- ہمارے لئے آج کا چبھتا سوال یہ کہ ریاست اسلامی ہونی چاہئے یا سیکولر- ہم جن کا بیشتر وقت کسی بہن کی بھائی کے ہاتھوں ہلاکت یا کسی سیاسی کارکن کے باوردی قاتلوں کی مذمت میں گزر جاتا ہے- ہم جو فرانس یا شام میں بہتے خونِ ناحق کے ساتھ اظہار یکجہتی کو اپنی ڈی پی بدل کر مطمئن ہو جاتے ہیں- پرانے احباب کو یاد ہوگا کہ ایک بار حقیقی پاکستان بمقابلہ میڈیا کا پاکستان کے عنوان سے یہی بات ایک دوسرے پیرائے میں عرض کرنے کی کوشش کی تھی- ہم لوگ زمینی حقائق سے بہت دور لے جائے جا چکے ہیں- ایک ایسی خیالی دنیا میں جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں-  ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں اس عورت کی کشمکش جسے عزت یا روٹی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے- اس مرد کی بے بسی جس نے اپنی تڑپتی ہوئی ماں کو سرکاری ہسپتال لے کر جانا ہے مگر رکشہ کا کرایہ بھی جس کی جیب میں نہیں- اس بچے کے اندر اٹھتے سوال جو اپنے جیسے بچوں کو کھلونوں سے لدا پھندا اپنی ماؤں کے ساتھ گھر جاتے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کی ماں نے صبح روٹی مانگنے پہ اسے تھپڑ کیوں مارا تھا-

اللہ کا واسطہ…کم از کم ایک بار تو خود کو ان کی جگہ رکھ کے دیکھئے- شاید یہ چند لمحوں کا مراقبہ کسی کی زندگی میں تھوڑی سی آسانی لے آئے-

یہاں لامحالہ آپ میں سے بہت سے یہ سوچنے لگے ہوں گے کہ یہ سب باتیں ٹھیک ہوں گی مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ ہمارے سوچنے سے حل ہوجائے- یہ حکومت کے کرنے کے کام ہیں, جسے ہم ٹیکس اسی مقصد کیلئے ادا کرتے ہیں اور یہ کہ اصل خرابی اس گلے سڑے نظام کی ہے, جب تک یہ نہیں بدلے گا اس وقت تک کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا- اور اس گلے سڑے نظام کو بدلنے کیلئے ہی تو ہم لیڈر فلاں کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں, یا چاہتے ہیں کہ لیڈر ڈھمکاں کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے-

دراصل ہم اس قدر سیاست زدہ ہو چکے ہیں کہ ہم نہ صرف سماجی بلکہ ازدواجی مسائل تک میں کہیں نا کہیں سیاست کو گھسیڑ لاتے ہیں- ہم میں سے اکثر کی تان بالآخر “صاف چلی, شفاف چلی”  یا “ہم بدلیں گے پاکستان” پہ آ کر ٹوٹتی ہے- اور شاید یہی اس نظام کی اصل کامیابی ہے-

وہ دس کروڑ بدقسمت جن کا ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ پندرہ فی صد بھی بمشکل ہوگا, اس بات کے مستحق ہیں کہ ہماری سوچوں میں, ہمارے مباحثوں میں, ہمارے مطالبات اور خواہشوں میں ان کا بھی ذکر ہو- ان کی ضروریات, ان کے مسائل اور ان کے خوابوں پہ بھی کہیں نا کہیں تو بات ہونی چاہئے-  آئیے آج کا دن ان کے بارے میں سوچ کر دیکھیں-

ایسا بھی نہیں کہ حکومتوں نے ان کیلئے کچھ بھی نہ کیا ہو مگر یہ کچھ کافی نہیں ہے- غربت کا مسئلہ ایسا نہیں جس سے تنہا حکومت نبٹ سکے اس کیلئے مجھے اور آپ کو, ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا- تو چلیں دیکھتے ہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور کیا کر سکتی ہے اور ہم اس میں کس حد تک ہاتھ بٹا سکتے ہیں اور کیسے؟

پچھلے چند دنوں سے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پہ کچھ تحقیق کرنے کی کوشش میں تھا-  آپ کی طرح میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ یہ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کی ایک کوشش ہے- اور جی ہاں, آپ ٹھیک سمجھے….  ووٹ خریدنے کی بھی- اور مچھلی دینے کی بجائے مچھلی پکڑنا سکھاؤ, وغیرہ وغیرہ- مگر اس پہ پڑھنا اس لیے شروع کیا تھا کہ اس پروگرام کی خامیاں اور ناکامیاں تلاش کر سکوں, مگر نتیجہ یہ نکلا کہ اب میں بھی اس پروگرام کے حامیوں میں شامل ہوں- پندرہ سو روپے میرے اور آپ کیلئے شاید کچھ بھی نہ ہوں مگر کسی گھرانے کیلئے یہ فاقوں  کے مقابلے میں آخری دفاعی لائن ہیں-

2008 میں یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں یہ پروگرام شروع کیا گیا اور آج 2016 میں کوئی 47 لاکھ گھرانے اس سے مستفید ہورہے ہیں- یعنی کوئی پانچ کروڑ کے لگ بھگ افراد- جنوبی ایشیا میں پاکستان پہلا ملک ہے جس میں اس قسم کا تجربہ کیا گیا اور ڈونرز کا اس پروگرام پہ جو اعتماد ہے اور جس طرح باآسانی اس کیلئے فنڈز مل رہے ہیں, وہ اس کی کامیابی کا ایک ثبوت ہے- بی آئی ایس پی کے زیراہتمام جو غربت کا سروے کرایا گیا تھا اس کے نتائج بھی بین القوامی طور پہ تسلیم کئے جاتے ہیں-

پروگرام کے تحت ہر گھرانے کو ایک ہزار روپے ماہانہ کی امداد دی جاتی تھی, جو اب بڑھ کر پندرہ سو روپے ماہانہ ہو چکی ہے- یہ رقم بہت سوچ سمجھ کر اتنی کم رکھی گئی ہے, یعنی ایک طرف تو یہ چھ افراد پہ مشتمل ایک گھرانے کیلئے پچیس دن کا آٹا خریدنے کو کافی ہے تو دوسری طرف یہ اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وصول کنندہ اسی پہ تکیہ کر کے بیٹھ جائیں, اور کام کی طرف توجہ نہ دیں-

رقم صرف خواتین کو دی جا رہی ہے اس سے خواتین کے گھریلو امور میں فیصلہ سازی میں شرکت کا امکان بھی بڑھا ہے- اب بتدریج اس پروگرام میں چند مثبت تبدیلیاں بھی لائی جا رہی ہیں, مثلا ہر سکول جانے والے بچے کے بدلے دو سو روپے کی اضافی رقم دیا جانا, وسیلہءصحت, وسیلہء تعلیم اور وسیلہءحق جیسے پروگرام جن کے تحت تعلیم, صحت اور روزگار کے مسائل میں ان گھرانوں کی مدد کی جا رہی ہے- سندھ حکومت نے خصوصا ایک اچھا قدم یہ اٹھایا ہے کہ ہر سکول جانے والی بچی کو ایک مخصوص رقم وظیفے کے طور پہ دی جا رہی ہے تاکہ بچیوں کی تعلیم کیلئے والدین کی حوصلہ افزائی ہو- ایک موبائل نیٹ ورک اپنی کیش ٹرانسفر سروسز کے ذریعے اس پروگرام میں پارٹنر ہے اور اس جنوری میں گلوبل ایوارڈ بھی جیت چکا ہے-

مجھے اس پروگرام پہ چند امریکی اور برطانوی اداروں کی رپورٹس بھی پڑھنے کو ملی ہیں- 2014 میں حکومت نے ایک آزاد تحقیقی ادارے “آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ” کے ذریعے پہلی بار اس پروگرام کی ایک impact evaluation study کروائی اس کی رپورٹ بھی بہت حوصلہ افزا ہے- بی آئی ایس پی نے خود ڈسٹرکٹ بھکر کی تحصیل مانکیرہ میں اس پروگرام کے مثبت یا منفی اثرات کی ایک سٹڈی کروائی ہے, جبکہ ایک برطانوی حکومتی ادارے نے سندھ میں بی آئی ایس پی کے فوائد پہ تحقیق کی ہے- ان سب کی رپورٹس بہت حوصلہ افزا ہیں- اس پروگرام کو شروع کرنے کا کریڈٹ پیپلز پارٹی اور اسے پوری شدومد سے آگے بڑھانے کا کریڈٹ مسلم لیگ نون کی حکومتوں کو ملنا چاہئے اور بالواسطہ مل بھی رہا ہے- یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ 2008 میں جب یہ پروگرام شروع کیا گیا, پاکستان میں انتہائی غریب افراد آبادی کا 35 فیصد تھے- آٹھ سال میں چھ فی صد کی یہ کمی بہت شاندار پیشرفت تو نہیں مگر بہرحال کامیابی ضرور ہے گو کہ اس کی وجہ محض یہ پروگرام نہیں بلکہ کے پی, سندھ اور پنجاب میں عوام تک بنیادی سہولیات پہنچانے کے دیگر منصوبے بھی ہیں-

مگر یہ سب کافی نہیں ہے- اس پروگرام کا دائرہ بڑھانے اور بقایا ٹارگٹ پاپولیشن کو اس کے نیٹ ورک میں لانے کے علاوہ بھی حکومتی سطح پہ بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے-

سب سے اہم اور گھمبیر مسئلہ یہ ہے کہ ایک انتہائی غریب ترین گھر کے سربراہ کو بھی اپنی ماہانہ خریداری پہ اتنا ہی ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے جتنا مجھے, آپ کو یا ایلیٹ کلاس کو- ایک غریب گھرانے کو اس کی پندرہ فی صد آمدنی سے محروم کردینا, ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے سے واپس لے لینے کے مترادف ہے- اس کا حکومت کو کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالنا ہوگا- ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہر بی آئی ایس پی کا کارڈ رکھنے والی خاتون اپنی ماہانہ خریداری کی رسیدیں دکھا کر ان پہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیم کر سکے- یا کوئی بھی اور طریقہ نکالا جائے بہرحال یہ ظلم ہے اور اس کے جاری رہتے ہوئے ان گھرانوں کا خطِ غربت سے اوپر اٹھنا بہت مشکل-

گزشتہ بجٹ میں حکومت نے اس پروگرام کی رقم کو ستاون ارب سے بڑھا کر ایک سو دو ارب روپے کیا جو کہ قابل تعریف اقدام ہے مگر ناکافی ہے- اس بجٹ میں ایک بار پھر اس رقم کو دوگنا کرنے کرنے کی ضرورت ہے- ماہانہ امدادی رقم بیشک اتنی ہی رکھی جائے مگر زیادہ افراد کو اس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جائے اور وسیلہءصحت, تعلیم و روزگار جیسے پروگراموں کیلئے زیادہ فنڈز مختص کئے جائیں-

وزیراعظم کی قرضہ سکیم یا اس سے ملتی جلتی صوبائی سکیموں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے- قرضے کی زیادہ سے زیادہ رقم ستر ہزار تک محدود کردی جائے- اور ترجیحی بنیادوں پہ ان گھرانوں کو قرض دیا جائے جن کی بی آئی ایس پی کے سروے میں نشاندہی ہو چکی ہے- بیس ہزار سے ستر ہزار تک میں ایک چھوٹا موٹا کاروبار آسانی سے شروع کیا جاسکتا ہے اور اس نوعیت کی سرمایہ کاری پہ ریٹرن بھی نسبتا” جلدی ہوتی ہے- اگر ممکن ہو تو یہ پروگرام “اخوت” کی نگرانی میں یا ان کے تعاون سے چلایا جائے-

حکومتی سطح پہ سب سے اہم اور سب سے ضروری کام ٹیکس کے نظام میں چند انقلابی تبدیلیاں ہیں- ٹیکس چوروں کو ہر ممکن رعایت دے کر دیکھ لیا گیا ہے- فائدہ کچھ بھی نہیں ہوا- اب ان سے سختی سے نبٹا جانا چاہئے اسی طرح کرپٹ ایف بی آر اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کاروائی ہونی چاہئے- اور یہ سب کرنے کیلئے ایک تو حکومتی وزراء اور نمائندوں کو خود ٹیکس ایمانداری سے ادا کرنا ہوگا, خصوصا” وزیرخزانہ کو اور دوسرا اپنی سپورٹ بیس کی مخالفت مول لینا ہوگی- یہ مسلم لیگ نون کا امتحان ہے- وہ چار کروڑ پہ مشتمل مڈل کلاس کے ٹیکس چوروں کی سرپرستی کرتی ہے یا پھر چودہ کروڑ غریبوں اور لوئر مڈل کلاس کی؟؟

ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کو بہتر بنا کر ڈائریکٹ ٹیکسز بتدریج کم کئے جائیں, خصوصا اشیائے خورونوش پہ عائد ٹیکس ختم کئے جائیں-

یہ وہ اقدامات ہیں جو حکومت وقت کی ذمہ داری ہیں اور اگر وہ اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرتی تو اگلے الیکشن میں اس کا احتساب ہونا چاہئے….مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا تھا یہ اتنا گھمبیر مسئلہ ہے کہ اسے صرف حکومت کے رحم و کرم پہ نہیں چھوڑا جا سکتا- ہم سب جنہیں اللہ پاک اپنی ضرورتوں کے مطابق یا ان سے بڑھ کر دے رہا ہے, یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے غریب بہن بھائیوں کی مدد کریں اور انہیں غربت کے بھنور سے نکالنے کیلئے ان کا ہاتھ تھام لیں-

اس کی ایک بہترین صورت یہ ہے کہ اپنی آمدنی میں سے فقط دو ہزار روپیہ ہر ماہ الگ کر کے کسی مستحق  گھرانے کو دے دیں- مستحق گھرانہ ڈھونڈنے کا وقت آپ کے پاس نہیں ہوگا اس لئے یہ ذمہ داری اپنی والدہ, بڑی بہنوں یا بیگم کے سپرد کردیجئے- میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ان کے ذریعے امداد مستحق تک ہی پہنچتی ہے کیونکہ خواتین اپنے محلے, عزیزو اقارب اور خاندان والوں کے حالات سے ہم سے زیادہ واقف ہوتی ہیں-

رمضان ہم سے محض ایک ماہ اور چند دن کی دوری پہ ہے- شعبان میں عموما اپنی زکوۃ وغیرہ کا حساب بھی کر لیا جاتا ہے اور رمضان میں سبھی مسلمان اللہ کے راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں- کوشش کیجئے کہ اس بار آپ کے عطیات, صدقات و خیرات کسی ایسے ادارے کو ملیں جو کہ براہ راست غربت سے نمٹنے میں مصروف ہے جیسا کہ امجد ثاقب صاحب کا اخوت- مفت علاج, تعلیم وغیرہ کی سہولیات فراہم کرنا بھی انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے مگر اصل کوشش یہی ہے کہ غریب گھرانے کی قوت خرید میں اضافہ کیا جائے اس کیلئے جو بھی افراد اور ادارے مصروف عمل ہیں ان کی بھرپور امداد کیجئے-

کوشش کیجئے کہ اپنے بہن بھائیوں, دوستوں وغیرہ سے مل کر ایک مشترکہ فنڈ بنا لیں, جس طرح بڑی عید پہ قربانی کیلئے گٹھ جوڑ کیا جاتا ہے چھوٹی عید پہ اپنے غریب ہم وطنوں کی مدد کیلئے بھی ایسا ہی کوئی اہتمام کر لیا جائے تو بہت بہتر ہو- اس میں برکت بھی زیادہ ہوتی ہے اور مستحقین کی امداد بھی زیادہ ہو جاتی ہے-

کچھ جھجھک سی محسوس ہو رہی ہے یہ کہتے مگر ممکن ہو تو افطاریوں پہ زیادہ اہتمام کرنے کی بجائے وہی رقم کسی مستحق گھرانے کو دے دی جائے- گزشتہ سال پنڈی میں رمضان سے پہلے کچھ دوست اجتماعی افطاری پروگرام کیلئے ممبر بنا رہے تھے- ان کا ٹارگٹ دس ہزار روپے روز کا تھا, میں نے مشورہ دیا تھا کہ بجائے سڑک پہ افطاری کروانے کے یہی رقم پانچ پانچ ہزار دو مستحق گھرانوں کو دے دی جائے تو ان کا آدھا رمضان شاید اس پہ سحر و افطار ممکن ہوجائے- ساتویں, آٹھویں روزے کو پتہ چلا تھا کہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور گو کہ جب سکیم بدلی تو ممبر بھی کم ہو گئے مگر تب تک وہ دس کے قریب مستحقین کو ماہانہ راشن لے کر دے چکے تھے- اگر آپ کو یہ مناسب لگے تو آپ بھی یہی طریقہ اپنا لیجئے-

اور سب سے اہم یہ کہ اگلے ماہ تک اپنی ٹیکس ریٹرن بھی ضرور فائل کر لیجئے- ہمارے سارے سیاسی نعرے, تبدیلی کے عزائم اور کرپشن پہ تنقید اس وقت تک بے معنی ہے جب تک ہم حکومت کو اپنی قابل ٹیکس آمدنی پہ ایمانداری سے ٹیکس نہ ادا کریں- اگر آپ اس لئے ٹیکس نہیں دیتے کہ وہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے تو یقین کیجئے کہ ایسا صرف اس لئے ہے کہ ملک میں ٹیکس دہندگان محض چند لاکھ ہیں- جب یہ چند کروڑ ہو گئے تو کسی حکومت کی ہمت نہیں ہوگی وہ ان کی حق حلال کی آمدنی اللوں تللوں میں اڑا سکے-

آخر میں مزید یہ عرض کرنا ہے کہ غربت کا مسئلہ کسی ایک مضمون, ایک ماہ کی سخاوت یا ایک بار حاتم طائی بننے سے حل ہونے والا نہیں- اس کیلئے پیہم کوششیں درکار ہیں- جو خواتین و حضرات خود اچھا لکھتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ اپنی وال پہ اس مسئلے کو موضوع بنائیے, اپنی جانب سے تجاویز دیجئے اور اپنے حلقہءاحباب کو اس جانب متوجہ کرنے کی کوشش کیجئے- میں کبھی اپنی پوسٹ پہ کسی کو ان باکس میں متوجہ نہیں کرتا نہ کسی کو شئیر کرنے کیلئے کہتا ہوں مگر دوستوں سے درخواست ہے کہ اس مضمون کو اگر پسند فرمائیں تو ضرور شئیر کیجئے-

کاپی پیسٹ کیجئے, کسی بھی فورم, کسی بھی پیج, کسی گروپ, کسی بھی میگزین میں کسی بھی نام سے شائع کر دیجئے تاکہ زیادہ سے زیادہ بہن بھائی اس جانب متوجہ ہوسکیں-

ہمیں غربت کے خاتمے کو اپنی ترجیح اول بنانا ہوگا,اس کیلئے نیک نیتی, ایثار اور سب سے بڑھ کر استقامت درکار ہے- اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اس کی مخلوق کے کام آ سکیں- آمین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *