ارجن ہنگورانی کی زندگی پر ایک نظر۔۔۔صفی سرحدی

جیکب آباد سندھ میں جنم لینے والے انڈین فلم انڈسٹری کے مشہور فلم ڈائریکٹر، پروڈیوسر، اور رائٹر “ارجن ہنگورانی” 92 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ بالی ووڈ کو دھرمیندرا، سادھنا، شکتی کپور، جوہی چاولہ اور کرن کپور جیسے اداکار دینے والے ارجن ہنگورانی کا جنم پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر جیک آباد میں 1926 کو ایک ہندو سندھی گھرانے میں ہوا۔ ارجن ہنگورانی کے والد رینیو  آفیسر تھے جبکہ دادا شکار پور ریلوے اسٹیشن ماسٹر تھے۔ ارجن ہنگورانی نے میٹرک این جی وی اسکول کراچی سے کیا، اور انٹر سی اینڈ ایس کالج شکارپور سے کیا جبکہ ایل ایل بی ایس سی شاہانی لاءکالج (موجودہ ایس ایم لاءکالج) سے کیا۔ تقسیم ہند کے وقت ارجن ہنگورانی اپنے خاندان کے ہمراہ ممبئی چلے گئے اور وہاں وکالت کی پریکٹس کرنے لگے۔ لیکن انکا من وکالت میں نہیں لگ رہا تھا۔ کیونکہ ان پر فلمی دنیا میں جانے کا بھوت سوار ہوگیا تھا۔ ارجن ہنگورانی خوش شکل تھے لیکن انہوں نے کیمرے کے پیچھے رہنا گوارا کیا۔ کیونکہ انہوں نے سینما پریمیوں کو اپنے انداز سے کچھ یادگار فلمیں دینی تھیں۔ کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا۔ 1956 میں ارجن ہنگورانی نے بطور ڈائریکٹر اپنی پہلی فلم “دیوالی کی رات بنائی” جسکی کاسٹ میں طلعت محمود، روپ مالا اور ششی کلا شامل تھیں۔ یہ اوسط درجے کی کامیاب فلم قرار پائی، جس سے انہیں  آگے بڑھنے کی ہمت ملی۔ 1955 ارجن ہنگورانی نے بطور ڈائریکٹر اپنی دوسری فلم، لیکن انڈیا کی پہلی (سندھی) فلم ’’ابانا‘‘ بنائی۔ اس فلم میں انہوں نے ایک نئی سندھی اداکارہ سادھنا کو لیا جنکا جنم کراچی میں ہوا تھا۔ بعد میں سادھنا انڈین فلم انڈسٹری کی مشہور اداکارہ بنی۔ یوں تو برصغیر میں پہلی سندھی فلم “ایکتا” تھی جو پارسی فلمساز ھومی واڈیا نے بنائی تھی اور تقسیم ہند کے بعد دوسری فلم بنانے میں پاکستان نے پہل کی، 1956 میں شیخ حسن نے عمر ماروی کے نام سے پاکستان میں پہلی سندھی فلم بنائی۔ چونکہ ارجن ہنگورانی خود سندھی تھے اور خود انہوں نے ہجرت کا درد دیکھا تھا۔ اس لیے انہوں نے پہلی انڈین سندھی فلم “ابانا” بنائی۔ یہ فلم ہندو سندھیوں کی سندھ سے ہندوستان کی طرف نقل مکانی پر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے موسیقار ماسٹر چندر بھی سندھی تھے انہوں نے اس فلم کے سارے گانوں کی  دھنیں بنائی تھیں۔ ماسٹر چندر نے اس فلم میں اداکاری بھی کی تھی۔ ماسٹر چندر 18 دسمبر 1909 میں سندھ کے تاریخی شہر ٹھارو شاہ میں دام حویلی میں عاصم داس دام وانی کے گھر پیدا ہوئے تھے جب پاکستان بنا تو ماسٹر چندر ہندوستان چلے گئے، 1955 میں حکومت پاکستان کی دعوت پر ماسٹر چندر چھ ماہ کیلئے پاکستان آئے تھے اور سندھ کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے رہے، ارجن ہنگورانی کی سندھی فلم “آبانا”  باکس  آفس پر ہٹ ثابت ہوئی۔ جسکی وجہ سے انہیں اپنی تیسری فلم بنانے کا موقع ملا۔ ارجن ہنگورانی نے اپنی تیسری فلم دل بھی تیرے ہم بھی تیرے بنائی جس میں انہوں نے بلراج ساہنی جیسے بڑے اداکار کے ساتھ دھرمیندرا کو لیا۔ یہ دھرمیندرا کی پہلی  فلم تھی۔ اس فلم کیوجہ سے دھرمیندرا کو فلم انڈسٹری میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب دھرمیندرا نے فلم فیئر میگزین نیو ٹیلینٹ ایوارڈ جیتا تو وہ پنجاب سے ممبئی چلے آئے اور فلموں میں کام ڈھونڈنے لگے۔ لیکن شروعات میں انہیں کام نہیں مل رہا تھا انہی دنوں ابیٹ آباد میں جنم لینے والے اداکار منوج کمار بھی دہلی سے فلموں میں کام کرنے کیلئے ممبئی آئے ہوئے تھے اور جب دھرمیندرا کے پاس پیسے ختم ہوگئے تو انہوں نے مایوس ہوکر واپس پنجاب جانے کی تیاری شروع کردی، لیکن منوج کمار نے انہیں کچھ دن اور رک جانے کا کہا۔ منوج کمار نے  آدھے پیسے دھرمیندرا کو دیئے اور انہیں کہا کہ اگر ایک مہینے میں ہمیں کسی فلم میں کام نہیں ملتا تو ہم دونوں ممبئی چھوڑ دینگے منوج کمار اس سے پہلے 1957 میں ریلیز ہوئی فلم فیشن میں کام کرچکے تھے۔ لیکن ان دنوں بے کار تھے۔ بہرحال منوج کمار کے اس احسان کیوجہ سے دھرمیندرا ممبئی میں رُک گئے، انہیں دنوں دھرمیندرا کی ملاقات ارجن ہنگورانی سے ہوئی۔ ارجن ہنگورانی دھرمیندرا سے بہت متاثر ہوئے اور سیدھا انہیں اپنی فلم میں لے لیا۔ یہ فلم 1960 میں ریلیز ہوئی۔ دل بھی تیرا ہم بھی تیرے بلیک اینڈ وائیٹ فلم تھیں اس فلم میں مکیش کی آواز میں دھرمیندرا پر فلمایا گیا گیا گیت “مجھ کو اس رات کی تنہائی میں آواز نہ دو، بہت مشہور ہوا تھا۔ بعد میں منوج کمار کو بھی مہینے کے اندر ایک اور فلم میں  کام مل گیا۔ اور یوں دونوں دوست ہمیشہ کیلئے ممبئی کے ہوکر رہ گئے۔ 1965 میں ارجن ہنگورانی نے بطور ڈائریکٹر فلم سہیلی بنائی جسکی کاسٹ میں پردیپ کمار کے ساتھ اداکارہ کلپنا تھیں۔ اس فلم کے رائٹر بھی وہ خود تھے یہ فلم بھی ہٹ رہی۔
70 کی دہائی کی شروعات کے ساتھ ہی ارجن ہنگوانی نے نیاا ٹرینڈ اپنایا۔ انہوں نے اپنی ہر فلم کا ٹائٹل تین KKK سے شروع ہونے والے لفظوں پر رکھنا شروع کیا۔ تھری Ks ایکشن سسپنس تھریلر اور مصالحہ فلمیں تھیں اور ان تھری Ks سیریز فلموں کے ہیرو بھی دھرمیندرا ہوتے تھے۔ اور ان فلموں کی موسیقی کلیان آنند جی ترتیب دیا کرتے تھے۔ تھری Ks سیریز کے تمام فلمیں بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔ 1970 میں ارجن ہنگورانی نے تھری Ks سیریز کی پہلی فلم “کب کیوں اور کہاں” بنائی۔ یہ ایک سسپنس تھریلر فلم تھیں جو کہ 1955 کی فرنچ کلاسک فلم “لِس دیابلیکویس”سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھیں۔ فلم کی کاسٹ میں دھرمیندرا، ببیتا، پران، ہیلن، اور رضا مراد شامل تھے۔ فلم کی کہانی میں ایک امیر آدمی کی بیٹی ببیتا کو ایک قتل کے سلسلے میں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ اور ببیتا کا عاشق دھرمیندرا اسے بچانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ یہ فلم بھی بہت ہٹ رہی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد ارجن ہنگورانی سینما پریمیوں کے نباض کے طور پر مشہور ہوئے۔ اپنی بڑھتی ہوئی شہرت کو دیکھتے ہوئے ارجن ہنگورانی نے 1973 میں ایکشن فلم “کہانی قسمت کی” بنائی جسکے پروڈیوسر بھی وہ خود تھے۔ جبکہ فلم کی کاسٹ میں دھرمیندرا، ریکھا، اجیت، اور بھارت بھوشن شامل تھے۔ کہانی قمست کی، بھی باکس افس پر ہٹ رہی۔ 1977 میں ارجن ہنگورانی نے بطور ڈائریکٹر ایک اور ایکشن فلم “کھیل کھلاڑی کا” بنائی۔ ارجن ہنگورانی نے دھرمیندرا اور سادھنا کو متعارف کرانے کے بعد اس فلم کے ذریعے ایک نئے اداکار کو متعارف کرایا جسے بعد میں مشہور ولن کے طور پر شکتی کپور کے نام سے جانا جانے لگا۔ شکتی کپور ان دنوں پونا فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹیٹیوٹ میں پڑھ رہے تھے۔ ایک دن ارجن ہنگورانی اپنی نئی فلم “کھیل کھلاڑی کا” میں کاسٹ کرنے کیلئے انسٹیٹیوٹ سے کچھ لڑکوں کا انتخاب کررہے تھے لیکن جب انکی نظر شکتی کپور پر پڑی تو انکی تلاش ختم ہوگئی اور انہیں اپنی اس فلم میں لیا۔ یوں تو پونا فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹیٹیوٹ سے ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد فلموں میں کام ملتا تھا، لیکن شکتی کپور ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں پونا فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹیٹیوٹ سے ڈپلومہ حاصل کرنے سے پہلے ہی فلمی دنیا میں جانے کا چانس مل گیا۔ فلم کھیل کھلاڑی کا بھی بہت ہٹ رہی اس فلم کے پروڈیوسر بھی ارجن ہنگورانی خود تھے۔ فلم کی کاسٹ میں دھرمیندرا، شبانہ اعظمی، شکتی کپور، بھارت بھوشن اور شیاما شامل تھیں۔ 1981 میں بطور ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ارجن ہنگورانی نے کلاسک ایکشن فلم “قاتلوں کے قاتل” بنائی جو بہت ہٹ رہی۔ فلم کی کاسٹ میں دھرمیندرا، رشی کپور، زینت امان، ٹینا منیم، امجد خان اور شکتی کپور شامل تھے۔ اس فلم کے ایکشن سین مشہور ایکشن اداکار بروس لی کی طرز پر فلمائے گئے تھے۔ 1985 میں ارجن ہنگورانی نے بطور پروڈیوسر فلم “کرشمہ قدرت کا” بنائی جبکہ اس فلم کو انکے بھائی اتو ہنگورانی کے بیٹے سنیل ہنگورانی نے ڈائریکٹ کیا۔ اس فلم کی کاسٹ میں دھرمیندرا، متھن، رتی اگنی ہوتری، انیتا راج، شکتی کپور اور سعید جعفری شامل تھے۔ بعد میں اس فلم کی ہیروئن انیتا راج نے ارجن ہنگورانی کے بھتیجے سنیل ہنگورانی سے شادی کرلی۔ 1986 میں ارجن ہنگورانی نے بطور پروڈیوسر فلم سلطنت بنائی۔ اس فلم کو تین KKK سیریز میں شامل کرنے کیلئے انہوں نے اس فلم کے نام کے ساتھ ٹیگ میں کارنامہ کمال لکھا۔ اس فلم کو مکل  آنند نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ جبکہ کاسٹ میں دھرمیندرا، سنی دیول، سری دیوی، امریش پوری، شکتی کپور شامل تھے۔ لیکن اسی فلم سے دو نئے چہرے بھی فلمی دنیا میں آئے۔ جن میں سے ایک چہرہ ششی کپور کے بیٹے کرن کپور کا تھا اور دوسرا چہرہ جوہی چاولہ کا تھا۔ یہ ان دونوں کی پہلی فلم تھیں۔1991 میں ارجن ہنگورانی نے تھری Ks سیریز کی ایک اور فلم “کون کرے قربانی” بنائی۔ اس فلم کے پروڈیوسر اور رائٹر بھی خود ارجن ہنگورانی تھے اس فلم کی کاسٹ میں دھرمیندرا، گویندا، انیتا راج اور بسواجیت شامل تھے۔ یہ ایک سائنس فیکشن فارمولہ فلم تھیں جو بے حد کامیاب رہی۔ ارجن ہنگورانی نے اپنی آخری فلم بطور پروڈیوسر 2003 میں بنائی۔ جسکا نام “کیسے کہوں کہ پیار ہے” اس فلم کی کاسٹ میں انکے بیٹے، امیت ہنگورانی، دھرمیندرا، اور فریدہ جلال شامل تھیں۔ جبکہ اس فلم کے ڈائریکٹر انیل کمار شرما تھے۔
ارجن ہنگورانی پبلسٹی کیلئے تھری Ks کے ساتھ ساتھ خود بھیی فلموں میں اداکاری میں نظر آتے تھے۔ بطور اداکار انہوں نے پانچ فلموں میں کام کیا۔ جس میں فلم کون کرے قربانی، میں انہوں نے لکشمی چند کا کردار، 1986 میں فلم سلطنت (کارنامہ کمال) میں فقیر کا کردار، فلم کھیل کھلاڑی کا، میں موہن کا کردار، جبکہ فلم کہانی قسمت کی میں کرم چند سنگھ کا کردار نبھایا، بطور ادکار انکا ایک ڈائیلاگ بڑا مشہور ہوا۔ کیا سمجھے۔۔۔۔۔ نہیں سمجھے۔۔۔۔۔۔؟
ارجن ہنگورانی کی پوری فلمی کیریئر میں بطور ڈائریکٹر 8، بطورر پروڈیوسر 8، بطور فلم رائٹر 6 اور بطور اداکار 5 فلمیں شامل ہیں۔ 2003 میں اپنی آخری فلم بنانے کے بعد فلمی دنیا سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد ارجن ہنگورانی نے 2005 میں ایک کتاب “How To Be Happy And Realise Your Dreams” لکھی جو خود شناسی اور روحانیت کے موضوع پر تھی۔ اس کتاب کو بالی ووڈ اداکاروں کی جانب سے بہت پسند کیا گیا۔ اور ساتھ ہی سیاست دانوں میں بھی یہ کتاب مقبول ہوئی۔ سابق بھارتی صدر مرحوم عبدالکلام کو یہ کتاب بہت پسند تھیں اور لوگوں نے بھی اس کتاب کو بہت پسند کیا۔ ارجن ہنگورانی کی صحت ابتک ٹھیک ٹھاک تھی انہیں کوئی خاص بیماری بھی نہیں تھی۔ انکی بیٹی کرشمہ ہنگورانی کے مطابق پانچ جولائی کی رات انکے والد نے اپنے بھائی اتو ہنگورانی کے گھر میں گلاب جامن کھایا جو انہیں بہت پسند تھے وہ رات سونے سے پہلے ایک گلاب جامن ضرور کھایا کرتے تھے اسکے بعد وہ سوگئے اور پھر نیند ہی میں انکا پرسکون حالت میں انتقال ہوا۔ ارجن ہنگورانی نے سوگواروں میں بیوی کُنڈا ہنگورانی، بیٹا امیت ہنگورانی، بیٹی کرشمہ ہنگورانی اور سچیتا ہنگورانی کو سوگوار چھوڑا ہے۔ لیکن انکے خاندان کے علاوہ اگر کوئی بہت زیادہ سوگوار ہے تو وہ انکے خاندانی دوست دھرمیندرا تھے جنہوں نے انسٹاگرام پر ارجن ہنگورانی کے دنیا چھوڑ جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ممبئی میں میرا بہت ساتھ دیا اور آج ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ دھرمیندرا سے انکی دوستی 65 سال پر محیط تھیں دھرمیندرا انہیں اپنا گاڈ فادر مانتے تھے یہی وجہ تھیں جب کوئی ایکشن فلم بنانے والا فلمساز فلم بنانے سے قبل مشورہ لینے کیلئے دھرمیندرا کے پاس آتے تھے تو وہ اسے اپنے گاڈ فادر ارجن ہنگورانی کے پاس بھیج دیتے تھے کیونکہ دھرمیندرا کو He Man بنانے میں ارجن ہنگورانی کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ انہوں نے اپنی ہر ایکشن فلم میں دھرمیندرا کو لیا جسکی وجہ سے دھرمیندرا کی ایکشن ہیرو کے طور پر شناخت زیادہ مضبوط ہوئی۔
بالی ووڈ کی تاریخ میں جب بھی ایکشن فلموں کی بات ہوگی توو ارجن ہنگورانی کا نام ضرور لیا جائیگا۔ جس نے سینما پریمیوں کو تفریح فراہم کرنے کیلئے ایکشن کا سہارا لیا جس کیوجہ سے ہر فلم بین سینما میں خود کو ہیرو سمجھتا تھا اور تب اپنے ساتھ سوچتا تھا اگر اسے زندگی میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اس مشکل سے اس ہیرو کیطرح لڑیگا جو فلم کے آخر میں جیت جایا کرتا تھا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *