“جج صاحب! مجھے معاف کر دیجئے گا”

پانامہ کیس کی سماعت کے دوران ایک جج صاحب نے فرمایا تھا کہ اخباروں کی اہمیت اتنی ہی ہوتی ہے کہ ان میں پکوڑے رکھے جا سکتے ہیں ۔
کل اسی کیس کے پہلے بنےپانچ رکنی بینچ اور اب جے آئی ٹی کیلئے قائم کیے گئے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل صاحب نے فرمایا کہ میں نے میاں صاحب کو جھوٹا نہیں کہا جو مجھ سے منسوب کیا جا رہا ہے اگر کسی نے دوبارہ یہ کہا تو سزا ملے گی ۔
زیر نظر تصویر پانامہ کیس کے فیصلے کے صفحہ نمبر 215 کی ہے جس میں وہی جج صاحب فرما رہے ہیں کہ میاں صاحب نے اسمبلی میں لندن والے فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی اور عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں اس سے انکاری ہو گئے ۔ایک چھوٹا ، کم علم صحافی اور قانون کا طالب علم ہوتے ہوئے اس بات سے یہ اندازہ لگا سکتا ہوں کہ جج صاحب کے کہنے کا مقصد ہے کہ ان دونوں میں سے ایک جگہ میاں صاحب نے جھوٹ بولا ہے۔
کیونکہ دونوں باتیں ایک وقت میں ٹھیک نہیں ہو سکتیں، فلیٹس میاں صاحب کی ملکیت ہیں یا نہیں ہیں ۔اردو لغت میں جھوٹ بولنے والے کو جھوٹا کہا جاتا ہے، جج صاحب یہ تو کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے جھوٹ بولا لیکن ساتھ فرماتے ہیں کہ میں نے نواز شریف کو جھوٹا نہیں کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ جو یہ کہے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
جج صاحب آپ کہتے ہیں تو ہم مان جاتے ہیں کہ آپ نے جھوٹا نہیں کہا ، اس کے باوجود کہ ان کی ایک سٹیٹمنٹ کو آپ نے جھوٹ کہا،
ہم تو عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، معزز جج صاحبان کے خلاف بات کرنا کیا س،ننا بھی گوارا نہیں ۔۔۔
لیکن جج صاحب ایک غلطی ہو گئی۔۔ امید ہے آپ درگزر کریں گے، ہوا کچھ یوں کہ کل اسلام آباد کا موسم انتہائی حسین تھا، میں نے اس کو چار چاند لگانے کے لیے آپ کا ساڑھے چار سو صفحے کا پانامہ کیس کا فیصلہ اٹھایا اور پانچویں پگڈنڈی یعنی ٹریل فائیو پہنچ گیا کہ اس رومانٹک موسم میں صدیوں یاد رہ جانے والا فیصلہ پڑھ کے موسم کا لطف دوبالا کروں ، ابھی صفحہ نمبر 215 تک پہنچا تھا جی اسی صفحے پر کہ جس میں جناب نے میاں صاحب کی تقریر اور عدالت میں جمع جواب کو ایک دوسرے کا الٹ بیان کیا ہے، تو کچھ دوست آن پہنچے اور میرے درجن بہانوں کے باوجود مجھے واک کیلئے پگڈنڈی کی طرف لے گئے، لیکن یہاں پر مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ صدیوں یاد رکھا جانے والا فیصلہ جلدی میں وہیں پر بھول گیا اور جب ایک گھنٹہ بعد واپس آیا تو یہ دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے کہ پکوڑے والا اس میں پکوڑے رکھ کر لوگوں کو دے رہا تھا ۔۔۔
جب کچھ اوسان بحال ہوئے تو سامنے چند ورق ہی بچے تھے جن میں ایک یہ صفحہ نمبر 215 بھی تھا، جلدی سے اٹھایا ، چوما اور گلے لگا لیا ۔۔
اور پھر پکوڑے والے کو ڈانٹتے ہوئے،کہا بھلا صدیوں یاد رہنے والے فیصلے پر بھی کوئی پکوڑے رکھ کر بیچتا ہے ؟؟
جناب محترم جج صاحبان میں نے اس کے بعد بھی پکوڑے والے کو خوب سنائیں، لیکن آپ سے ایک التماس ہے
“جج صاحب مجھے معاف کر دیجئے گا”

Avatar
سید عون شیرازی
سید عون شیرازی وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے مشہور صحافی اور مصنف ہیں ، 20 لفظوں کی کہانی لکھتے ہیں جو اب ایک مقبول صنف بن چکی ہے،اردو ادب میں مختصر ترین کہانی لکحنے کا اعزاز حاصل ہے جس کا ذکر متعدد اخبارات اور جرائد کر چکے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *