قوم پرست۔۔۔سلیم احسن نقوی/حصہ اول

کاشف صاحب، آپ کے بیانیے میں اردو زبان اور ‘گنگا جمنا والوں’ کو غاصب بیان کیا گیا ہے. اس بیانیے کے مطابق 1947 میں گنگا جمنا کے علاقے کے لوگ آئے اور انہوں نے ہزاروں سال پرانی تہذیبوں پر اپنی تہذیب اور زبان مسلط کر دی اور اسلام اور اردو کے نام پر اس علاقے کے (آپ غور کریں کہ میں نے لفظ ‘ملک’ استعمال نہیں کیا کیوں کہ آپ کے بیانیے کے حساب سے ملک ایک مصنوعی انتظام ہے جس کی وجہ سے اس خطے کی تمام ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کی شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے) لوگوں کو غلام بنا لیا گیا ہے. اور یہ لوگ اب تک اسٹیبلشمنٹ کا اہم ستون ہیں۔

میں نے جب یہ بیانیہ پہلی بار سنا تو بھونچکا رہ گیا تھا! سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ان پاکستانیوں کے لیے جو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان میں موجود اپنے آبائی علاقے اور اپنے آبا و اجداد کی قبریں چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے اور خاص طور پر ان کی اولادوں اور اولادوں کی اولادوں کے لیے جو پاکستان میں پیدا ہوئی ہیں ‘گنگا جمنا والے’ کی اصطلاح اتنی ہی تکلیف دہ اور توہین آمیز ہے جتنی ‘ہندوستوڑے’۔ اس اصطلاح کا کیا مطلب لیا جا سکتا ہے سوائے اس کے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں ان علاقوں کا نام لے کر غیر ملکی کہا جا رہا ہے جن سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ چوں کہ میں ان لوگوں کی اولاد ہوں جو گنگا جمنا کے علاقوں سے آئے تھے، اس لیے اس بیانیے کے حساب سے تو میں بھی اس جدید نوآبادیاتی استحصالی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں. میں نے اپنے خاندان پر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ میرے دادا دادی اپنی سات اولادوں یعنی میرے والد، تین چچاوں اور تین پھوپھیوں کو ساتھ لے کر 1947 میں ہی پاکستان آ گئے تھے. اس وقت میرے والد کوئی پچیس سال کے تھے اور ان کی شادی نہیں ہوئی تھی، میرے ایک چچا بیس سال کے ہوں گے، باقی دو چچا ٹین ایجر تھے اور تینوں پھوپھیاں چھوٹی عمروں کی تھیں.

انہوں نے کراچی آنے کے بعد اس وقت کے شہر سے باہر کے علاقے لالو کھیت میں مہاجروں کے لیے بسائے گئے کیمپ میں ایک جھونپڑی (جسے کراچی کی زبان میں جھگی کہتے ہیں) ڈالی تھی جس میں میرے دادا اپنی آل اولاد کے ساتھ رہتے تھے. وہ لوگ بتاتے تھے کہ ان کی جھونپڑی کے ارد گرد ہزارہا دوسری جھونپڑیاں تھیں۔ رفتہ رفتہ یہ علاقہ مہاجر کیمپ سے ایک بستی میں تبدیل ہو گیا اور اس کا نام لیاقت آباد رکھ دیا گیا. لوگوں نے نوکریاں یا محنت مزدوری کر کے ان جھونپڑیوں کی جگہ پر گھر بنا لیے. بہت سے لوگوں نے نئے قائم کیے گئے ملک میں پیدا ہونے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی اور اپنے خاندان والوں کی زندگیاں سنوار لیں، اور بہت سے لوگ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

میرے دادا پاکستان آنے کے بعد کراچی کی عدالتوں (جنہیں وہ کچہری کہتے تھے) کے باہر سٹامپ پیپر بیچ کر اور عدالت آنے والے سائلین کے لیے سٹامپ پیپر پر اردو میں عرضیاں لکھ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتے تھے. اور اتنے خود دار تھے کہ عشروں بعد جب ان کی اولاد آسودہ حال ہو چکی تھی، اپنی اولاد کے شدید احتجاج کے باوجود وہ ان پر بوجھ بننے کے لیے تیار نہیں تھے اور جب تک ستر پچھتر سال کی عمر میں ان کی آنکھوں نے جواب نہیں دے دیا وہ روز کراچی کی بسوں میں دھکے کھاتے کچہری جا کر یہی کام کرتے رہے۔

حالات قدرے بہتر ہونے پر میرے خاندان والوں نے بھی اسی جھونپڑی کے مقام پر ایک 80 گز کا یک منزلہ مکان بنا لیا جو آج بھی موجود ہے. میری پھوپھیاں اپنی شادیوں کے بعد اور میرے والد اور چچا جیسے جیسے پڑھنے لکھنے کے بعد آسودہ حال ہوتے گئے وہ یہ گھر چھوڑ کر شہر کے بہتر علاقوں میں منتقل ہوتے گئے. آج بھی لیاقت آباد کے اس گھر میں میرے ایک چچا اپنی اولاد کے ساتھ رہتے ہیں. اللہ انہیں زندگی دے، اب صرف وہ اور میری منجھلی پھوپھی ہی حیات رہ گئی ہیں، باقی سب اس ملک کی مٹی میں مل گئے ہیں جس کے لیے انہوں نے گنگا جمنا کا علاقہ اور اس کی تہذیب چھوڑی تھی.

یہ کہانی سنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خطۂ ارض میں عام آدمی کی زندگی ایک سی ہی ہوتی ہے، چاہے اس کی ثقافت یا مادری زبان کوئی بھی ہو. یقیناً پاکستان کے قیام کے وقت حکمران جماعت کی زیادہ تر قیادت اور سرکاری افسر ‘گنگا جمنا کی تہذیب کے علاقوں’ سے آئے تھے. یہاں یہ مانا جا سکتا ہے کہ وہ اس زمانے میں سرکاری دفتروں اور وزارتوں میں اکثریت میں تھے، مگر آپ کے بیانیے کی یہ بات درست نہیں لگتی کہ اس وقت کی سو فی صد افسر شاہی ‘گنگا جمنا والوں’ پر مبنی تھی. خیر، جو نظام اس وقت اپنایا گیا وہ ‘گنگا جمنا والوں’ نے نہیں، انگریزوں نے وضع کیا تھا جس میں سرکاری افسر صحیح معنوں میں افسر شاہی کیا کرتے تھے، اور ‘گنگا جمنا والوں’ کے علاوہ پنجابی، پختون اور بنگالی افسر بھی اتنے ہی فرعون ہوا کرتے تھے۔

وہ وزیر اور اعلیٰ افسر اپنی رعونت کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں آئے اور ان کی نفرت کا مرکز بنے. اس پر میں آپ سے متفق سکتا ہوں. مگر وہ لوگ تعداد میں چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے. ان کی وجہ سے تمام ‘گنگا جمنا والوں’ کو نو آبادیاتی آقا اور لسانی غاصب سمجھنا اتنا ہی غلط اورظلم ہے جتنا بلوچوں، سندھیوں اور ‘گنگا جمنا والوں’ کا پنجاب چھوڑ کر باقی پاکستان کو پنجاب کی کالونی کہنا یا پاکستانی فوج کو پنجابی فوج کہنا. یہ میں نے اپنی طرف سے گھڑ نہیں لیا ہے. اس سوچ کی بدترین مثال کالاباغ ڈیم ہے. پاکستان کے چار میں سے تین صوبے اس کے مخالف ہیں. اچھا، اس معاملے میں خیبر پختونخوا کے اعتراض پر غور کیا جا سکتا ہے کیوں کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زرخیز زمین ڈوب جائے گی. سندھ کے تحفظات بھی دور کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کا خدشہ ہے کہ ان کے صوبے کے حصے کا پانی پنجاب روک لے گا. مگر بلوچستان کو اعتراض کیوں ہے؟ نہ تو ان کی زمین ڈوبے گی اور نہ ہی دریائے سندھ ان کے علاقے سے گزرتا ہے. ان کی مخالفت کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتی کہ اس بند سے پنجاب کا بھی فائدہ ہوگا.

لوگ ان کی فرعونیت کی بات تو کرتے ہیں، اور بالکل صحیح کرتے ہیں، مگر وہ اس بات کو شاید جانتے نہیں ہیں کہ ‘گنگا جمنا تہذیب والوں’ کا راج کبھی کا ختم ہو چکا. سب سے پہلے تو ان افسروں نے، جو پاکستان بننے کے وقت پاکستان کو چن ‘opt’ کر کے آئے تھے، اپنی اولادوں کو سول سروس میں بھیجنے کے بجائے انہیں پروفیشنل بنایا، خاص طور پر ڈاکٹر اور انجینئر. کچھ نے اپنی اولادوں کو امریکا اور برطانیہ بھجوا دیا اور وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے کچھ تو خود رٹائر ہو گئے اور باقی چھانٹیوں میں نوکری سے برخاست کر دیے گئے. اس کے بعد 1973 سے سرکاری نوکریوں کے لیے جو کوٹا سسٹم ملک میں رائج ہے وہ یہ ہے: میرٹ پر 7.5 فی صد، آزاد کشمیر 2 فی صد، گلگت بلتستان اور فاٹا 4 فی صد، بلوچستان 6 فی صد، خیبر پختونخوا 11.5 فی صد، صوبۂ پنجاب کے لیے 50 فی صد، اور سندھ کا حصہ 19 فی صد ہے.

سندھ کے لیے مختص کیے گئے 19 فی صد کوٹے کی نوکریوں کو ‘دیہی سندھ’ اور ‘شہری سندھ’ میں 60 اور 40 کے تناسب سے بانٹا گیا ہے. اس نظام میں شہری سندھ تین شہروں، کراچی، حیدرآباد اور سکھر پر مبنی ہے. اس کے حصے میں حکومت سندھ کی 40 فی صد اور حکومت پاکستان کی صرف 7.6 فی صد نوکریاں مختص کی جاتی ہیں. اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کی دیہی اور شہری علاقوں کی تقسیم پاکستان کے وفاق کی کسی اور اکائی میں نہیں ہے.

تو بات یہ ہے کہ جن لوگوں کی سرکاری نوکریوں میں غالب اکثریت ہوا کرتی تھی اب ان کو قانونی طور پر صرف 7.6 فی صد نوکریوں تک محدود کر دیا گیا ہے. اور اگر غور سے دیکھا جائے تو 7.6 فی صد بھی یقینی نہیں ہیں کیوں کہ 7.6 فی صد نوکریاں ‘گنگا جمنا والوں’ کے لیے نہیں، ان تین شہروں میں رہنے ان تمام افراد کے لیے ہیں جن کے پاس ان شہروں کے ڈومیسائل ہوں. یہ تو سب جانتے ہیں کہ ان شہروں میں پنجابی، پختون، سندھی اور بلوچی سب رہتے ہیں اور ان نوکریوں پر ان کا برابر کا حق ہے. لہٰذا سرکاری دفاتر میں، جہاں ‘گنگا جمنا والے’ بہت اثر و رسوخ رکھتے تھے، اب وہ باقائدہ کھڈے لائن لگ گئے ہیں اس صورت حال کی وجہ سے ان میں بہت بیچینی اور غم و غصہ پیدا ہو گیا ہے. اسی غصے اور بےچینی کی وجہ سے ایک فاشسٹ سیاسی جماعت کو اتنی پزیرائی ملی جس کی برکتوں کو یہ لوگ تیس سال سے بھگت رہے ہیں. چناں چہ، یہ لوگ اتنے بڑے سامراجی حکمران اب بچے نہیں ہیں اس لیے ان کے متعلق دل میں بغض رکھنا مناسب نہیں لگتا.

ہاں، اس ساری تمہید میں اردو کے استعمار کا ذکر تو رہ ہی گیا. بات یہ ہے کہ کوئی بھی چیز جو عرصے سے ہوتی چلی آئی ہے اس کے متعلق تبصرہ کرنے یا فیصلہ دینے کے لیے اسے آج کل کے حالات پر پرکھنا درست نہیں، اس پر تبصرہ یا فیصلہ ان مخصوص حالات و واقعات کے تناظر میں کرنا چاہیے جن میں وہ چیز وقوع پذیر ہوئی تھی.

اردو کو پاکستان کی قومی زبان حال ہی میں قرار نہیں دیا گیا بلکہ یہ فیصلہ 1940 کے عشرے میں لیا گیا تھا اور اس فیصلے پر تبصرہ کرنے کے لیے 1940 کے عشرے کے، بلکہ اس سے بھی پہلے کے مخصوص حالات اور ان کے پس منظر اور اس وقت لوگوں میں پائی جانے والی سوچ کو سمجھنا ہو گا. لیکن اس سے بھی پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ قومی زبان تو وہ بعد میں بنی ہے، مگر پنجاب اور پنجابیوں پر اردو ‘گنگا جمنا والوں’ نے نہیں انگریزوں نے تھونپی تھی اور وہ بھی اسے قومی زبان قرار دیے جانے سے 100 سال قبل. خیر، یہ جملہ تو ویسے ہی بیچ میں آ گیا. یہاں ذکر ہو رہا تھا کہ کوئی بھی چیز جو ایک عرصے سے ہوتی چلی آئی ہے اس کے متعلق تبصرہ کرنے یا فیصلہ دینے کے لیے اسے آج کل کے حالات پر پرکھنا درست نہیں، اس پر تبصرہ یا فیصلہ کرتے وقت اس وقت کے مخصوص حالات اور واقعات کو مد نظر رکھنا چاہیے.

ایک اور چیز یہاں اہم ہے جس کو مد نظر رکھے بغیر کوئی مشاہدہ، کوئی تبصرہ اور کوئی فیصلہ درست نہیں ہو سکتا اور وہ ہے انسانی فطرت. چوں کہ ہم سب انسان ہیں اس لیے پہلے انسانی فطرت کے چند پہلوؤں کو دیکھ لیتے ہیں، پھر برصغیر کے 1930 اور 1940 کے عشروں کے حالات پر بات کرتے ہیں۔

ہر انسان کی بیک وقت کئی پہچانیں ہوتی ہیں۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو اسی لمحے ہماری کئی شناختیں ایک ساتھ وجود میں آ جاتی ہیں۔ ہماری پہلی پہچان ہوتی ہے اپنے والدین کی اولاد ہونا۔ جو دوسری پہچان اسی لمحے وجود میں آتی ہے وہ ہوتی ہے اپنے والدین کے قبیلے یا قوم سے تعلق. ٹھیک اسی وقت ہمارے والدین کی اپنی زبان یا زبانیں یا کوئی ایسی مختلف زبان جو ہمارے والدین نے اختیار کر رکھی ہو، ہماری زبان قرار پاتی ہے اور ہماری مختلف پہچانوں میں سے ایک پہچان بن جاتی ہے. جس تحصیل، ضلعے اور صوبے سے ہمارے والدین کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمارا بھی قرار پاتا ہے اور ہماری پہچان بن جاتا ہے. اسی طرح ہمارے والدین جس مذہب، فرقے یا مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے ہیں وہ خود بخود ہمارا مذہب، فرقہ یا مکتبۂ فکر بن جاتا ہے اور ہم اپنے ماں باپ کے ملک کے شہری بھی بن جاتے ہیں۔ اگر ہماری پیدائش سے پہلے ہمارے والدین کی کوئی اوراولاد ہوتی ہے تو ہم ان کے بھائی یا بہن کہلاتے ہیں۔ اس کے بعد ہم جس سکول میں داخل کروا‏ئے جاتے وہ بھی ہماری پہچان بن جاتی ہے۔

یہ تمام پہچانیں وہ ہیں جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ ہمیں حادثاتی طور پر ملی ہوتی ہیں. اگر ہم کسی دور دیس میں کسی اور خاندان میں پیدا ہو گئے ہوتے تو ہماری پہچانیں بالکل مختلف ہوتیں.

کچھ شناختیں ہم خود بھی اپناتے ہیں مثلاً کس کلب کی طرف سے ہم کرکٹ کھیلتے ہیں، کس ٹیم کے مداحوں میں شمار ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، اپنے مذہب، فرقے یا مکتبۂ فکر کی کس تنظیم میں شامل ہوتے ہیں، بدمعاشوں کے کس گینگ، یا نظریاتی طور پر کس تحریک یا سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

ہوتا یہ ہے کہ یہ تمام پہچانیں ایک ہی وقت میں موجود رہتی ہیں مگر ان بے شمار پہچانوں میں سے کوئی ایک پہچان ہماری default پہچان بن جاتی ہے مثلاً کسی خاندان میں باپ کو اپنے پختون ہونے کا فخر ہو، بڑا بیٹا پاکستانی ہونے کو اپنی پہچان سمجھتا ہو، منجھلا بیٹا خود کو پہلے مسلمان، اور بعد میں کچھ اور سمجھتا ہو اور تیسرے بیٹے کو آفریدی ہونے پر ناز ہو اور ان کی بہن ہر چیز کو دیوبندی مسلک کی عینک سے دیکھتی ہو. ان میں سے ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ ان کی ڈیفالٹ پہچان ہی وہ پہچان ہے جو کسی معقول اور وسیع النظر / غیرت مند کی ہونی چاہیے اور اگر کوئی ان کی ڈیفالٹ پہچان کے علاوہ کسی پہچان کو ڈیفالٹ بناتا ہے تو وہ متعصب / جاہل / غدار / بے غیرت / کافر ہے.

مگر default پہچان رکھنے کے باوجود مختلف اوقات میں اس وقت کے مخصوص حالات کی وجہ سے ہماری دوسری پہچانیں سامنے آ جاتی ہیں اور اس وقت باقی تمام شناختیں پس پشت چلی جاتی ہیں۔ مثلاً اگر ہمارا تعلق ساہیوال سے ہو اور ہم سٹیڈیم جا کر اپنے شہر کی کرکٹ ٹیم کا کوئٹہ کی ٹیم سے میچ دیکھ رہے ہوں تو ہم اس وقت پاکستانی بھی ہوتے ہیں ، مسلمان بھی ، کرکٹ کے مداح بھی اور ساہیوال والے بھی۔ اسی طرح کوئٹہ کی ٹیم کے کھلاڑی اور مداح بھی کرکٹ کے شیدائی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور مسلمان ہوتے ہیں اور کوئٹہ وال بھی۔ اس میچ کے حوالے سے کھلاڑیوں اور مداحوں کا کرکٹ کا فین ہونا اورمسلمان اور پاکستانی ہونا پس منظر میں چلا جاتا ہے اور ان کی اپنے اپنے شہروں کے حوالے سے شناخت سامنے آ جاتی ہے۔ ہم ساہیوال کی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور کوئٹہ کی فتح پر اداس ہو جاتے ہیں حالانکہ کوئٹہ والے بھی ہماری طرح کرکٹ کے دیوانے، مسلمان اور پاکستانی ہوتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ باقی تمام پہچانیں وقتی طور پر پس پشت تو چلی جاتی ہیں مگر ختم نہیں ہو جاتیں۔ اگر کوئی سٹیڈیم میں کھڑا ہو کر کرکٹ کے خلاف اور ٹینس کے حق میں نعرے لگانے لگے تو دونوں ٹیموں کے حامی اپنے اپنے شہر کی حمایت چھوڑ کر مشترکہ طور پر کرکٹ کا دفاع کرنے لگیں گے۔ یا اگر میچ کے دوران شہر میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑیں اور ان کی اطلاع سٹیڈیم میں موجود لوگوں کو ہو جائے تو اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہاں موجود لوگ باقی ساری پہچانوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے پر فرقہ وارانہ بنیاد پر پل پڑیں. جب وہ مخصوص حالات گزر جاتے ہیں تو وقتی طور پر فوکس میں آئی ہوئی پہچان دوبارہ پس پشت چلی جاتی ہے اور ہماری default پہچان دوبارہ ہم پر غالب ہو جاتی ہے.

یہ سب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری جو ایک ہی وقت میں بہت ساری پہچانیں ہوتی ہیں یہ سب کی سب ہماری ہوتی ہیں. چوں کہ ان میں سے بیشتر پہچانیں ہمارے چنے بغیر ہمیں ملی ہوتی ہیں، اور ان کے ہونے میں ہمارا اپنا کوئی کمال نہیں ہوتا اور یہ کہ ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری کون سی پہچان کس وقت ہم پر طاری ہو جائے گی (اور ہم سے کیا کچھ کروا لے گی) اس لیے کسی ایک پسندیدہ پہچان پر اتنا فخر کرنا میرے حساب سے تو مناسب نہیں ہے کہ آدمی ان لوگوں سے نفرت کرنے لگے جو اس پہچان کے حوالے سے اجنبی ہوں، چاہے آپ کی کئی دوسری پہچانوں کے حوالے سے وہ آپ کے اپنے بنتے ہوں. میرا خیال ہے کہ یہ ساری کی ساری ہمیں عزیز ہونی چاہییں اور ان کے حوالے سے اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ خاص حالات کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آنے والی کسی ایک پہچان کی خاطر ناقابل تنسیخ اور ناقابل واپسی اقدامات نہیں اٹھا لینے چاہییں کہ ان مخصوص حالات کے گزر جانے کے بعد ہم ان اقدامات اور ان نتائج کے ساتھ پھنس جائیں اور ان نتائج کا کوئی توڑ نہ ہو۔

اب تاریخ کے تناظر میں بات کرتے ہیں ‘گنگا جمنا والوں’ کی۔ پاکستان ہجرت کر کے آنے والے وہ لوگ جن کی مادری زبان اردو تھی برصغیر کے اس علاقے سے آئے تھے جو ایک ہزار سال سے مسلمان بادشاہوں اور بعد میں انگریزوں کا دارالحکومت رہا تھا. یہ انسانی فطرت ہے کہ دارالحکومت اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی ملک میں خصوصی اہمیت ہوتی ہے. شاہی دربار سے وابستگی اور شاہی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کی مسلمان اشرافیہ اقلیت میں ہونے کے باوجود پورے ہندوستان میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی. اس اشرافیہ سے نسبت کی وجہ سے وہاں کے باقی مسلمان بھی خود کو خصوصی اہمیت کا حامل سمجھتے تھے۔

برصغیر پر مسلمان حکمران زیادہ تر غیر ملکی ہوتے تھے: شروع میں آزاد کردہ ترک غلام (قطب الدین ایبک، التمش اور بلبن وغیرہ)، اس کے بعد افغانی اور آخر میں مغل، جن کا تعلق وسطی ایشیا میں واقع فرغانہ سے تھا. اس زمانے میں دربار کی اور اس کے تعلق کی وجہ سے اشرافیہ کی زبان فارسی ہوا کرتی تھی. ساتھ ساتھ دربار کے ارد گرد کے علاقوں میں عام لوگوں میں اردو زبان کا استعمال شروع ہو گیا، خاص طور پر چھاؤنیوں میں؛ جہاں فارسی، ترکی اور مقامی زبانیں بولنے والے سپاہیوں اور دوسرے لوگوں کا آپس میں ملنا جلنا ہوتا تھا. جب تک مغلوں کی کئی نسلیں برصغیر میں پیدا ہوئیں تب تک آہستہ آہستہ فارسی کے ساتھ ساتھ اردو کی اہمیت بھی بڑھ گئی، یہاں تک کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے شاعری اردو میں کی ہے۔

مغلوں کی بادشاہت کو انگریزوں نے ختم کر دیا. انہوں نے یہاں اپنا نظام قائم کیا اور اس کو مغلوں کے انتظام سے الگ دکھائی دینے کے لیے اشرافیہ میں فارسی زبان کو کسی اور زبان سے بدلنے کا سوچا. انہوں نے بہت غور و خوض کے بعد اس کے متبادل کے طور پر شمالی ہند کی رابطے کی زبان اردو کو چنا. انگریزوں نے اردو کی ترقی و ترویج پر بہت کام کیا۔ 10 جولائی 1800 کو اس وقت کے کمپنی بہادر (ایسٹ انڈیا کمپنی) کے گورنر جنرل

Lord Wellesley

نے کلکتا میں ‘فورٹ ولیم کامپلیکس’ نامی قلعے میں ‘فورٹ ولیم کالج’ کی بنیاد رکھی، جہاں اردو کی ترقی پر سائنسی بنیادوں پر بہت کام ہوا اور اس کی گرامر کو باقائدہ شکل دی گئی۔ چوں کہ اس دوران بر صغیر کی دوسری زبانیں فطری ارتقا کے تحت ترقی کر رہی تھیں جب کہ اردو انگریزوں کی سرکاری سرپرستی میں سائنسی بنیادوں پر کام ہونے کی وجہ سے ترقی کر رہی تھی اس لیے یہ ان زبانوں کے مقابلے میں کم عمر ہونے کے باوجود بہت اہمیت اختیار کر گئی۔ 1837 میں انگریزوں نے فارسی کے بدلے اردو کو سرکاری زبان بنا دیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ اور دوسرے اساتذہ اردو میں لاجواب اور لازوال شاعری کر رہے تھے.

ایک بات طے ہے کہ اردو کا تعلق دربار اور چھاونیوں کے ساتھ ہمیشہ سے رہا ہے۔ اردو کی سرکاری سرپرستی اور اعلیٰ پائے کے ادب کی وجہ سے دلی اور لکھنؤ کے علاقوں کے لوگوں کی، جن کی مادری زبان اردو تھی، اہمیت بہت بڑھ گئی۔ اور ان حالات میں سب سے زیادہ فائدہ یو پی، سی پی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو پہنچا کیوں کہ ان کی مادری زبان اور گنگا جمنا کے علاقے کی تہذیب مسلمانوں کی نمائندہ زبان اور تہذیب کے طور پر جانی جانے لگیں. اس کی بہترین مثال یہ ہے کہ آج کل بھی جب بالی وڈ کوئی پاکستان مخالف فلم بناتا ہے اور اس میں کسی پاکستانی فوجی جرنیل کا خاندان دکھایا جاتا ہے اس میں خواتین غرارے اور مرد شیروانی پاجامہ پہنے دکھائے جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو “سلیم میاں” کہہ کر پکارتے ہیں اور سب ایک دوسرے کو ہاتھ اٹھا کر آداب آداب کہتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں. یقین نہ آئے تو سنی دیول اور امیشا پٹیل کی فلم غدر (جسے وہ ہندی میں ‘گدر’ کہتے ہیں) دیکھ لیں۔

بیسویں صدی کے آغاز پر جب لوگوں کو اندازہ ہوا کہ انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنا بھی ممکن ہے، تو شمالی ہند، خاص طور پر گنگا جمنا کے علاقوں کے، مسلمان بہت فکرمند ہوئے۔ پچھلے ایک ہزار سالوں سے جو غیر ملکی مسلمان یہاں حکومت کر رہے تھے انہوں نے اپنی بادشاہتیں قائم رکھنے کے لیے حکومتی مراکز میں رہنے والے مسلمانوں پر انحصار کیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی اہمیت اور حیثیت ان کی تعداد کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گئی تھی. انہیں خوف ہوا کہ آزاد ہند میں ان کی وہ حیثیت نہیں رہے گی جو پہلے تھی. اسی وقت ہندوؤں نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا تھا اور وہ اپنی حیثیت منوانا چاہتے تھے۔ یوں رفتہ رفتہ تعداد میں ہندوؤں سے کم ہونے کی وجہ سے ان میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونے لگا۔

ان حالات میں شمالی ہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں ایک مخاصمت پیدا ہو گئی۔ اس لیے ان مخصوص حالات میں مسلمانوں کے درمیان شیعہ سنی اختلافات، دیوبندی اور بریلوی اختلاف، پنجابی اور بنگالی تشخص؛ یہ سب پہچانیں پس پشت چلی گئیں اور مسلمان ہونے کی پہچان فوکس میں آگئی. اس لیے اس زمانے کے سیاسی بیانیے میں ‘مسلمانان ہند’ کا ہی ذکر ملے گا، کسی اور شناخت کا نہیں۔

ان چیزوں کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہو گئے جن کے باعث انہوں نے سوچا کہ برصغیر میں اگر ایک مسلمان اکثریتی ملک بن جائے تو اس سے مسلمانوں کا بہت بھلا ہو گا. اس قسم کے حالات میں تمام فریقوں کو اپنے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کچھ محترم علامتیں چاہیے ہوتی ہیں جن کے گرد وہ متحد ہو سکیں. اس دور کے مسلمانوں نے پانچ چیزوں کو چنا: اسلام، آل انڈیا مسلم لیگ، قائد اعظم محمد علی جناح، سفید چاند ستارے والا سبز پرچم اور اردو. اس زمانے میں یہ ‘دو قومی نظریہ’ پیش کیا گیا کہ برصغیر کے مسلمان ایک قوم ہیں اور باقی تمام لوگ (جس سے ہندو مراد ہوتی تھی) الگ قوم ہیں اور برصغیر کے مسلمانوں کی زبان اردو ہے. یوں اس زمانے میں پنجاب سے لے کر بنگال تک اور کشمیر سے لے کر حیدرآباد دکن تک مسلمانوں نے خود کو قائل کر لیا کہ چاہے ان کی مادری زبان کچھ بھی ہو، مسلمانوں کی زبان اردو ہے۔ آج کے دور میں بیٹھ کر آپ اس سوچ کو غلط کہہ سکتے ہیں، مگر ہمیں اس دور کے لوگوں کی نفسیات پر تبصرہ کرتے وقت سوچنا چاہیے کہ جن حالات میں وہ جی رہے تھے ان کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔

1936 کے انتخابات کے بعد قائم بونے والی کانگریس کی حکومت کے طرز حکمرانی سے مسلمانوں کی اشرافیہ نے یہ تاثر قائم کیا کہ ہندوؤں کے ساتھ رہنا مشکل ہے۔ اس کے بعد ‘مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک’ کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی اور اشرافیہ نے اس پر کام شروع کر دیا۔ یہ کوشش بعد میں تحریک پاکستان میں تبدیل ہو گئی اور اسے عام مسلمانوں نے اپنا لیا۔ تحریک پاکستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا نے ہراول دستے کا کام سرانجام دیا۔ یہ تحریک سب سے زیادہ زور و شور سے اسی اہمیت والے علاقے چلائی گئی جہاں کے مسلمان تعلیم یافتہ اور با اثر تھے. یہ الگ بات ہے کہ اگر ان کی کوششیں بار آور ہو جاتیں تو جو ملک بنتا وہ ان کے آبائی علاقوں میں واقع نہیں ہوتا کیوں کہ وہاں مسلمان اقلیت میں تھے.

اس وقت ایک اقلیت کو چھوڑ کر باقی سب لوگ اپنے تمام اختلافات بھلا کر اور اپنی تمام دوسری پہچانیں پس پشت ڈال کر صرف مسلمان بن کر سوچ رہے تھے اور ‘مسلمانوں کے لیے ایک ملک’ بنانا چاہتے تھے جہاں وہ سکون سے … (یہاں پر لوگوں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے: کچھ کے نزدیک جہاں وہ ہندوؤں سے جان چھڑانے کے بعد سکون سے اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان رہ سکیں، اور کچھ کے نزدیک جہاں وہ سکون سے اسلامی نظام نافذ کر سکیں)۔

تحریک پاکستان کا مقصد ‘مسلمانان ہند کے لیے ایک ملک بنانا’ تھا. اس تحریک کے قائدین اور حمایتی اس مفروضے پر کام کر رہے تھے کی برصغیر کے مسلمان ایک یک نوع (homogeneous) گروپ یے. اس بیانیے میں نہ تو مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلاف کا ذکر تھا اور نہ ہی ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان لسانی اکائیوں کا ذکر تھا، نہ ہی قبیلوں کی آپس کی دشمنیوں کا اور نہ ہی علاقائی تہذیبوں کا۔ اور یہ بات بھی نہیں سوچا گیا کہ مسلمانوں میں ہی کس گروہ کی اکثریت ہے اور کس گروہ میں خواندگی کی شرح کیا ہے. اس وقت کی طرز سوچ کو آج آپ غلط کہنا چاہیں تو کہہ لیجیے مگر اس دور میں جب یہ حالات اور واقعات وقوع پذیر ہو رہے تھے تب وہ سوچ لوگوں کو درست محسوس ہوتی تھی.

تو گویا ان دنوں تحریک پاکستان ایک نظریاتی معاملہ تھا. اور نظریاتی لوگوں کی پہچان کے پیمانے دوسروں سے الگ ہوتے ہیں. ان کے نزدیک ‘اپنا’ وہ ہے جو ان کے نظریات سے اتفاق رکھتا ہو، چاہے وہ دور دیسوں کا رہنے والا ہی کیوں نہ ہو جس کی زبان، رہن سہن اور ثقافت ان سے مکمل طور پر جدا ہی کیوں نہ ہو؛ اور جو ان نظریات کا طرف دار نہیں ہے وہ غیر ہے، چاہے سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو.

اسی نظریاتی بنیاد پر بنگالی بھی ‘گنگا جمنا والوں’ اور پنجابیوں کے ساتھ شانہ بشانہ تحریک پاکستان میں شامل تھے.

اس نظریے کے مطابق بر صغیر کے مسلمان اپنے لیے ایک علیحدہ ملک مانگ رہے تھے جو ان علاقوں پر مشتمل ہوتا جہاں ان کی (یعنی مسلمانوں کی) اکثریت تھی. اگر اس بیانیے پر غور کریں تو ہم پر کھلے گا کہ اس بیانیے میں اہمیت ‘مسلمانوں کی اکثریت’ کی تھی، کسی خاص علاقے کی نہیں. یعنی، اگر بحث کے لیے مان لیا جائے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی اکثریت مشرقی بنگال، مغربی پنجاب، (اس وقت کے) شمال مغربی سرحدی صوبے، سندھ اور بلوچستان میں نہیں بلکہ کرناٹک، مدراس، ملبار، اور آندھرا پردیش میں ہوتی تو پاکستان وہاں بن جاتا؛ اور اس وقت کی خاص سوچ کے تحت لوگ ہجرت کر کے آج کے پاکستان کے بجائے وہاں چلے جاتے. اس زمانے میں جس زور کے ساتھ تحریک پاکستان پورے شمالی ہندوستان میں چل رہی تھی اس سے تو لگتا ہے کہ بہت سے لوگ موجودہ پاکستان کے علاقوں سے بھی ہجرت کر کے وہاں چلے جاتے اور لفظ ‘مہاجر’ کے مذہبی سیاق و سباق کے حوالے سے خود کو فخریہ طور پر مہاجر کہلواتے. اور مجھے کہہ لینے دیجیے کہ اس پاکستان کی قومی زبان بھی اس کے قیام کے وقت لوگ خوشی خوشی اردو رکھتے، چاہے اس کے چھ مہینے بعد ہی ابتدائی سرشاری یا euphoria کے اترنے اور default پہچانوں کے بحال ہونے کے بعد تامل، ملیالی اور تیلگو زبانوں کو قومی زبانیں قراد دلوانے کے لیے تحریکیں شروع ہو جاتیں!

اس پس منظر کی کڑیاں میں اب انسان کی مختلف پہچانوں کے تصور سے ملاؤں گا. اس دور کے مخصوص حالات میں جب انتہائی جذباتی انداز میں صرف مسلمان ہونے کی پہچان فوکس میں تھی، بر صغیر کے شمالی حصے میں رہنے والے مسلمانوں نے اس ایک پہچان کے حوالے سے کچھ ناقابل واپسی اور ناقابل تنسیخ اقدامات اٹھا لیے. ان میں سے تین قابل ذکر ہیں.

پہلا تھا بر صغیر کی تقسیم اور پاکستان نام کے ملک کا قیام. دوسرا اقدام تھا شمالی ہند میں ان علاقوں سے جو پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھے تعلق رکھنے والے بہت سے مسلمانوں کا اپنے پورے پورے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان چلے جانا. اور تیسرا اہم قدم ان مسلمانوں نے اٹھایا جو ان علاقوں سے تعلق رکھتے تھے جو پاکستان میں شامل ہوئے تھے. ان لوگوں نے پاکستان ہجرت کرکے آنے والوں کو کھلے دل سے قبول کیا اور اپنے گلی محلوں میں بسنے دیا۔

نہ ‘گنگا جمنا والوں’ نے اس بات پر غور کیا کہ جس ملک کے بنانے کی تحریک وہ چلا رہے ہیں وہ ان کے آبائی علاقوں میں واقع نہیں ہوگا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اس زمانے میں ہندوستان کے مسلمان اکابرین کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں تو وہ بھی ہمارے جیسے ہوں گے. وہاں کا ماحول اور ثقافت اور رہن سہن یو پی جیسا ہی ہو گا. اس لیے ہم جو مسلمانان ہند کے لیے ملک بنانے کی تحریک چلا رہے ہیں وہ ہم سب کے لیے ہے. چناں چہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ملک ہمارے اپنے آبائی علاقوں میں بنتا ہے یا نہیں، اس لیے کہ بننے والا ملک تمام مسلمانوں کے لیے ہوگا اس میں کوئی کسی سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم کہاں کے ہو. نہ ہی وہاں دوسرے علاقوں کے لوگوں کو ناپسند کیا جائے گا بلکہ اس میں سب مسلمان مسلمان بھائی بھائی کے اصول کے تحت آپس میں شیر و شکر ہو کر رہیں گے۔ نہ اس طرف ان کا دھیان گیا کہ وہ جس سرزمین پر ‘اپنا’ ملک بنا ہیں وہ کوئی بے آباد ویرانہ نہیں ہے. وہاں پہلے سے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں، بلکہ اگر ملک بن گیا تو مقامی آبادی ہی اکثریت میں ہو گی. نہ یہ کہ جہاں جا رہے ہیں وہاں قبول بھی کیے جائیں گے یا نہیں. (نہ قبول کیے جانے کے امکان پر ان کا دھیان ہی نہیں گیا)۔ نہ ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ جہاں جا رہے ہیں وہاں کی زبان اور ثقافت اور تہذیب الگ ہو سکتی ہے۔ (الگ کیسے ہو گی، آخر کو وہ بھی مسلمان ہیں، اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی ثقافت یو پی کی ثقافت ہے اور مسلمانوں کی زبان اردو ہے۔ اسی طرح اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر آنے والوں نے شاید سوچا بھی نہیں کہ واپس آبائی علاقوں میں جانا نصیب بھی ہوگا یا نہیں. وہ بس اٹھے اور ‘اپنے ملک’ میں ‘اپنے مسلمان بھائی بہنوں’ کے درمیان رہنے کے لیے چلے آئے.

وہاں سے آنے والوں میں ایک بڑی تعداد ان کی تھی جن کے علاقوں میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے، اور وہ بڑی مشکل سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانیں بچا کر پاکستان پہنچے تھے۔ بہت سارے لوگ راستے میں مار دیے گئے، بہت سے لوگوں کو راستے میں لوٹ لیا گیا اور وہ لٹے پٹے کسما پرسی کے عالم میں یہاں پہنچے۔ مگر گنگا جمنا کے علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والوں میں ایک بہت بڑی تعداد ان کی بھی تھی جو مجبوری میں جان بچانے کے لیے یا لٹ پٹ کر پاکستان نہیں آ‎ئے تھے بلکہ اپنے گھر میں محفوظ ہونے کے باوجود، اپنی خوشی سے، بقائمی ہوش و حواس اصولی فیصلہ کر کے مسلمانوں کے ملک میں رہنے کے لیے آئے تھے۔ ان میں سے بہت سوں نے اپنے گھر اور سامان وغیرہ بیچ کر ہجرت کی اور موناباو اور کھوکھراپار کے نسبتاً محفوظ راستے سے آئے۔ میرے اپنے گھر والے ایک نظریاتی فیصلہ کر کے اسی طرح آئے تھے۔

اوپر والی ساری باتیں اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ لوگ وہاں سے اس علاقے پر قبضہ کرنے نہیں آئے تھے، اور نہ ہی یہاں آنے کا مقصد ان علاقوں میں اپنی بالادستی قائم کرنا تھا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ 1930 اور 1940 کے عشروں میں ‘گنگا جمنا والوں’ کی اشرافیہ ایک tunnel vision کے ساتھ انگریزوں اور ہندوؤں سے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا ملک بنانے کی جد و حہد کر رہی تھی جو تاریخ میں کبھی وجود نہیں رکھتا تھا۔ اس وقت ایسی مصروفیت میں اتنی سفاکانہ پلاننگ کرنا کہ پنجاب میں فسادات کروا کر ایسے حالات پیدا کر دو کہ بعد میں نئے قائم ہونے والے ملک میں اپنی پسند کا نظام قائم کیا جا سکے ذرا بعید القیاس لگتا ہے۔ ہمیں کچھ تو حسن ظن رکھنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ ننگے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھے ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے آئے ہوں اور یہاں آتے ہی مقامی لوگوں کا اس طرح قتل عام کر کے ان کی زبانیں،ثقافتیں اور تہذیبیں ختم کر دی ہوں جیسے گوروں نے امریکا میں ریڈ انڈینس کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے تو تقسیم ہند کے Terms of reference کے تحت ہجرت کی تھی. اور آنے کے بعد انہوں نے نوزائدہ ملک کو اپنا مان کر اسے انتہائی مشکل حالات میں چلانے اور استحکام دینے میں بھرپور کردار ادا کیا.

اسی طرح پاکستان کے علاقوں میں پہلے سے رہنے والوں نے آنے والوں کا استقبال کرتے وقت یہ نہیں سوچا کہ اگر یہ لوگ یہاں بس گئے تو ان کی اولادیں اور اولادوں کی اولادیں اور ان کی اولادیں بھی یہاں پیدا ہوں گی. پھر وہ پاکستان کے وسائل کے حصول کی دوڑ میں ہمیشہ کے لیے ان کی اولادوں اور اولادوں کی اولادوں کے حریف بنے رہیں گے. انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ آنے والوں کی مادری زبان وہ ہے جو نئے ملک کی قومی زبان قرار دے دی جائے گی، اور ان کی تہذیب اور ثقافت ہم سے مختلف ہے، تو کہیں ان کی زبان اور ثقافت سے ہماری زبان اور ثقافت خطرے میں تو نہیں پڑ جائے گی.

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان کو بنانا، یا لوگوں کا بڑے پیمانے پر ہجرت کر کے پاکستان چلے آنا یا آنے والوں کو آسانی سے بسنے دینا بیوقوفی تھی. یا یہ غلط فیصلے تھے. میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس وقت جو حالات پیدا کر دیے گئے تھے ان میں اس کے سوا کوئی اور فیصلہ ممکن نہیں رہا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان Terms of reference پر آپ کے بزرگوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا. اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اب ہو چکا اور اسے عمل پزیر ہوئے ستر برس بیت چکے ہیں اور اس دوران تین نسلیں اس نئے انتظام کے تحت پیدا ہو چکی ہیں. اس لیے اب اس قسم کے سوالات کے لیے دیر ہو چکی ہے. آج کی نسل کو ایک ایسا تکمیل شدہ عمل ورثے میں ملا ہے جس کو وہ undo کا بٹن دبا کر ایسی صورت حال نہیں پیدا کر سکتے کہ سال تو 2017 ہی ہو مگر دنیا ایسی ہو کہ جیسے اگست 1947 میں برصغیر تقسیم نہ ہوا ہوتا اور لوگوں نے ہجرت نہ کی ہو. نہ ہی یہ مناسب ہو گا کہ پاکستان کی بساط لپیٹ دینے کی کوشش کی جائے. اس ملک کو بنے ہوئے 70 سال سے اوپر ہو گئے ہیں اور اس کی آبادی 22 یا 23 کروڑ ہے. اتنی بڑی آبادی میں کتنے ہوں گے جن کے مفادات اس سے وابستہ ہوں گے اور وہ اپنے مفادات پر حرف نہیں آنے دیں گے. اور کتنے ہوں گے جو واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہوں گے اور اس کی حفاظت کرنا چاہیں گے. 1947 میں جب پاکستان اور بھارت دو الگ الگ ملک بنے تھے تب بر صغیر کی کل آبادی تقریباً 39 کروڑتھی اور کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا اس میں سے کتنے لوگ فسادات میں مارے گئے تھے اور کتنی خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں، صرف اتنا جانتے ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوئے تھے. آج بھارت اور پاکستان کی مشترکہ آبادی ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے اور لوگوں کے پاس ان دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک اسلحہ ہے۔ اگر اس دور میں اس قسم کے اقدام کی کوشش کی گئی تو کتنی تباہی ہو گی اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاستیں یا ملک اپنی بقا کو دوام دینے والے ادارے یعنی

self perpetuating institutions

ہوتے ہیں۔ ریاست کے قیام کے لیے تو کسی جواز کی ضرورت پڑ سکتی ہے، مگر کسی طرح یہ قائم ہو جائیں تو پھر ان کو قائم رہنے کے لیے علیحدہ کسی جواز کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور نہ ہی انہیں وقتاً فوقتاً دنیا کو باور کرانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ ان کا وجۂ وجود اب تک valid ہے یا نہیں۔ ان کا وجود ہی ان کے دوام کی دلیل بن جاتا ہے۔ اپنے قیام کے بعد یہ ہر ممکن طریقے سے اپنی بقا کی خاطر اپنے علاقوں یعنی اپنی territory کو الگ ہونے سے روکتے ہیں۔ اگر معاملہ پر امن طریقے سے حل ہو جائے تو بہت اچھے، جس طرح سکاٹ لینڈ والے یونائٹڈ کنگڈم سے علیحدگی کے لیے مسلح جد و جہد نہیں کر رہی تھے اس لیے وہاں رائے شماری کا پر امن طریقہ اپنایا گیا۔ رائے شماری کروانے سے پہلے فریقین نے عوام کی ذہن سازی کی۔ رائے شماری میں چوں کہ عوام نے اتحاد میں ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اس لیے معاملہ خوش اسلوب سے طے ہو گیا۔ ویسے سکاٹ بھی کوئی کم خود پر فخر کرنے قوم نہیں ہے۔ یہی کینیڈا کے فرانسیسی بولنے والے علاقے کیوبیک میں بھی ہوا، رائے شماری میں عوام نے کینڈا کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور اب راوی چین لکھتا ہے۔ سپین میں کیٹالونیا کے علاقے میں عوام نے علیحدگی کے لیے رائے شماری کروانا چاہی، مگر حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اس علاقے کی صوبائی حکومت نے از خود ہی رائے شماری کروا دی، اور اس میں کیٹالونیا کے عوام نے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس رائے شماری اور عوام کے فیصلے کو مرکزی حکومت نے کالعدم قرار دے دیا اور رائے شماری کروانے والے لیڈران کو قید کر لیا۔ سپین کوئی تیسری دنیا کا ملک یا بنانا رپبیک نہیں ہے، وہ یوروپین یونین کا ممبر ہے؛ مگر اس نے اپنی علاقائی سلامتی کے معاملے میں وہی کیا جو ریاستیں کیا کرتی ہیں۔

اگر علیحدگی پسند مسلح جد و جہد کریں تو ریاست ان کے خلاف مسلح کارروائی کرتی ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں ایسے ادارے ہوتے ہیں جن کی وجۂ وجود ہی ملک کو بیرونی جارحیت سے بچانا اور شہریوں کی طرف سے بغاوت یا علیحدگی کی کوششوں کو سختی سے کچلنا ہوتا ہے۔ ان اداروں کے اہلکار ان دو مقاصد میں کامیاب ہونے کے لیے مسلسل تیاری کرتے ہیں، انہیں مسلسل تربیت دی جاتی ہے اور وہ مختلف منظرناموں میں مناسب کارروئیوں کی پیہم مشق کرتے رہتے ہیں۔

علیحدگی کے لیے مسلح جد و جہد کے حوالے سے پانـچ منظر نامے اس وقت میرے ذہن میں آ رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ ریاست اپنی بے پناہ قوت کے بل بوتے پر علیحدگی پسندوں کو کچل دے۔ دوسرا یہ کہ مسلسل جنگ سے تنگ آ کر علیحدگی پسند مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں۔ تیسرا منظر نامہ یہ ہے کہ ریاست اپنی بے پناہ قوت کے باجود علیحدگی پسندوں کو پوری طرح کچلنے میں ناکام رہے مگر علیحدگی پسند بھی کامیاب نہ ہو پائیں۔ اس صورت میں بغاوت ایک رستے ہوئے ناسور کی طرح طویل مدت تک چلتی رہتی ہے اور فریقین میں سے کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتا۔ چوتھا امکان یہ ہے ریاست ہار جائے اور علیحدگی پسند جیت جائیں۔ اس صورت میں ریاست کا صرف ایک حصہ اس سے کٹ کر الگ ہو جاتا ہے مگر باقی ماندہ ریاست اپنے اصل نام کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ اور آخری امکان یہ ہے علیدگی پسند اس طرح مکمل کامیابی حاصل کریں کہ ریاست اپنا وجود برقرار نہ رکھ پائے اور اس کے مختلف جزو خود ریاستیں بن جائیں۔

پہلی قسم کی بہترین مثال جس میں ریاست جیت جائے اور علیحدگی پسندوں کو کچل دے سری لنکا ہے جہاں تامل ٹائگرز جیسی مستعد اور خطرناک گوریلا تنظیم بھی، جس نے دنیا کو خود کش بمبار سے متعارف کروایا، سری لنکا جیسے کمزور ملک سے آزادی نہیں حاصل کر پائی۔ دوسری مثال بھارت ہے جس نے خالصتان کی تحریک کو بے پناہ قوت کے ساتھ کچل دیا۔ روس نے بھی چیچنیا کو طاقت کے زور پر علیحدہ ہونے سے روک رکھا ہے۔ اس صورت میں یہ امکان بہر حال رہتا ہے کہ شکست کی راکھ میں علیحدگی پسندی کی چنگاری سلگتی رہے اور کبھی برسوں بعد دوبارہ آگ بن کر بھڑک اٹھے۔

دوسری قسم کی بہترین مثال یونائٹڈ کنگڈم کا علاقہ شمالی آئرلینڈ ہے۔ چوں کہ وہاں آئرش رپبلیکن آرمی برطانوی تسلط سے آزادی کے لیے مسلح جد و جہد کر رہی تھی اس لیے برطانیہ نے عشروں وہاں باقائدہ فوجی آپریشن کر کے آئیرش رپبلیکن آرمی (آئی آر اے) کو دبانے کی کوشش کی اور بعد میں جب تیس سال علیحدگی کی تحریک چلانے کے بعد آئی آر اے مذاکرات کے لیے آمادہ ہوئی تو 1998 کے

Good Friday Agreement

گڈ فرائڈے اگریمنٹ کے تحت اس خطے کو یونائٹڈ کنگڈم میں برقرار رکھا گیا۔

ہمیں تیسرے منظرنامے کی مثالیں بھی مل جاتی ہیں۔ بہت زیارہ مالی نقصان اور بے انتہا خون بہنے کے باوجود ترکی کردوں کی بغاوت نہیں کچل سکا ہے مگر ترکی اپنی علاقائی سالمیت کے ساتھ قائم ہے اور بغاوت بھی جاری ہے۔ ہمارے بلوچستان میں بھی دہائیوں سے بغاوت ہو رہی ہے نہ وہ ختم ہوئی ہے، نہ پاکستان کے نقشے میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ کشمیر میں بھی ایسا ہی ہے۔

چوتھی قسم کی سب سے اچھی مثال مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہے۔ پاکستان کے ایک حصے میں بغاوت ہوئی، وہاں ریاست نے بغاوت کو کچلنے کی پوری کوشش کی مگر ناکام رہی۔ علیحدگی پسند کامیاب رہے۔ ملک کا ایک حصہ الگ ہو کر بنگلا دیش نامی ملک بن گیا لیکن باقی ملک پاکستان کے نام سے باقی ہے۔ ان معاملات میں آزاری وہاں مل سکتی ہے جہاں کوئی مضبوط بیرونی طاقت براہ راست باغیوں کے حق میں مداخلت کرے جیسا مشرقی پاکستان کے معاملے میں بھارت نے کی تھی۔ مگر 11/9 کے بعد دنیا بدل گئی ہے۔ آج کی دنیا میں ہر طرح کی مسلح جد و جہد کو دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے، چاہے مقصد کتنا ہی ‘جائز’ کیوں نہ ہو۔ اس لیے آج کے دور میں آزادی کی کسی مسلح تحریک کو بیرونی ممالک کی ایسی کھلم کھلا سپورٹ ملنا مشکل ہے جیسی 11/9 سے پہلے ممکن تھی، اور اس قسم کی براہ راست مداخلت جیسی بھارت نے مشرقی پاکستان میں کی تھی وہ اس دور میں کسی طور ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح مشرقی تیمور انڈونیشیا سے الگ ہو کر الگ ملک بن گیا مگر انڈونیشیا اپنے نام سے چل رہا ہے۔ وہاں مغربی ممالک نے اقوام متحدہ کو درمیان میں ڈال کر مشرقی تیمور کی علیحدگی کروائی۔

پانچواں امکان یہ ہے کہ اس ملک کا شیرازہ ہی بکھر جائے، جیسا بوسنیا اور کرویشیا اور سربیا نام کے صوبوں کے جھگڑے کی وجہ سے یوگوسلاویا نامی ملک کا ہوا تھا۔ اب اس ملک کی جزواکائیاں الگ الگ ریاستیں ہیں اور چوں کہ سب کی سب بے انتہا خون خرابے کے بعد الگ ہوئی ہیں اس لیے میرا خیال ہے کہ ان سب کے ایک دوسرے سے تعلقات ویسے ہی ہیں جیسے پاکستان اور بھارت کے ہیں۔

ایک اور امکان ماضی میں مل جاتا ہے۔ میری پیدائش سے ٹھیک ایک سو سال پہلے یعنی 1861 میں United States of America

کی جنوبی ریاستوں نے اختلافات کی بنا پر ملک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور مل کر Confederate States of America

نامی ملک بنا لیا تھا۔ اس علیحدگی کی وجہ سے وہاں دونوں ملکوں کے درمیان بہت خونی جنگ ہوئی جو چار سال تک چلی اور اس میں دونوں طرف سے لاکھوں لوگ مارے گئے۔ آخر کار 1865 میں جنوبی ملک کو شکست دے کر اسے واپس یو ایس اے میں ضم کر لیا گیا تھا.

یہ بات ہر حال میں یاد رکھنی چاہیے کہ علیحدگی کی تحریکوں میں ملک اور سکیورٹی اداروں کا جانی اور مالی نقصان تو ہوتا ہی ہے مگر اس میں آزادی مانگنے والے گروپ کے اپنے لوگوں کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے اور گیہوں کے ساتھ گھن پسنے کے محاورے کی طرح علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ بے حساب بے گناہ لوگ crossfire میں یا تو مارے جاتے ہیں، یا عمر بھر کے لیے اپاہج ہو جاتے ہیں، یا شدیر زخمی ہو جاتے ہیں؛ کتنوں کی تعلیم میں خلل پڑتا ہے اور کتنوں کے روزگار کے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ان معاملات کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

اس کے علاوہ ایک اور بات کو سوچ کر علیحدگی یا پاکستان توڑنے کی باتیں کرنے والوں کو جھرجھری آجانی چاہیے۔ وہ ہے غیر یقینی حالات میں کی گئی ہجرت۔ ‘غیر یقینی’ کی اصطلاح کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو نتیجہ آپ چاہ رہے ہیں، وہی نکلے؛ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نتیجہ کم و بیش وہی نکلے جو آپ چاہ رہے ہیں مگر ساتھ میں کوئی ایسی غیر متوقع چیز بھی ہو جائے جس کی وجہ سے سارا مزہ کرکرا ہو جائے۔ جب کسی ملک میں انتشار ہوتا ہے تو جس جس کے بس میں ہوتا ہے وہ ملک چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ حاصل کرنے پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ان کو جو سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں اور ان کے ساتھ جو ذلت آمیز سلوک ہوتا ہے اس کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھے۔ پناہ گزین کیمپوں میں سر پر چھت نہیں ہوتی، زیادہ سے زیادہ خیمہ ملتا ہے جس میں موسم کی سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں، کھانے پینے کا انحصار میزبان حکومت اور وہاں کے مخیر حضرات کی دریا دلی پر ہوتا ہے؛ اور چلچلاتی دھوپ ہو یا کڑاکے کا جاڑا یا برستا مینہ، آندھی ہو یا طوفان کھانا یا تو گھنٹوں قطار بنانے کے بعد ملتا ہے یا مجمعے میں دھنگا مشتی کر کے زور بازو سے چھین کر لینا پڑتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ کمزور اور شریف لوگوں اور خاص طور پر بوڑھوں، خواتین اور بچوں کے بھوکے رہ جانے کا بہت امکان ہوتا ہے۔ کیمپوں میں غلیظ اجتمائی باتھ روموں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مہاجر کیمپوں میں بچے رل جاتے ہیں، نہ ان کی صحیح تربیت ہو پاتی ہے نہ ہی مناسب تعلیم کا بندوبست ہوتا ہے، سارا دن آوارہ گردی کرتے ہیں اور کم عمری میں ہی جرائم کی راہ پر نکل پڈتے ہیں۔ لوگ اپنی روزمرہ کی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسوں کی خاطر چوری چکاری سے لے کر بڑے جرائم اور عصمت فروشی تک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ میزبان ملک کی مقامی آبادی کا رویہ مہاجرین کی طرف بہت زیادہ معاندانہ ہوتا ہے کبھی راہ چلتے گالیاں دیتے ہیں اور آوازے کستے ہیں، کبھی انفرادی، کبھی گروہی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی جو بھی تھوڑی بہت مال متاع ہوتی ہے اسے لوٹ لیتے ہیں یا اس کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے اقدامات کی وجہ سے ہمارے ہم وطنوں پر ایسا وقت کبھی نہ آئے۔

ممکن ہے کہ آج کے دور میں کسی کو ان Terms of Reference پر اعتراض ہو یا حقیتِ موجود کسی کو پسند نہ ہو مگر اس کی خواہش یا دعاؤں سے یہ صورت حال بدلنے والی نہیں ہے، اسے قبول کرنا ہی پڑے گا. اب ہم سب کو چاہیے کہ جو کچھ ہو چکا اسے دل سے قبول کر لیں اور اپنے بڑوں کے کیے ہوئے فیصلوں اور اقدامات کی لاج رکھیں. اور موجود صورت حال کے ناقابل تنسیخ حقائق کو پہچانیں اور اسی میں حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوششیں کریں۔

اب آتے ہیں اردو اور صوبائی اور لسانی قوم پرستی کی طرف۔

جب ایک ملک دنیا کے نقشے پر ابھرتا ہے تو قوموں میں رائج دستور کے مطابق اسے اپنے قومی نشان، قومی پھول، قومی کھیل وغیرہ کے ساتھ ساتھ قومی زبان کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ ان کے تعین اور اعلان کے بعد یہ چیزیں دنیا بھر میں چھپنے والے atlases اور almanacs میں چھپنے لگتی ہیں۔ جب 14 اگست 1947 کو پاکستان بنا تو اسے بھی اسی قسم کے فیصلے کرنے پڑے۔ چناں چہ، قومی پھول کے لیے چمبیلی کو چنا گیا اور مارخور کو قومی جانور کے طور پر۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل قرار دیا گیا اور اردو پاکستان کی قومی زبان قرار پائی۔ اس کی توثیق پاکستان کی اس وقت کی کابینہ نے کی اور یہ سب دنیا کو بتا دیا گیا۔ دنیا نے اس بات کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد پاکستان کے 1973 کے آئین میں اس بات کا اعادہ کیا گیا۔ لہذٰا، اب یہ ایک قانونی معاملہ ہے۔ اس لیے یہ کہنے کے لیے دیر ہو گئی ہے کہ اردو پاکستان کی قومی زبان نہیں، صرف رابطے کی زبان ہے۔ ہمیں اچھا لگے یا برا، پچھلے ستر برس سے اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ آج کے دور میں یہ کہنا کہ میں اردو کو قومی زبان نہیں مانتا ایسا ہی ہے جیسے میں کہوں کہ میں نہیں مانتا کہ لائل پور کا نام بدل کر فیصل آباد رکھ دیا گیا ہے.

میں محسوس کرتا ہوں کہ ‘گنگا جمنا تہذیب والوں’ یا مہاجروں کے لیے اہم چیز ملک ہے، اس کے صوبے یا ان کی پہچان یا ثقافت یا زبانیں نہیں. چوں کہ پاکستان کے لیے کی گئی ہجرت کی وجہ سے ان لوگوں کا تعلق اپنے آبائی صوبوں سے ٹوٹ گیا اور یہاں آنے کے بعد انہوں نے ان شہروں سے تو تعلق قائم کر لیا جہاں وہ آ کر بسے، ان کو اپنایا بھی اور ان سے محبت بھی کی؛ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں کے صوبوں سے انہوں نے اپنی کوئی جذباتی وابستگی قائم نہیں کی ہے. اس لیے وہ محسوس ہی نہیں کر پاتے کہ سندھیوں، پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں اور دیگر لوگوں کو اپنے صوبوں سے کتنی محبت ہے. چوں کہ مہاجروں کو صوبوں سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے اس لیے وہ طاقتور مرکز کے قائل ہیں اور صوبوں کے حقوق سے متعلق ہر بات کو حقارت سے ‘علاقائیت’ کہتے ہیں اور اسے تعصب اور پاکستان مخالف قرار دیتے ہیں. مجھے لگتا ہے کہ ان کے ذہن میں وہ پاکستان ہے ہی نہیں جو ایک وفاقی طرز حکومت والا ملک ہے جہاں ہر چیز مرکزی حکومت نہیں چلاتی بلکہ بہت کچھ صوبائی حکومتیں اپنے اپنے طور پر چلاتی ہیں.

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ صحیح سوچ ہے، صرف بتا ریا ہوں کہ کیا سوچ ہے.

ان کی سوچ کو میرے لڑکپن کے زمانے کے ایک انگریزی گانے کا پہلا مصرع بہت اچھی طرح بیان کر سکے گا. وہ ہے:

” “I love to love you, baby

اس مصرعے کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہوگا کہ ‘مجھے تمہیں محبت کرنے سے محبت ہے!’ آپ غور کیجیے، اس میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں. محبت محبوب سے نہیں، اس تصور سے کی جا رہی ہے کہ مجھے محبت ہے. میرا ماننا ہے کہ اس مصرعے کی طرح مہاجروں کو بھی پاکستان کے تصور یعنی concept سے محبت اور عقیدت ہے اس حقیقت سے نہیں جو پاکستان ہے.

یہی مسئلہ آج کے مہاجروں کا بھی ہے جو خود کو ‘بانیان پاکستان کی اولاد’ سمجھتے اور فخریہ کہتے اور کہلوانا چاہتے ہیں. وہ ابھی تک ‘مسلمانوں کے ملک’ اور ‘پاکستانی قوم’ والے 1940 کے عشرے میں رائج بیانیے کے چکر سے نہیں نکلے ہیں. ان کے ذہن اور گفتگو میں ‘مسلمانان ہند کا ملک’ والا پاکستان ہے؛ وہ پاکستان ہے ہی نہیں جو ایک جغرافیائی حقیقت ہے. جس کے نقشے کو دنیا تسلیم کرتی ہے. جب مہاجر پاکستان کا ذکر کرتے ہیں تو ان ذہن میں صرف کراچی اور حیدرآباد آتے ہیں، بلکہ ان کے بھی مہاجر محلے؛ یا زیادہ سے زیادہ مری، سوات یا کاغان (اور وہاں کے بھی لوگ نہیں، صرف خوبصورت نظارے). جب وہ پاکستان کی بات کرتے ہیں تو وہ صوبہ سندھ، یا پنجاب، یا خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بارے میں نہیں سوچتے، صرف ایک اکائی کے بارے میں سوچتے ہیں جس کا نام پاکستان ہے. ان کے ذہن میں پاکستان ایک ملک ہے جس میں پاکستانی قوم رہتی یے. وہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں چار صوبے ہیں مگر ان کے نزدیک وہ صرف ضلعے یا تحصیل کی طرح کی انتظامی اکائیاں ہیں.

اس انداز بیان سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ میں اس ذہنیت کو نہ صرف غلط بلکہ حد درجے خطرناک سمجھتا ہوں. میں چاہتا ہوں کہ وہ موجودہ صورت حال کا ٹھنڈے دل سے ادراک کریں. آنکھیں کھول کر موجودہ دور میں جییں اور 1940 کے عشرے کے بیانیے سے نکلیں. انہیں چاہیے کہ انگریزی محاورے

when in Rome do as Romans do

پر عمل کریں. اگر پاکستان کے لوگ اپنے صوبے سے تعلق کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور جب انہیں لگے کہ ان کے صوبے کے مفادات کو خطرہ ہے تو وہ ملک توڑنے کی بات تک کر جاتے ہیں؛ تو آپ بھی جس صوبے میں رہتے ہیں اس سے جذباتی تعلق قائم کریں۔

چوں کہ مہاجروں کا زیادہ زور کراچی اور حیدرآباد پر ہے اس لیے میں بات سندھ کے حوالے سے کروں گا. یہ بات درست ہے کہ وہ تاریخی طور پر سندھ سے تعلق نہیں رکھتے، نہ تو ان کی مادری زبان سندھی ہے اور نہ ہی سندھی ثقافت یا سندھ میں بسنے والے قبیلوں اور ان کے اندرونی dynamics کا انہیں ادراک ہے؛ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ان کا جینا مرنا کراچی یا حیدرآباد کے ساتھ جڑا ہوا ہے. اور انہیں اس بات کو ماننا پڑے گا کہ کراچی اور حیدرآباد جن سے ان کا سب کچھ منسلک ہے پاکستان میں دوسرے علاقوں سے آزاد اکائیاں نہیں ہیں، نہ ہی سنگاپور یا ہانگ کانگ کی طرح آزاد جزیرے ہیں، بلکہ سندھ صوبے کے شہر ہیں. اور سندھ والوں کو اپنا صوبہ بہت پیارا ہے.

اس لیے مروجہ پہچانوں سے مطابقت رکھتے ہوئے انہیں اپنی پہچان میں سندھ کا ذکر لازمی طور پر کرنا چاہیے، چاہے انہیں اچھا لگے یا برا. جس طرح برسوں پہلے افغانستان سے آنے والے غوری، وسطی ایشیا سے آنے والے بخاری، عراق سے آنے والے واسطی اور ایران سے آنے والے مشہدی آگرہ میں بسنے اور آپس میں ضم ہونے کے بعد ایک سے لہجے میں اردو بولنے والے یو پی زادے ہو سکتے ہیں تو آگرہ سے ہجرت کے بعد ان کی اولادوں کی پہچان سندھ کے حوالے سے کیوں نہیں ہو سکتی؟

یہ تو ذکر ہوا ‘گنگا جمنا والوں’ کا. میں نے اس دوران مکمل غیر جانب داری کی کوشش کی ہے. اب میں ذکر کروں گا اپنے قوم پرست ہم وطنوں کا.

میں ان کے نظریات سے اختلاف رکھتا ہوں. لیکن بات کی ابتدا شروع سے کرتے ہیں۔

میرا ماننا ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کا دماغ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ پیدائش کے وقت اس کے کوئی نظریات نہیں ہوتے، نہ ہی کوئی تعصبات۔ وہ نہ وطن پرست ہوتا ہے، نہ ہی قوم پرست۔ یہ سب سیکھی ہوئی چیزیں ہوتی ہیں۔ بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے، وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور اس کی پسند ناپسند، چاہتیں اور نفرتیں اور نظریات تشکیل پاتے ہیں۔ جن لوگوں سے وہ متاثر ہوتا ہے ان میں اولین تو اس کے ماں باپ، بہن بھائی، اور قریبی رشتے دار ہوتے ہیں، مگر وہ قریبی دوستوں اور خود سے عمر میں بڑے لڑکیوں لڑکوں اور اپنے پسندیدہ اساتذہ سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ ان نوجوانوں کے mentor بن جاتے ہیں۔

یہاں بڑی عمر کے لوگوں کے حوالے سے میں ایک بہت نازک بات کروں گا۔ وہ یہ ہے کہ ہم بزرگ حضرات اپنی زندگیوں کو گزار کر چکے ہوتے ہیں. ہم میں سے کچھ تو خود کو کامیاب سمجھتے ہیں مگر ایک بڑی تعداد ان بزرگوں کی بھی ہے جن کے خیال میں وہ اپنی زندگی میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جس کا مستحق وہ خود کو سمجھتے تھے. پھر وہ فطری ردعمل شروع ہو جاتا کہ ناکامی کی وجہ کوئی اور شخص یا گروہ یا نظریہ ہے. یا کسی تعصب یا کسی کی دشمنی کی وجہ سے انہیں اپنے حق سے محروم کر دیا گیا . اس سوچ کی وجہ سے کہ میرا راستہ بدنیتی کی وجہ سے روکا گیا ہے ان کے اندر frustration آ جاتی ہے. وہ تلخ ہو جاتے ہیں. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تلخی بڑھتی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ زہر میں تبدیل ہو جاتی ہے. وہ اس زہر کو بہت سنبھال کر اپنے دل میں رکھتے ہیں. پھر سیاسی اختلاف ہو یا مذہبی گفتگو، چاہے خاندان کے سامنے، چاہے محفل میں، یہ زہر ہر موقعے پر لوگوں کو دیا جاتا ہے. یہ حضرات اپنی زندگی کی حسرتوں، ناکامیوں اور غصے کو سیاسی نظریات اور اپنوں پر زیادتیوں کے نام پر نکالتے ہیں بلکہ نئی نسل کو نفرت کی ڈرپ لگاتے ہیں. مسلسل نفرت بھری گفتگو سنتے رہنے سے غیر محسوس طور پر ان کی frustration اور غصہ اس نئی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے جو ان تجربات سے نہیں گزری ہوتی. وہ اپنے بزرگوں کی لگائی ہوئی ڈرپ کے اثر میں بغیر مشکلات یا ناکامیاں دیکھے ہی دل میں ناکام کروانے کے مبینہ ذمہ داروں کے خلاف شدید نفرت پیدا کر لیتے ہیں۔

میری رائے ہے کہ قوم پرستوں کی اپنے موقف پر سختی سے کاربند ہونے کی ایک وجہ نفرت کی وہ ڈرپ بھی ہے جو ان کے روحانی پیشوا انہیں لگاتے ہیں۔ وہ اپنی مختلف پہچانوں میں سے اپنی ڈیفالٹ پہچان پر اتنا زور دے دیتے ہیں کہ وہ اس کے حوالے سے شدت پسند ہو جاتے ہیں. ان کے نزدیک ان کی اپنے صوبے کے حوالے سے پہچان ہی سب سے بڑی پہچان ہے اور چوں کہ ملک کے حوالے سے پہچان صوبائی پہچان کو اپنی ماتحت بنانے کی متقاضی ہوتی ہے اس لیے وہ اس سے باقائدہ نفرت کرتے ہیں۔ چوں کہ بہت سارے لوگ عام رواج کے مطابق ملک کی پہچان کو صوبے کی پہچان سے زیادہ بڑی پہچان مانتے ہیں تو یہ انہیں بالکل اچھا نہیں لگتا۔

وہ اپنے صوبے اور اپنی مادری زبان بولنے والوں کو ‘قوم’ کہتے ہیں، اور ‘قوم’ کا لفظ اجتمائی طور پر اپنے ملک میں بسنے والے تمام شہریوں، بشمول دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے اور دوسری زبانیں بولنے والے ہم وطنوں کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ اور نہ صرف خود استعمال نہیں کرتے بلکہ کوئی اور استعمال کرے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک قوم کی تعریف عام آدمی کی تعریف سے مختلف ہوتی ہے. عام لوگوں کی تعریف (اور جو میری اور بہت سے دوسرے پاکستانیوں کی بھی تعریف ہے) وہ یہ ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس میں رہنے والے تمام باشندے اپنی انفرادی پہچانوں کو سلامت رکھتے ہوئے اجتمائی طور پر ‘پاکستانی قوم’ کہلائیں گے. ملک کے مفادات ہر چیز پر مقدم ہیں. اس ملک میں چار بڑی اکائیاں ہیں جن کو صوبے کہا جاتا ہے اور ان صوبوں میں رہنے والے اپنے اپنے صوبوں کے حوالے سے خود کو ‘قوم’ کہتے ہیں۔ ان صوبوں کی الگ الگ زبانیں اور ثقافتیں ہیں۔ یہ سب زبانیں اور ثقافتیں ہزاروں سال پرانی ہیں اور سب انتہائی اہم ہیں اور ساری ہماری ہیں اور ہم ان پر فخر کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر میں رائج ‘قومی ریاست’ یعنی ‘Nation state’ کے نظام کے تحت یہ سب اپنی اپنی ‘قوموں’ کی میراث ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ثقافتیں شمار ہوں گی. گویا ہمارے نزدیک ملک چاہے فقط 70 سال پرانا سہی، وہ مقدم ہے اور صوبے چاہے ہزاروں سال پرانی تاریخیں اور تہذیبیں اور ثقافتیں رکھتے ہوں وہ سب بہت اہم ہیں مگر اپنی تمام اہمیت کے باوجود وہ ملک یا ریاست کے ماتحت ہیں.

‘قوم پرست’ حضرات کی پوسٹوں کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے صوبے کے لوگوں کے حوالے سے لفظ ‘قوم’ استعمال کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں قوم کی اصطلاح کا وہ مطلب ہوتا ہے جو باقی دنیا کسی ملک یا قومی ریاست کی آبادی کے لیے استعمال کرتی ہے.

میرے خیال میں ان کی تلخی اور جارحانہ انداز (یا ڈپریشن) کی وجہ یہ ہے کہ ان کے تصور میں ان کے صوبے صدیوں پرانی قومی ریاستیں ہیں جن کی مقامی آبادی سے اپنے علاقے اور لوگوں پر اقتدار اعلیٰ چھین کر محض 70 سال پہلے پاکستان نامی ایک مصنوعی ملک کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جس میں انہیں دوسری قومی ریاستوں (جنہیں صوبے کہہ کر ان کی بے توقیری کی جاتی ہے) اور باہر سے آئے ہوئے ان لوگوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے جو ان قوموں کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب کے بارے میں نہ صرف کچھ نہیں جانتے بلکہ جاننا بھی نہیں چاہتے اور خود کو پاکستان اور پاکستانیت کے ٹھیکے دار سمجھتے ہیں (یعنی گنگا جمنا والے المعروف بہ مہاجر)۔

جب ایسے قوم پرست صوبائی ‘خود مختیاری’ کی بات کرتے ہیں تو انہیں کچھ مخصوص وزارتیں، یا ویسے ہی تعداد میں پہلے سے زیادہ محکمے اور وزارتیں مرکزی حکومت سے لے کر صوبائی حکومت کے حوالے کروانا نہیں ہوتا۔ وہ منہ سے نہ کہیں، لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ پاکستان یورپین یونین کی طرح کا انتظام ہو جائے جہاں آزادانہ آمد و رفت اور ایک کرنسی تو ہو مگر باقی تمام امور میں صوبے یورپین یونین میں شامل ملکوں کی طرح ہوں جہاں سرحدیں عملی طور پر ختم ہو جانے کے باوجود ان ملکوں کے جھنڈے الگ الگ ہیں، ان کے قومی ترانے الگ ہیں، قومی زبانیں الگ ہیں، ان میں الگ الگ حکومتیں اپنے اپنے ملک چلاتی ہیں اور ان ملکوں کے قوانین بھی الگ الگ ہیں. مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے الگ الگ آزاد ملک بن جائیں، لیکن اگر مجبوری ہو تو کرنسی، دفاع، مواسلات اور کرکٹ ٹیم مرکز اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ اگر بہت مجبوری ہوئی تو اپنے ملک کے جھنڈے کے ساتھ پاکستان کے جھنڈے کو بھی رکھ لیں گے، اور اگر ساتھ نہ رکھنے پر گرفت نہیں ہو، تو نہ رکھیں گے۔ یا پھر ویسٹ انڈیز کی طرح، جہاں جمیکا، ٹرینیڈاڈ، وغیرہ الگ الگ ملک ہوتے ہوئے ایک مشترکہ کرکٹ ٹیم میدان میں اتارتے ہیں۔

ان کے بیانیے میں بہت آئڈیل اور ناقابل عمل صورت حال کی نقشہ کشی کی جاتی ہے جس میں ان کے علاقوں میں صرف ایک ہی قسم کے لوگ بستے ہیں اور دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی ہوتی ہیں۔ سب ایک قوم ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں؛ نہ محلوں میں غنڈے ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی کسی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے، جہاں چوں کہ سب ‘اپنے’ ہوں گے اس لیے سرکاری دفاتر میں رشوت دے کر جائز کام نہیں کروانے پڑا کریں گے۔ وہ اپنی تحریروں میں اور سوشل میڈیا پر دوسرے صوبوں کے لوگوں کی پاکستان مخالف باتوں اور تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں۔ نیتوں کو تو اللہ ہی جانتا ہے مگر مجھے گمان ہے کہ وہ یہ باتیں ان قوم پرستوں کی محبت میں نہیں کہہ رہے ہوتے کیوں کہ سندھی، بلوچی اور پختون قوم پرست تو جد و جہد ہی اس چیز کے خلاف کر رہے ہیں جسے وہ ‘پنجاب کی بالادستی’ کہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اندر سے یہ سب ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، یا کم از کم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے ہیں۔ یہ صرف پاکستان دشمنی میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی ایک دوسرے کے لیے حمایت اس طرح کی ہے جیسے کسی دعوت میں وہ خواتین جو پہلی دفعہ متعارف ہوئی ہوں فوراً بہو مافیا کا مقامی حلقہ بنا کراپنی اپنی ساسوں کی برائیاں کرنے لگتی ہیں اور ایک دوسری سے ساس شکن ٹوٹکوں کا تبادلہ کرتی ہیں۔

اس سلسلے میں میرا کہنا یہ ہے:

ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں اور باقی دنیا سے ہم آہنگ رہنا ہماری مجبوری ہے۔ یہ ‘قومی ریاست’ Nation State

یا ‘ملک’ کا دور ہے۔ یہ میں نے نہیں بنائا، بس ایسی ہی پایا ہے۔ یہ نظام متعارف تو 1648 میں معاہدہ ویسٹ فیلیا

Treaty of Westphalia

کے بعد ہی ہو گیا تھا مگر موجودہ دور میں اسے قانونی شکل اقوام متحدہ کی پیش رو ‘مجلس اقوام’ یعنی

‘The League of Nations’

نے 1920 میں

The Paris Conference on Passports & Customs Formalities and Through Tickets

کے بعد دی۔ اس کے ایک آدھ سال بعد ویزا اور سرحدی فورس کے قوانین بھی نافذ کر دیے گئے ۔ اس میں ملک کو motherland یا fatherland کہا جاتا ہے۔ یہ الفاظ بھی میرے دیے ہوئے نہیں ہیں۔ اس نظام کے تحت ہر ملک کی سرحد کا تعین ہوا اور ان کو بین الاقوامی طور پر قبول کیا جاتا ہے اور ملکی سرحدوں کو ایک تقدیس دے دی گئی ہے۔ جس دور میں ہم رہتے ہیں اس میں انگریزی کا لفظ ‘نیشن’، جس کا اردو ترجمہ ‘قوم’ ہے، ‘ملکوں’ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتا جس میں آپ کرتے ہیں (مگر چوں کہ یہ اصطلاح ہمارے ملک میں دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے اس لیے آپ شوق سے اپنے لیے استعمال کیجیے، بس درخواست یہ ہے کہ جن معنوں میں دنیا استعمال کرتی ہے اس سے انکاری نہ ہوں)۔

دنیا کو مختلف ملکوں میں بانٹنے کی وجہ سے ایسا اکثر ہوا کہ ایک ‘قوم’ (آپ کی ڈیفینیشن کے اعتبار سے) کئی کئی ملکوں میں بٹ کر رہ گئی؛ اور اسے اپنے اپنے ملکوں میں دوسری قوموں کے ساتھ مل کر رہنا پڑا جن کی زبانیں اور رسوم و رواج ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ اس کے بعد تمام وہ لوگ جنہوں نے خود کو ایک ملک میں پایا، چاہے وہ الگ الگ قوموں سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں، اس ملک کے شہری کہلائے اور وہ باقی دنیا میں اجتماعی طور پر اس ‘ملک کی قوم’ کہلائیں گے۔ یہ ایک طرح کا بیرونی دائرہ ہو گیا جس کے اندر مختلف قومیتوں کے دائرے ہوں گے۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان میں پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سندھیوں اور سرائیکی لوگوں کی پہچان ختم ہو گئی ہے، یا ختم ہو جانی چاہیے. ہرگز نہیں، ان کی پہچان ان کے خطے یا صوبے کے حوالے سے، ان کی مادری زبان کے حوالے سے ان کے لوک گیتوں، لوک رقص، شاعری اور ثقافت کے حوالے سے بہت اہم ہیں. اتنی ہی اہم ہیں جتنی قوم پرست کہتے ہیں. ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خود کو قوم کہیں، تو شوق سے کہیں؛ میں واشگاف الفاظ میں کہوں گا کہ ان قوموں کی زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع اور رنگا رنگی سے یہ ملک اور خوبصورت نظر آئے گا۔

مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ آج کی دنیا میں ریاستیں یا ممالک مختلف قسم کی زبانیں بولنے والے اور مختلف ثقافتوں کے حامل لوگوں کو شہری رکھنے کے باوجود ایک اکائی کے طور پر وجود رکھتے ہیں۔

قوم پرست کہتے ہیں کہ ہماری تہذیبیں ہزاروں سال پرانی ہیں، جب کہ ملک حال کی پیداوار ہیں۔ اس لیے وہ اپنی علاقائی تہذیبوں کو ملک سے مقدم سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے ان کی بات درست ہو، لیکن آج کی ‎دنیا میں ملکوں کے درمیان تو تعلقات نباہے جاتے ہیں مگر ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کے درمیان نہیں۔
آپ کو اقوام متحدہ

United Nations Organisation

تو ملے گی لیکن

United Civilisations Organisation

جیسی کوئی تنظیم نہیں ملے گی جس میں دریائے سندھ کی تہذیب کے تعلقات میسوپوٹیمیا (دو آبے) کی تہذیب اور مصری تہذیب سے رکھے جائیں۔ میسوپوٹیمیا کی تہذیب جو دریائے سندھ کی تہذیب سے زیادہ پرانی ہے، اس میں چار بڑے شہر ہوا کرتے تھے: کٹل ہایوک، ار، بابل اور نینوا۔ آج کے دور میں کٹل ہایوک ترکی میں ہے اور باقی تین عراق میں۔ اقوام متحدہ میں اس تہذیب کے نمائندے اپنی تہذیب کے قدیم ہونے کی وجہ سے اپنے ملکوں کے ناموں پر اعتراض نہیں کرتے حالاں کہ موجودہ ترکی اور عراق دونوں پہلی جنگ عظیم کے بعد قائم ہوئے ہیں، اپنے ملکوں کی اہمیت کم نہیں کرتے۔ آپ کو یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ موجودہ paradigm کو ذہن میں رکھیں۔ خدا نخواستہ یہ ہرگز نہیں ہے میں دریائے سندھ کی تہذیب کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہوں اور اس پر فخر نہیں کرتا۔

اصولی طور پر جس طرح ایک ملک میں بسنے والی مختلف قوموں کے افراد کو ایک طرح کے شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ جاری ہوتے ہیں اسی طرح انہیں یکساں حقوق بھی دیے جانے چاہییں۔ یہاں لفظ قوم کا وہ مفہوم آتا ہے جو میں نے استعمال کیا تھا۔ یعنی ایک ملک میں بسنے والی مختلف قومیں اپنی اپنی شناخت رکھیں گی مگر ایک ملک کے شہری ہونے کے باعث وہ اضافی طور پر اس ملک کی قوم بھی کہلائیں گی۔ اس حساب سے لفظ ‘پاکستانی’ شہریت بھی ہے اور وہ بیرونی دائرے والی قوم بھی۔

اس انتظام میں شہریت تبدیل بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ کینیڈا کی شہریت لے لیں تو آپ قوم کے حساب سے پنجابی رہیں گے مگر شہریت کی تبدیلی کی وجہ سے کنیڈین قوم کا فرد بھی کہلانے لگیں گے۔

اس صورت حال میں کسی بھی ریاست کی تمام مختلف اکائیاں اس قسم کی آزادی حاصل کر لیں جیسی ہمارے قوم پرست چاہتے ہیں تو صورت حال آنجہانی یوگوسلاویہ جیسی ہو سکتی ہے جس میں سرب، کرویٹ اور مسلمان صرف اپنے اپنے مفادات کے حصول اور اپنے تعصبات کی خاطر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گئے تھے اور انہوں نے آپس میں اتنا کشت و خون کا بازار گرم کیا کہ باہر والوں کو آ کر انہیں ایک دوسرے سے بچانے کے لیے زبردستی الگ کرنا پڑا تھا۔ بھارت میں پاکستان سے کہیں زیادہ اکائیاں رہتی ہیں، لیکن ان کو وہاں بھی اس قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے جو یہ لوگ چاہتے ہیں۔ وہاں کے شہری اپنی اپنی پہچان رکھنے کے باوجود اپنے بھارتی پن (Indianness) پر بہت نازاں ہیں۔ گاڑیوں میں بھی differential لگایا جاتا ہے تاکہ چاروں پہیے ایک دوسرے سے بالکل آزاد ہو کر انفرادی طور پر نہ چلیں بلکہ ان کی حرکت میں کچھ ہم آہنگی ہو۔

مگر ‘قوم پرست’ حضرات چھوٹے چھوٹے اختلافات کی نرگسیت

the narcissism of small differences

میں بڑی بڑی مشترک چیزوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خود کو پہچان کے چھوٹے سے چھوٹے ڈبے میں بند کرنا چاہتے ہیں. مگر وہ شاید اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جن امتیازی چیزوں پر وہ اتنا فخر کرتے ہیں اور ان کو خالص رکھنے کی خواہش میں خود کو اپنے جیسوں سے الگ سمجھتے ہیں وہ چیزیں باقی دنیا کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں. اس بات کو اس طرح سمجھیے کہ فرض کریں میں اور آپ دبئی سے نیویارک جا رہے ہیں. ہم دونوں ڈپارچر لاونج میں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں اور اس دوران ایک بھارتی پنجاب کا باشندہ ہمارے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنا تعارف کرواتا ہے. اس کے آنے کے بعد آپ اس سے پنجابی میں بات چیت شروع کر دیتے ہیں اور مجھے بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں. میں محسوس کرتا ہوں کہ چوں کہ آپ دونوں کی مادری زبان اور ثقافت ایک ہے اس لیے آپ کو میرے مقابلے میں اس سے زیادہ اپنائیت محسوس ہو رہی ہے. مجھے ہلکا سا افسوس ہو گا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بے شک میری مادری زبان اور ثقافت آپ سے مختلف ہے مگر ستر سال آپ کے ساتھ ایک ملک میں رہنے کی وجہ سے میری آپ کے ساتھ اتنی باتیں سانجھی ہو چکی ہیں کہ مجھے اس طرح نظر انداز نہ کر دیا جائے. اور ستر سال اس بھارتی پنجابی سے الگ رہنے کی وجہ سے ان ہی چیزوں کی وجہ سے اس کے ساتھ مشترک چیزوں میں بڑے بڑے خلا پیدا ہو چکے ہیں. مثال کے طور پر اگر آپ مجھ سے جنرل رانی کا ذکر کریں گے تو میں سمجھ جا‎ؤں گا کہ ذکر خیر اقلیم اختر صاحبہ کا ہو رہا ہے اور ابھی کچھ دیر میں جنرل یحییٰ خان کا ذکر بھی آیا چاہتا ہے؛ مگر وہ سمجھے گا کہ ذکر پاکستان آرمی کی میڈیکل کور کی کسی سینیر ڈاکٹر کا ذکر ہو رہا ہے. اسی طرح جب میں لال حویلی کا ذکر کروں گا تو آپ سمجھ جائیں گے کہ میں شیخ رشید کی بات کر رہا ہوں، مگر وہ شاید سمجھے کہ ہم پاکستان میں واقع کسی مغلیہ دور کے محل کی بات کر رہے ہیں. اسی طرح کتنی ہی چیزیں ہوں گی جو اس کے لیے relevant ہوں گی مگر آپ کو ان کے بارے میں پوری طرح معلومات نہیں ہوں گی.

خیر ہم نیو یارک پہنچ جاتے ہیں اور امیگریشن کی لائن میں ہم تینوں ساتھ اس کھڑے ہوتے ہیں۔ میں سب سے آگے ہوں، اس کے بعد وہ بھارتی پنجابی ہے اور آپ ہم تینوں میں سب سے پیچھے ہیں. جب میری باری آتی ہے تو امیگریشن والا مجھے پاکستانی ہونے کی وجہ سے مزید تفتیش کے لیے روک لیتا ہے. میرے بعد اس بھارتی پنجابی کو بھارتی پاسپورٹ کی وجہ سے جانے دیا جاتا ہے اور جب آپ کی باری آتی ہے تو آپ کو بھی پاکستانی ہونے کی وجہ سے روک لیا جاتا یے.

اب آپ اس امریکی امیگریشن کے اہلکار سے لاکھ کہیں کہ آپ کو اس بھارتی کے ساتھ جانے دیا جانا چاہیے کیوں کہ آپ کی اور اس کی ثقافت مشترک ہے اور ہزاروں سال پرانی ہے. اور آپ پنجابی تو ہزار برسوں سے ہیں مگر پاکستانی صرف ستر سال سے ہیں. اور ویسے بھی پاکستانی ثقافت اور پاکستانی تاریخ نامی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی؛ تو کیا وہ آپ کو اس کے ساتھ جانے دے گا؟

اسی طرح آپ کے اس استدلال کا اس امریکی پر کیا اثر ہو گا کہ سلیم تو خواہ مخواہ ہمارے ساتھ نتھی ہو گیا ہے. یہ سب سے کہتا پھرتا ہے کہ وہ میرا ہم وطن ہے. مگر یہ جھوٹ بولتا ہے. یہ میرا ہم وطن نہیں ہے اس کی مادری زبان مختلف ہے اس کی ثقافت گنگا جمنا والی ہے یہ ان استعماری لوگوں کی اولاد میں سے ہے جو غاصب بن کر آئے اور انہوں نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر قبضہ کر لیا اور ہم سے ہماری زبان ختم کر دی، ہماری تہذیب اور ثقافت کو ختم کرنے اور ہم پر گنگا جمنا تہذیب تھوپنے کی کوشش کی. اس لیے آپ مجھے اس کے ساتھ نہ کھڑا کریں.

ہمیں دنیا کی موجود حقیقتوں کا ادراک ہونا چاہیے. یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ دریا الٹا نہیں بہہ سکتا. اب بین الاقوامی طور پر دنیا کا جو ڈھب بیٹھ چکا ہے وہ ابھی کافی عرصے تک قائم رہے گا. ہمارے غصہ کرنے سے یا گالیاں دینے سے یہ تبدیل نہیں ہو گا. تو چوں کہ آج کی دنیا میں اپنی پہچان اپنے ملک سے کرنے کا نظام رائج ہے اسے آپ بھی قبول کر لیں اور اسے اپنی مختلف پہچانوں میں شامل کر لیں۔

بات یہ ہے کہ دنیا کا تقریباً ہر گوشہ تاریخ میں کبھی نہ کبھی کچھ عرصے کے لیے آزاد رہا ہوگا. ہمارے ‘قوم پرست’ حضرات چاہتے ہیں کہ وہ وقت دوبارہ آ جائے اور آج کے دور میں ان کے علاقے جس جس ملک میں واقع ہیں ان ممالک کی بساط لپیٹ دی جائے اور ان کے صوبے دوبارہ خود مختار ریاستیں بن جائیں. وہ یہ نہیں سمجھتے کہ گیا وقت واپس نہیں آ سکتا۔ آخری مرتبہ پنجاب کی آزاد حیثیت خالصہ راج کی صورت میں تھی. یہ خالصہ راج مہا راجا رنجیت سنگھ نے 1799 میں لاہور پر قبضہ کرنے کے بعد قائم کیا تھا۔ اس سلطنت کو قیام کے صرف 50 سال بعد انگریزوں نے 1849 میں لپیٹ دیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان بننے سے پہلے پنجاب 98 سال تک پنجاب برطانوی ہند کا ایک صوبہ رہا ہے۔ اور اب 70 سال سے پاکستان کا صوبہ ہے۔ جب پنجاب کی سلطنت وجود رکھتی تھی تب دنیا دوسری تھی، اس کے paradigm دوسرے تھے۔ تب بھی وہ صرف 50 سال چلی اور 160 سال پہلے ختم ہو چکی۔ اب دنیا بدل چکی ہے۔ وقت کا دھارا پلٹایا نہیں جا سکتا۔ جب تک موجودہ paradigm چلے گا تب تک پنجاب ایک الگ ملک نہیں بن سکے گا۔ اس لیے درخواست کروں گا کہ جو نہیں ہو سکتا اس کی چاہ میں جو پاس ہے اسے ضائع نہ کریں۔ اس لیے پاکستان ہی کو قبول کیجیے۔

‎ہمیں لمحۂ موجود میں اس کی تمام تر اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے اور ہمیں مستقبل کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اور مستقبل بھی وہ جو ممکنات کے حوالے سے ہو۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ان کا صوبہ علیحدہ ملک نہیں بن پا رہا ہوتا تو یہ تلملائے تلملائے پھرتے ہیں. سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹس میں زیادہ تر ملک کے خلاف بہت تلخ لہجے میں باتیں ہوتی ہیں، یہ لوگ بہت باقائدگی کے ساتھ دوسروں کی ایسی ہی زہر میں بجھی ہوئی پوسٹس شئیر کرتے ہیں جن میں ملک کی برائیاں کی گئی ہوں. اسی طرح، جو شخصیات ملک کے حوالے سے اہم ہوتی ہیں ان کی کردار کشی کی جاتی ہے، اور ان کے مخالفین کی تعریفیں کی جاتی ہیں. ایک چیز جو ان سب میں مشترک ہے وہ فوج کو گالی دینا.

اس مقام پر میں تھوڑی سی وضاحت کر دوں تا کہ غلط فہمی نہ پیدا ہو جائے. پچھلے پیراگراف میں میں نے جو باتیں لکھی ہیں یہ ساری چیزیں وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو قوم پرست نہیں بلکہ محب وطن ہوتے ہیں، مگر ان کے انداز میں اور قوم پرستوں کے انداز میں ایک واضع فرق ہوتا ہے. محب وطن حضرات کی پوسٹس میں تنقید تو ہوتی ہے اور خوب ہوتی ہے، مگر توہین نہیں ہوتی. اسی طرح، جب وہ کسی کی تنقیدی پوسٹ شئیر کرتے ہیں تو ملک کے درد میں کرتے ہیں، اس کے بغض میں نہیں. اور اس بات کا ثبوت چاہیے ہو تو ان کی پوسٹس پر ہونے والے تبصرے پڑھ لیں. قوم پرستوں کی پوسٹس پر تبصرے بھی انتہائی جذباتی اور توہین آمیز ہوتے ہیں جب کہ محب وطن لوگوں کی تنقیدی پوسٹس پر تبصروں میں ملک کے لیے درد پایا جاتا ہے.

اور سب سے نازک بات جس پر قوم پرست اور لبرل دونوں، بلکہ میرے اپنے دوست بھی میری کھال کھینچ لیں گے اس کی وضاحت بھی ضروری ہے. میں بھی تمام حضرات کے ساتھ متفق ہوں کہ فوج کا کام سیاست کرنا نہیں ہے. اس لیے مارشل لا نہیں لگنا چاہیے. میں یہ بھی مانتا ہوں کہ مارشل لا کے نفاذ کے بعد مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے. یہ سب عرض کرنے کے بعد کہوں گا کہ یہ ایک اصولی بات ہے اور اس پر گفتگو بھی اصولوں اور دلیلوں کے ساتھ غیر جذباتی انداز میں کی جانی چاہیے. آپ اخباروں یا سوشل میڈیا پر دیکھیں تو صحافی لوگ اس حوالے سے مضامین لکھتے ہیں جن میں جمہوریت کی ضرورت اور ماشل لا کے نقصانات پر دلیل کے ساتھ گفتگو ہوتی ہے. لوگ سوشل میڈیا میں بھی اس موضوع پر کھل کر بات کرتے ہیں. مگر ہمارے قوم پرست بھائی اس معاملے میں اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ جیسے انہیں فوج سے کوئی ذاتی دشمنی ہو، وہ بات کو طعنوں اور گالی گلوچ تک لے جاتے ہیں۔ یہی حال ان کی پوسٹس پر تبصروں کا بھی ہوتا ہے. اگر کوئی شامت کا مارا فوج کی تعریف کر دے تو عام لوگ ذاتی توہین کیے بغیر، اسے دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر بات بڑھ جائے تو آخری بات ہوتی ہے کہ وہ سامنے والے کو ‘بوٹ پالشیا’ کہہ دیتے ہیں. مگر ہمارے قوم پرست بھائی بات شروع بوٹ پالشیا سے کرتے ہیں اور بات گالی گلوچ تک پہنچ جاتی ہے. گویا یہ لوگ ہر اس چیز کے خلاف ہیں جو وفاق کی ترجمانی کرے.

ایک اور بات قوم پرست لوگ بہت کہتے ہیں کہ اگرکسی ‍قوم کو دیوار سے لگایا تو وہ ہتھیار نہیں اٹھائے گی تو کیا کرے گی۔ اس سلسلے میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بات تو طے ہے کہ کسی کے خلاف زیادتی نہیں کی جانی چاہیے۔ سب کو ان کے حقوق دیے جانے چاہییں مگر یہ بھی لازمی نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جس پر زیادتی ہو وہ ہتھیار ہی اٹھا لے۔ زیادتی اور ہتھیار اٹھانے کے درمیان ایک بہت بڑا مرحلہ اشتعال دلانے والوں کی کارروائیوں کا بھی ہوتا ہے۔

انسان کو اپنے خاندان سے، اپنی زبان سے، اپنے قبیلے سے، اپنے علاقے سے (چاہے آبائی ہو یا اختیاری) اپنی تہذیب سے اور اپنے مذہب سے محبت ہونی چاہیے. اس محبت میں ان چیزوں کی بہتری اور ترقی کے لیے اسے پوری کوششیں کرنی چاہییں مگر ایک اور بات ذہن میں رکھنی چاہیے۔ وہ یہ کہ بعض اوقات لوگ اعداد و شمار کو دانستہ یا نادانستہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کر جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1970 کے عشرے کے شروع میں خان عبدالولی خان نے ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں پانچ ہزار سال سے پٹھان ہوں، چودہ سو سال سے مسلمان ہوں اور صرف پچیس سال سے پاکستانی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس بات سے اپنی ترجیحات کے بارے میں بتا رہے تھے۔ اگر سرسری طور پر دیکھا جائے تو بات بہت معقول لگتی ہے۔ واقعی پختون پانچ ہزار سال پرانی نسل ہوں گے، واقعی اسلام 1970 کے عشرے سے چودہ سو سال پہلے آیا تھا اور تب پاکستان کی عمر پچیس سال ہی تھی۔ مگر یہ اپنے اپنے زاویۂ نگاہ کی بات ہے۔ آپ اس معاملے کو اس طرح بھی دیکھ سکتے ہیں اور اس کو ایک اور طریقے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ دنیا انسان کے لیے relevant اس وقت ہونا شروع ہوتی ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے اور اس دن relevant ہونا چھوڑ دیتی ہے جس دن وہ مر جاتا ہے۔ اس کے پیدا ہونے سے پہلے جو کچھ ہوا وہ موجودہ دور میں یا تو تاریخ ہے، myth ہے یا محض داستانیں، اور اس کے مرنے کے بعد جو ہوتا ہے اس سے اس کے اوپر کوئی فرق نہیں پڑنے والا.

اس بات کو سمجھنے کے لیے مثال کے طور پر ہم آپ کو لے لیتے ہیں. خود آپ کی عمر پانچ ہزار سال نہیں ہے. آپ یقیناً 1947 کے بعد پیدا ہوئے ہیں. اس کا مطلب یہ ہے کہ جس دن آپ پیدا ہوئے آپ کا تعارف پنجابی زبان، پنجابی ثقافت اور تہذیب سے اسی دن ہوا. اس کے ساتھ ساتھ، چاہے اسلام پندرہ سو سال پہلے آیا ہو، اور مذہبی اعتبار سے آپ جس فرقے یا مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے ہیں وہ کتنے ہی پرانے کیوں نہ ہوں، آپ کا ان سے تعلق اپنی پیدائش کے بعد ہی ہوا تھا، اور اس سے پہلے نہیں. اسی طرح جس دن آپ پیدا ہوئے اس وقت تک پاکستان نام کے ملک کو قائم ہوئے کئی عشرے گزر چکے تھے. آپ ایک قائم شدہ اور چلتے ہوئے ملک میں پیدا ہوئے ہیں (چاہے اس کی چال آپ کو پے ڈھنگی ہی لگے)۔

اس منطق کے تحت ان سارے عناصر کی اپنی اپنی عمریں کتنی ہی کیوں نہ ہوں، یہ سب آپ کو ملے اکٹھے اور ایک ہی دن ہیں. لہٰذا آپ ایک ہی دن پنجابی، مسلمان / (سنی/دیوبندی/بریلوی/اہل حدیث/شیعہ میں سے ایک)/(جنجوعہ/بھٹی/ملک/کیانی/اعوان/چودھری/راجپوت/جٹ وغیرہ میں سے ایک) اور پاکستانی بن جاتے ہیں.

یہ ساری مختلف پہچانیں آپ کی ہیں اور ساری کی ساری آپ کو ایک ہی دن ملی ہیں. اس کے بعد آپ عام طور پر غیر ارادی طور پر (اور کبھی کبھی ارادہ کر کے) اپنے والدین کی تربیت اور گھر کے ماحول، دوستوں، رشتے داروں اور اساتذہ کی صحبت یا فطری میلان کے باعث ان میں سے ایک کو اپنی default پہچان بنا لیں گے.

اس وجہ سے اچھا پنجابی ہونے کے لیے برا پاکستانی ہونا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی اچھا پاکستانی ہونے کی شرط ہے برا پنجابی ہونا. آپ ایک ہی وقت میں اچھے پنجابی اور اچھے پاکستانی ہو سکتے ہیں.

آپ نے یہ بات درست لکھی ہے کہ تاریخ میں پاکستان نام کی کوئی اکائی نہیں پائی جاتی تھی اور یہ صرف 70 سال پہلے وجود میں آیا. میں متفق ہوں مگر جس دنیا میں آپ رہ رہے ہیں اس دنیا میں پاکستان ایک حقیقت ہے اور آج سے نہیں ستر سال سے حقیقت ہے. ستر سال میں تین نسلیں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ اتنا لمبا عرصہ ہوتا ہے کہ مشترکہ تاریخ شروع کی جا سکے، چاہے وہ کتنی ہی ‘مصنوعی’ بنیادوں پر بنایا گیا ہو. بس اپنانا شرط ہے.

پاکستان کی موجودہ صورت حال میں اردو کو سرکاری طور پر قومی زبان قرار دیے 70 سال کا عرصہ گزر چکا ہے، یہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے افراد کے درمیان رابطے کی زبان ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب کے شہروں میں متوسط طبقے کی ایک معقول تعداد کی دوسری مادری زبان بن چکی ہے. یہاں ایک ڈھب بیٹھ چکا ہے.

فرید نواز بلوچ اور صلاح الدین ٹونیو ہمارے بچپن کے زمانے میں پاکستان ٹیلی وژن کے کراچی مرکز سے سندھی ڈراموں میں کام کیا کرتے تھے. پورے سندھ میں مشہور تھے مگر سندھ کے باہر انہیں بہت کم لوگ جانتے تھے. ان کے بیٹے یاسر نواز، دانش نواز اور فہد مصطفٰی ٹونیو کیوں کہ اردو ڈراموں میں کام کرتے ہیں اس لیے اپنے والد کی طرح صرف سندھ میں ہی مقبول نہیں، بلکہ پورے پاکستان میں مقبول ہیں. اسی طرح احمد فراز اور عطا شاد اپنی اردو شاعری کی وجہ سے احمد فراز صرف خیبر پختونخوا میں اور عطا شاد صرف بلوچستان میں نہیں پورے ملک میں پہچانے جاتے تھے.

پھر رہی سہی کسر خبروں کی 24 گھنٹے براہ راست نشریات نے پوری کر دی ہے. اب ہر ٹیلی وژن چینل پر پورے پاکستان سے تازہ ترین خبریں مسلسل لائو دکھائی جاتی ہیں اور چوں کہ پورے پاکستان میں دکھائی جاتی ہیں اس لیے اردو میں ہوتی ہیں. ان خبروں اور انٹرویوز میں وہ لوگ بھی اردو میں بات کرتے ہیں جنہوں نے اپنی صوبائی زبانوں کو ‘ان کا جائز مقام دلوایا ہے’. مثال کے طور پر میں نے کئی بار ٹی وی پر خورشید شاہ صاحب کی سکھر سے براہ راست دکھائی جانے والی پریس کانفرنس دیکھی ہے جس میں وہ اردو میں خطاب اور سوالوں کے جواب دے رہے ہوتے ہیں. (میں یہ ماننے کو تیار ہوں کہ کیمروں کے بند ہوتے ہی انہوں نے سندھی میں بات کرنا شروع کر دی ہوگی), اور تو اور سندھ اسمبلی میں جہاں کچھ عرصہ قبل تک سندھی ارکان اور اردو گو حضرات کے دوران ایسی صف آرائی تھی کہ سندھی ارکان سندھی زبان میں ہی کارروائی کرتے تھے اور اردو گو ارکان کو ترجمے کے لیے ہیڈ فون استعمال کرنے پڑتے تھے (یہ بات اپنی جگہ شرمندگی کا باعث ہونی چاہیے کہ سندھ اسمبلی کے ارکان کو اپنے صوبے کی آبائی اور سرکاری زبان کے ترجمے کی ضرورت پڑے). مگر آج کل جب کبھی ٹی وی پر سندھ اسمبلی کی کارروائی دکھائی جاتی ہے تب اس میں سندھی ارکان بھی اردو میں بات کرتے ہیں. میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ٹی وی کی براہ راست نشریات کی وجہ سے لوگ اب اردو میں زیادہ بات کرنے لگے ہیں.

ان باتوں کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ اردو زبان پاکستان پر تھونپی نہیں جا رہی. میرا ماننا ہے کہ کوئی زبردستی نہ تو کوئی زبان کسی پر تھونپ سکتا ہے اور نہ ہی کسی ترقی کرتی ہوئی اور عوام میں مقبول زبان کا راستہ روک سکتا ہے. نہ تو کسی نے انفرادی یا گروہ کی صورت میں پنجابیوں کو مجبور کیا کہ وہ گھر پر اردو بولیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی لوگوں کو گھر میں پنجابی بولنے سے روکا. چاہے یہ اچھی بات ہو یا بری، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جس طرح انگریزی پاکستانی معاشرے کے امیر طبقوں میں سٹیٹس سمبل ہے اور معاشی مواقع فراہم کرتی ہے اسی طرح پاکستان کے متوسط طبقے کے لیے اردو سٹیٹس سمبل بن چکی ہے اور اس زبان سے ان کے معاشی مفادات بھی وابستہ ہو گئے ہیں۔

ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ایک ملک میں اردو کے حوالے سے ایک خاص ڈھب بیٹھ گیا ہے. یہ ایسا ہے جیسے بہتا ہوا دریا ہو. اسے واپس الٹا نہیں چلایا جا سکتا. دریا کا راستہ تبدیل کر کے اسے زیادہ دیر اپنے علاقے میں رواں رکھنا تو ممکن ہے مگر تب بھی وہ ڈھال سے نیچے کی طرف ہی بہے گا، پانی کا واپس بلندی کی طرف جانا قانون فطرت کے خلاف ہے.

آپ کو پنجابی زبان بہت عزیز ہے. بہت اچھی بات ہے، ہونی بھی چاہیے. آپ بہتے دریا کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کیجیے. یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے علاقے کے پنجابی شاعروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیجیے اور مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں پنجابی مشاعرے کروائیے. آپ اپنے علاقے کے مخیر حضرات سے کہیں کہ وہ پنجابی کے ادبی رسالے نکالیں، اور سب سے بہتر افسانے یا نظم کو تھوڑا سا نقد انعام دیں. اگر مخیر حضرات پیسے دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو آپ لوگ اس کام کے لیے چندہ اکٹھا کر سکتے ہیں. اس کے علاوہ پڑھے لکھے رٹائرڈ حضرات طالب علموں کے لیے کوچنگ سینٹر کھولیں جہاں وہ طلبا کو مفت میں پنجابی زبان میں پڑھائیں. مجھے امید ہے کہ ان اقدامات سے پنجابی زبان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور نیچے کی طرف بہتا ہوا دریا زیادہ دیر تک پنجاب کی سرزمین پر بہے گا۔

آپ ایک کام اور کر سکتے ہیں اور وہ کہ دریا میں پنجاب سے نکلنے کے بعد بھی دیر تک پنجاب اور پنجابی کی چاشنی رہے. وہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ پنجابی ادب کا اردو میں ترجمہ ہوگا اتنا ہی زیادہ غیر پنجابی پاکستانی پنجاب، اس کی روایات اور ثقافت سے متعرف ہوں گے. پنجابی شاعری جو مختلف گلکوکاروں نے گائی ہے اور ٹپوں کو ان کی پنجابی دھنیں برقرار رکھتے ہوئے اردو میں رکارڈ کیا جائے وہ گانے یقیناً پورے ملک میں مقبول ہوں گے اور پنجاب کی ثقافت کے سفیر کا کردار ادا کریں گے۔

یہ سارے مثبت اقدامات ہیں. ان سے ان مقاصد کے حصول کا زیادہ امکان ہے بہ نسبت اس کے کہ کسی کو برا بھلا کہنا یا طعنے دے کر پنجابی بولنے پر مجبور کرنا. اس حکمت عملی کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم آپ اپنی بیگم کی بات کیا اس وقت زیادہ مانتے ہیں جب وہ ہم سے پیار سے کروانا چاہتی ہیں یا جب وہ کوسنے اور طعنوں پر انحصار کرتی ہیں؟

ہمارے پنجابی قوم پرست حضرات پاکستانی پنجابیوں سے تو بہت ناراض رہتے ہیں کہ انہوں نے پنجابی زبان چھوڑ کر اردو اپنا لی ہے، لیکن وہ سکھوں سے بہت مرعوب ہیں کہ انہوں نے پنجابی زبان کا دامن تھامے رکھا ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کی بات مانے لیتے ہیں کہ پاکستانی پنجابیوں نے اپنی ‘ماں بولی’ جھوڑ دی ہے، مگر اپنے قیام کے وقت انہیں جو پنجاب ملا تھا (جس کا نام اس وقت ‘مغربی پنجاب’ رکھا گیا تھا) اسی رقبے کے ساتھ آج بھی موجود ہے، بلکہ اس میں اضافہ یہ ہوا ہے کیوں کہ ریاست بہاول پور بھی اس میں ضم کر دی گئی ہے۔ عشروں پر محیط جد و جہد کے باوجود سرائیکی بولنے والے جنوبی پنجاب کے علاقے میں اپنا صوبہ نہیں بنا سکے ہیں۔ اور پنجابیوں کا اپنے پورے صوبے پر حق ہے۔ اب ذرا سکھوں کی کارکردگی دیکھ لیتے ہیں۔ پنجاب کا جو حصہ بھارت کے حصے میں آیا اس کو مشرمی پنجاب کا نام دیا گیا تھا۔ اس صوبے کو توڑ کر تین ریاستیں بنا دی گئیں: پنجاب، ہریانا اور ہماچل پرادیش۔ ان تینوں میں سے صرف وہ ریاست جس کا نام پنجاب ہے اب سکھوں کے پاس ہے اور وہاں کی سرکاری زبان پنجابی ہے۔ باقی دونوں ریاستوں میں جو مشرقی پنجاب کو توڑ کر بنائی گئی تھیں ان میں اکثریت ہندوؤں کی ہے اور ان دونوں ریاستوں کی سرکاری زبان ہندی ہے۔ اب فیصلہ آپ خود کریں کہ کون بہتر رہا، پاکستانی پنجابی جنہوں نے (بقول آپ کے) اپنی ماں بولی چھوڑ دی لیکن اپنی دھرتی بچا لی، یا بھارتی سکھ جنہوں نے اپنی ماں بولی بچا لی لیکن اپنی دھرتی گنوا دی۔

زبان ایسی چیز ہے جس سے لوگوں کو قریب بھی لایا جا سکتا ہے اور خود سے دور بھی کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ویسے از راہ تفنن کہوں گا کہ اگر پنجابی لوگ اپنی زبان چھوڑ کر اردو اپنا رہے ہیں تو اتنا بھی اداس ہونے کی بات نہیں ہے کیوں کہ ان حضرات کی ہی وجہ سے اردو بھی اردو نہیں رہی اب جو زبان پاکستان میں اردو کہلاتی ہے وہ اصل میں ‘پنجردو’ ہے. اب اس قسم کے جملے اردو شمار کیے جانے لگے ہیں: “میں نے باہر (ہ پر زیر کے ساتھ) جا کر مرزے کے بیٹے کی پھینٹی لگانی ہیں. وہ میرے ساتھ پنگے لے رہا تھا اور ایک گھینٹے سے گالیاں نکال رہا تھا. میں نے اس کو اتنی چپیڑیں لگانی ہیں، اتنے ٹھڈے لگانے ہیں کہ اسے لگ پتہ جائے گا!”

میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں پنجابی ثقافت کو کوئی خطرہ نہیں ہے. بلکہ یہ پورے پاکستان کی ثقافت بنتی جا رہی ہے. مثال کے طور پر کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکن اپنے جلسوں میں بھنگڑے ‘ڈالتے’ ہیں. میرے اپنے خاندان کی شادیوں میں میرے بچپن کے دنوں میں امیر خسرو کے گیت گائے جاتے تھے. آج کل میرے خاندان کی شادیوں میں پنجابی ٹپے گائے جاتے ہیں. اور تو اور حال کی فلم یلغار میں سوات کے علاقے میں ایک پختون خاندان کی شادی دکھائی گئی تھی جس میں پنجابی ٹپے گائے جاتے دکھائے گئے ہیں.

اس چیز کی وضاحت کر دوں کہ ہر وہ شخص جو پاکستان کے قیام کو غلط قرار دیتا ہے یا اس کو توڑنے کی، یا اس کو یوروپین یونین کی طرز پر ڈھیلا ڈھالا وفاق بنانے کی بات کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ دل سے پاکستان کا برا چاہتا ہو۔ بعض اوقات جذباتی حضرات، جنہیں اپنے غصے پر ذرا کم قابو ہوتا ہے، وہ ملک کو اور عوام کو درپیش حقیقی مسائل سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں، بعض اوقات کچھ نا انصافیاں دیکھ کر وہ غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے غصے میں یہ باتیں کہہ جاتے ہیں۔ ان سے میں عرض کروں گا کہ اس طرح سے وہ اپنا موقف خراب کر لیتے ہیں۔ یہ ذمے داری پیغام پہنچانے والے کی ہے کہ وہ اس طرح بات پہنچائے کہ سننے والا ان کی بات کا مفہوم سمجھ سکے۔ یہ حضرات اپنی بات اتنے جذباتی اور جارحانہ انداز سے کرتے ہیں کہ لوگ ان کے بات کہنے کے انداز کو پکڑ لیتے ہیں، اور ان کی شکایات پس پشت چلی جاتی ہیں۔ یہاں مجھے ابن انشا کے دو شعر یاد آ رہے ہیں، شاید کہ وہ میرا نقطۂ نظر زیادہ بہتر طور پر آپ تک پہنچا سکیں:

پینا پلانا عین گناہ ہے، جی کو لگانا عین ہوس
آپ کی باتیں سب سچی ہیں، لیکن بھری بہار کے بیچ

شہر کے لوگ اچھے ہیں، ہمدرد ہیں پر ہماری سنو ہم جہاں گرد ہیں
داغ دل نہ کسی کو دکھانا سجن، یہ زمانہ نہیں وہ زمانہ سجن

میرا ان سے یہ کہنا ہے: آپ کی پوسٹس آپ کے دُکھی دل کی ترجمانی کرتی ہیں مگر پڑھنے والے کی ایک مجبوری ہے کہ وہ صرف آپ کے پوسٹ کیے گئے الفاظ ہی پڑھ سکتا ہے، نہ آواز کا اتار چڑھاؤ محسوس کر سکتا ہے، نہ ہی آپ کی بدن بولی پر غور کر سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ آپ کے دل میں نہیں جھانک سکتا۔

اس لیے وہ اپنا رد عمل آپ کے الفاظ پر دینے پر مجبور ہے۔ یہ مانا کہ آپ پاکستان کے مسائل سے پریشان ہیں مگر آپ کی پوسٹس بہت اشتعال انگیز ہوتی ہیں اور ان کو آپ کے موقف پر منفی اثر پڑتا ہے۔ میں ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ کس طرح کی ہوتی ہیں۔ فرض کریں کہ کوئی طالب علم الجبرا میں کمزور ہے اور باقائدگی سے اس مضمون میں فیل ہوتا ہے۔ اس کی الجبرا میں کمزوری پر اس کا چچا اس سے مسلسل یہ کہتا رہے کہ تیرے تو ماں باپ کی شادی ہی غلط ہوئی تھی، تیری ماں ہمارے خاندان کے لیے مناسب بہو نہیں ہے، اس لیے یہ شادی مصنوعی ملاپ ہے۔ نہ تیرے والدین کی شادی ہوتی نہ تو الجبرا میں فیل ہوتا! اور تیرے دادا تیرے ابا سے ٹھیک کہتے تھے ناں کہ تیری ماں سے شادی مت کر، پچھتائے گا، دیکھا ان کی بات درست ثابت ہوئی کہ نہیں! اب بچے کی ساری توانائیاں اپنے ماں باپ کی شادی کے حق میں جواز دیتے گزر جاتی ہے، اور توجہ اس کی الجبرا میں کمزوری سے ہٹ جاتی ہے۔

یا چچا یہ کہتا ہے کہ جب الجبرا میں کمزور ہے تو بہتر ہے کہ سکول سے ہی اٹھا لیا جائے؛ نہ صرف الجبرا میں فیل نہیں ہو گا بلکہ وقت اور پیسے بھی بچیں گے۔

جب پڑھنے والا آپ کی پوسٹس میں قیام پاکستان کی مخالفت پڑھتا ہے اور مولانا ابو الکلام آزاد کی پاکستان بنانے کے خلاف تنبیہ پڑھتا ہے تو اس کی کیفیت اس بچے والی ہو جاتی ہے جسے اپنا اس دنیا میں وجود جسٹیفائی کرنے کے لیے شدت کے ساتھ اپنے والدین کی شادی کا دفاع کرنا پڑتا ہے اور دادا کو غلط ثابت کرنا پڑتا ہے۔

اور آپ کے دل میں جھانک نہ سکنے کی کیفیت میں جب وہ پڑھتا ہے کہ اس مصنوعی ملک کو ختم ہو جانا چاہیے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے سکول سے اٹھائے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔

جب آپ رعایت کر کے یہ کہتے ہیں کہ چلو اچھا پاکستان کی بساط نہیں لپیٹنا چاہتے تو صوبوں کو اتنا مضبوط کر دو کہ وہ دو ایک چیزوں کو چھوڑ کر یوروپین یونین کی طرح ہو جائیں تو اس بچے کی مثال کے مطابق اسے ایسا لگتا ہے کہ اس کے والدین سے کہا جا رہا ہے کہ تمہاری شادی ویسے ہی مصنوعی ہے، تو تم شادی شدہ تو رہو مگر تم دونوں آزاد ہو۔ آج سے بچے کے لیے الجبرا کا ٹیوشن لگوا دو اور خود اوپن میرج کر لو۔ جو پسند آتا ہے اس کے ساتھ معاملہ کر لیا کرنا، بس شرط یہ ہے کہ عیدوں پر اور بچوں کی سالگراہوں پر فیملی ڈنر ضرور کرنا ہے۔ اس انتظام کو دیکھ کر سمجھ دار اولاد کی گھگھی بندھ جائے گی۔

الجبرا میں کمزور ہونے پر یہ کہنا کہ والدین کی شادی نہیں ہونی چاہیے تھی، بعد الوقت ہے بلکہ بے وقت کی راگنی ہے۔ اور اجبرا کا ٹیوٹر لگانے کے بعد والدین کی اوپن میرج ایک ایسا حل ہے جس سے ممکن ہے کہ الجبرا کا مسئلہ حل ہو جائے، لیکن خاندان کے لیے پہلے زیادہ گمبھیر مسائل اٹھ کھڑے ہوں۔

اس لیے میرا مشورہ ہے کہ الجبرا میں کمزوری کا مسئلہ واقعی ایسا ہے جس سے ہماری راتوں کی نیندیں اڑ جانی چاہییں۔ اس لیے آپ اس میں ٹیوشن کا بند و بست کریں۔ اپنی پوسٹس ان مسائل پر لکھیں جو واقعی جینون ہیں اور ان کے حل کی بات کریں، اس سے آپ کی بات کو بہت پزیرائی ملے گی، لوگوں کو اصل مسائل اور خطرات کی آگہی ملے گی اور آپ ان کے گائڈ اور مینٹور بن جائیں گے اور ہم جیسوں کے پاس مخالفانہ پوسٹس لکھنے کا جواز بھی نہیں رہے گا۔

ایک آخری بات یہ ہے ہم پر تو جیسی بھی بیتی گزار ہی رہے ہیں اور جو بچی ہے وہ بھی گزار ہی لیں گے. ہمارے جو بھی نظریات ہیں وہ پختہ ہو چکے ہیں اور اب تک ان کا رنگ اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ وہ اب ہمارے ڈیفالٹ فطرت بن چکے ہیں. اب یہ صورت حال ہے کہ اگر فرض کریں کہ ہم سامنے والے کے دلائل سے واقعی قائل بھی ہو جائیں کہ ہماری پرانی سوچ غلط تھی اور اس کے بعد دو تین دن تک اس بات کا ذکر نہ ہو تو چوتھے دن ہم پھر وہی سوچ رہے ہوں گے جو قائل ہونے سے پہلے سوچتے تھے.

اب ہمیں آنے والے وقتوں میں اپنی اولاد پر دھیان دینے کی ضرورت ہے. ہم میں سے جن لوگوں کے لیے امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا یا نیو زی لینڈ وغیرہ کی شہریت لینا ممکن ہے وہ تو آرام سے اپنی اولاد کو لے کر وہاں جا سکتے ہیں اور ان کے بچوں کا مستقبل وہاں بن جائے گا؛ مگر جن کے لیے کہیں اور کی شہریت لینا ممکن نہیں ہے، ان کے بچوں کو پاکستان میں ہی پلنا بڑھنا یے، اسی ملک میں اپنے ہم وطنوں سے مقابلہ کر کے اپنے لیے جگہ بنانی ہے. ہمیں ان کو اس قابل چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ یک سو ہو کر اپنے باقی ہم وطنوں سے اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے برابری کی سطح پر مقابلہ کر سکیں. بچے اسپنج کی طرح ہوتے ہیں. وہ ہر طرف سے سیکھ رہے ہوتے ہیں. براہ راست تعلیم اور تربیت سے بھی اور مشاہدے سے بھی. وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کے بڑوں کے نظریات کیا ہیں اور ان کی توانائیاں کہاں خرچ ہو رہی ہیں اور ان چیزوں سے بھی سیکھتے ہیں. اگر ہم دانستہ یا بالواسطہ ان کو زہر اور نفرت کی ڈرپ لگاتے ہیں تو وہ بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں. اس کے بعد ممکن ہے کہ وہ بھرپور طریقے سے معاشرے میں اپنا مقام نہیں بنا پائیں. وہ یا تو بہت زیادہ جذباتی ہو سکتے ہیں، یا ضرورت سے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر کے دوسروں کو اپنا دشمن بنا سکتے ہیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ مخالفین کے ‘مظالم’ کی داستانیں سن سن کر ان سے نفسیاتی طور پر خوف زدہ ہو جائیں اور اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار نہ لا سکیں۔

کاشف صاحب، آپ کے بیانیے میں اردو زبان اور ‘گنگا جمنا والوں’ کو غاصب بیان کیا گیا ہے. اس بیانیے کے مطابق 1947 میں گنگا جمنا کے علاقے کے لوگ آئے اور انہوں نے ہزاروں سال پرانی تہذیبوں پر اپنی تہذیب اور زبان مسلط کر دی اور اسلام اور اردو کے نام پر اس علاقے کے (آپ غور کریں کہ میں نے لفظ ‘ملک’ استعمال نہیں کیا کیوں کہ آپ کے بیانیے کے حساب سے ملک ایک مصنوعی انتظام ہے جس کی وجہ سے اس خطے کی تمام ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کی شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے) لوگوں کو غلام بنا لیا گیا ہے. اور یہ لوگ اب تک اسٹیبلشمنٹ کا اہم ستون ہیں۔

میں نے جب یہ بیانیہ پہلی بار سنا تو بھونچکا رہ گیا تھا! سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ان پاکستانیوں کے لیے جو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان میں موجود اپنے آبائی علاقے اور اپنے آبا و اجداد کی قبریں چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے اور خاص طور پر ان کی اولادوں اور اولادوں کی اولادوں کے لیے جو پاکستان میں پیدا ہوئی ہیں ‘گنگا جمنا والے’ کی اصطلاح اتنی ہی تکلیف دہ اور توہین آمیز ہے جتنی ‘ہندوستوڑے’۔ اس اصطلاح کا کیا مطلب لیا جا سکتا ہے سوائے اس کے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں ان علاقوں کا نام لے کر غیر ملکی کہا جا رہا ہے جن سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ چوں کہ میں ان لوگوں کی اولاد ہوں جو گنگا جمنا کے علاقوں سے آئے تھے، اس لیے اس بیانیے کے حساب سے تو میں بھی اس جدید نوآبادیاتی استحصالی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں. میں نے اپنے خاندان پر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ میرے دادا دادی اپنی سات اولادوں یعنی میرے والد، تین چچاوں اور تین پھوپھیوں کو ساتھ لے کر 1947 میں ہی پاکستان آ گئے تھے. اس وقت میرے والد کوئی پچیس سال کے تھے اور ان کی شادی نہیں ہوئی تھی، میرے ایک چچا بیس سال کے ہوں گے، باقی دو چچا ٹین ایجر تھے اور تینوں پھوپھیاں چھوٹی عمروں کی تھیں.

انہوں نے کراچی آنے کے بعد اس وقت کے شہر سے باہر کے علاقے لالو کھیت میں مہاجروں کے لیے بسائے گئے کیمپ میں ایک جھونپڑی (جسے کراچی کی زبان میں جھگی کہتے ہیں) ڈالی تھی جس میں میرے دادا اپنی آل اولاد کے ساتھ رہتے تھے. وہ لوگ بتاتے تھے کہ ان کی جھونپڑی کے ارد گرد ہزارہا دوسری جھونپڑیاں تھیں۔ رفتہ رفتہ یہ علاقہ مہاجر کیمپ سے ایک بستی میں تبدیل ہو گیا اور اس کا نام لیاقت آباد رکھ دیا گیا. لوگوں نے نوکریاں یا محنت مزدوری کر کے ان جھونپڑیوں کی جگہ پر گھر بنا لیے. بہت سے لوگوں نے نئے قائم کیے گئے ملک میں پیدا ہونے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی اور اپنے خاندان والوں کی زندگیاں سنوار لیں، اور بہت سے لوگ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

جاری ہے

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”قوم پرست۔۔۔سلیم احسن نقوی/حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *