بات یہاں سے شروع ہوتی ہے۔۔نجم ولی خان

میرے جماعت اسلامی کے دوست خوش ہیں ، نازاں ہیں ،فرحاں ہیں اور یقین مانئے مجھے بھی اپنے ہم وطن سیاستدان پر فخر اورمسرت کا احساس ہو رہا ہے۔جناب شمس الدین جماعت اسلامی پاکستان کے سوشل میڈیا ڈپیارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں ، وہ احسان کوہاٹی صاحب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، ’ ضیاء الرحمان آفریدی بریف کیس لے کر آیا تو پانچ پانچ ہزار کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا، کہنے لگا، محمد علی نو کروڑ روپے کم نہیں ہوتے، میں جانتا ہوں تمہار ے پاس گاڑی بھی نہیں ہے، اپنے حلقے میں پیدل چلتے پھرتے ہو، پچاس لاکھ کی ٹویوٹا ویگو کی چابیاں بھی لے لو۔

الیکشن آ رہے ہیں اخراجات کے لئے دو کروڑ روپے الگ سے دیتا ہوں۔ سینیٹ الیکشن میں ووٹ پیپلزپارٹی کو دے دو‘۔ یہ جماعت اسلامی اپر دیر کا ایم پی اے محمد علی تھا جو سادگی سے سیلانی کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا اور سیلانی سمیت بیشتر صحافیوں کے منہ کھلے ہوئے اور سانسیں جیسے رکی ہوئی تھیں۔ایک ایسا نوجوان جس کے دو بڑے بھائی بے روزگار ہوں۔ ایک مزدوری کے لئے سعودیہ جائے اور وہاں مارا مارا پھرنے کے بعد اقاما لگوانے کی رقم بھی نہ جمع کروا سکے، شُرطے پکڑ کر جیل میں ڈال دیں اور اس نوجوان کے سامنے نو کروڑ رکھے ہوں، شیطان نے ضرورتوں کے کتنے جال نہ بجھائے ہوں گے، گناہ کے بعد توبہ کے دروازے تک رہنمائی بھی کی ہو گی۔ پی ٹی آئی سے پیپلزپارٹی میں جانے والے ضیاء اللہ نے کس کس طر ح سے نہ سمجھایا مگر محمد علی کا انکار اقرار میں نہ بدل سکا اور صرف ضیاء اللہ آفریدی ہی نہیں بلکہ سینیٹر طلحہ محمود کی بھی ایک گھنٹے کی محنت ضائع گئی اور وہ یوں واپس پلٹا کہ اس کے بازو وا اور آنکھوں میں اس پاک باز جوان کے لئے خراج تحسین تھا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ سلام اس ماں کو جس نے محمد علی کی تربیت کی اور شاباس جماعت اسلامی کو جس کی گدڑی میں ایسے ایسے لعل ہیں۔ مجھے یہ واقعہ بھی اچھا لگا، انداز بیاں بھی خوب ہے لہٰذا بلا کم و کاست بیان کر دیا۔

جماعت اسلامی کے زعما جب میڈیا کو گواہ بناتے ہوئے اس واقعے کو بیان کرتے ہیں تو اسے جھوٹا اور من گھڑت نہیں سمجھا جا سکتا۔ واقعی سلام ہے اس ماں کو جس نے محمد علی کی تربیت کی اور خراج تحسین ہے اس جماعت اسلامی کے لئے جس کے پا س ایسے ایسے باکردار ارکان موجود ہیں۔میں واقعی یہ سمجھتا ہوں کہ جماعت اسلامی، جمعیت کے پلیٹ فارم سے باالخصوص، نوجوانوں کی کی مذہبی، اخلاقی اور نظریاتی تربیت کا دوسری بھی جماعت سے کہیں زیادہ اہتمام کرتی ہے مگر اس کے بعد وہ نوجوان کس حد تک معاشر ے کے سدھار میں اپنا کردارادا کر پاتے ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے اور ہمہ جہت ہے۔ میں نے سوشل میڈیا پر جناب محمد علی کی تصویر بھی دیکھی ہے ، وہ ایک غیرت مند اور محنت کش کا چہرہ ہے اور اس نے جس کردار کا مظاہرہ کیا ہے ، پھر کہنا پڑے گا کہ قابل تعریف ہے اور قابل تقلید ہے مگر مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے پاس سینیٹ کے لئے ووٹرز کی تعداد وہی تھی جو قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ہے۔ میں جانتاہوں کہ کہیں دھونس اور کہیں ایسی ہی پیشکشوں کے ذریعے ارکان اسمبلی کو وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے رابطے کئے گئے شائد وہی ارکان ان پیش کشوں سے بچے ہوں گے جو اپنی قیادت ( یا نظرئیے) سے وفاداری میں مشہور ہوں گے، وہ جو بولنے سے ڈرتے نہیں ہوں گے ورنہ یہ کام جس طرح جاری ہے اس نے سندھ میں ایک سیاسی جماعت بھی پیدا کر دی ہے جسے عوامی سطح پر ’پیرا شوٹ پارٹی‘ (جس کا مخفف پی ایس پی ہوتا ہے) کہا جا رہا ہے۔ اس پارٹی نے ایک بھی الیکشن نہیں جیتا مگر اب اس کے پاس سترہ ایم پی ایز موجود ہیں بالکل اسی طرح جیسے تاریخ کے بدنام ترین سینٹ کے انتخابات میں جس گروپ کو چئیرمین کی سیٹ حاصل ہوئی اس کا کوئی ماضی، نام اور پہچان نہیں تھی۔میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ووٹروں کی کل تعداد نکالتا ہوں تو میرے سامنے ایک بڑی تعداد ان کی آتی ہے جنہوں نے ضمیر کے سودے نہیں کیے۔ خود کو کسی گدھے یا گھوڑے کی طرح بیچ دینے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔

مجھے اپنے جماعت اسلامی کے دوستوں سے کہنا ہے کہ میری بات اس تعریف اور توصیف پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ اس سے شروع ہوتی ہے۔جناب محمد علی نے سیلانی سمیت جن مختلف صحافیوں کے سامنے اس واقعے کو بیان کیا ہے اور جسے احسان کوہاٹی اورشمس الدین امجد نے آگے اس طرح بڑھایا ہے کہ اس کے سینکڑوں شئیر ہو چکے ہیں، یہ بیان اور اس کی جماعت اسلامی طرف سے آفیشئل سطح پر تصدیق سینیٹ کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے حوالے سے ایک ایف آئی آر کی طرح ہے۔ ارکان اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کا دھندا انتہائی مکروہ ہے جو ہمارے پورے سیاسی نظام کے منہ پر کالک مل دیتا ہے، ہمارے جمہوری نظام کی ٹانگیں توڑ دیتا ہے۔ یوں توایک سیاسی مبصر کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ پیپلزپارٹی والوں نے پی ٹی آئی کے بیس ارکان توڑنے پر بھی مجموعی طور پر ایک، ڈیڑھ ارب روپے ضائع ہی کئے ہوں گے کیونکہ پی ٹی آئی کی مثالی قیادت نے ووٹ خریدنے والوں کو اپنے ووٹ کسی نظریاتی وابستگی کے علاوہ ہی پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دئیے تھے ۔

جماعت اسلامی کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی نے اپنی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کر دی مگر ابھی قانونی ذمہ داری باقی ہے جو محمد علی کی بجائے جناب سراج الحق اور دیگر قائدین پر عائد ہوتی ہے۔میرے خیال میں مسلم لیگ نون اور دیگر جماعتوں کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنی صفوں میں ان جرات مند ارکان اسمبلی کو ڈھونڈیں جو ایسی پیشکشوں کا نہ صرف بھانڈا پھوڑ سکیں، آئندہ کے لئے ایسی غلیظ سیاست کا راستہ روکنے میں کردار ادا کر سکیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہاں سے شروع ہونی چاہئے ۔ الیکشن کمیشن کو ان اطلاعا ت کا ازخود نوٹس لینا چاہئے اور اگر وہ بوجوہ ایسانہ کرے تو اس واقعے ( اور اس جیسے بہت سارے دیگر واقعات) کو بنیاد بناتے ہوئے محمد علی جیسے جرات مند ارکان اسمبلی کی گواہی کے ساتھ سیاسی قیادت کو یہ معاملہ الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے رکھ دینا چاہئے۔ ایک رکن اسمبلی پر یہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسی پیش کشوں کو مسترد کر دے مگر اس کی قیادت کا بہرحال یہ فرض بن جاتا ہے کہ وہ سیاست میں اصلاح کے لئے کردارادا کرے۔میں انتہائی ادب کے ساتھ گزارش کروں گا کہ میرے باکردار سیاسی دوستوں کے پاس سیاسی وژن اور فکر کی بہت کمی ہے۔ وہ بسا اوقات ( یا اکثر اوقات) غیر سیاسی قوتوں کے جمہوریت دشمن مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوجاتے ہیں لہذا اس میں کوئی حرج نہیں کہ جس آئینی، سیاسی اور جمہوری نظام کی شاخ پر بیٹھ کے وہ سیاست کر رہے ہیں ایک مرتبہ اس کو مضبوط کرنے کے لئے بھی کام کر لیں۔ انہوں نے درخت کی جس شاخ کو کاٹنے والی لوہے کی آری میں ( الزام کے طور پر ہی سہی) لکڑی کے معاون دستے کا کام کیا ہے وہ ایک مرتبہ اسے پانی اور کھاد دے کر دیکھ لیں شائد کوئی ایسا پھل لگ جائے جو ان کے کام بھی آ جائے۔

Avatar
نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *