پالیسی۔۔۔۔ضیا اللہ ہمدرد

آج ملک کا وزیرداخلہ پاکستان کی داخلہ پالیسی کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ گیا۔ میرے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مشال خان کے واقعے کے بعد مجھے کیوں نکالا وزیر اعظم کو صرف واقعے کی مذمت کرنے میں تین دن لگے اور جب تک پولیس نے کہہ نہ دیا تھا کہ لڑکے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، یہ تماشہ دیکھتا رہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ووٹ خراب ہوجائے۔
جب سلمان تاثیر کے خلاف مولوی سڑکوں پر نکل آئےاور فتوی گری شروع ہوئی تو یہی نون لیگ پیچھے سے ان سب کو سپورٹ فراہم کرتی رہی۔ اس کی پارٹی کی علاقائی قیادت دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر آج بھی مشال کے قاتلوں کو سپورٹ کر رہی ہے تاکہ اپنے بچے چھڑاسکیں اور غریب کا بیٹا جائے بھاڑ میں۔ لیکن بات کسی ایک واقعے یا سانحے تک محدود نہیں ہے۔ جس ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے والے لوگوں میں پیسے بانٹے جاتے ہوں، ان پر دہشت گردی کے دفعات اور عدالتی احکامات ہونے کے باوجود حکومت انہیں گرفتار کرنے سے ہجکچاتی ہو، وہاں ایسا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔
ابھی حال ہی میں ایک قبائلی نوجوان نقیب محسود کا ایک ریاستی ادارے کے ایک آفیسر کے ہاتھوں اندوہناک قتل کے نتیجے میں ابھرنے والی تحریک پی ٹی ایم کو دبانے کے لئے سوشل میڈیا پر ملک کی خفیہ ایجنسی کے نام سے چلنے والے پیجز سے اس کی لیڈرشپ کو توہینِ رسالت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں یہودیوں اور ہندوں کے ایجنٹ بناکر پیش کیا گیا اور ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے ہی غداری کے ٹھپے لگائے گئے، جبکہ اوپر سے اسے اپنا بچہ اور مطالبات کو جائز قرار دیا گیا۔ اس ملک کی پالیسیوں نے لوگوں کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ کسی بھی وقت لوگ ایکدوسرے کو ٹپکا سکتے ہیں۔
آج وزیرداخلہ کی باری آئی تو تو میڈیا میں شور مچا۔ میں پچھلے ایک سال سے مشال کو قتل کرنے والوں میں اس مفتی کو تلاش کررہا ہوں جس نے لوگوں کو کہا کہ اس کا قتل جائز ہے اور آو اسے قتل کرتے ہیں۔ مشال کے واقعے میں بربریت تھی، اس لئے میڈیا میں خبر بنی۔ مشال معصوم تھا، اللہ نے امر کردیا۔ ورنہ مشال کے سانحے کے بعد دو تبلیغیوں کو ایک بریلوی لڑکے نے مولوی کے اکسانے پر مسجد کے اندر کلہاڑے کے ساتھ قتل کیا۔
یعنی وہ تبلیغ میں نعوذباللہ گستاخی کرنے کی غرض سے گئے تھے۔ چارسدہ میں ایک طالبِ علم نے اپنے پرنسپل کو یہ الزام لگاکر قتل کیا کیونکہ اسے لاہور میں دھرنے پر جانے سے باز پرس کی۔ جب ریاست سیاسی مخالفین کے خلاف مذہبی کارڈ استعمال کرتی ہے تو پھر ان کی دیکھا دیکھی کوئی بھی یہ کارڈ استعمال کرتا ہے۔ مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر جب یہ کارڈ استعمال ہونا شروع ہوجانے لگتاہے، تو پھر تبلیغی جنید جمشید کو بھی مار پڑتی ہے۔
ساری عمر قران کی  تفاسیر، اور سیرت پر تحقیق کرنے والا اور نعتیں پرھنے والا طاہر القادری بھی پادری بن جاتا ہے اور گالیاں کھاتا ہے، مریم نواز اگر اپنے والد کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جدوجہد کو بی بی فاطمہ کا اپنے والد تاجدارِ حرم کا خیال رکھنے سے تشبیہہ دے تو اس اچانک سوشل میڈیا پر موجود پی ٹی آئی کا ہر فرد مفتی بن کر فتوے دینا شروع کر دیتا ہے، عمران خان مدینہ کی ریاست کی مثالیں دے کر تھک جائے لیکن ایک جگہ پر سورہ الضحیٰ کے ترجمے میں معمولی غیر محتاط ہوجائے تو سارے نون لیگی اچانک مفتی بن کر اسے گستاخِ رسول بنادے۔
محمود خان اچکزئی عوام کو ساتھ چلنے کے لئے پیغمبروں کی مثال دے تو اے آر وائی میں بیٹھے مفتی فورا اس پر توہینِ رسالت کا ٹھپہ لگادیتے ہیں۔ پاکستان میں بلاگرز کو اٹھائے جانے اور عدالت کے ذریعے بری ہونے کے بعد بھی ان لوگوں کے خلاف اسٹبلشمنٹ کے پیجز سے توہینِ رسالت کے فتوے لگتے ہیں۔ مسئلہ فتوے کا نہیں ، توہینِ رسالت کا بھی نہیں، مسئلہ سیاسی ہے، اور سیاست میں مذہب کے کارڈ کا استعمال اس قدر عام ہوچکا ہے، کہ پنجاب کا ایک پیر سیالوی شہباز شریف کو ملک میں شریعت نافذ کرنے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دیتا ہے، لیکن جوں ہی اسے وزیراعلیٰ سے ملاقات کا شرف مل جاتا ہے، تو اپنی شریعت سے دستبردار ہوجاتا ہے۔
پاکستان کی مقتدرقوتیں جب چاہیں ان مولویوں کو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم تلے اکھٹا کردیتی ہیں، جو ایک دوسرے کو کئ مرتبہ کافر قرار دے چکے ہیں، ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا گوارہ نہیں کرتے، اور ان میں سے ایک نے دوسرے کو ساتھ شامل کرنے کو الکحل ملانے سے تشبیہ قراردیا ہو۔
بہرحال جب تک پاکستان میں لوگوں کی اکثریت جاہل رہے گی، دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی امور اور دینی علوم سے ناآشنا رہے گی، ریاست مذہب کو بطورِ ہتھیار استعمال کرے گی، تو پھر ملک میں یہ سب کچھ چلتا رہے گا۔ مجھے افسوس اس بات کا ہوتا ہے، کہ ہمیشہ غریب لوگ ہی ان سارے ڈراموں کا شکار بنتے ہیں۔ اتنے سارے سیاسی مولوی ہونے کے باجود سلمان تاثیر کو اس کے سیکیورٹی گارڈ کے ذریعے ہی قتل کیا جاتا ہے، جبکہ ان سارے سیاسی قائدین میں سے کسی کو یا ان کے بیٹوں کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوتی۔
مشال کو قتل کرنے والے سیاسی کارکنوں میں اکثریت غریب طالبِ علموں کی تھی، اور مقتول اور قاتلوں کے والدین کو عدالت کے چکر لگاتے دیکھ کر آج بھی کلیجہ پٹھتا ہے۔ چنیوٹ میں جب لڑکے نے مسجد کے اندر دو تبلیغیوں کے بارے میں مولوی سے رابطہ کیا تو مولوی کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی لیکن ایک کمزور اور نحیف لڑکے کے ذریعے دو گھروں کو مسجد کے اندر اجاڑ دیا گیا۔
چارسدہ میں نجی ادارے کا طالبِ علم غازی بن سکا یا نہیں، لیکن اپنے اور پرنسپل کے گھر کو اجاڑ دیا۔ لیکن پاکستان میں رہتے ہوئے اس میں میرے لئے کوئی حیرانگی کی بات نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں آرمی پبلک سکول سانحے کے بعد جب والدین پاگل ہورہے تھے، تو ایک مولوی برملا طور پر قتل کی ذمہ داری قبول کرتا رہا اور اسے اسلامی تعلیمات سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ہوا اور بہت سارے طالبِ علموں کو بے موت مارا گیا جس میں میرے ایک دوست کا بھائی ماسٹر ختم ہونے کے بعد اپنے تھیسز جمع کرنے گیا تھا اور یونیورسٹی میں یہ اس کا آخری دن تھا، بھی ماردیا گیا، تو اگلے دن ایک پاگل کمانڈر نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں ان کے تعلیمی اداروں میں اس وجہ سے ماریں گے کیونکہ یہیں سے طالبِ علم جج، وکیل، بیوروکریٹ اور اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اس بے وقوف کو اتنا بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ادارے اور ہیں جہاں حکمرانوں کے بچے پڑھتے ہیں اور چارسدہ یونیورسٹی میں تو غریب کسانوں کے بچے پڑھتے ہیں، جو اگر ڈگری لینے کے بعد کلرک یا چوکیدار یا پی ٹی سی کے ٹیچر بھی بن جائیں تو اپنے لئے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔
ملالہ یوسفزئی پر حملہ ہوا تو اسلامی قانونی، اخلاقی اور پشتون روایات کے برعکس تھا، لیکن اس کے باوجود طالبان کے حمایتی لوگوں نے ڈرامے بازیاں شروع کیں۔ برطانیہ نے دیکھ کر اٹھایا تو پوری دنیا کو بتایا کہ دیکھو وہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو سکول کی بچی سے ڈرتے ہیں۔ اس کو اتنے سارے ایوارڈز دئے گئے کہ پاکستان کی داخلہ پالیسی پر بات شروع ہوئی۔ داخلہ اور خارجہ پالیسی پر بات کرنے کی بجائے زندہ قوم نے اس بچی کے خلاف ہی محاذ کھول دیا، یہاں تک کہ اس مولوی نے آرمی پبلک سکول کے واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی۔
پاکستان میں مسلکی اور سیاسی اختلافات، داخلہ و خارجہ پالیسی اور خطے میں موجود جاری جنگ نے لوگوں کو اس نہج پر لاکھڑا کیا ہے کہ جن علما کو معاشرے کو سنوارنا تھا، وہ یا تواس آگ کو ہوا دے رہے ہیں، یا پھر انہوں نے خاموشی میں عافیت جانی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ درندگی اور بربریت کو تقویت ملی، مجھے نہیں معلوم کہ مولانا حسن جان پر گولی چلانے والے کی علمی حیثیت کیا تھی، ڈاکٹر فاروق جو رمضان میں پی ٹی وی پر قران پاک کی تفسیر کرتا تھا، کو شہید کرنے والا کہاں تک پڑھا ہوا تھا، اور آج جس لڑکے نے احسن اقبال پر گولی چلائی ہے، وہ دینی امور سے کس قدر واقف ہے اور کس کے کہنے یا اکسانے پر اس نے ایسا کیا ہے۔
لیکن ریاست چلانے والے پالیسی سازوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک ایسی جگہ لاکھڑ کیا ہے جہاں لوگ ڈنڈے لے کر لوگوں کے ایمان پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ وہی پارلیمنٹ تھی، اور اسی کی قرارداد میں ترمیم تھی، جس میں مولانا فضل الرحمان اور جماعتِ اسلامی موجود تھی۔ ایک سیاسی مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی بجائے اگر لوگ اسی طرح ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر اتر آئیں تو یہ آگ جن لوگوں نے جلائی ہے، مجھے کوئی شبہ نہیں کہ عنقریب انہیں بھی اپنی زد میں لے لے گی۔
یہی بات باچا خان اور ولی خان نے پاکستان کے پالیسی سازوں کو روس کے خلاف جہادی تنظیمیں بناتے وقت اور عام لوگوں کو اسلحہ تھمانے وقت سمجھانے کی کوشش کی تھی، لیکن پیسے اتنے زیادہ تھے کہ اس وقت سمجھ ہی نہیں آئی اور چالیس سال بعد پاکستان کے آرمی چیف کو کہنا پڑا کہ ہم وہ کاٹ رہے ہیں جو چار عشرے پہلے بویا تھا۔ پاکستان میں اس جنونیت کو کنٹرول کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔
کل پالیمنٹ ایک قانون پاس کرے کہ جس نے بھی کسی شخص کو دوسرے کے قتل کے لئے اکسایا، وہ دہشت گرد تصور کیا جائے گا اور جس نے بھی مسلکی یا سیاسی اختلاف کی بنیاد پر تشدد کے لئے لوگوں کو ابھارا وہ دہشت گرد ہوگا، اگر ایک مہینے میں امن نہیں آیا تو شیخ رشید اور رانا ثنا اللہ دونوں کے نام بدل دینا۔ مسئلہ لوگوں کا نہیں پالیسی کا ہے۔ کون قاتل بنتا ہے کون مقتول یہ اہم نہیں ہے۔ پالیسی بدلو، امن آجائے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *