• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • شکریہ آصف علی زرداری، پی ٹی آئی آپ سے سیاسی اتحاد کی خواہاں نہیں: فواد چوہدری

شکریہ آصف علی زرداری، پی ٹی آئی آپ سے سیاسی اتحاد کی خواہاں نہیں: فواد چوہدری

SHOPPING
SHOPPING
speciaal sale

پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہیں۔

آصف علی زرداری کی جانب سے جاری بیان کے اگلے روز ہی پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نے پارٹی کا موقف واضح کردیا کہ ‘بہت شکریہ آصف علی زرداری، ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، پی ٹی آئی ایوانِ زریں میں تنہا آئی تھی اور وہ تنہا ہی حکومت تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے’۔

4 مئی کو لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ‘اگر انتخابات کے بعد ضرورت پڑی تو عمران خان کے ساتھ اتحاد کیا جا سکتا ہے جیساکہ ماضی میں سینیٹ انتخابات میں کیا گیا’۔

دوسری جانب فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ‘عمران خان نے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی آصف علی زرداری کی پارٹی سے کبھی ہاتھ نہیں ملائے گی’۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی کی 272 عام نشستوں پر 200 امیدوار کھڑا کررہے ہیں اور ‘امید ہے کہ ہمیں مشترکہ طور پر 150 نشستوں کی برتری حاصل ہوگی’۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیگر سیاسی پارٹیاں 100 سے زیادہ امیدوار کھڑا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں جبکہ دونوں پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو امیدوار کی تلاش میں جدوجہد کرنا پڑے گی۔

فواد چوہدری نے کا کہنا تھا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) علاقائی پارٹیوں کے سانچے میں ڈھل چکی ہیں اور پی ٹی آئی کا دونوں سے ہی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

سیکریٹری اطلاعات نے واضح کیا کہ ‘پی پی پی اندورن سندھ اور مسلم لیگ (ن) مرکزی پنجاب میں مقبولیت رکھتی ہے اور انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اپنا وجود کھو دے گی’۔

انہوں نے سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کی تردید کی۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پی ٹی آئی کے دعویٰ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں اکثریت حاصل کرے گی اور اور جنوبی پنجاب سے سیاسی مخالفین کے شوریٹی بانڈ بھی ضبط ہو جائیں گے۔

دوسری جانب پی پی پی کے جنرل سیکریٹری نیربخاری نے وضاحت پیش کی کہ وہ آصف علی زرداری کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ بیان کا پس منظر نہیں جانتے اور شریک چیئرمین ان دنوں لاہور میں موجود نہیں ہیں۔

SHOPPING

انہوں نے کہا کہ پی پی پی پہلے ہی دوٹوک کہہ چکی ہے کہ انتخابات سے قبل سیاسی اتحاد کا ارادہ نہیں ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *