اللہُ اکبر

میں نے نعرہ لگایا۔۔۔۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔۔!اس نے پوچھا اللہ اکبر سے کیا مراد ہے ؟
میں نے کہا”اللہ سب سے بڑا ہے” ۔اس  نے پوچھا، جب اللہ نے کچھ بھی نا بنایا اور پیدا کیا تھا تب؟ کیا تم نے اللہ کو ہر شے سے بڑا کہہ کر اللہ کی بڑائی کی حد مقرر نہیں کر دی؟ 
میں نے تنک کر پوچھا، اچھا یہ بتاؤ تو میں اللہ اکبر کا کیا مطلب سمجھوں؟ اس نے کہا۔۔۔۔
اللہ اکبر کہتے ہوئے دل میں یہ یقین رکھو کہ اللہ پاک ہے، نا کہ اللہ کی بڑائی کے لیے کوئی حد مقرر کی جائے ۔ جب کچھ بھی پیدا نا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کوئی موجود نہ تھا، نہ فرشتہ، نہ بشر، نہ جن، نہ زمین، نہ آسمان اور نہ ہی کوئی اور شے۔۔۔ تب بھی اس کے لیے بڑائی ہی بڑائی تھی اور اب بھی بڑائی ہی بڑائی ہے۔ اور پھر جب اللہ سب کچھ ختم کر دے گا تو بھی بڑائی اللہ ہی کی باقی رہے گی، لہذا جب بھی” اللہ اکبر” کہو تو دل اور دماغ میں یہ ہی مطلب سمجھ کر کہو۔۔۔      ہر شے سے پہلے اللہ،      ہر شے کے بعد اللہ!
ایک بات اور” اللہ سب سے بڑا ہے” کہنے والا اللہ کو سب سے بڑا کہہ کر چھوٹے چھوٹے خدا متعارف کرا دیتا ہے جبکہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں۔ہر فرد و شے اللہ کے سامنے انتہائی عاجز بے بس حقیر و پست ہے۔ اللہ اول ،اللہ آخر،اللہ باقی،اور میری زبان سے بس اتنا ہی نکل پایا۔۔۔۔۔۔۔”اللہ اکبر”۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *