قتل ایک ضمیر کا۔۔۔معاذ بن محمود

“Have another peg gentleman, this one for you. Never compromise on what your conscience insists on.”

یہ کہہ کر انہوں نے جیک ڈینئیلز کا ایک ایک پیگ جسے ہم دونوں فوراً ہی حلق میں انڈیل گئے۔ ایسا بہت کم ہوتا جب میں اور بابا رات میں ایسی محفل جماتے۔ عموماً ایسا فرط جذبات کی شدت کا عندیہ ہوتا۔ اماں کے اس جہان فانی سے انتقال فرمانے والا دن ایسا ہی ایک دن تھا۔ دن ڈھلے تو بابا دنیا بھر کے لیے ایک سخت جان جذبات سے کرنل خان ہی رہے لیکن رات گئے تیسرے پیگ سے صبح تک میرے سامنے ثابت کرتے رہے کہ کرنل خان کس قدر کمزور ہے۔ آزاد دنیا اور سوویت یونین کے درمیان کھڑے گیارہ اشخاص میں سے ایک کرنل خان، کس قدر کمزور تھے!

آج پھر ویسی ہی ایک رات تھی۔ سرد اور لمبی رات۔ میں ابھی تک اسی مخمصے میں تھا کہ بابا خوش ہیں یا غمگین۔ ہم دونوں کی نظریں آتشدان میں جلتے الاؤ پہ تھیں۔

“انہوں نے مجھے دلال سمجھ رکھا ہے۔ میں امریکی ڈالر اپنی ماں تک بیچنے کو تیار ان سرداروں کو بھیجتا رہوں اور یہ مجھے میرے جوانوں کی لاشیں واپس کرتے رہیں؟ اب ہرگز ایسا نہیں ہوگا”۔

یہ پہلا موقع تھا جب بابا اپنے انتہائی خفیہ نوعیت کے کام کی بابت مجھ سے بات کر رہے تھے۔

کئی سال بعد ائیر فورس میں جہاز کی پرواز کے ایک انسٹرکٹر سے معلوم ہوا کہ بابا ایک نہایت شفاف شخصیت تھے تاہم اس دن بارہ  ملین ڈالر اچانک غائب ہوگئے تھے۔ اس غبن کی تمام گتھیاں بابا کے رخ پہ حل ہورہی تھیں۔ اس سب کے باوجود بابا کے بینک اکاؤنٹ میں پانچ سو اکیس روپے باقی تھے۔ بارہ ملین ڈالر ایک دن میں ٹھکانے لگانا آسان نہیں۔ پھر یہ کیسا غبن جس کا فائدہ ان کے اکلوتے بیٹے کو نہ ہوا؟ “ضروری نہیں کہ جیسا دکھایا گیا ویسا ہی ہوا ہو۔” انسٹرکٹر کے دل کی آواز جس پہ ہماری گفتگو کا اختتام ہوا اور میں نے زمین کی جانب جاتے جہاز کو واپس فضاء میں موڑ دیا۔ بعض اوقات اپنی موت دیکھے بغیر دوسروں کی موت سے متعلق معلومات دینا آسان نہیں ہوتا۔ اور موت جس میں آئی ایس آئی، امریکی سی آئی اے اور طالبان ملوث ہوں اس کی بابت معلومات لینے کے لیے جہاز تباہ کرنے کی دھمکی دینے کے سوا چارہ بھی نہ تھا۔

بابا نے ایک اور پیگ بنایا۔ گلاس میں برف ڈالی اور میری طرف سرکاتے ہوئے بولے:

“تم آزاد انسان ہو۔ میں چاہتا ہوں آزاد ہی رہو۔ میرا مشورہ ہے کہ افواج میں کیرئیر سے دور رہنا”۔

میں نے احتجاج کرنا چاہا تھا کہ بابا نے مجھے اشارے سے ٹوک دیا۔

“یہ بیگ دیکھ رہے ہو؟” بابا نے مٹی سے اٹے ایک سیاہ بیگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “جی”۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ “اس میں بارہ ملین ڈالر بھرے ہیں”۔ یہ کہہ کر بابا اٹھے، بیگ گھسیٹ کر قریب لائے اور کھول دیا۔

ڈالر ہی ڈالر! شاید وہسکی اپنا اثر دکھا رہی تھی یا پھر واقعتاً ڈالروں پہ چھپا بینجمن فرینکلن خود بھی حیران دکھائی دے رہا تھا۔

“میرے دو جوان جلال آباد میں ایک کمانڈر کو یہ رقم پہنچاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ دو قیمتی جوان۔ جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کا حلف اٹھایا تھا۔ ٹو لایل سولجرز جینٹلمین۔ دے سوور فار دی کنٹری۔ ناکہ جلال آباد میں پڑے ایک کمانڈر کو رقم پہنچانے کا جس کے لیے زیادہ بولی لگانے والا آقا ہے۔ سرخے تین دن پہلے دس ملین ڈالر میں بیغیرت کو خریدنے والے تھے۔ اوپر سے حکم آیا کہ امریکی کسی قیمت پہ کمانڈر کو کھونا نہیں چاہتے۔ دیز بلڈی امیرکنز اینڈ دئیر فلدی فرینکلنز۔ میں نے رقم واپس منگوا لی۔ آئی ڈونٹ گو اے بلڈی فک ٹو اینی آف دیز۔ مائی لائلٹی بیلانگز ٹو مائی سوئل اینڈ سن آف دس سوئل مائی سن”۔

یہ کہہ کر بابا نے ڈالر کی کئی گڈیاں آتشدان میں ڈال دیں۔

“میں جانتا ہوں وہ آئیں گے اور حساب مانگیں گے۔ لیکن آج حساب مانگنے کا دن میرا ہے۔ آئی ہیو نیور آسکڈ فار اٹ مائی سن۔ آج میں ان سے اپنے دو جوانوں کا حساب مانگوں گا۔ اینڈ دیز باسٹرڈز ہیو ٹو ایکسپلین می دی ایکویشنز”۔

خان ہلز پہ واقع یہ حویلی اب خاموشی کی جانب گامزن تھی۔ وہسکی میرے حواس پر چھا چکی تھی۔ اب بس دماغ کے شٹر پہ اندھیرا چھانے کی دیر تھی۔ میں نے بابا سے اجازت مانگی اور اپنے کمرے میں اپنے بستر پر جا پہنچا۔ سونے سے پہلے میں نے کرنل خان کے فرائض پہ ایک لمحے کو سوچا۔ ریاست کے تحفظ کا حلف اٹھا کر بابا ساری زندگی امریکی مفادات بچانے میں کس قدر مجبور رہے۔ اور پھر بغاوت بھی کی تو دو جوانوں کی موت پر؟ یہ جوان کس قدر انمول ہوں گے۔ کس قدر قیمتی ہوں گے۔ ان پر سینکڑوں امریکہ ہزاروں کمانڈر قربان۔

“آئی ول جوائن دی فورسز”۔

سونے سے پہلے میں آخری فیصلہ کر کے سویا۔

صبح اٹھتے پہ میں بابا کے کمرے میں پہنچا۔ ڈالر والا بیگ خالی تھا۔ آتشدان ڈالر کی راکھ سے بھرا پڑا تھا اور فضاء کاغذ جلنے کا احساس دلا رہی تھی۔

کرنل خان کا جسم اپنے کمرے میں پنکھے سے جھول رہا تھا۔ بجلی سے عاری پنکھے اور بے جان لاش کے درمیان کرنل خان کی اپنی بیڈ شیٹ کھنچی جارہی تھی۔

انسٹرکٹر کے الفاظ   میرے ذہن میں گونجا کرتے ہیں۔ “ضروری نہیں کہ جیسا دکھایا گیا ویسا ہی ہوا ہو۔”

آرمی انوسٹیگیشن کے مطابق بابا نے خود کشی کی تھی۔

(محمد حنیف کی کتاب A Case of Exploding Mangoes کے فرضی کردار کرنل شہری سے ماخوذ)۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *