موبائل کمپنیز کی سیاہ کاریاں۔۔۔کمیل اسدی

اندھیر نگری، چوپٹ راجا،ٹکے سیر بھاجی، ٹکے سیر کھاجا
یہ ضرب المثل تو سب نے سنی ہوگی اس کے پیچھے گرو اور چیلے کی ایک طویل کہانی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک میسج وائرل ہوا اور جسٹس صاحب نے نوٹس لے لیا۔
اب چیلوں (عوام) کے گرو (چیف صاحب) دیکھیں فیصلہ چیلوں کے حق میں کرتے ہیں یا پھر گرو گرو کی ہی ہاں میں ہاں ملائے گا۔ سب سے پہلے میسج ملاحظہ کیجئے۔
جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک عاجزانہ درخواست کہ اس بات کا نوٹس لیا جائے کہ یہ موبائل کمپنیوں کا رچایا گیا ڈھونگ ہے یا حکومت کی چال

100 کے لوڈ پر ٹیکس = 25روپے
باقی رقم = 75 روپے تقریباً

75 روپے استعمال کرنے پر 19 فیصد ٹیکس کے حساب سے 15روپے مزید بطور ٹیکس کٹ جاتے ہیں اور باقی کی رقم جو بچتی ہے وہ ہے صرف اور صرف 60 روپے
مطلب ہر 100 روپے کے بدلے ہم 40 روپے بطور ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں تقریباً 10 کروڑ سے  زائد موبائل فون صارفین ہیں۔
اگر 5 کروڑ لوگ بھی ایک دن میں 100 روپے کا لوڈ کروائیں تو اس کا مطلب وہ 5 ارب کا لوڈ کروائیں گے جس پر بطور ٹیکس کٹنے والی رقم 1.25ارب روزانہ بنتی ہے۔
اور ایک مہینے میں اس ٹیکس کی رقم 37.5 ارب روپے بنتی ہے اسی طرح ایک سال میں یہ تقریباً 450 ارب روپے بنتے ہیں۔
اتنا پیسہ کہا جا رہا ہے کوئی سمجھ نہیں آ رہی۔
جناب چیف جسٹس آف پاکستان جہاں اتنے بڑے بڑے احسن کام انجام دے رہے ہیں وہاں اس ڈاکو راج کا بھی نوٹس لیں۔ یہ ان کا غریب عوام پر ایک بہت بڑا احسان ہو گا
پاکستانی عوام سے اپیل ہے کہ اس کو اتنا  زیادہ شئیر کر یں کہ جناب چیف جسٹس تین دن میں اس مسئلے پر غور کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
جاگو عوام جاگو کہ جو اپنے حالات بدلنے کے لئے خود جدوجہد نہیں کرتا خدا بھی اس کے حالات کبھی نہیں بدلتا.
منجانب:
پاکستان کے (20)بیس کروڑ مظلوم عوام. اس ٹیکس کے علاوہ بھی بہت سے شکایات اور تجاویز ہیں اگر انہیں بھی زیر غور لیا جائے تو یہ عوام آپ کی تہہ دل سے شکر گزار ہوگی۔

صارف بسا اوقات کال کرتا ہے تو نیٹ ورک کی خرابی کی وجہ سے کال منقطع ہو جاتی ہے۔ یا دوران سفر کال ایک سیل سے دوسرے سیل ہینڈ اوور نہیں ہوتی اور رابطہ ختم ہو جاتا ہے۔ اگر نارمل کال ہو تو دوبارہ ملانے پر دو ڈھائی روپے کا نقصان اور اگر گھنٹہ پیکج کی کال ہو تو پورا گھنٹہ ضائع یعنی ایک گھنٹہ کے پیکج کے پیسے اڑ گئے۔ نیٹ ورک کی خرابی کی ذمہ دارکمپنی نہ  تو اس پر کوئی معذرت کرتی ہے اور نہ  ہی پی ٹی اے کی طرف سے ایسا کوئی قانون وضع کیا گیا ہے کہ بازادائیگی کی جا سکے۔

صارف کو جب بھی کوئی شکایت کرنی ہو اور ہیلپ لائن پر کال کرنے کی ضرورت محسوس ہو 5 منٹ سے آدھا گھنٹے کے دورانیہ کے بعد خوش قسمتی سے نمائندہ سے بات ہو پاتی ہے۔ اتنی دیر اس کمپنی کا اشتہار سن کر کان بھی پک جاتے ہیں اور پیسے بھی اپنے اکاؤنٹ سے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اتنا بڑا نیٹ ورک چلا رہے ہیں تو اس لحاظ سے سٹاف کا چیک اینڈ بیلنس کون رکھے گا؟

صارفین 3 جی سروس اور 4 جی سروس کے پیکج خریدتے ہیں لیکن نیٹ ورک پر کبھی بھی سٹینڈرڈ سپیڈ میسر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تو 2 جی کی سروس ہی استعمال کی جاتی ہے لیکن چارجز 3جی یا 4 جی کے پہلے سے ہی ادا کئے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس صورت میں کمپنی کسی بھی صارف کو بیلنس واپس نہیں کرتی۔ اگر موبائل کمپنیز مطلوبہ نیٹ سپیڈ مہیا نہیں کرتی تو حکومتی اداروں کا ایسا کوئی سیٹ موجود نہیں جہاں ان کمپنیز کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی شکایتیں بکثرت موجود ہیں کہ ڈیٹا بنڈلز میں بھی چوری ہوتی ہے۔ مثلاََ 10 جی بی کا بنڈل خریدا گیا ہو تو بعید نہیں کہ حقیقت میں 5 جی بی ڈیٹا کے استعمال کے بعد ہی پیکج ختم ہو جائے۔

پشاور میں دو واقعات نظر سے گزرے جو قابل توجہ ہیں۔ موبائل ٹاورز کے نیچے تعمیر بی ٹی ایس روم میں ایک گارڈ کے والد صاحب مسلسل ایک ماہ سوتے رہے اور اس کے بعد کینسر کا شکار ہوگئے۔ جس روم میں ٹیلی کام مشینری موجود ہوتی ہے وہاں موجود آلات اور ٹاور پر لگے ہائی فیڈیلٹی اینٹیناز کے ریڈی ایشن سے کیا کیا بیماریاں ہوسکتی ہیں اور اس کے قرب و جوار میں موجود لوگ کے لئے کیا حفاظتی اقدامات ہو سکتے ہیں اس لحاظ سے کوئی پلان نہ  تو موبائل کمپنیز کی طرف سے کبھی سامنے آیا ہے اور نہ  ہی بیداری شعور کی کوئی مہم متعلقہ حکومتی اداروں نے متعارف کرائی ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ سائٹ وزٹ کے دوران پیش آیا کہ پشاور کے ایک پوش علاقہ میں جہاں ٹاور کے نزدیک (تقریباََ آدھا کلومیٹر) ایک ایف ایم سٹیشن کی بلڈنگ موجود تھی۔ ٹاور کے ساتھ جب بھی کوئی لوہے کی تار ٹکراتے تھے تو شعلہ سا نکلتا تھا مزید براں اکثر ٹاور چھونے والے افراد کو کرنٹ کا جھٹکا بھی لگتا تھا۔ جب کبھی لیپ ٹاپ آن کر کے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اکثر ہینگ ہو جاتا تھا۔ اس خطرناک ریڈی ایشن میں مستقل رہنے والی آبادی پر کیا اثرات ہور ہے ہوں گے؟ خصوصاََ شیرخوار بچوں اور حاملہ خواتین کے لئے کتنا مضر صحت ماحول ہو گا کیونکہ ہم سب افراد جب تک ٹاور کے پاس رہے ہمارا سر مسلسل بوجھل اور نیم درد کی کیفیت میں گزرا۔

پی ٹی اے اور ذمہ داران کو ان معاملات کو سیریس لینا ہوگا اور اپنی اخلاقی سماجی اور معاشرتی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کچھ قوانین وضع کرنے ہوں گے۔ صرف بینڈز کی نیلامی کرکے اربوں روپے کما لینا اور کاغذی کاروائیاں کرنا ہی آپ کا فرض نہیں ہے۔

Avatar
محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *