تم ہی کہو یہ انداز گفتگو کیا ہے ؟۔۔۔۔ سید عارف مصطفٰی

 کیا ہماری سیاست اخلاقیات سے بالکل عاری ہوچکی ہے اور اس میں خواتین کی تقدیس کے لیے  بھی کوئی رعایت باقی نہیں رہی ۔۔۔ یہ وہ سوال ہے کہ جو عامر لیاقت کے پی ٹی آئی میں جانے اور کسی کو بھی اپنی بدزبانی سے معاف نہ کرنے سے سر اٹھا رہا ہے ۔۔۔ گو رانا ثناءاللہ اور عابد شیرعلی بھی انہی صفات سے معمور ہیں لیکن عامر لیاقت کی تو بات ہی اور ہے اور ان کے طرز گفتار اور انداز نگارش نے تو گویا قیامت ہی ڈھادی ہے ۔۔ ان کی یہ بےلگامی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بالآخر نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا پیمانہء صبر بھی چھلک پڑا ہے اور انہوں ‌نے عامر لیاقت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کرڈالا ہے کیونکہ وہ سخت نالاں ہیں کہ موصوف نے ان ک خلاف بہت توہین آمیز اور جھوٹ پہ مبنی ٹوئیٹس کی ہیں اورسوشل میڈیا پہ انکے بارے میں سخت گھناؤنی زبان استعمال کی ہے اور مسلسل کرتے جارہے ہیں –

یوں لگتا ہے کہ خود کو ہر شعبے میں نمبر کہلوانے کے جنون میں مبتلاء اس اینکر نے ہر کسی کے بارے میں بہتان طرازی اور لغو الزام تراشی کی جو راہ چنی ہے وہ اس میں بھی نمبر ون کے استھان پہ جا پہنچنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں ان کی ریاضت و تپسیا اس حد تک تو ضرور کارگر ہوسکی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پی ٹی آئی سوشل میڈیا سیل کے روایتی بدزبانوں کو بھی انہوں نے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ کسی اور ہنر کے ماہر ہوں نہ ہوں یہ تو گویا ان کا خاص میدان ہے اور تبرے بازی کا یہ انداز تو اب ان کا برانڈ بن چکا ہے اور ایسا طرز گفتگو ہی اب ان کی مستحکم شناخت ہے ۔

یہاں ‌موصوف کا یہ خاص فن اس لیے  بھی عروج پہ دکھائی دیتا نظر آرہا ہے کہ انہیں توقع کے برخلاف پی ٹی آئی  میں تاحال کوئی بلند منصب اور مقام ہنوز نہیں مل سکا ہے اور گزشتہ دنوں جب تحریک انصاف  کے 29 اپریل کے لاہور جلسے کی فوٹو ریلیز ہوئی تو وہ اس میں اسٹیج پہ رکھی کرسیوں پہ بٹھائے جانے والوں میں نہیں بلکہ اسٹیج کی زمیں پہ بیٹھے تھے اور سامنے لگی ریلنگ میں باہیں ڈالے ان کے چہرے پہ مایوسی و شرمندگی کی تحریر صاف پڑھی جاسکتی تھی اور شاید ناامیدی کی اسی کیفیت میں وہ جلد سے جلد اور کسی نہ کسی طرح سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کراکے ہر قیمت پہ سب کو پیچھے چھوڑنے کا تہیہ کر چکے ہیں لیکن اس موقع پہ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ خود پی ٹی آئی اور نون لیگ میں اب وہ سنجیدہ طبقہ کہاں ناپید ہوگیا ہے کہ جو اس بےلگامی اور بدزبانی کا نوٹس لے اور شاید بلکہ یقینناً یہی وہ وقت ہے کہ سبھی اہل سیاست سر جوڑ کے بیٹھیں اور یہ فیصلہ کرلیں کہ کیا کسی سیاسی کلچر میں ایسا غلیظ انداز گفتارجاری رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔۔۔

کیونکہ جب اہل نظرکہلانے والے بد نظری کا شکار ہو جائیں اور اہل علم کو جہل کا لقوہ مارجائے اور دانشور و اہل فکر محض روٹی اور بوٹی کی فکر کے اسیر ہوجائیں اور بڑے بڑے علماء ایک ٹی وی پروگرام اور ایک چیک کی خاطر ہر قسم کے جنے مانے فریبی و دونمبری کے سامنے سر جھکاکے بیٹھ جائیں اوراس کی ہر ہر ادا پہ ایسے قربان جائیں کہ  لوٹن کبوتر بن جائیں تو پھر معاشرے میں عامر لیاقت جیسے مکار کیوں نہیں پنپیں ‌گے اور رانا ثناءاللہ اور عابد شیر علی جیسے لوگوں کے ہاتھوں شرافت  کے  معیار  پامال کیوں نہ ہوتے رہیں گے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *