آبادی پرکنٹرول کیوں ضروری ہے ؟

ایسا کیوں ہے کہ آٹےمیں نمک کے برابریہودی آج دنیامیں راج کررہےہیں. جبکہ مسلمان جوکہ تیزی سےدنیاکی سب سےبڑی اکثریت بننے جارہےہیں،سمندرکےجھاگ کی مانند بےوقعت ہیں؟اس لیئےکہ یہودیوں نے اپنی قابلیت اورپیشہ وارانہ مستقل مزاجی سےدنیا میں اپنا مقام بنایا ہے ۔کم تعداد کو کمزوری نہیں اپنی طاقت بنایا ۔ہمیشہ ذہین، قابل، محنتی اور باصلاحیت نسل کوپروان چڑھایا۔مسلمانوں نےشایدیہ سمجھا کہ تعداد میں ہم زیادہ ہوں گےتو دنیا پر ہماراغلبہ ہوگا ۔یوں تعدادتو بڑھی مگر اجتماعی ناقص کار کردگی کا گراف اس سے زیادہ تیزی سے بڑھا ۔خاص کر کم عقل، کام چوراور ناکام افراد می ںبہت تیزی سے اضافہ ہوا ۔پہلےلاکھوں لوگ جنگوں میں جھونک دیئے جاتے تھے۔ لاکھوں کو غلام بنا کر بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کرکے پھینک دیاجاتا تھا۔ غرض یہ کہ انسان ایندھن کی طرح استعمال ہوتےتھےجن کی پیداواربڑھانے کی سخت ضرورت ہوتی تھی۔ مذہبی ترغیب یا معاشی مفادات کا لالچ اس ضرورت کو آج تک پورا کر رہا ہے۔
یہ صدیوں پرانا تصور کہ تعدادکےبل بوتےپر دنیاپرحکمرانی کی جاسکتی ہے اب قائم نہیں رہا ۔مشینوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ذہین اور باصلاحیت افراد تک کی ضرورت کو محدودکررہا ہے۔ صرف چند افراداب پوری دنیاکو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ شاید آنےوالوں وقتوں میں مشینیں ہی انسانوں کوکنٹرول کریں ۔ مسلم معاشرے کا باشعورطبقہ بدلتےرجحانات کودیکھ کر بہت پہلےہی فیملی پلاننگ کواختیار کرچکاہے مگرکم عقل اور شدت پسندمذہبی اکثریت اپنےاور معاشرےکے لیئے ان گنت مسائل پیداکررہی ہے۔
اسباب :
ایک بڑاسمجھدار طبقہ جوکہ اس مسئلےکا ادراک تو رکھتا ہے مگر فیملی پلاننگ سےمذہبی اختلاف کےباعث فطری احتیاط اختیارکرتاہے۔جو کہ کارگرنہیں ہوتی۔یوں دو بچوں کی خواہش رکھنےوالے بھی چارپانچ اسکور کرجاتے ہیں ۔ پھران کی تعلیم وتربیت کےسلسلے میں اسکول سےزیادہ مدرسہ ان کی بہترین چوائس ہوتا ہے۔تاکہ تعلیم اور خوراک کی بچت ہوسکے۔ایساطبقہ بھی پایا جاتاہے جسےنماز روزہ وغیرہ سے خاص دلچسپی نہیں ہوتی مگر بچے پیداکرنا کارثواب سمجھتا ہے۔ پھروہ بڑےہوکرچوری کریں ،ڈاکہ ڈالیں یا بھیک مانگیں وہ ان کا نصیب۔شادی کے پہلےسال بچہ ہونا مردانگی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔اس لیئےہرجوڑےکی خواہش ہوتی ہے کہ یہ سنگ میل سب سے پہلے عبور کیا جائے۔لڑکےکی خواہش بعض اوقات چھ سات لڑکیاں ہونےکےباوجود برقرار رہتی ہے۔ ٹھکرائی اور نظرانداز کی جانےوالی احساس کمتری کی یہ ماریاں بھی معاشرےپرایک بہت بڑابوجھ ہیں۔زیادہ بہن بھائیوں میں بھی اکثربچےاحساس کمتری اور احساسِ محرومی میں گِھرے رہتےہیں۔جوکہ بعدازاں وراثت اوردیگر جھگڑوں کا بھی باعث بنتے ہیں۔
سدباب :
جس ذی روح نے اس دنیامیں آنا ہے بےشک اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔مگر عقل کا صحیح استعمال کرکے کنٹرول ضرورکیا جاسکتا ہے۔تمام تر کنٹرول کےباوجود دو سے تین بچے دنیا میں آسکتے ہیں۔پانچ چھ تک نوبت نہیں آئے گی۔زیادہ بچوں کاہونا کوئی کارنامہ نہیں ۔قابل فخر تووہ تربیت ہے جس سے بچہ معاشرےمیں اچھامقام بنا کراپنے والدین کانام روشن کرسکے ۔یا عام والدین کےبچے بغیرکسی کی محتاجی کےکم ازکم اپنےپیروں پر کھڑے ہوسکیں۔
بےشک ہرپیداہونےوالا بچہ اپنا رزق توساتھ لے کر آتا ہےمگر تربیت اسےوالدین سےہی ملتی ہے کہ رزق جائزطریقے سے حاصل کرنا ہےیا ناجائز ۔ تربیت وہ بھی ایسےحالات میں کہ جب معاشرے میں ہرطرح کا بگاڑموجود ہےجس کے اثرات بچےبڑی تیزی سے قبول کررہے ہیں۔ ہرطرف مارا ماری ہے ۔لوٹ مار ، مسابقت ہے۔ پانی کی شدید قلت پیدا ہورہی ہے۔اکثریت خوراک کی کمی کاشکار ہے۔ روزگار کےمواقع بڑھنےکےبجائےمزیدکم ہورہےہیں۔ آئندہ چندسالوں میں فٹ پاتھ رہائش گاہوں کامنظر پیش کریں گے۔ایک بچےکی تعلیم عام آدمی کےلیئےاتنی مشکل ہو گئی ہےکہ دو بچوں کی اچھی تعلیم کےخواب بھی شایداسے نہ آتے ہوں۔ایسےحالات اس امر کےمتقاضی ہیں کہ بچوں کی تعداد کی بجائےبچوں کےمعیارکو بہتر بنا یا جائے۔تاکہ معاشرےکو زیادہ سےزیادہ باشعور ،قابل ،محنتی اورایماندار افراد میسر آسکیں۔

Avatar
سعدریحان
فیس بک پرکبھی کبھی لکھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *