پیکجنگ اچھی ہونی چاہیے یا پروڈکٹ کوالٹی۔۔۔احمد ثانی

میں اور میری بیگم آپس میں محو گفتگو تھے کہ مجھ سے باتیں کرتے کرتے وہ اچانک کھڑی ہوئی، دو قدم پیچھے ہٹی تھوڑا اِٹھلا کر گھوم کر کھڑے کھڑے اپنا سراپا مجھے دکھایا اور پھر مجھ سے پوچھنے لگی کیا میں اچھی نہیں ہوں ؟

میری نظر میں برسوں کا اس کا ساتھ ایک پل میں فاسٹ فارورڈ سا ہو کر ذہن سے گزرا، معاً  اُسے تکتے ہوئے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا، اور ایک خیال جیسے غیب سے آن وارد ہوا۔

میں نے پوچھا ۔۔۔۔یہ بات ایکسپلین کرنے کے لیے تم نے اپنا آپ یوں کیوں پریزینٹ کیا ؟

وہ بولی۔۔۔۔۔میں سمجھی نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ!

میں نے کہا ۔۔بہت باریک سی بات ہے، دھیان سے سمجھیں۔ تمھارے نزدیک تمھاری ساری اچھائی، تمھاری خوبصورتی، تمھارے سراپے میں پنہاں ہے۔ تمھارا یہ ایکٹ ،تمھارا یوں پوچھنا ۔۔اصل میں اچھائی کے متعلق تمھاری اپروچ شو کرتا ہے۔ تمھاری سکلز، تمھاری سوچ ، گرہستی کے گُن، ان سب کی مثال دے کر کیوں نا پوچھا آخر تم نے، کہ تم اچھی ہو یا نہیں ؟

یہ صرف ایک تمثیلی خاکہ تھا، نناوے فیصد خواتین اپنے محرم سے ایسے مکالموں میں تقریباً  یہ ہی پوائنٹ پیش کرتی ہیں،ذرا سوچیں کیا عورت کا وجود صرف ایک جسم ہے؟
اس کاجواب ہے، قطعاً  نہیں!!

جسم تو صرف اس کے انسانی وجود کی ایک پیکجنگ ہے ایک ایسی پیکجنگ جس سے صنفی تقسیم واضح رہے، مگر ضروری بات یہ ہےکہ پیکجنگ کے اندر موجود پروڈکٹ اچھی ہونی چاہیے، اور وہ پروڈکٹ ہے  آپ کا کردار، آپ کی اپروچ، تو ساتھ دیرپا گزرتا ہے ورنہ پیکجنگ پر تشہیر حاصل کرنے والی پروڈکٹ بس ٹرائل پیریڈ تک ہی محدود رہ جاتی ہیں ،یا شیلف میں رکھے رکھے ایکسپائر ہو جاتیں ہیں ۔

صرف اپنی پیکجنگ نہیں پروڈکٹ کوالٹی بہتر بنائیں فیچر نہیں بینیفٹس دکھائیں، ہر فیلڈ میں کامیابی بڑھ کر خود آپ کے قدم چومے گی !!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *