• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نیا پاکستان یا پاکستان کا نیا تصور ، قومی مباحثے کی ضرورت۔۔۔رشاد بخاری

نیا پاکستان یا پاکستان کا نیا تصور ، قومی مباحثے کی ضرورت۔۔۔رشاد بخاری

نئے پاکستان کے نعرے میں بڑی کشش ہے۔ پرانے پاکستان سے کسی کا مطمئن ہونا مشکل ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ جو نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں وہ انہی اصول و عقا ئد، اسی نظرئے اور اسی بیانیہ پر نئے پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس نظریے اور بیانیہ پر پرانے پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جبکہ کچھ لوگوں کے نزدیک اصول، ضوابط، قاعدے، قانون، نظریے، عقیدے، بیانئے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان کا اصل مسئلہ بیانیہ نہیں بلکہ بدعنوانی ہے، چور بازاری ہے، جھوٹ اور اقربا پروری ہے، ظلم ہے، زیادتی ہے، نا انصافی ہے اور یہ ساری خرابیاں قانون کی عمل داری سے ٹھیک ہو سکتی ہیں اگر کوئی کرنا چاہے۔

کچھ دوسرے لوگوں کے نزدیک بات کچھ اتنی سادہ نہیں۔ مسئلہ صرف قانون کی حکمرانی یا لا قانونیت کا نہیں ہے۔ اصل خرابی تعمیر میں مضمر ہے۔ اصل بنیاد کی اینٹ ٹیڑھی رکھی گئی ہے۔ اب کس کی مانیں اور کس کی نا مانیں۔ البتہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ نظریے اور عمل کے درمیان گہرا رشتہ ہے۔ اگر نظریہ قابل عمل نہ ہو تو منافقت پیدا کرتا ہے اور اگر سوچ درست نہ ہو تو کام بھی درست نہیں ہو سکتا۔ ناقابل عمل آدرشوں پر اصرار ایسے لوگوں کو جنم دیتا ہے جو اپنے عمل میں پستی اور بے حسی کا شاہکار نظر آتے ہیں۔ اصل میں اس سوال پر بحث کی ضرورت ہے کہ ہمیں پرانی بنیادوں کے مطابق نیا پاکستان چاہیے یا ہم نئے سرے سے یعنی نئے تصور کے مطابق اس کے تعمیری نقشے پر کام کرنا چاہتے ہیں؟

پاکستان میں امریکہ کےسابق  سفیر حسین حقانی نے اپنی نئی انگریزی کتاب جس کا ترجمہ “پاکستان کا نیا تصور” کے نام سے کیا جا سکتا ہے، میں کچھ اسی طرح کے مباحثےکی ضرورت پر زور دیا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے میں حسین حقانی کی شخصیت کافی متنازع ہو چکی ہے اور ان پر پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے اور حتیٰ کے غداری تک کے الزامات لگتے رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ سب صرف اس لیے ہے کہ ان کے خیالات مختلف ہیں اور وہ پاکستان کا تصور اسٹبلشمنٹ کے بیانیے سے مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ ورنہ وہ ان بانوے فیصد پاکستانیوں میں شامل ہیں جو اسی ملک میں پیدا ہوئے، اسی کو اپنی بنیادی پہچان سمجھتے ہیں اور اس کے بارے میں اتنی ہی نیک خواہشات رکھتے ہیں جتنی کوئی بھی اپنے ملک کے بارے میں رکھتا ہے۔ ان کی ان وضاحتوں سے قطع نظر جن کے بارے میں خوش گمانی رکھی جا سکتی ہے، بہرحال ان کے پیش کردہ نئے تصور پاکستان پر مباحثہ کسی بھی بہتری کی خواہش رکھنے والے کے نزدیک ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان کے بارے میں اپنا نیا تصور بیان کرتے ہوئے چار بنیادی قضیوں کو درست طور پر نئے سرے سے استوار کرنے کی بات کی، جس کے بغیر نہ تو پاکستان داخلی سطح پر مسائل کی دلدل سے نکل کر کسی خوشحالی کی توقع کرسکتا ہے اور نہ دنیا میں ایک کامیاب اور قابل اعتبار قوم کے طور پر اپنا وقار بحال کر سکتا ہے۔

سب سے پہلے تو ریاست کے مذہبی تشخص کا سوال ہے۔ مذہب کا تعلق فرد سے ہے اور یہ اس کا ایک انتہائی ذاتی معاملہ ہے۔ مذہب انسان کی روحانی اور سماجی پرداخت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے لیکن جب مذہب کو ریاست، آئین اور قانون کی بنیاد بنا لیا جائے تو چاہے کسی بھی مذہب کے نام پر ریاست قائم کی جائے وہ کچھ ایسے امتیازی رویوں کو جنم دے گی جنہیں دنیا قبول نہیں کرسکتی۔ مذہب کی بنیاد پر ریاست بنانے یا چلانے کا مطلب مسلسل حالت جنگ میں رہنے کے مترادف ہے۔ یہ مسلسل جنگ ایک ہی مذہب  یعنی  اسلام کے مختلف فرقوں کے درمیان بھی  ہے کیونکہ کسی ایک تعبیر پر اتفاق ممکن نہیں اور دوسرے مذاہب اور دوسرے تہذیبوں کے ساتھ بھی ہے کیونکہ یہ حتمی سچائی پر اجارہ داری کا معاملہ ہے۔ سادہ اور مختصر ترین الفاظ میں ان مسائل کو سیکولر جمہوری اصول اپنا کر ہی بڑی حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔  یہاں سیکولر جمہوری اصول سے مراد ایک ریاستی بندوبست کے اندر انسانی آزادیوں کی ضمانت ہے جن میں مذہب، عقیدے، ان کے اظہار اور ان پر عمل درآمد کی آزادی بھی شامل ہے۔

دوسرے بنیادی قضیے کا تعلق بھارت کے بارے میں ہماری پالیسی اور رویے سے ہے۔ ٹھیک ہے بھارت کا رویہ بھی کچھ مناسب نہیں ہے لیکن بھارت کو ایک دشمن ملک کے بجائے ایک ایسے پڑوسی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جس کے ساتھ ہماری کبھی بنتی تو نہیں ہے لیکن جس کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے سے ہمیں بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایسا پڑوسی ہے جس کا مکان ہمارے مکان سے کافی بڑا، کاروبار اور اثرو رسوخ ہم سے کہیں زیادہ  اور وسائل ہم سے بہتر ہیں۔ اس کے ساتھ مسلسل دشمنی آہستہ آہستہ ہمارے سارے وسائل اور ہماری ساری ساکھ اور دنیا میں ہمارا اعتبار ختم کرسکتی ہے۔ پھر وہاں بہت سے ایسے لوگ رہتے ہیں جن کا تعلق ہماری ہی قوم اور برادری سے ہے اور ہمارے مخاصمانہ تعلقات کی وجہ سے نہ ہم ان سے مل سکتے ہیں نہ ایک دوسرے کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہی مشترکہ تاریخی ورثہ پر اپنا حق جتا سکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات ہمارے بہتر مستقبل کی کلید ہیں، ان تعلقات میں ذرا سی بہتری سے پورا علاقائی منظر نامہ بدل سکتا ہےاور اس سے ہمارے باقی پڑوسیوں سے تعلقات میں بھی بہت بہتری آسکتی ہے۔ تھوڑا سوچیےکہ  ابھی راستے بند نہیں ہوئے۔

تیسرا بنیادی اور اہم مسئلہ پاکستان کی تمام نسلی اور لسانی شناختوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے متعلق ہے۔ پاکستان میں نسل، قوم اور زبان کی بنیاد پر افتراق موجود ہے جسے بعض اوقات ایک یکساں مصنوعی شناخت کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوششوں سے مزید بڑھاوا ملتا ہے۔ اس عمل میں بہت سی ایسی شکایتیں پیدا ہوتی ہیں جو بعض خطوں میں باغیانہ سوچ کو پروان چڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔ ہمارا وفاقی نظام اور وسائل اور اختیارات کی تقسیم کا انتظام اس مسئلے کو کماحقہ حل کرنے میں کامیاب نہیں۔ اس کے لیے ایک بہتر تجویز نسلی شناختوں کی کنفیڈریشن کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو ازسر نو اس طرح تشکیل دیا جائے کہ تمام نسلی، علاقائی، لسانی اور قومی گروہوں کا تشخص پاکستان کی سرحدوں کے اندر محفوظ رہے اور سب کو وسائل اور اختیار کی تقسیم پر اطمینان حاصل ہو تاکہ سب مل کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرسکیں۔ یہ مشکل کام ہے اور مزید غورو غوص کا متقاضی ہے لیکن اس حوالے سے سنجیدہ مکالمے کے آغاز کی اشد ضرورت ہے۔

چوتھا اور بڑا اہم قضیہ یہ ہے کہ پاکستان تاریخ کے مختلف مرحلوں میں کسی بڑے ملک کا اتحادی بن کر ان کی امداد پر انحصار کرتا رہا ہے۔ اس غیر ملکی امداد کی پاکستان کو جو قیمت چکانی پڑی ہے وہ خود اس کے وجود کا ناسور بن چکی ہے۔ ایک طرف تو اس سے خودانحصاری کی منزل بہت دور چلی گئی، خودمختاری کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور دوسری طرف بڑی قوتوں کا ایک مہرہ بن کر اقوام عالم میں اپنی ساکھ گنوا بیٹھا اور اپنے قریبی پڑوسیوں کا اعتبار بھی کھو بیٹھا۔ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے اور عالمی حالات اور اپنے تحفظ کے تقاضوں سے غافل بھی نہیں رہا جاسکتا۔ لیکن یہ سارے اشتراک اپنے مفادات اپنی خودداری اور خودانحصاری کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیے جانے چاہییں۔ پاکستان کو بتدریج دوسروں اور خاص طور پر بڑی عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کرنا ہوگا اور ہمیشہ اپنی تجارت، صنعت اور تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اب تو اس کے لیے ایک طرح کی ایمرجنسی کا نفاذ ضروری ہے۔

مندرجہ بالا چاروں مسائل پر پاکستان میں مختلف آراء موجود ہیں۔ اس اختلاف میں کوئی حرج نہیں۔ عادتیں تبدیل کرنا آسان نہیں۔ اپنے ملک اور قومی شناخت کے بارے میں اپنے بنیادی عقیدے کی موجودہ  تعبیر پر نئے سرے سے  آزادانہ غور و فکر کرنا اور بھی مشکل ہے۔ ان مسائل پرشخصی تعصبات سے بلند ہو کر مسلسل قومی مکالمے اور مباحثے کی ضرورت ہے ،اس امید کے ساتھ کہ کسی حد تک ایسے اتفاق رائے پر پہنچا جا سکتا ہے جس سے ہماری بقا وابستہ ہے۔

بشکریہ تجزیات آن لائن

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *