• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بغداد کا ڈاؤن ٹاؤن اور میرا بچپن۔۔۔۔سلمٰی اعوان

بغداد کا ڈاؤن ٹاؤن اور میرا بچپن۔۔۔۔سلمٰی اعوان

سچ تو یہ تھا میری آنکھوں میں میرے بچپن کی ساری ہنسی چھلکی تھی۔میرا وجود کسی معصوم بچے کی طرح کلکاریاں مارنے لگ گیا تھا۔مسرت کے بے پایاں احساس سے نہال میں نے اپنے سامنے چوک کو دیکھا تھا۔
اللہ میں خرامانہKahramanaسکوائر میں کھڑی تھی۔اسے علی بابا سکوائر بھی کہتے ہیں۔
دھوپ اور سہ پہر کی شوخی تھوڑی سی ڈھیلی پڑی ہوئی تھی۔ہواؤں کی تیزی میں میرے لئے گرمئی استقبال تھا جس نے میرے وجود سے ٹَکرا کر اِس رومانوی اور اساطیری جگہ پر مجھے خوش آمدید کہا تھا۔میری اور ہم سب کہانیاں پڑھنے والے پاکستانیوں کی وہ محبوب مرجانہ سامنے کھڑی اپنے قدموں میں رکھے چالیس گھڑوں میں چُھپے چوروں پر اپنے ہاتھ میں پکڑے فوارہ نما برتن میں سے بظاہر پانی پر دراصل کھولتا ہوا تیل ڈال رہی تھی۔
مجھے آج بھی یاد تھا۔ایسی ہی لُوبرساتی دوپہر تھی۔گھر کی چھت تھی۔بنیرے کی ذرا سی اوٹ تھی۔آنہ لائبریری سے ایک پیسے کرایے پر حاصل کردہ الف لیلیٰ کی کہانیاں تھیں۔
مرجانہ تھی۔علی بابا بوڑھا لکڑ ہاراغریب سا۔جس کا گزارہ بھی نہیں ہوتا تھا۔میرے ابّا جیسا مزدور آدمی۔کیسے ایک دن کایا کلپ ہو گئی تھی۔کوئی ایسا ہی خزانہ میرے ابّا کے ہاتھ بھی لگ جائے۔ہائے موجیں ہو جائیں۔ کتنا مزہ آئے؟اِن موجوں اور مزوں کی جو تفصیلات تھیں ان کی ایک اپنی داستان تھی۔
اور وہ مرجانہ ہماری آئیڈیل ہائے جو وہ اتنی ہوشیار اور سمجھ دار نہ ہوتی تو بنتا کیا؟اور جب اُس کا گھر نشان زدہ ہو اتو مجھے اپنا سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
”اللہ وہ تو پار ہوگئی۔“

مگر وہ سب جب جل مرے تو ننھا سا دل کتنا خوش تھا؟وہ خوشی آج بھی یاد تھی اور وہی خوشی آنکھوں سے نکل کر اس وقت علی بابا سکوائر کے پورے مرجانہ چوک میں بکھری ہوئی تھی۔
کھُل جا سم سم۔بغداد کے علی باباکے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ اِسم اعظم کی کُنجی جیسے ہی لگتے۔کوئی ایک دو بار تھوڑی سینکڑوں بار کھُل جاسم سم زیر لب کہا جاتا اور کسی غار کا منہ کھُلنے کی خواہش کا اظہار لبوں پر آتا۔الف لیلیٰ کی کہانیوں کا بھی کیا طلسم تھاکہ لُو برساتی سہ پہر میں کیسی سرشاری سے ہم کنارہوتی تھی۔
اُس لمحے سارا بغداد، علی بابا سکوائر، اِس کی دکانیں،یہاں کا علی بابا ہوٹل۔دُکانوں میں داخل ہوتی باہر نکلتی سیاہ عباؤں اور حجاب میں ملبوس بچوں کو اُٹھائے عورتیں، جینز اور حجاب اوڑھے نوجوان لڑکیاں،اِدھر اُدھر گھومتے پھرتے ڈشداشا پہنے اور کفایہ اوڑھے اور پینٹ ٹی شرٹوں میں ملبوس مرد اور لڑکے، شور مچاتی بسیں، ہارن بجاتی ویگنیں،تیز رفتار ٹیکسیاں،چوبی ریڑھیاں سب مجھے بے حد اپنے لگے تھے۔

میں نے اپنے بچپن کی اِس یادگار کو پانچ زاویوں سے دیکھا۔پہلا نظارہ اُس دوکان کے سامنے کھڑے ہوکرہواتھا۔جہاں سے مجھے مرجانہ کا چہرہ نظرآتاتھا۔دوسرا اُس کی پشت کی جانب سے تھا۔چھدرا سا درخت نظارے میں حائل ہوا تومیں سڑک کے سامنے والے  رخ پر چلی گئی۔سیاہی مائل پتھروں کا گول چبوترہ اور سیاہ لمبوتری صورت مرتبانوں کا ہجوم تھاجو ایک دوسرے میں ٹھنسے پڑے تھے۔چوک میں گاڑیوں کا رش تھا۔یہاں یک منزلہ، دو منزلہ دوکانوں کے عقب میں بلندو بالا عمارتوں کے نظارے چمکتے تھے۔
کیاریوں میں خوش رنگ پھول کھلے ہوئے تھے کہ تالاب کا پانی شاید انہیں اِس شدید گرمی میں تروتازہ رکھتا تھا۔

میری یہ خوشی اور سرشاری مزید بڑھی جب میں نے ایک ہزار ایک داستانوں والی شہر زاد کو دیکھا تھا۔
کچھ زیادہ دور نہیں۔ابو نواس روڈ پر ہی دجلے کے عین کنارے پر۔
شہر زاد میری بلوغت کے دِنوں کی آئیڈیل۔بہت خوبصورت، بہت ذہین،دھیمی سی، میٹھی سی،ہمدرد، غم گسار۔پہلی بار شہر زاد کو پڑھا تو جیسے دل میں کھُب گئی۔آنکھوں میں سما گئی۔اُس رات شہر زاد کی جگہ میں خود شہر یار کی خوابگاہ میں تھی۔بہت مہینوں یہ سلسلہ چلا جب تک کہ مجھے کوئی نیا تصوراتی شکارنہ مِلا۔لیکن شہر زاد کبھی نہ دل سے اوجھل ہوئی نہ دماغ سے۔

آج یہاں اِس خوبصورت یادگار کے کونے میں کھڑی شہرزاد ہاتھوں کوتمثیلی انداز میں پھیلائے جانے کن اجنبی دنیاؤں کی داستانیں سنانے میں جتی تھی اور وہ کہانیوں کا رسیا شہر یار سنگ مرمر کے وسیع و عریض چبوترے پر بنے چارپانچ سیڑھیوں والے ایک اور بڑے سے چبوترے پر بچھے تخت پرتمکنت سے نیم دراز سا ایک ٹانگ چبوترے پر دھرے دوسری کو فرش پر پھیلائے کِس محویت سے ہمہ تن گوش تھا۔کیسا چچڑ سا تھا یہ شہر یار۔اگر تب اِسے دیکھتی تو کبھی اِس کی خوابگاہ میں جانے کی غلطی نہ کرتی اور نہ اسے کہانیاں سُناتی۔

وہ خوبصورت شہرزاد چہرہ اُس پر جمائے اُسے جانے کن دنیاؤں کے اِسراروں میں اڑائے لیے جاتی تھی۔ داستان جو صُبح ہونے پر بھی تشنگی سے بھری ہوتی۔آگے کیا ہونا ہے؟ ایک تجسّس سے بھرا سوال جو شہریار کو دُلہن قتل کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتا تھا۔ذہین عورت نے کِس خوبی سے اونگی بونگی خواہشوں والے مرد کو نکیل ڈال دی تھی؟ اف میں نے اپنے گردوپیش کو دیکھاتھا۔یہ گدلے گدلے سے پانیوں کا بہاؤ،یہ مٹیالے مٹیالے سے آسمان کا پھیلاؤ، یہ کجھوروں کے پتوں کا جھکاؤ،یہ قرب وجوار میں پھیلی ہریالیوں میں سانس لیتے رنگا رنگ پھولُوں کا دہکاؤسب اتنے حسین تھے کہ میرا دل اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا۔میں شہرزاد کے سامنے کھڑی تھی۔اُسے دیکھتی تھی اور اُسے کہتی تھی۔
”شہرزاد میں غریب سے باپ کی بیٹی بچپن ہی سے ملکہ بننے کی متمّنی رہتی تھی۔جب فکر مند وزیر نے تم سے دل کے دُکھ کا اظہار کیا تھا۔ تم نے جس اعتماد سے کہا تھا۔
”میں سب سنبھال لوں گی۔“ تو وہ تم نہیں میں تھی جس نے کہا تھا”بابا تم کیوں فکر کرتے ہو۔میں ہوں نا۔سب سنبھال لوں گی۔“

آرٹسٹ محمد غنی کا شکریہ۔بغداد کی وزارت سیاحت اور اں جہانی صدام کا بہت شکریہ کہ جس کی کاوشوں نے میرے بچپن کی وہ پُر مسرت یادیں مجھے لوٹائی تھیں جو اب گُچھوں کی صورت دماغ کے کسی کونے کھدرے میں پڑی تھیں۔
سچی بات یہی تھی کہ میری سیری نہ ہو پا رہی تھی۔تصویریں کہیں شہریار کو جھپیاں ڈال کر بنوائی تھیں اور کہیں شہزاد کو کلاوے میں بھر کر۔ آخر دونوں میرے پیارے،دونوں میرے بچپن کے سنگی ساتھی جو تھے۔
یہ کمرشل بغداد ہے۔ یہ ڈاؤن ٹاؤن ہے۔اسی کی گلیوں میں پرانا بغداد بستا ہے۔ بلند و بالا عمارتوں،جدید وضع کے ہوٹلوں،خوبصورت نئے کشادہ چوراہوں جن کے اکثر تاریخی نام حال کا ماضی سے رشتہ جوڑتے ہوئے اِس کی قدیم یادوں کو زندہ رکھتے ہیں۔
”سندباد جہازی سے کتنی واقف ہیں؟“افلاق نے مُجھ سے پوچھا تھا۔
”میرا خیال ہے مجھے کہنا چاہیے تم بغدادیوں سے کہیں زیادہ۔ہائے میرے اللہ افلاق اُس کی مہماتی سفروں کی داستانیں پڑھتے ہوئے جذبات کا کیا عالم ہوتا تھا۔کیا بتاؤں تمہیں۔“
خوبصورت جمہوریہ پُل پر گاڑی بھاگی چلی جارہی تھی۔پل سے نیچے اُترنے پر گاڑی نے رُخ بدلا اور کچھ آگے جا کر رُک گئی۔

ایک خالی جگہ پر اترتے ہوئے افلاق کہتا تھا روایت ہے اُس کا گھر یہاں تھا۔ ”تو یہاں بھی کچھ بننا چاہیے تھا۔کوئی میوزیم کوئی یادگار۔بیچارے نے سات مہموں میں کتنے دُکھ اٹھائے تھے۔کتنی بار مرا اور جیا۔“
بہت دیر تک وہاں کھڑی اُسے یاد کرتی رہی۔
عبدلمُحسن السیدون کا مجسمہ۔ افلاق مجھے ناصر سکوائر میں لے آیا تھا۔مصروف ترین سکوائر جو شاہراہ سیدون پر ہے۔قریب ہی بس اسٹیشن تھا۔ہجوم اور خلقت امنڈی ہوئی تھی۔چوک میں عبدالمحسن السیدون کا مجسمہ تھا۔یہ عبدالمُحسن السیدون کون تھے؟افلاق روشنی ڈالتا ہے۔۹۸۸۱ ناصریہ میں پیدا ہوئے۔ مُحسن پہلی جنگ عظیم میں عراق کی بڑی طاقتوں کی کالونی بننے والے زمانوں میں وزیر انصاف تھے۔1922میں وزیر داخلہ بھی رہے۔چار مرتبہ وزیر اعظم کاعہدہ سنبھالا۔اپنی چوتھی وزارتِ عظمی کے دوران سامراجیوں سے سمجھوتہ مشکل ہو گیا تو خود کو گولی مار لی۔یہ کسی اطالوی ماہرتراش کا شاہکار ہے جو ۳۳۹۱ میں یہاں رکھا گیا۔یہاں قریب ہی لبریشن سکوائر میں نامعلوم سپاہی کی یادگار تھی۔

یہ دراصل ایک بلندوبالا دیوہیکل محرابی صورت تمکنت سے کھڑی عراقی فنکار عبداللہ احسان کمال اور رفعت کا اپنی اور قوم کی طرف سے نذرانہ عقیدت تھا اُن سپاہیوں کیلئے جنہوں نے 1959میں اپنی جانیں ملک و قوم کی عزت و وقار کیلئے قربان کیں۔
سیدون سٹریٹ اور ملحقہ Al Jamounسٹریٹ کی اندرونی گلیوں میں پرانے بغداد کی وہ جھلکیاں تھیں جنہیں دیکھنے کیلئے میں مری جارہی تھی۔وہی تنگ تنگ گلیاں،چھجے دار بالکونیاں،محرابی لمبی کھڑکیاں،گلیوں میں کھلتے تنگ تنگ دروازے،گھروں پر برستی کہنگی کہیں کہیں کوئی نیا بنا ہوا گھر۔قہوہ کیفے کی دوکانیں۔حقہ پیتے، تاش کھیلتے لوگ۔سارا ماحول اپنایت میں ڈوبا جیسے میں رنگ محل کے کوچہ و بازار میں پھرتی ہوں۔
پاس ہی 14رمضان مسجد  نےاپنی خوبصورتیوں کے ساتھ فوراً توجہ کھینچی تھی۔رات کی روشنی میں مسجد کے گنبد اور مینار چمکتے تھے۔کھجورکے درختوں کی بلندی روشنیوں میں کچھ اور بلند دکھتی تھی۔قرب و جوار کی بلندوبالا عمارات چمکتی تھیں۔شاہراہوں کے گول چکر ایک دوسرے کو داہیں باہیں سے کاٹتے تھے۔روشنیوں کا ایک طوفان امنڈا ہوا تھا جو ہراساں کیے دیتا تھا۔

عراقی آرٹسٹ جواد سلیم کا یہ شاہکار رات کی روشنیوں میں چمک رہا تھا  اور  آرٹسٹ کی فنکاری سے سجا دیر تک دیکھنے کی دعوت دیتا تھا۔یہ آرٹ کا بہت بڑا شاہکار ہے۔میں سُن رہی تھی۔14جولائی 1958کے تاریک دنوں کو روشن دنوں میں بدلنے کی جدوجہد کا عکاس۔انقلاب،آزادی،خوشحالی اور امن کا نمائندہ یہ شاہکار۔جس میں لوہے کی سلاخیں ظلم و جبر کی علامات ہیں تو اُن سلاخوں کو توڑا جارہا ہے۔لوہے کی سلاخوں کے گھٹے تعمیر و ترقی کے علامتی نشان ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ عراقی اپنی خوشحالی اور تعمیر و ترقی کیلئے کس قدر کوشاں ہے۔اس کی 1961 میں نقاب کشائی ہوئی تھی۔
بغداد کے ڈاؤن ٹاؤن میں افلاق کی ٹیپ سے سُنی ہوئی نظم نے مجھے بار بار یاد آکر افسردہ بھی کیا۔
My name is Baghdad
They called me the City full of Grace
They called me the capital of light
And I fell
Under the fire of the tanks
A defaced princess Scheherazade
Forgot me, Forgot me
I live on my lands
As a poor beggar under the bulldozers
I cry over the ruins of my beauty
Under the smoldering stones
It’s my soul that they’re murdering
Oh God, how everything disappears
My tales of the One thousand and one nights
Don’t interest any one any more
They’ve destroyed everything

افلاق مجھے عراقی نیشنل تھیٹر دکھانا چاہتا تھا۔”یہ بہت ہی اچھا ہوا کہ سیلامSaalamمیوزک گروپ وہاں پروگرام کر رہا ہے۔آپ یقیناً  لطف اٹھائیں گی۔“
دس ہزار عراقی دینار داخلہ ٹکٹ تھا۔افلاق صرف ایک ہی ٹکٹ لایا تھا۔میری زبان کیا میرا تو مُومُو اُس کا شکر گزار ہوا تھا۔
یہ گروپ عراق کے بہت سے شہروں میں پرفارم کرتا ہوا آیا تھا۔امیرالسفر عراقی باپ اور امریکن ماں کا بیٹاجس نے جاز ٹرمیپٹ، عراقی مکام(Maqam)اور سنتور جیسے سازوں سے وہ دھنیں کمپوز کی ہیں کہ لگتا ہے اُس کے گلے میں خدا بولتا ہے۔اُس کی انگلیوں سے نغمے پھوٹتے ہیں۔ڈینا السفر اس کی بہن بھی ایسی ہی صلاحیتوں کی مالک ہے۔

بڑی دل خوش کن معلومات تھیں جو افلاق نے صبح ہی میرے گوش گزار کردی تھیں۔پانچ بجے اُس نے شیخ عمر کی مسجد سے مجھے لیا اور گاڑی میں بٹھاتے ہوئے بولا۔
”آج آپ کا امتحان ہوگا۔نقشہ کھول کر دیکھیے فتح سکوائر کیلئے کون سی سڑک لیں۔“
مجھے افلاق کی معصومیت پر ہنسی آئی۔پانچ دنوں سے میں اس کے ساتھ تھی۔جوانی میں تو میرا وہ حال تھا کہ ایک بار کِسی راستے سے گزرگئی تو راستہ بے شک مجھے بھول جائے مگر کیا مجال جو میں اُسے بھولوں۔اب تو نقشہ سامنے تھا۔
”چلو میاں ابھی تو شیخ عمر سٹریٹ پر چلتے چلو۔یہی سٹریٹ جب ندال میں بدلے اور عین فتح سکوائر میں جا کر اُترے تو وہیں پاس ہی تھیٹر ہوگا۔“
خود ستائشی ہرگز نہیں پر نقشے دیکھنے میں مجھے خصوصی مہارت حاصل ہے۔شوق بھی ہے اور سیاحت کی مجبوری بھی ہے۔اس کے بغیر تو چارہ ہی نہیں۔

نیشنل تھیٹر کی کیا بات تھی۔اتنی خوبصورت اور دیدہ زیب عمارت۔ایک ہزار سیٹوں کا ہال جس کی سٹیج دیکھ کر مجھے تو غش سا پڑنے والا ہوگیا تھا۔15ڈایا میٹر کا متحرک سٹیج جو جدید ترین سازوسامان سے آراستہ تھا۔میوزک گروپ کے افراد سیمی سرکل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ان کے پاس کون سے کون سے آلات موسیقی تھے میں تین چار تو پہچان سکتی تھی مگر بقیہ کا مجھے کچھ علم نہ تھا۔
افلاق مجھے بیٹھا کر چلا گیا تھا۔مسرُور سی میں اپنے چاروں طرف دیکھتی تھی۔ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔سٹیج کی چھت سے لٹکتی روشنیوں کے منعکس ہونے کے انداز کِس قدر رومینٹک تھے۔موسیقاروں کی صورتیں،ان کے پہناوے میرا حال کچھ ٹک ٹک دیدم و دم نہ کشیدم والا تھا۔تین گھنٹے کے اس پروگرام میں مجھ پر کتنی ہی داخلی اور خارجی کیفیات کا نزول ہوا۔کبھی مجھے لگتا جیسے میں بلند و بالا پہاڑوں سے گھری ایک ایسی وادی میں بیٹھی ہوں جس کے پہاڑوں سے بہتی آبشاروں کی طرح سرمدی نغمے پھوٹ پھوٹ کر سارے میں بہہ رہے ہیں۔پَل بھر کیلئے لگتا جیسے تاحد نظر پھیلے دریا کے پانیوں میں سُر کی لہروں کے مدّو جزر مجھے اپنے ساتھ بہائے لئیے جا رہے ہیں۔

اُس ماحول میں مکمل اجنبی ہوتے ہوئے بھی میں اجنبی نہیں تھی۔میرا دل ساتھ ساتھ ڈوبتا اور ابھرتا تھا۔
میں جب باہر نکلی تو عجیب سے سحر میں تھی۔افلاق باہر میرا منتظر تھا۔اُس نے مجھ سے میرے تاثرات پوچھے تھے۔ میرے پاس کہنے کو یہی تھا کہ تمہارے بہت سے احسانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم نے مجھے یہ پروگرام دکھایا۔
سچ تو یہ ہے کہ امیرالسفر پر قوم کو ناز ہے۔اُس نے اپنے اجداد کے موسیقی ورثے کو نئے رنگوں میں جذب کرکے چار چاند لگا دئیے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *