• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط10

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط10

آئیے آپ کو گھسیٹ کر پھر سے کراچی لیے چلتے ہیں۔
یہ جو آپ دوران مطالعہ راہ بھول جاتے ہیں تو اس میں قصور ہمارا ہے۔ آپ کا نہیں۔ پاکستان کی ناہنجار بیوروکریسی کا ہے۔ہماری میز پر بہت دنوں تک ایک Plaque موجود تھا۔اس پر لکھا تھا کہ اگر کسی کو برباد کرنا ہو تو جوا اس کا تیز ترین،خواتین اس کا سب سے خوشگوار اور بیوروکریسی اس کا سب سے یقینی ذریعہ ہے۔ یہ کم بخت کوئی بات پلین اور سٹریٹ ٹو دا پوائنٹ انداز میں نہیں کرتی کہ دل میں گھر کر جائے اور دماغ میں بس جائے۔ناہنجار ہر وقت ہی قوانین اور ضوابط کا حلیم گھوٹتی رہتی ہے

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط9
موضوع کی طرف پلٹنے سے قبل ایک لغزش (Digression) اور کرنے کی اجازت دیں۔
آپ نے کرسٹینا ڈی اسٹفانو کی سوانح عمری جو اس نے مشہور اطالوی صحافی Oriana Fallaci کے بارے میں لکھی ہے، پڑھی ہو تو آپ کو یاد آئے گا کہ اس فتنہ پرور نے شہنشاہ ایران، بھٹواور اندرا گاندھی کے ایسے انٹرویو کیے کہ ان کی اشاعت پر تینوں اس کے پیچھے دوڑتے پھرتے تھے کہ گویا ان کے پیچھے زہریلے تتیّوں (wasps) کے غول پیچھے پڑ گئے ہوں۔

کرسٹینا ڈی اسٹفانو کی سوانح عمری

وہ انٹرویو کے متنازعہ حصوں کو Disownکردے مگر وہ کہاں مڑنے والی تھی،اوریانا کہتی ہے کہ پیرس کے فیشن ہاؤسزبھی بیوروکریسی جیسا لیے دیے قسم کا مزاج رکھتے ہیں۔ہم چونکہ  اس بیوروکریسی کی کمینگی کا ہر لیول پر بطور مسڑ ان سائیڈر مشاہد  ہ کرچکے ہیں اور پیرس بھی خوب رج کر دیکھا ہے ،لہذا ہم جانتے ہیں کہ ان فیشن ہاؤسز اور پاکستان کی بیوروکریسی میں فرق ہے تو اتنا کہ ان گھروں سے وابستہ خواتین بہت تھرکتی اور رسمساتی ہیں اور مرد بہت تخلیق کار ہوتے ہیں۔جنسی بے راہ روی میں پاکستان کی بیوروکریسی ان کی ہم پلہ ہے مگر مواقع اور فریق مطلوبہ بہت کم میسر ہیں۔

برطانوی راج کی ابتدا بطور ایک تجارتی کمپنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں سن 1612 ہوئی۔گجرات کی بندرگاہ سورت میں انہوں نے اپنی پہلی تجارتی کوٹھی قائم کی۔یہی وجہ ہے کہ اہل گجرات اور کاٹھیاواڑ تجارت میں بھارت کے دیگر باشندوں سے بہت آگے ہیں۔چاہے وہ ریلائنس گروپ کے مالکان امبانی برادران ہوں یا بھارت کے سب سے مالدار مسلمان وائپرو گروپ کے عظیم پریم جی،یا ٹاٹا گروپ والا پارسی خاندان یا ماراوڑ کے برلا، یا پاکستان کے آدمجی، باوانی حبیب اور داؤد گروپ۔ ان سب کا تعلق گجرات اور مارواڑ سے ہے۔ایوب خان کے دور میں 22 مالدار گھرانوں کا بہت چرچا تھا۔ یہ پاکستان کے Robber Barons تھے۔ان خاندانوں میں انیس کے قریب کراچی سے اور سب کے سب اہل گجرات اور کاٹھیاواڑ تھے۔

سورت کی طرح کے تجارتی مراکز مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں بھی قائم ہوگئے۔جنگ پلاسی میں جب رابرٹ کلائیو نے 1757 میں نواب سراج الدولہ کو میر صادق کی غداری کی مدد سے شکست دی تو کمپنی کا حکومت کا دائرہ بتدریج بنگال، بہار،اوڑیسہ،شمال مغربی صوبہ،اودھ،روہیل کھنڈ، دہلی،گوکھ پور،پنجاب اور کشمیر تک پھیل گیا۔

ہندوستان میں انگریزوں نے  ایک انتظامی مشنری کی بنیاد ڈالی جسے وہ انڈین سول سروس کا نام دیتے تھے۔ اس انتظامی مشنری کے بانیوں میں لارڈ کانوالیس Lord Cornwallisکا نام سرفہرست ہے جنہوں نے ڈسٹرکٹ کلکٹر (ڈپٹی کمشنر )اور ڈسٹرکٹ جج کے عہدوں کی بنیاد رکھی۔ اس دور کے ڈپٹی کمشنر ایسے طاقتور تھے کہ جان جیکب کے نام پر جیکب آباد شہر موجود ہے۔میری دیدر کے نام کا ٹاور اور فرئیر برٹل کے نام کا روڈ اور باغ موجود ہے۔ قیام پاکستان سے چند برس پہلے جب فرانسس مودی سندھ کے گورنر ہوتے تھے تو ایک شدھ پنجابی افسر مسعود کھدر پوش نواب شاہ کے ڈپٹی کمشنر ہوتے تھے۔

مسعود کھدر پوش،فرانس مودی

فرانسس مودی نے نواب شاہ دورے پر آنے سے پہلے ڈپٹی کمشنر سے پوچھ لیا کہ ’ناؤ نوش کا بندوبست کیا ہوگا ،کیا وہ کلب میں بیٹھ کر شراب پی سکتے ہیں؟‘ تو مسعود کھدر پوش جو پنجابی زبان اور کسانوں کے بہت بڑے پروموٹر بھی تھے انہیں خط لکھ کر جواب دیا کہ ایسی صورت میں انہیں گرفتار کرلیا جائے گا کیوں کہ عوامی مقامات پر شراب نوشی پر قانون کے مطابق پابندی ہے۔مسعود میاں اس کے بعد بھی اپنے عہدے پر قائم رہے اور انگریز گورنر نے اپنے کالے دیسی  ڈپٹی کمشنر کی وراننگ کا برا بھی نہیں مانا۔

1799 میں ایک اہم عہدے کا اور اضافہ کردیا گیا یہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا عہدہ تھا۔سن 1833 تک دو اورانتظامی ادارے باقاعدہ طور پر قائم کردیے گئے یہ سیکرٹریٹ اور کمشنر کے دفاتر تھے۔ 1844 ء تک محکمہء خزانہ، ہوم، خارجہ، دفاع، پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف، ریلوے اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ بھی بنادیے گئے۔ ان محکموں کے سربراہ عام طور پر گورے ہوتے تھے۔جنگ آزادی کے فوراً بعد کمپنی بہادر کی حکومت تاج برطانیہ کو منتقل ہوگئی۔ اب ایک عہدہ سیکرٹری آف اسٹیٹ کا ہوتا تھا اور گورنر جنرل کو وائسرائے پکارا جانے لگا۔ جو برطانیہ میں قائم انڈیا آفس کی وضع کردہ پالیسوں پر عمل پیرا رہتا تھا۔ دو مشہور قانون دانوں لارڈ ایمپے Impeyاور لارڈ مکالے نے بالترتیب ہندوستان میں ضابطہء دیوانی Indian Civil Code اور ضابطہء تعزیرات ہند Indian Penal Code بھی وضع کردیا۔ جس پر ہندوستان کا سارا عدالتی نظام چلنے لگا۔ برطانوی پارلیمنٹ نے 1860 میں ہندوستان کے لیے ایک ضابطہء فوجداری Criminal Procedure Code بھی منظور کرلیا، معمولی تحریف سے یہ تمام ضابطے اب بھی سری لنکا، بھارت، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش میں مروج ہیں۔

گو رنمنٹ آف انڈیا کی ایکٹ مجریہ 1858 کی دفعہ تیئس کے  بعد میں ان افسران کا انتخاب مقابلے کے ایک سخت امتحان کے تحت ہونے لگا۔پہلے یہ امتحان صرف برطانیہ میں  ہوتا تھا مگر بعد میں ایک امتحانی مرکز الہ آباد میں سن 1922 میں بھی قائم کردیا گیا۔ الہ آباد میں اس امتحانی مرکز قائم ہونے کا اثر پاکستان کی سول سروس پر بھی ایک طویل عرصے تک غالب رہا۔دس یا بارہ مہاجرفیڈرل سیکرٹری صاحبان جن کے نام  میں جعفری اور قاضی آتا تھا وہ الہ آ باد کے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ الہ آباد کے اردو بولنے والے افسر لوگوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے میں اس امر کا بھی خصوصی ہاتھ ہے۔۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط10

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *