گیارہ نکات، زمینی حقائق اور بھولی بھالی قوم۔۔۔ہارون الرشید

قوم ایک بار پھر پوری طرح بیوقوف بننے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ آنکھوں دیکھی مکھی نگل لینا چاہتی ہے۔

خان صاحب کا حالیہ جلسہ  30 اکتوبر 2011 کے جلسے کے مقابلے میں تعداد اور جنون دونوں کے لحاظ سے ماٹھا رہا۔   سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر تحریکِ انصاف اب اپنے جلسے رات گئے روشنیوں کے طوفان میں کرنے لگی ہیں۔ روشنیوں کی چکاچوند میں جلسہ کئی گُنا بڑا دکھائی دیتا ہے اور پھر ڈرون کیمروں سے لیے گئے فضائی مناظر سارا پول کھول کے رکھ دیتے ہیں۔ لیکن جلسے کی تعداد یہاں موضوعِ بحث نہیں ہے۔ میرے خیال میں جلسہ ایک خاص حد سے بڑا ہو جائے تو  “کتنے لوگ تھے؟” اپنا معنی کھو دیتے ہیں۔  یہاں موضوعِ بحث خان صاحب کے گیارہ نکات ہیں جن کے سامنے انصافیوں کے مطابق قائدِاعظم کے چودہ نکات بھی کیا اوقات رکھتے ہوں گے۔

خان صاحب نے جتنے بھی نکات بیان کیے، ایک آدھ کے سوا تقریباً سبھی اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب صوبوں کے اپنے دائرہ  اختیار میں آتے ہیں۔ تعلیم اور صحت میں بہتری کا عالم یہ ہے کہ جب ایک ٹی وی پروگرام میں تحریکِ انصاف کے ترجمان جو پہلے نہ جانے کس کس پارٹی کے گھاٹ پہ پانی پی چکے ہیں، اُن سے سوال کیا گیا تو موصوف نے فرمایا کہ صوبے میں نو نئی یونیورسٹیاں قائم ہوئی ہیں، جب اُن سے نام پوچھے گئے تو بغلیں جھانکنے لگے اور بولے میں لِسٹ آپ کو واٹس ایپ کر دوں گا، یونیورسٹیاں بنی ہوتیں تو جناب کو ناموں کا پتا ہوتا۔ اِسی طرح ہسپتالوں کی باری بھی موصوف آئیں بائیں شائیں کرتے رہے اور کارکردگی بتانے میں مکمل ناکام رہے۔ صوبے میں یہ گیارہ نہ سہی ، دو چار کام ہی کیے ہوتے تو شاید آج بھی شوکت خانم اور ورلڈ کپ کی مثالیں دینے کی ضرورت نہ پڑتی جو تحریکِ انصاف کے قیام کے وقت سے لے کر اب تک خان صاحب مسلسل بیان کرتے آ رہے ہیں حالانکہ یہ خان صاحب کی ذاتی کامیابیاں ہیں جن میں یقیناً اُن کی ٹیم کا بھی بڑا حصہ ہے لیکن تحریکِ انصاف کی ٹیم کی کامیابیاں کہاں ہیں؟ اب تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ہمیں تو موقع ہی نہیں ملا۔ پانچ سال ایک صوبے میں حکومت معمولی بات نہیں ہے۔ کتنا مناسب ہوتا کہ اگر اِن گیارہ نکات پر پہلے صوبے میں عملدرآمد کیا جاتا تو اِس وقت اِن کو پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی بلکہ خود بخود پورا پاکستان  اِن نکات کا مطالبہ کررہا ہوتا   لیکن یہاں کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ پانچ سال گزارنے کے بعد خبر ہے کہ گیارہ وزراء کے خلاف کرپشن کی انکوائریاں کھلی ہوئی ہیں اور تقریباً بیس بائیس کھلاڑی بکاؤ نکل آئے۔ اِس ساری کارگزاری کے باوجود  اگر کسی طرح خان صاحب کو اقتدار مل بھی گیا تو بھی اِن گیارہ نکات میں بیان کیے گئے  سارے کام تو صوبائی حکومتوں نے ہی کرنے ہیں جب تک اٹھارہویں ترمیم آئین میں موجود ہے، تو ایسا نیا کیا ہے جو خان صاحب وزیرِاعظم بن کر کریں گے؟

اِن گیارہ نکات میں توانائی کے حوالے سے متعلق کوئی فارمولا موجود نہیں ہے حالانکہ نئی آنے والی حکومت کے سامنے بھی سب سے پہلا چیلنج یہی ہو گا۔ 2013 میں خان صاحب کی جماعت نے جب خیبر پختونخوا  کی حکومت سنبھالی تو نجانے کِس ترنگ میں خان صاحب نے بڑھک لگائی کہ پانچ سال بعد صوبہ نہ صرف بجلی کی اپنی ضرورت پوری کرے گا بلکہ باقی پاکستان کو بھی دے گا۔ اب جب میرے جیسے گستاخ سوال اٹھائیں تو اُن کے کارکن غصے میں آ جاتے ہیں اور تنقید برائے تنقید کے طعنے دیتے ہیں۔ شہباز شریف تو جوشِ خطابت میں ایسی لمبی لمبی چھوڑتے ہیں ، خان صاحب پتہ نہیں کِس جوش میں ایسی باتیں کرتے ہیں!  لیکن اگر پانچ سال سڑکوں پر گزارنے کی بجائے صوبے میں محنت کرتے تو یہ شاید کوئی ایسا مشکل کام بھی نہ ہوتا اور آج سوال بھی نہ اٹھ رہے ہوتے۔ اے پی ایس میں دہشتگرد، عدالتوں میں جج اور امپائر کی انگلی اگر مدد کو نہ آتے تو شاید اب تک سڑکوں پر ہی خوار ہورہے ہوتے۔ حالیہ ایک انٹرویو میں تو خان صاحب نے اعتراف بھی کیا کہ سابق آرمی چیف نے اُنہیں یقین دہانی کروائی کہ آپ دھرنا ختم کریں، جے آئی ٹی میں بنواؤں گا۔ جاوید ہاشمی کے انکشافات اور الزامات میں سے تقریباً نوے فیصد درست ثابت ہو چکے ہیں تو اب بھی امپائر کی انگلی میں کسی کو کیا شک ہے؟ خان صاحب کے فینز سے بس اتنی گزارش ہے کہ جَس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے سوال کرنا ہمارا حق ہے بالکل اُسی طرح خان صاحب سے سوال کرنا بھی ہمارا حق ہے۔ اب اگر خان صاحب نے کہا تھا کہ وہ بجلی دیں گے اور اب شہباز شریف کی طرح وہ بھی بجلی نہیں دے پائے تو سوال پوچھنا تو بنتا ہے، اِس میں تنقید کہاں سے آ گئی؟

ویسے تو مجھے یقین ہے کہ اقتدار خان صاحب کی قسمت میں نہیں ہے لیکن اگر پھر بھی قسمت کی دیوی اُن پر مہربان ہو گئی تو 2023 کے انتخابات سے قبل کا منظرنامہ کچھ ایسا ہو گا کہ ایک بار پھر خان صاحب مینارِ پاکستان کے سائے کے نیچے کھڑے ہو کر دو گھنٹے پندرہ منٹ کی تقریر آج کے مقابلے میں مزید سُکڑے اور سِمٹے ہوئے ہجوم کے سامنے کریں گے، وہاں بھی شاید ورلڈ کپ اور شوکت خانم کے علاوہ بیان کرنے کو کچھ نہیں ہو گا، گیارہ نکات بھی شاید پندرہ یا سولہ نکات میں تبدیل ہوجائیں گے اور اُن کے کارکن ایک بار پھر یہ شور کرتے نظر آئیں گے  کہ دیکھا! یہ ہوتا ہے لیڈر اور یہ ہوتا ہے ویژن (چاہے کام دھیلے کا نہ کرے)۔ اِس طرح کبھی کسی لیڈر نے پہلے قوم کو ایجوکیٹ کیا ہے بھلا۔ یہ خان ہی ہے جو اِس ناشکری قوم کو دو دو گھنٹے کھڑا ہو کے ایک اُستاد کی طرح لیکچر دیتا اور سمجھاتا ہے ورنہ خان کو عزت، شہرت ، دولت کی کمی تو نہیں تھی جو وہ اِس طرح قوم کی فکر میں گھُل رہا ہے۔

یا تو ہماری قوم واقعی بھولی ہے اور یا اسے بار بار بیوقوف بننے میں مزہ آتا ہے۔  قوم ایک دفعہ پھر  آنکھوں دیکھی مکھی نگل لینا چاہتی ہے، دھوکہ کھانے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *