دو نہیں ایک پاکستان…. شہزاد سلیم عباسی

عمران خان اپنے نئے انتخابی نعرے ”دو نہیں ایک پاکستان“لیکر نوازشریف اور زرداری پر نشتر زنی کر رہے ہیں۔انصاف، میرٹ،اسلامی فلاحی ریاست،مدینہ اسٹیٹ، غریب اورامیر کے لیے ایک جیسا ترازو، اخلاقیات اور صادق و امین جیسے پرکشش،دلفریب اور پر اثر نعروں سے جیالوں کاخوں گرما رہے ہیں۔عمران خان نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ آ ج ہر طرف مایوسی ہے، ڈگری ہے پرروزگار نہیں ہے، بیماری ہے مگر ہسپتال نہیں ہے اوراگر ہے تو علاج غریب آدمی کی دسترس سے باہر ہے۔ حکومتیں قرضے پر قرضہ لیکر پرانے قرضے کے سود کو اتارنے کے لیے پھر سود پر قرضہ لے رہی ہیں اور گردشی قرضوں کا حجم ایک ہزار ارب ڈالرتک پہنچ چکا ہے۔60سالہ پاکستانی تاریخ میں قرضوں کا کل بوجھ 6ہزار ارب روپے تھا،پی پی پی دور میں 2008ء سے 2013ء تک بیرونی قرضوں کا حجم چھ ہزار ارب سے بڑھ کر13ہزار ارب روپے ہو گیا اورپھر نواز دور حکومت 2013ء سے 2018ء تک قرضے کا حجم 13ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 27ہزار ارب روپے ہو گیا ہے جو کہ کسی بھی ملک کے ڈیفالٹر ہونے کے لیے کافی ہے۔ عمران خان کے اعلان کردہ11 نکات کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ ہر پارٹی اس سے ملتے جلتے نکات گنواتی ہے اور اپنے مینی فسٹو، منشور اور پانچ سالہ دور کا سنہری پروگرام بتاتی ہے لیکن افسوس الیکشن جیتنے کے بعدحکمرانوں کا رویہ رعایا کے ساتھ کسی اجنبی جیسا ہوجاتا ہے۔عمران خان نے 2013ء میں بھی اس سے ملتے جلتے 13نکات بتائے تھے اور وہ پرویز خٹک کے ذریعے ان پانچ سالوں میں اس پر شور شرابہ بھی مچاتے رہے۔ وہ الگ بات کہ اہداف کے نسبت،شرح حصول اہداف 5فیصدرہے۔
عمران خان کے مطابق وہ مندرجہ ذیل نکا ت پر عمل کر کے عوام کو سکھ کا سانس لینے کا موقع دیں گے۔(1) تعلیم:ہمارے دور حکومت میں یکساں نظا م تعلیم کے مواقع سکول و مدرسہ اور غریب اور امیر کے لیے برابر میسر آئیں گے۔ (2) عالمی معیار کے ہسپتالوں اور ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت عامہ کی مساوی سہولیات لائیں گے۔(3) آٹھ ہزار ارب روپے اپنے ملک سے ہی اکٹھا کر کے قرضوں سے جان چھوڑا ئیں گے۔ (4) میں دعوی کرتا ہوں کہ کرپشن کا خاتمہ کروں گا، نیب کو مضبو ط کروں گا، ایف آئی اے اور پولیس کو بہترین ادارہ بناؤں گا۔ منی لانڈرنگ ختم کروں گا۔سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع پیدا کر کے روزگار، امپورٹ ایکسپورٹ اور انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کروں گا اور پٹرولیم پر ٹیکس کم کروں گا۔اوورسیز پاکستانیوں سے اربوں ڈالرزکی سرمایہ کاری کراؤں گا۔(5)روزگار: بچاس لاکھ سستے گھر بنائیں گے۔ سکل سنٹر ز،اور20 ٹیکنیکل یونیورسٹیاں بنائیں گے۔(6) ٹورازم: پیسہ آئے گااورروزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ کمراٹ ویلی، بٹگرام، گلیات اور شمالی علاقہ جات کیطرح ہر سال چار نئے سیاحتی مقامات سامنے بنائیں گے۔(7) زرعی ایمرجنسی: کسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کر کے شوگر مل مافیا کا راج ختم کروں گا، کسان اور گنے والے کا معاشی قتل ختم کر کے ٹیوب ویل پر پانی اور سستی بجلی دیں گے۔ ماڈرن فارمنگ بھی ایگریکلچر پالیسی کا حصہ ہوگی(8) فیڈریشن کو مضبو ط کر کے صوبوں کو ان کے حقوق دلوائیں گے۔ صوبوں کو برابری کی سطح پر حقوق دیں گے۔ جنوبی پنجاب صوبے کا اعلان ایڈمنسٹریٹو یونٹ کے طور پر چلائیں گے۔فاٹا کو فوری کے پی میں ضم کریں گے، فاٹا ڈیویلپمنٹ ریفارمز اور فاٹاکو اسمبلی میں نمائندگی دیں گے۔ بلدیاتی نظام کو پورے پاکستان میں رائج کرئیں گے (9)ماحولیات پر توجہ دے کر پالوشن ختم کریں گے۔جنگل کو تباہی سے بچا کر درختوں میں اضافہ کریں گے اور دس ارب درخت پورے پاکستان میں لگائیں گے۔ دریا اور ڈیم صاف کریں گے۔ (10)تھانہ کلچر اور پولیس کے لیے نئی ریفارمز لے کرانہیں غیر سیاسی کریں گے،سول پروسیجر کورٹس ٹھیک کریں گے اورہر سول کیس کا فیصلہ ایک سال کے اندر اندر ہوگا(11)خواتین کی تعلیم لازمی ہوگی۔ انہیں قانونی تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے الگ سے پولیس اسٹیشن بنائیں گے۔ عورتوں کو جائیداد کے حقوق دینے کے لیے قانون سازی کریں گے۔ یہ گیا رہ نکات ویسے تو مدینہ کی ریاست کی یاد دلاتے ہیں لیکن ایساناممکن سا نظر آتا ہے کہ عمران خان ابھی سیاست میں مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں کافی نابالغ ہیں اوراپنی ہر ذاتی اچھائی کے باوجود وہ کے پی سے کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکے، نہ ہی کوئی بڑا کارنامہ دکھا سکے،بلکہ نیب کو ختم کرنے کا داغ لیا جس سے اپوزیشن کے موقف کو تقویت ملی۔
نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز،بلاول زرداری،سراج الحق، اور ایم ایم اے وغیرہ نے بھی انتخابات کے قریب آتے ہی جلسوں کی بھرمار کر دی ہے۔عدالتی سوموٹوز، اپوزیشن جماعتوں کی بے وفائی، تیسری قوتوں کے چرچے اور امریکی آشیر باد ی سے سبکی ملنے کے بعد نوازشریف عوامی عدالت میں نئے نعرے ”ووٹ کو عزت دو“ لے کر مخالفین کوللکار رہے ہیں اوغیر مرئی طاقتوں کا تذکرہ خیر بھی دھیمے لہجے میں کررہے ہیں۔آج تک کی صورتحال دیکھ کر نہیں لگتا کہ مسلم لیگ کو پنجاب میں کوئی بڑا دھچکا لگے گا، بہرحال اگر عدالتی فیصلوں نے توپوں کا رخ مسلم لیگ ن کے گناہگاروں کی طرف جاری رکھا اور پی ٹی آئی اور پی پی پی کے ناہنجاروں کو جانے دیا تو پھر ن لیگ کی سیاسی مشکلات میں اضافہ متوقع ہے۔ مسلم لیگ نواز کے جلسوں سے لگتا ہے کہ عوام اب بھی میاں نواز شریف سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔لیکن غور طلب پہلو یہ ہے کہ گھٹاٹوپ اندھیروں، جہالت، ناخواندگی، روزمرہ اشیاء کی عدم دستیابی اور صحت و پانی کی سہولیات میں فقدان کے باجود بھی لوگ اب بھی نوازشریف کو ہی اپنا مسیحا سمجھتے ہیں!!حقیقت احوال یہ ہے کہ نوازشریف اپنا نام کیش کرے، خاندان کے لیے جائیدادیں بنائے، مورثی سیاست کی داغ بیل ڈالے، دولت کے انبار کو اپنے لیے ایندھن بنائے، بھارت سے دوستی لگائے اور اقامہ رکھے یا پنامہ،سب کی معافی ہے مگر جھوٹ، ڈرامہ بازی، گٹھ جوڑ،جاگیرداری، ظلم وزیادتی پر شاباشی، کسانوں اور ہاریوں کی برباد ی اور پنجاب کوجان بوجھ کر جاہل مطلق رکھنے پر کوئی معافی نہیں ملے گی، بلکہ ری ایکشن کے طور پر الیکشن کے نتائج مختلف بھی آسکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *