• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط9

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط9

انگریز جو ہمیشہ سے حکمرانی براستہ تقسیم در تقسیم کا قائل تھا اس نے ان باغی گھرانوں کو بھی تنہا نہ چھوڑا اور یہ چند خاندان جو آغا خان کی مخالفت میں پیش پیش تھے انہیں Check and Balance کے طور پر کراچی میں لائسنس اور کاروباری ٹھیکے اور سہولیات اس قدر فراخدلی سے بخشیں کہ وہ 1970 تک معاشی طور پر خوب پھلتے پھولتے رہے ۔اس سرپرستی کا در پردہ مقصد یہ تھا کہ آغا خان اور اسماعیلی کبھی اس شہر پر دعوی حکمرانی جمانے کا اگر سوچیں بھی تو ان کی مخالفت کے لیے یہ گروپ تیار پوزیشن میں بیٹھا ہو۔
۔ اس مخاصمت میں اسماعیلیوں نے ایک بڑی کامیابی مشرف دور میں حاصل کی۔
جنرل پرویز کو ہر فوجی عامر کی طرح سن 2001. میں یہ شوق چرایا کہ اگر وہ باوردی درست بھارت پہنچ جائیں وہ بابر کے بعد دوسرے مسلمان جرنیل ہوں گے جو دہلی کے راستے آگرہ تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ دہلی میں پرکھوں کی جاگیر نہر والی حویلی کا دیدار بھی مقصود تھا۔دریا گنج روڈ جہاں اب یہ حویلی ٹوٹ کر کئی گھرانوں کے قبضے میں آچکی ہے۔ یہ کبھی جنرل مشرف کے دادا کی ملکیت ہوتی تھی۔یہاں آجکل شیام بلڈنگ کھڑی ہے

نہر والی حویلی

اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط8
بھارت کے سداکنوارے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی حاضر امام کریم آغا خان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ پرویز مشرف صاحب نے ان کی  خدمات جولائی کے وسط  میں آگرہ چوٹی ملاقات کے لیے حاصل کیں۔گجراتی کاروباری حلقوں میں تھڑہ گیزٹ(تھڑہ بمعنی دکان کے باہر کا چبوترہ جہاں رات کو پرانے کراچی میں میمن گجراتی اپنی منڈلی جماتے تھے)۔ آگرہ چوٹی ملاقات کے طے ہوتے ہی یہ بات مشہور ہوگئی کہ سرکاری ملکیت میں موجود حبیب بنک کوڑیوں کے مول آغا خان کے حوالے کرنے کا منصوبہ بن گیا

آگرہ سمٹ

ہے۔اس تھڑدلے تھڑے بازوں نے اس بات کا فال یہاں سے نکالا کہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے کہ پاکستان میں اسماعیلیہ کاؤنسل کے اہم رکن شمس قاسم لاکھا کو بینکنگ  سیکٹرسے دور پرے کا تعلق نہ ہونے کے باوجود حبیب بینک کے بورڈ آف ڈایئریکٹرز کا ممبر بنادیا گیا ہے۔Right of Refusal ضوابط دیوانی(سول لاء) کے حساب سے یہ بنک اصولاً اپنے اصلی مالکان حبیب فیملی کو دیاجانا تھا۔۔اسماعیلی شروع سے ہی اس بات کو دل میں بسائے بیٹھے تھے کہ حبیب بنک ان کی دولت سے قائم ہوا تھا۔ جو آغا خان کیس کے سلسلے میں اس بار بھائی گروپ کو ملی تھی اور جس کی ایک بڑی حصے دار حبیب فیملی تھی۔جس نے اپنا کاروباری اثر و رسوخ کراچی پہنچ کر جمالیا تھا۔
اس ڈیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھارت کی ایک حسین اداکارہ بھی پنڈی آئی تھی۔اسے آ پ Cherry on the Cake قسم کی ڈیل سمجھیں کیوں کہ وہ سبز لباس میں اپنے ہی ایک گیت تال سے تال ملا پر ناچی بھی تھیں۔اسے پہلے ممبئی سے ایک عام پرواز سے دبئی لایا گیا۔وہاں سے اڑ کر برج العرب ہوٹل پہنچی وہاں سے ہیلی پیڈ سے اڑی تو ایک اہم شخصیت کے طیارہ اسے پاکستان لانے کے لیے پر تول رہا  تھا،چک لالہ ائیر بیس پر اتری ایک دفعہ پھر ہیلی کاپٹر میں بیٹھی اور وہاں سے ایوان صدر۔واپسی کا بھی روٹ ایسا ہی تھا۔۔اس حسینہ عالم کی ایک مرتبہ اور بھی آمد کی اطلاع ہمیشہ کے معتوب اتاولے اور بڑ بولے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے بھی اپنے پروگرام میں دی تھی۔یہ تھڑہ گیزٹ کی بات ہے۔اسے دل پر لینے اور کھوج لگانے کی ضرورت نہیں۔ایسی باتیں سن کر آپ سے مودبانہ درخواست ہے کہ آپ ہمارے اُس دوست کی طرح کے نہ بن جائیں۔وہ کوئی بھی مضمون پڑھتے وقت Bungee Jump والی ایلاسٹکCord پیر وں میں مضبوطی سے باندھ لیتے ہیں تاکہ اپنی تنگ دلی،خوف اور احساس عدم تحفظ سے ان کا کھال کی مانند چپکا تعلق نہ ٹوٹے۔

کور ان بنگی جمپنگ

زندگی کے کچھ ذائقے،مناظر،من پسند ا فراد کی رفاقت اور غیر روایتی خیالات کا لطف لینا اور مزے لوٹنے ہوں تو اس کے لیے پیرا شوٹ جمپ والا انداز فکر زیادہ سود مند رہتاہے۔ ایسا کوئی موقع ملے تو جہاز چھوڑ کر چھلانگ ماردیں اور زمین پر لینڈ کرنے سے کم از کم پانچ سو میٹر اوپر پشت پر بندھے پیراشوٹ کو کھولنے کے لیے رسی کھینچ لیں۔

پیراشوٹ جمپنگ

صدر مشرف کو واقفان حال یحییٰ خان کی واپسی کہتے تھے۔ان کے عہد میں ایوان صدر کی ٰ ایک محفل شبینہ میں بازار سے اٹھائے ہوئے یوسف عبداللہ چئیرمین ایف بی آر کو سانوں نہر والے پل تے بلا کر بے ہودگی سے ناچتا دیکھیں تو سرور بے پایاں سے سرشار جنرل صاحب کا دور زریں یاد آجاتا ہے۔

یوسف عبداللہ ڈانسنگ

ان ایام بے وقعتی میں اس امر کا تو واضح ثبوت موجود ہے کہ بھارتی اداکارہ جوہی چاولہ اور شلپا سیٹھی بھی پاکستان آئی تھیں مگر ایسا کوئی ریکارڈ کہیں بھی موجود نہیں کہ ان کے اس دور حکومت میں دنیائے اسلام کے یہ عظیم مبلغ یعنی ڈاکٹر ذاکر نائیک، یوسف ایس ٹیز،یاسمین مجاہد، یا دین اسلام کی تبلیغ میں نام پیدا کرنے والے زیتونیہ کالج امریکہ کے یوسف حمزہ کو بلانے کا خیال شاید ایوان صدر کی مسجد کے ان دنوں قدرے ویلے امام صاحب کو بھی نہ آیا ہو۔


یہ حب الوطنی اور اچھا کیا ہے برا کیا۔یہ زہریلے کانٹے آپ بڑے آدمیوں کے حوالے سے جتنی جلدی دل سے نکال دیں تو خود کو انتشار ذات سے محفوظ رکھنے کے لیے اچھا ہے۔ ایوان ہائے اقتدار و اختیار میں سیاست، جرم،مفاد اور جنس آپ کو ایک ہی بستر میں خوشی خوشی سمائے ملتے ہیں۔اس رفاقت کے نتیجے میں مفاد کے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ ہمیشہ معتبر گردانے جاتے ہیں۔
رمضان شوگر ملز میں بھارت کے ایجنٹس بغیر ویزہ کے کام کرتے تھے۔اجیت دوال اور ڈیڑھ سو دیگر افراد بغیر ویزہ کے نانی مریم کی بیٹی کی شادی میں مودی جی کی سربراہی میں کابل سے آجاتے ہیں۔پاکستان میں سب چلتا ہے اور ہر وقت چلتا ہے۔سو زنجیر پہن کر رقص کرنے کی عادت ڈال لیں۔
جنرل معین الدین حیدر جب وزیر داخلہ تھے تو پاکستان کی سب سے اہم اور ٹاپ سیکرٹ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ انڈیا ٹوڈے کے اگست سن دوہزار کے شمارے میں چھپ گئی۔

انڈیا ٹوڈے

رپورٹ میں درج ہے کہ سپہ سالار اعظم جن سے آپ نے صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد جیسی امیدیں باندھ رکھی تھیں عین ایام جنگ میں تین تین دن تک مشرقی پاکستان کے سقوط کی جنگ میں جی ایچ کیو اور وہاں بنے وار روم کی بجائے جنرل رانی اور دوسری تھل تھل خواتین کے دامن میں سر چھپائے خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے ہوتے تھے۔وفا، اخلاقیات اور حب الوطنی کو آپ اہم مقامات اور ایوان ہائے  اختیار و اقتدار میں نہ تلاش کیا کریں یہ اوصاف حمیدہ اربن مڈل کلاس عورتوں کی عیاشی ہیں یا پھر بقول احمد فراز

ع یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں۔۔

پاکستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ دیکھیں تو آپ کو علم ہوگا کہ پنجاب میں ان سرداروں کو جنہوں نے 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کو کچلنے میں انگریز کا ساتھ دیا تھا اسے اس نے ایسی سرداریوں اور جاگیروں کی امارت دوام عطا کی کہ جن کے برتے پر ان کی اولادیں آج بھی اسمبلی میں ایسے ہی گھسی بیٹھی ہیں جیسے شاہ بلوط (Oak) کے درخت میں دیمک گھس جاتی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اپُن کا کراں چی،سندھ ،سول سروس اور انگریز۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط9

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *