میں، میری بہو اور میری بیٹی۔۔۔۔ معاذبن محمود

میں ایک ساس ہوں۔ ہونہار ساس۔ ویسے ماں بھی ہوں ، میرا اور میرے بیٹے کا تعلق بہت گہرا ہے۔ میرے مطابق اس سے زیادہ گہرا جتنا میرے بیٹے کا بہو سے ہے۔ یہ بات حقیقت ہے، گو میرا بیٹا اسے ماننے سے انکاری ہے۔ میں جب بھی اس کے سامنے یہی بات دہراتی ہوں، وہ اس رشتے کی گہرائی کا موازنہ ایسے مقام کی گہرائی سے کرنے لگتا ہے جو آج کل اس کے نئے شادی شدہ دماغ پر سوار ہے۔ میں سنی ان سنی کر دیتی ہوں۔ مجھے حاجی صاحب مرحوم یاد آجاتے ہیں جن کے کس بل میں نے اپنی شادی کے پہلے ہی ہفتے نکال دیے تھے۔ گہرائی کی مکمل جانچ کرتے کرتے حاجی صاحب خود چھے فٹ گہرائی میں جا پہنچے مگر اصل گہرائی ماپنے میں ناکام رہے۔

میں جانتی ہوں کہ بہو کیسے کیسے طریقوں سے بیٹے کو ساس سے دور بھگا سکتی ہے۔ کچھ طریقے تو ایسے ہیں کہ کمر میں چک پڑ جائے۔ لیکن میرا نام بھی جہاں آراء بتول ہے۔ میں اپنے بیٹے کا دل اسے اچھے مشورے دے کر جیتتی ہوں۔ ویسے تو مجھے حکمت کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں مگر اپنے پچاسی سالہ دنیاوی تجربے کی بنیاد پر مجھے یقین ہے کہ میرے مجوزہ مشورے میرے انور کے لیے کارگر ثابت ہوں گے۔ الحمد للہ انور بہت سعادت مند بچہ ہے۔ شادی کی پہلی رات میں نے انور کو الگ کمرے میں سونے کا مشورہ دیا۔ میں جانتی تھی کے میرا بچہ تھکا ہوا ہوگا۔ بہو کا کیا ہے، وہ تو سب کچھ جذب کر ہی لیتی ہے۔ آخر حاجی صاحب نے بھی تو مجھ تھکی ہوئی کو۔۔۔۔ (چہرہ سرخ)۔ بڑا مشکل ہوتا ہے۔ میں تو اگلی صبح میکے سے آئی ڈبل روٹی کا متکا بنا سو گئی تھی۔ ہائے! وہ بھی کیا دن تھے۔

ابھی کل ہی میرا انور کمر درد کی شکایت کر رہا تھا۔ میں نے خوب سوچا اور نتیجہ نکالا کہ دماغ پہ گرمی زیادہ چڑھ گئی ہوگی، جس کے بعد جسمانی اچھل کود کے باعث پیٹھ ضرورت پڑنے پر پیٹھ دکھا رہی ہوگی۔ اس مسئلے کی اصل “جڑ” کو “جڑ” سے اکھاڑنا تو ممکن نہیں، ورنہ میرے گھر میں ننھے منوں کی آواز کیسے آئے گی؟ پس میں نے کچھ دنوں انور کے اعصاب کو آرام دینے کی خاطر اسے  دھنیا اور ستو پلانے شروع کر دیے ہیں۔ مچھلی پہ مکمل پابندی ہے۔ سخت پرہیز کی یقین دہانی کے لیے میں نے انور کے کمرے میں عشاء کے بعد روزانہ تین پارے قرآن پاک اور تہجد پڑھنی بھی شروع کر دی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میرے زیر سایہ انور ہمیشہ پر نور اور خوش و خرم رہے گا۔ میرا خواب ہے کہ میرے زیر سایہ بہو رانی کو انور کے چہرے میں بھی میرا ہی چہرہ دکھائی دے۔ میں جانتی ہوں کہ میری بہو کے لیے یہی بھیانک خواب ہے پر کیا ہوا جو جاگنے کے بعد سوتے میں بھی میرا پر نور چہرہ دیکھ لے؟

چہرے سے یاد آیا، کل میں نے اپنی بیٹی کے یہاں جانا ہے۔ کہہ رہی تھی کہ ساس بہت تنگ کر رہی ہے۔ صبح سویرے بیٹی کے گھر پہنچ جانے کا ارادہ ہے۔ میری بیٹی نے پچھلے ہفتے میرے داماد سے صرف اتنی خواہش کا اظہار کیا کہ ہم الگ گھر لے لیتے ہیں۔ بس وہ دن اور آج کا دن۔ میری لاڈو کی منحوس ساس سارا سارا دن اسے تنگ کرتی ہے اس سے کام کرواتی ہے اور یہاں تک کہ سوتی بھی اسی کے کمرے میں ہے۔ توبہ توبہ۔

اے اللہ! تو آج کل کس قماش کی ساسیں دنیا میں بھیج رہا ہے؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *