غربت کدے کی سیر۔۔۔۔احسان اللہ

تمہیں معلوم ہے غریب گھرانے کیا ہوتے ہیں؟؟۔۔۔۔ آؤ تمہیں غریب گھرانوں کی داستان سُناؤں۔ اورنگی ٹاؤن انتہائی گنجان آباد علاقہ ہے ،اکثریت میں یہاں غربت ہی غُربت مسائل کا انبار ہے ۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، بجلی کی گھنٹوں لوڈشڈنگ ، آبی بحران کے باعث تھر جیسا منظر پیش کرتا ہے یہ علاقہ۔یہ منظر تو گھروں کے باہر کا ہے۔۔۔۔ اب آئیں اندر کی حالتِ زار کاسنیے ۔ دیواروں پر جگہ جگہ سے اکھڑا پلستر، ٹوٹا فرش ان کی حالتِ زار کی ترجمانی کرتا ہے۔اندر کمرے میں چارپائی کی زینت بنے بزرگ مہرباں موت کے فرشتے کی آمد کے انتظار میں سسک رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے دھتکارے ،پرائیویٹ علاج کی سکت نہ رکھتے، حاکمِ وقت کی جانب سے نظر انداز ہوئے یہ لوگ موت کو ہی دوا سمجھتے ہیں۔بیٹیوں کے لیئے فکر مند ہوئے بوڑھے الدین،آنکھوں میں ہزاروں خواب سجائے لڑکیاں ،کسی شہزادے کے انتظار میں دہلیز پر ہی بیٹھی رہ جاتی ہیں ،اور فکرِ معاش میں سرگرداں باپ بھائی کا بازو بن جاتی ہیں ،ماں کی دوائی کا آسرا ،چھوٹی بہنوں کا جہیز جمع کرنے کا ذریعہ،گھر کے چولہے کا ایندھن بن جاتی ہیں۔
ذرا سوچیے ۔۔۔۔ بلدیہ فیکٹری میں بھی سینکڑوں بہن بیٹیاں اپنے مستقبل کے سپنے سجائے مزدوری کرنے آتی تھیں۔۔کس سفاکی سے انہیں آگ کی نذر کر دیا گیا،گھروں کے چراغ گل ہو گئے، روشنیاں بجھ گئیں، والدین کے علاج کے سہارے راکھ ہو گئے۔وہ بیچارے جل تو غربت کی آگ میں کب سے رہے تھے ، مگر ایک اُمید تھی۔۔۔ روشن مستقبل کی، جو کہیں نا کہیں سکھ کا سانس لینے کا باعث تھی، جو ایک پیاری سی مسکراہٹ چہرے پر لانے کا باعث تھی۔۔۔ مگر افسوس !وہ اُمیدیں چند بیمار ذہنیت رکھنے والوں کے عمل کا رزق بن گئیں ۔۔۔ کہیں سہاگ اجڑے،کہیں گودیں۔۔۔اُن کے لواحقین کا کیا بنا؟؟ آج بھی کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ آج بھی انکے گھروں کے پھول تعلیم کے زیور سے محروم ہیں، آج بھی ان کے در و دیوار نوحہ خوانی میں لگے ہیں ،فرش پر جانے والوں کے قدموں کے نشاں ثبت ہیں ۔۔البتہ بزرگوں کی چارپائیاں وقت سے پہلے حالات و صدمات سے خالی ہو چکی ہیں ۔۔۔اور یہ انسانیت کے علمبردار آج بھی ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اس دن کی اہمیت کو اجاگر کریں گے ۔، نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی دوکانداری چمکائیں گی، سرکار مزدور کی بھلائی کے دعوے دہرائے گی۔۔۔۔۔مگر بے سود ،کہ بندہء مزدور کے اوقات یونہی تلخ رہیں گے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *