مکھیوں کو بچانے کیلئے عالمی اقدامات شروع

SHOPPING
SHOPPING

پوری دنیا بالخصوص یورپ اور امریکہ میں شہد کی مکھیاں تیزی سے ختم ہورہی ہیں جن کی بہت سی وجوہ ہیں۔ ان میں بعض حشرات کش زرعی ادویہ بھی شامل ہیں جن پر یورپی یونین کی اکثریت نے پابندی کا بل منظور کرلیا ۔ اگر مکھیاں ختم ہوجائیں تو دنیا بھر کے سٹورز میں موجود نصف سے زائد اشیا ازخود غائب ہوجائیں گی کیونکہ مکھیاں فصلوں اور باغات میں پھولوں کی زراعت کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے ان کے زردانے دور دور تک بکھیرتی ہیں۔ اس فیصلے پر ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین اور کارکنوں نے خوشی کا اظہار بھی کیا ۔ یورپی یونین نے نیونائکوٹینوئیڈز کے گھر سے باہر سپرے پر پابندی عائد کی، کیونکہ یہ مکھیوں کی جان کا دشمن ہے جس پر یورپین فوڈ سیفٹی اتھارٹی پہلے ہی پابندی کا عندیہ دے چکی ہے۔ اس سے قبل بھی یورپی یونین فصلوں میں استعمال ہونے والی تین کیڑے مار دوائوں پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ یہ تین حشرات کش ادویہ مکھیوں میں چھتہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں اور اس طرح مکھیوں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ پابندی کے بعد تین مضر ادویہ اب صرف گرین ہائوس میں استعمال کی جاسکیں گی اور کھلے ماحول میں ان کے سپرے پر پابندی ہوگی۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس سے وابستہ پروفیسر ڈیو گولسن کہتے ہیں، اگر نیونائکوٹینوئیڈ کی جگہ سلفوکسا فلور، سیانٹرینی لپرول اور فلوپائریڈیفیورون کا استعمال کیا جائے تو ہم دوبارہ گھوم کر اسی مسئلے پر لوٹ آئیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کاشتکاری کو ماحول دوست بناتے ہوئے خطرناک کیڑے مار ادویہ کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ اس کی جگہ فصلی کیڑوں کو قدرتی طریقوں سے ٹھکانے لگانے، مٹی کو تندرست رکھنے اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کی کوششیں ہونی چاہئیں۔ ای ایف ایس اے کے مطابق ہر طرح کی شہد کی مکھیوں اور تتلیوں کیلئے یہ ادویہ زہر قاتل کا درجہ رکھتی ہیں۔ دوسری جانب آن لائن پٹیشن دائر کرنے والی ویب سائٹ آواز کے رکن اینٹونیو سٹاٹس کہتے ہیں کہ ان کی ویب سائٹ پر 50 لاکھ افراد نے مکھیوں کے جان لیوا کیمیکل پر پابندی کی درخواست پر دستخط کئے ہیں اور اب یہ مکھیوں کی بقا کیلئے امید کی ایک کرن ہے۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ پابندی پر عمل درآمد اسی سال شروع ہوجائے گا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *