• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سیاسدانوں نے کچھ نہیں سیکھا۔۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

سیاسدانوں نے کچھ نہیں سیکھا۔۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اداروں کا استحکام بہت اہم ہوتا ہے۔ جب ادارے میں استحکام ہوگا تو وہ کوئی پالیسی بنا سکے گا، استحکام کے نتیجے میں یہ پالیسی نفاذ کی طرف بڑھے گی۔ جب ادارے میں اتفاق نہ ہو تو کھینچا تانی جنم لیتی ہے۔ پالیسی بنانا تو دور کی بات ہے، خود اداروں کا وجود ہی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے اکثر اداروں کی صورتحال یہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان اداروں کے لوگوں کی باہمی کھینچا تانی کا رویہ ہے۔ ایک دووسرے کو قبول نہیں کیا جاتا۔ تنقید برائے تخریب کی جاتی ہے۔ سیاستدانوں نے حصول پاکستان کے لئے جدوجہد کی، مگر شروع دن سے انہیں ایسے چیلنجز درپیش رہے کہ نہ تو پاکستان میں جمہوری ادارے پنپ سکے اور نہ ہی سیاسدان متحد ہوئے۔ جن سیاستدانوں نے وطن عزیز میں جمہوریت کے لئے کوششیں کیں، انہیں کوئی خراج تحسین پیش نہیں کیا جاتا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی سیاستدانوں کو باہم دست و گریباں کر دیا گیا۔ اسمبلی کی صورتحال اتنی ابتر ہوئی کہ ایک معزز ممبر اسمبلی کا اسمبلی میں ہی قتل ہوگیا۔ قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خان کی وفات سے سکندر مرزا تک ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں تو ایسے لگتا ہے جیسے چھ چھ ماہ کے لئے حکومتیں آرہی ہوں۔ اسی لئے انڈین وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں نے اتنی دھوتیاں تبدیل نہیں کیں جتنی پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوگئی ہیں۔

اسی عدم استحکام کے نتیجے میں ملک میں مارشل لاء لگ جاتا ہے اور ایک لمبا عرصہ ملک آمریت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بھٹو کا دور آتا ہے، ایک پاپولر عوامی حکومت بنتی ہے، مگر دیکھیے کچھ عرصے بعد ہی سیاستدانوں کا ہی ایک گروہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، حالات اتنے خراب ہوتے ہیں کہ پھر آمریت کی اندھیری رات شروع ہو جاتی ہے۔ ایک لمبا عرصہ آمریت رہتی ہے، تمام سیاسی ادارے بے حیثیت ہو جاتے ہیں۔ طویل عرصے بعد انتخابات ہوتے ہیں،محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت آجاتی ہے۔ پھر میاں نواز شریف کی حکومت آجاتی ہے، اسے پھر گرایا جاتا ہے۔ پھر محترمہ کی حکومت آجاتی ہے، وہ بھی گرائی جاتی ہے اور پھر میاں صاحب کی حکومت آجاتی ہے۔ تقریباً دس سال میں چار حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں۔ ہر حکومت تقریباً اڑھائی سال کی مدت پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال ہے اور یہ ساری حکومتیں اڑھائی سالوں میں ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ اس دس سالہ دور کا تجزئیہ کیا جائے تو ان دس سالوں میں بھی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہتے ہیں۔ ہر چھ ماہ بعد آپ کو ہڑتالوں، دھرنوں اور مظاہروں کی ملک گیر تحریکوں کا ہی پتہ چلتا ہے۔ نتیجتاً پھر آمریت آجاتی ہے۔

ایک طویل جدوجہد کے بعد ملک میں پچھلے دس سال سے جمہوریت قائم ہے، اس کا کھلے دل سے تجزئیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ بطور کلی سیاستدانوں نے کچھ نہیں سیکھا۔ نواز شریف پی پی پی حکومت کے خلاف نبرد آزما رہے اور کالا کوٹ پہن کر عدالت چلے گئے۔ اسی طرح مذہبی اور سیاسی قوتوں کی اسلام آباد پر یلغار جاری رہی۔ مسلم لیگ کی موجود حکومت اپنے قیام کے ابتدائی چند ماہ سے ہی دھرنوں اور احتجاجوں کی زد میں ہے۔ پہلے اشاروں پر کی گئی کھنچا تانی پر براہ راست آمریت آجاتی تھی، اب شائد ایسا عملی طور پر ممکن نہ ہو کہ بین الاقوامی حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب سیاستدانوں نے اشاروں پر عدلیہ کا کاندھا استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ وہ کام جو پہلے دھرنوں اور ہڑتالوں کے ذریعے کرائے جاتے تھے، اب ان کے لئے عدالتیں استعمال ہو رہی ہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس کے نتیجے میں خود عدلیہ کی اپنی ساخت کس قدر متاثر ہو رہی ہے، ہم فقط سیاستدانوں کے کردار پر بات کر رہے ہیں کہ ان کے اس کردار نے خود ان کے دائرہ کار کو محدود کر دیا ہے۔ سفیر سے لیکر اداروں کے سربراہ تک عدالتیں لگا رہی ہیں، انتظامیہ عملی طور پر مفلوج ہوچکی ہے۔ اس سیاسی تاریخ کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ سیاستدانوں کا جو رویہ ساٹھ، ستر، نوے کی دہائی میں تھا، آج بھی وہی ہے، اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ ٹی وی ٹاک شوز میں ہر شام ہونے والی باہمی لڑائیوں نے کئی حوالے سے لوگوں کو سیاستدانوں سے متنفر کیا ہے۔

ہر آمر اور آمر نما کے لئے کاسہ لیس قسم کے سیاستدانوں کی فوج ظفر موجود ہوتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ سیاستدانوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، سیاست کی نرسریاں ختم کر دی گئیں، ہر حکومت کے خلاف گروہ باقاعدہ فنانس کئے گئے اور اس طرح کی دیگر باتیں، مگر ایک بات طے ہے کہ سیاستدانوں نے خود دوسری قوتوں کو مواقع دیئے کہ وہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں۔ کاش سیاستدان صحافیوں سے کچھ سیکھ لیتے، جیو میں صحافیوں سے زیادتی کے خلاف اے آر وائی کے صحافی مظاہرہ کرتے ہیں، کسی ایک صحافی کے ساتھ زیادتی پر سب کوریج کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹروں سے ہی کچھ رہنمائی لے لیتے اتنی ہڑتالوں اور دھونس دھاندلیوں کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی کامیاب نہیں ہوسکی۔ پی آئی اے کے ملازمین کے حالات دیکھ لیتے، پوری ائر لائن کا بیڑا غرق کر دیا ہے، ہر سال اربوں روپے دینے پڑتے ہیں، مگر مجال ہے کوئی نجکاری کرکے دکھائے۔ عدلیہ سے ہی کوئی سبق لے لیا ہوتا، ایک جج کو معطل کرنے پر پورے ملک کا نظام جام کر دیا اور شہر شہر مظاہرے کرکے حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ چیف جسٹس کو بحال کرے۔ موجودہ چیف صاحب نے کہا میں تمام وکیلوں کا کمانڈر ہوں۔ مثالیں تو بہت ہیں، اگر سیکھنے کا ارادہ ہو تو بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں جب تک سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہیں گے، ملک میں اسی قسم کی جمہوریت ہوگی، جیسی آج کل ہے

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *