بجٹ بہترین انتقام ہے؟۔۔۔۔ آصف محمود

بجٹ کی جزئیات کو تو ایک طرف رکھ دیجیے کہ جھوٹ اور سفید جھوٹ کے بعد دروغ گوئی کی تیسری قسم کو بجٹ اعداد و شمار کہا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا س حکومت کے پاس آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی جواز موجود تھا؟ان کی حکومت ختم ہونے کو ہے۔ جن کے پاس صرف مئی 2018 تک کا مینڈیٹ ہو وہ 2019 کے مالی سال کا بجٹ کیسے پیش کر سکتے ہیں؟ تضادات دیکھیے ایک طرف پارلیمان کے ہوتے ہوئے معاملہ اس کے سامنے نہیں لایا جاتا اور صدارتی آرڈی ننس جاری کر دیا جاتا ہے دوسری جانب پارلیمان سے اس مالی سال کا بجٹ پاس کروایا جا رہا ہے جو اس کے مینڈیٹ سے ہی باہر ہے۔جس دورانیے میں فیصلہ سازی آپ کا مینڈیٹ ہی نہیں آپ اس دورانیے کی معاشی پالیسی بنا کر قوم پر مسلط کرنے کی ضد کیوں کر رہے ہیں؟

فرض کریں آئندہ انتخابات میں کوئی اور جماعت جیت کر حکومت بناتی ہے۔وہ عوام سے کچھ وعدے کر کے آئی ہو گی۔ اس کا اپنا ایک انتخابی منشور ہو گا۔ اس کا اپنا ایک ویژن ہو گا۔اس ویژن کے مطابق معاشی پالیسی بنانا اس کا حق ہو گا۔اسے اس حق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے؟ کیا آئندہ حکومت اپنا ایک پورا مالی سال ہاتھ پر ہاتھ رکھے تماشا دیکھتی رہے گی اور مسلم لیگ ن کی موجودہ معاشی پالیسیوں کے تحت ملک چلانے پر مجبور ہو گی؟کیا نئی حکومت کو سابق حکومت کی معاشی پالیسیوں پر چلنے پر مجبور کر دینا جمہوری رویہ ہو گا۔ویسے تو بڑے اقوال زریں بنائے جا رہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو۔ کیا اسی طرح ووٹ کو عزت دی جاتی ہے؟

فرض کریں آئندہ حکومت جب ریاست کی زمام کار سنبھالے تو اسے محسوس ہو اس بجٹ میں تو بہت کچھ غلط ہو گیا ہے۔ فرض کریں اس کے لیے ان غلطیوں کو جاری رکھنا ممکن نہ رہے۔ فرض کریں وہ اس بجٹ میں طے گئی پالیسی کو تباہ کن سمجھتے ہوئے اس سے نجات حاصل کرنا چاہے اور فرض کریں وہ حکومت جن کے ووٹ سے بنی ہو اس ووٹ کو عزت دینا چاہتی ہو اور کیے گئے وعدوں کے مطابق کام کرنا چاہتی ہو تو ووٹ کو عزت دو کی قوالی پڑھنے والے قوال حضرات ہماری رہنمائی کریں گے کہ اس حکومت کے پاس کیا راستہ ہو گا وہ اس فرسودہ پالیسی کے آزار سے نجات حاصل کر سکے؟پانچ سال کے لیے بننے والی حکومت آخر کس اصول کی بنیاد پر اپنا ایک مالی سال آپ کی ناقص پالیسیوں کے تاوان کے طور پر ضائع کر دے؟

موجودہ حکومت کی کوئی اخلاقی ساکھ ہوتی اور معیشت کے میدان میں اس نے کوئی معرکہ آراء کامیابی حاصل کی ہوتی تو شاید اس حرکت کو برداشت کر لیا جاتا ۔ساکھ کا یہ عالم ہے کہ ان کا جاری کردہ اقتصادی سروے جھوٹ کے پلندے کے سوال کچھ نہیں مگر کمال ڈھٹائی کے ساتھ اسے پیش کر دیا گیا ہے۔اس اقتصادی سروے میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ملک کو معاشی بحران سے نکال لیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس وقت بد ترین معاشی بحران سے دوچار ہیں۔سروے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے مہنگائی میں کمی کر دی۔یہ ارشاد اس وقت فرمایا جا رہا ہے کہ جب ڈالر ایک سو انیس روپے کا ہو چکا۔ فرمایا بجلی وافر مقدار میں موجود ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا عذاب لوگ بھگت رہے ہیں۔

اقتصادی سروے میں شرمناک ترین جھوٹ یہ بولا گیا کہ ہم نے پانچ سال قبل کیے گئے وعدے پورے کر دیے۔ کون سے وعدے پورے کیے گئے؟انتخابی منشور میں وعدہ کیا گیاتھا کہ قرض کا بوجھ کم کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے قرض لینے کے ریکارڈ قائم کر دیے۔ اتنا قرضہ ملک کی تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں لیا جتنا انہوں نے لے لیا۔ 35 ارب ڈالر کا قرض لے کر ملکی معشیت کو تباہی کے راستے پر ڈالنے والے یہ نیم حکیم اب ہماری قومی زندگی کا ایک اور سال برباد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔کیااس حرکت کا کوئی جواز ہے؟

وعدہ کیا گیا باہر سے سرمایہ کاری ملک میں لائیں گے لیکن معلوم یہ ہوا یہاں سے مال پانی لے جا کر آف شور کمپنیاں بنا ڈالیں۔وعدہ کیا گیا ایک تہائی اخراجات کم کریں گے لیکن پارلیمان نے اپنی ہی تنخواہیں کئی گنا بڑھا لیں۔وعدہ کیا گیا غریبوں کو گھر دیں گے۔ اس کے لیے500 کلسٹر بنائیں گے ہر کلسٹر میں 100 گھر ہوں گے۔ کتنے گھر بنائے آپ نے؟آپ نے انتخابی منشور میں وعدہ کیا پی آئی اے کو منافع بخش ایئر لائن بنائیں گے لیکن آج ایئر بلیو کا مالک اس کی نجکاری کی درپے ہو چکا ہے۔وعدہ کیا تھا معیشت کی بحالی کے لیے پہلے لوگوں کا اعتماد بحال کریں گے، جب لوگ سنتے ہیں اسحاق ڈار کے اثاثے 91 گنا بڑھ گئے تو کیا اعتماد بحال ہوتا ہو گا؟وعدہ کیا گیا تھا ہم جیت گئے تو ملک میں تعلیمی ایمر جنسی ناٖفذ کر دیں ، چوبیس ملین بچے سکول نہیں جا رہے ۔آپ کی تعلیمی ایمر جنسی کہاں گئی؟

آپ نے وعدہ کیا تھا پورے ملک میں ایک تعلیمی نظام رائج کیا جائے گا۔ یہ وعدہ کیا ہوا؟آپ نے وعدہ کیا تھا ٹیچر کی نوکری کو ایک پر کشش نوکری بنا دیا جائے گا ، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے سی ٹی آئی ٹیچرز رکھے اور اور ہر پندرہ مئی کو ان کا کنٹریکٹ ختم ہو جاتا ہے اور ہر ستمبر میں نیا کنٹریکٹ کیا جاتا ہے کہ کہیں انہیں مستقل ملازمت نہ دینا پڑ جائے، ڈینگی مارنے کی ذمہ داریاں آپ نے اساتزہ کو دے دیں۔ جی بھر کر آپ نے انہیں ذلیل کیا۔وعدہ کیا گیا تھا پولیس میں اصلاحات لائیں گے اورہر تھانے کو ماڈل تھانہ بنا دیا جائے گا اور پولیس کو عوام دوست بنایا جائے گا۔لیکن آپ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کروا دیا۔آپ نے وعدہ کیا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیں گے لیکن جیت کر آپ نے اس کی مخالفت کی۔آپ نے ہزارہ اورجنوبی پنجاب کے صوبے بنانے کے وعدے کیے تھے کیا وہ پورے ہوئے؟جو اس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہوں ،کیا اب اگلے سال کے مالیاتی فیصلے بھی ان پر چھوڑ دیے جائیں؟

پائیدار اور طویل المدتی منصوبہ سازی کرنا ان کے طریق واردات میں موجود ہی نہیں۔یہ میٹرو کو یومیہ قریبا ایک کروڑ کی سبسڈی دے دیں گے تا کہ بلے بلے ہو جائے اور آئندہ راولپنڈی سے ووٹ مل سکے لیکن اپنے ہی حکم سے سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال پنجاب کے ذریعے غریب دیہی خواتین کے لیے منی صنعت زار کے نام سے جو پراجیکٹ قائم کیا گیا تھا اس میں سٹاف کو ایک سال سے تنخواہ تک نہیں دی گئی ۔بجلی کے بل تک کسی نے ادا کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ غریب لوگ ایک سال سے وزیر اعلی پنجاب کی منتیں کر رہے ہیں کہ حضور تنخواہ تو دے دو آگے سے جواب آتا ہے شش حد ادب ! دیکھ نہیں رہے میٹرو چل رہی ہے۔جنہوں نے حکومتی اشتہارات میں ماڈلنگ کی ہو، جنہوں نے پبلک ٹوائلٹس تک کے باہر اپنی تصاویر لگا دی ہوں ، کیا ان سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ انتخابات سر پر ہوں اور وہ وہ بجٹ بنائیں تو اس میں ان کا مقصد انتخابات میں کامیابی کی بجائے دوررس مقاصد کا حصول ہو۔ کیا ملکی معشیت کے ساتھ ایسا کھلواڑ کرنے کا کوئی جواز موجود ہے؟

کیا اس وقت بجٹ پیش کیا جانا ’’ پری پول رگنگ‘‘ یعنی انتخابات سے قبل دھاندلی کے زمرے میں نہیں آتا؟ ایک ایسے وقت میں جب نئی بھرتیوں پر بھی الیکشن کمیشن نے پابندی عائد کر دی ہے ، حکومت کی طرف سے پورا بجٹ ہی پیش کر دینا کیا دھاندلی نہیں ہو گی؟

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *