با خدا دیوانہ باش و با محمد ﷺ ہوشیار۔۔۔۔ثنا اللہ خان احسن

لاہور کے عرب ہوٹل میں ایک دفعہ کمیونسٹ   نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے ، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت وہ دو بوتلیں چڑھا چکے تھے اور ہوش قائم نہ تھے ۔ تمام بدن پر رعشہ طاری تھا۔ حتی کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے۔ ادھر “انا” کا یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے ۔ شاعر تو شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا ، اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔

کمیونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا ، طرح دے گئے۔ جوش کے متعلق پوچھا، کیا وہ ناظم ہے۔ سردار جعفری کا نام لیا ، مسکرائے ۔ فراق کا ذکر چھیڑا ، ہوں ہاں کرکے چپ ہوگئے۔ ساحر لدھیانوی کی بات کی ، سامنے بیٹھا تھا ، فرمایا: مشق کرنے دو۔ ظہری کاشمیری کے بارے میں کہا: نام سنا ہے احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا میرا شاگرد ہے۔۔۔۔
نوجوانوں نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رخ ہی پھیر دیا۔

حضرت! فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔۔۔۔۔۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ، نشہ میں چور تھے ، زبان پر قابو نہیں تھا لیکن چونک کر فرمایا۔۔۔۔ کیا بکتے ہو؟ ادب و انشاء یا شعر و شاعری کی بات کرو۔ کسی نے فوراً  افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا۔ ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے ؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا ، مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے ۔ فرمایا ۔۔۔ اجی ، پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں ، یہ ارسطو ، افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے، ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔

اس لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے فائدہ اٹھا کر ایک ظالم قسم کے کمیونسٹ نے سوال کیا۔۔۔ آپ کا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے بارےمیں کیا خیال ہے؟۔۔۔۔۔۔ یہ سنتے ہی جیسے وہ ہوش میں آ گئے ، فوراً  سنبھل کر بیٹھ گئے ، بلور کا گلاس اٹھا کر سوال کرنے والے کے سر پر دے مارا اور گرج کر یوں بولے، جیسے کوئی برق کڑ کی ہو: بدبخت ! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے! ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے! ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟۔۔۔۔ تمام جسم کانپ رہا تھا، ایکا ایکی رونا شروع ہوگئے ، گھگی بندھ گئی۔۔۔ ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا؟ تمہیں جرات کیسے ہوئی؟گستاخ ! بے ادب ” با خدا دیوانہ باش و با محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہوشیار” اس شریر سوال پہ توبہ کرو ، تمہارا خبث باطن سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔

خود قہر وغضب کی تصویر ہوگئے ۔ ادھر اس نوجوان کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا۔ مگر اختر کہاں سنتے تھے ، اسے اٹھوا دیا پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے۔ کہتے تھے ۔۔۔۔۔
“یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں ، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنادینا چاہتے ہیں
ماخوذ

محبت نہیں صاحب عشق کہیے۔۔ خود سے پوچھ لیجئے۔۔۔ سچ پوچھیے تو ہم عاصیوں کے پاس ہے ہی کیا علاوہ اس کے؟سچ پوچھیے تو یہ جو آج کل فیس بک پر ملحدین نے ہلہ بولا ہوا ہے اور کیسی کیسی گنجلک اور غلیظ تحریروں سے عام مسلمانوں کے دل و دماغ میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔۔ طبیعت انتہائی مکدر ہو جاتی ہے، بس ایسے میں نام محمدؐ اور سیرت طیبہ اور حیات طیبہ پر نظر ڈالو تو گویا سینے میں برف سی ٹھنڈک پڑ جاتی ہے۔ بس بے اختیار دل کہہ اٹھتا ہے کہ جو ہو سو ہو، بس آنکھیں بند کرو اور کہہ دو

“أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ ان محمد رسول الله” “أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ ان محمد رسول الله”،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *